Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2652

2652 - و روينا عن ابن مسعود أنه قال : أعربوا القرآن فإنه عربي و سيكون بعدكم أقوام يثقفونه و ليس بخياركم عني يسردنه

اور ہم نے روایت کی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے فرمایا قرآن مجید کو اچھی طرح ظاہر اور واضح کرکے پڑھو۔ بے ش ک وہ عربی ہے ۔ عنقریب تمہارے بعد کچھ اقوام آئیں گی وہ اس کو نیزوں کی طرح سیدھا کریں گی ۔ وہ تمہارے اچھے لوگ نہیں ہوں گے یعنی مسلسل (ٹھہرے اور روکے بغیر ) تیزی کے ساتھ پڑھیں گے ۔ (یعنی قرأت میں تو موتی پروئیں گے مگر عمل میں اچھے نہیں ہوں گے۔مترجم)( ترجمہ کی دوسری تعبیر یہ ہو سکتی ہے ) کہ قرآن مجید کے معانی و مطلب کو واضح بیان کرو ۔ کیونکہ وہ اصح عربی ہے ۔ عنقریب تمہارے بعد بعض لوگ ہوں گے جو تسلسل کے ساتھ پڑھیں گے ، نیزوں کی طرح سیدھا کریں گے ۔یعنی موتی پروتے ہیں (لیکن وہ فقط الفاظ کی بناوٹ و سجاوٹ پر سارا زور لگائیں گے معنی و مطلب سے کوئی سروکار نہیں رکھیں گے ۔ ) وہ تم میں سے بہتر لوگ نہیں ہوں گے ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ ← و روينا

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2652

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2653

2653 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي الهروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا أبو شهاب عن الصلت بن بهرام عن الحسن قال : أن هذا القرآن قرأه عبيد و صبيان لم يأخذوه من أوله و لا علم لهم بتأويله ـ أن أحق الناس بهذا القرآن من رؤى في عمله قال الله عز و جل : { كتاب أنزلناه إليك مبارك ليدبروا آياته وليتذكر أولو الألباب } و إنما تدبر آياته أتباعه بعمله يقول أحدهم لصاحبه : تعال أقارئك و الله ما كانت القراء تفعل هذا و الله ما هم بالقراء و لا الورعة لا أكثر الله في الناس أمثالهم لا أكثر الله في الناس أمثالهم

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ، ان کو ابو منصور نضروی ھروی نے ، ان کو احمد بن نجدہ نے ، ان کو سعید بن منصور نے ، ان کو ابو شہاب نے ان کو بن صلت بن بہرام نے ، ان کوحسن نے انہوں نے کہا کہ بے شک یہ قرآن اس کو پڑھا ہے غلام نے اور بچوں نے ، نہ اس کو اس کے اول سے حاصل کیا ہے اور نہ ہی اس کی تاویل تشریح کو سیکھا ہے ۔ (انہوں نے درحقیقت اس کو پڑھنے کا حق ادا نہیں کیا ہے ) بے شک اس قرآن مجید کو پڑھنے ، سمجھنے کی نسبت جتلانے اور ظاہر کرنے کا سب سے زیادہ حقدار وہ شخص ہے جس کے عمل میں دیکھا جائے اور قرآن اس کے عمل میں نظر آئے ۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ "کتاب النزلناہ الیک مبارک لیدبو و اایاتہ ولیتذکر اولواالالباب"۔ یہ کتاب ہے اس کو ہم نے نازل کیا ہے برکت والی ہے ۔( اس لیے ہم نے اتاری ہے ) تاکہ لوگ اس کی آیات میں غوروفکر کریں۔اور صاحب عقل اس سے عبرت و نصیحت حاصل کریں گے۔

الْحَسَنِ، ← الصَّلْتِ بْنِ بَھْرَامَ ← أَبُو شِهَابٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو منصور النضروي الهروي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2653

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2654

2654 - أخبرنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي أنا أبو إسحاق الأصبهاني ثنا أبو أحمد بن فارس ثنا محمد بن إسماعيل البخاري قال : قال لي عثمان بن سعيد ثنا زهير عن ليث عن عثمان عن زاذان سمع عابس الغفاري قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يعني خصالا يتخوفهن على أمته من بعده إمارة السفهاء و استخفافا بالدم و قطيعة الرحم و كثرة الشرط و نشئ يتخذون القرآن مزامير يتغنون غناء يقدمون الرجل بين أيديهم ليس بأفضلهم و لا أعلمهم لا يقدمونه إلا ليغنى لهم

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر محمد بن ابراہیم فارسی نے ، ان کو اسحاق اصفہانی نے ، ان کو ابو محمد بن فارس نے ان کو محمد بن اسماعیل بخاری نے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے کہا تھا عثمان بن سعید نے ، ان کو زھیر نے ، ان کو لیث نے ، ان کو عثمان نے ، ان کو زاذان نے ، اس نے سنا عابس غفاری سے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے۔ یعنی بعض ان خصلتوں کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی امت پر جن کے بارے میں ڈرتے رہتے تھے اپنے بعد۔ کم عقلوں کے امیر اور حکمران بن جانے ، خون کو حقیر سمجھنا، بے قدر کر دیا ۔ قطع رحمی کرنا۔ کثرت سے شرط لگانا۔ اور ایسے لوگوں کا پیدا ہو جانا جو قرآن مجید کو راگ گانے بنالیں گے ۔ گانے کی طرح اس کو گائیں گے ۔ ایسے آدمی کو اپنا پیشوا بناکر آگے کریں گے جو نہ تو ان میں سے فضل والا ہوگا۔ نہ ہی ان میں سے زیادہ علم والا ۔ وہ ایسے آدمی کو اس لیے آگے کریں گے تاکہ وہ ان کے لیے گائے اور سُر لگائے۔

عابس الغفاري ← زَاذَانَ ← عُثْمَانَ، ← لَيْثٌ، ← زُهَيْرٍ ← لي عثمان بن سعيد ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2654

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2655

2655 - قال : و ثنا محمد ثنا حمدان ثنا شريك عن أبي اليقظان عن زاذان عن عليم سمع عابس الغفاري و رواه موسى الجهني زاذان عن عابس أو ابن عابس قال البيهقي رضي الله عنه : ـ : فإذا كانوا جماعة يقرؤن فلا يرفع بعضهم على بعض في القراءة لما فيه من الأذى على أصحابه

کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد نے ، ان کو حمدان نے ، ان کو شریک نے ا ن کو ابولیقظان نے ان وک زاذان نے ان کو علیم نے ، اس نے سنا عباس غفاری سے اور اس کو روایت کیا ہے موسیٰ جھنی نے زاذان سے عابس سے ایا ابن عباس سے۔امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : جب ایسے لوگ جماعت اور گروہ کی صورت میں ہوتے ہیں اور قرآن پڑھتے ہیں تو پھر بعض دوسرے بعض پر قرأت میں برتری اور تعلیٰ نہیں کرتا ۔ اس لیے اس میں اس کے اپنے احباب اور ساتھیوں کے لیے ایذا اور تکلیف دینا ہے ۔

عابس أو ابن عابس ← عابس الغفاري و رواه موسى الجهني زاذان ← عُلَيْمٍ ← زَاذَانَ ← أَبِي الْيَقْظَانِ ← شَرِيکٍ ← حمدان ← مُحَمَّدٍ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2655

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2656

2656 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد ثنا يحيى بن بكير ثنا مالك عن يحيى بن سعيد عن محمد بن إبراهيم بن الحارث التيمي عن أبي حازم التمار عن البياضي : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج على الناس و هم يصلون و قد علت أصواتهم بالقرآن فقال : أن المصلي يناجي ربه فلينظر ما يناجيه و لا يجهر بعضكم على بعض بالقراءة

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابواسحاق نے ، ان کو ابو الحسن طرائفی نے ، ان کو عثمان بن سعید نے ، ان کو یحییٰ بن بکیر نے، ان کو مالک نے ، ان کو یحییٰ بن سعید نے، ان کو محمد بن ابراہیم بن حارچ تیمی نے ، ان کو ابوحازم تمار نے البیاضی سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم لوگوں کے سامنے تشریف لائے ، وہ نماز پڑھ رہے تھے اور قرآن کی تلاوت کرنے کے ان کی آوازیں اونچی ہو رہی تھیں ۔ پس فرمایا کے بے شک نماز پڑھنے والا اپنے رب کے ساتھ سر گوشی کر رہا ہوتا ہے ۔ اسے دیکھنا چاہیے کہ کس قدر اور کیسی اس کے ساتھ سرگوشی کر رہا ہے ۔ بعض تمہارا بعض پر قرأت کرنے میں جہر نہ کرے ۔

البياضي ← أَبِي حَازِمٍ التَّمَّارِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2656

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2657

2657 - أخبرنا محمد بن موسى بن الفضل ثنا أبو العباس الأصم ثتا أحمد بن عبد الحميد الحارثي ثنا أبو أسامة عن الوليد يعني ابن كثير ثنا محمد بن إبراهيم التيمي أن أبا حازم مولى هذيل حدثه : أن رجلا من بني بياضة من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم حدثه أن النبي صلى الله عليه و سلم جاور في المسجد في قبة على بابها قطعة حصير فكشف رسول الله صلى الله عليه و سلم الحصير ثم قال أنصتوا أيها الناس فأنصتوا قال : فوعظ رسول الله صلى الله عليه و سلم فرغب و حذر فأبلغ جدا ثم قال : أن المصلي إذا صلى فإنما يناجي ربه فلينظر عبد ما يناجي به ربه و لا يجهرن بعضكم على بعض بالقرآن ثم دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم و أعاد الحصير فقال الناس : أن هذه الليلة مباركة وعظ فيها رسول الله صلى الله عليه و سلم الناس وحضهم قال : فذهبنا ننظر فإذا ليلة ثلاثة و عشرين و قد روينا قوله في المصلي يناجي ربه عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی محمد بن موسیٰ بن فضل نے ، ان کو ابوالعباس اصم نے ، ان کو احمد بن عبدالحمید حارثی نے ، ان کو ابو اسامہ نے ولید سے ، یعنی ابن کثیر سے ان کو محمد بن ابراہیم تیمی نے یہ کہ ابو حازم مولیٰ ھذیل نے اس کوحدیث بیان کی ہے کہ بنی بیاضہ کا ایک آدمی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں سے اس کو حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مسجد میں ایک خیمے میں متکف وہ کر بیٹھ گئے ۔ خیمے کے دروازے پر چٹائی کا ایک ٹکڑا لٹکا ہوا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے چٹائی ہٹائی ، پھر فرمایا لوگو چپ ہو جاؤ لوگو خاموش ہو جاؤ۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے وعظ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کچھ چیزوں کی ترغیب دلائی اور کچھ چیزوں سے تنبیہ فرمائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اتہائی بلیغ وعظ فرمائی ۔ اس کے بعد فرمایا کہ نمازی جب نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اس وقت وہ اپنے رب کے ساتھ مناجات اور رازونیاز کر رہا ہوتا ہے بندے کو دیکھنا چاہیے کہ وہ اپنے رب کے ساتھ کس طرح سر گوشی کر رہا ہے اور بعج تمہارا بعض پر قرأت کرنے میں جہر نہ کرے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم دوبارہ خیمے میں چلے گئے اور چٹائی دوبارہ ڈال دی ۔ پس لوگوں نے کہا کہ یہ رات برکت والی ہے ۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے لوگوں کو وعظ فرمایا ہے اور انہیں نیکیوں پر ابھارا ہے ۔ وہ آدمی کہتا ہے کہ ہم لوگوں نے سوچا تو وہ تئیسویں شب تھی۔ اور تحقیق حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا قول روایت کیا ہے نمازی کے بارے میں کہ وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے ۔ روایت حضرت ابو سعید خدری سے ۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ۔

محمد بن إبراهيم التيمي أن أبا حازم مولى هذيل ← الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ کَثِيرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أبو العباس الأصم ثتا أحمد بن عبد الحميد الحارثي ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2657

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2658

2658 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر محمد بن بكر ثنا أبو داود ثنا الحسن بن علي عن عبد الرزاق أنا معمر عن إسماعيل بن أمية عن أبي سلمة عن أبي سعيد الخدري قال : اعتكف رسول الله في المسجد و سمعهم يجهرون بالقرآن فكشف الستر فقال : إن كلكم يناجي ربه أو قال : مناجي ربه فلا يؤذين بعضكم بعضا فلا يرفعن بعضكم على بعض في القراءة أو قال في الصلاة

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ، ان کو ابوبکر محمد بن بکر نے ، ان کو ابو داؤد نے ، ان کو حسن بن علی نے ، ان کو عبدالرزاق نے ، ان کو معمر نے ان کو اسماعیل بن امیہ نے ، ان کو ابو سلمہ نے ، ان کو ابو سعید خدری نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مسجد میں اعتکاف کیا اور لوگوں کو سنا تو وہ قرآن پڑھنے میں جہر کر رہے تھے ۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پردہ ہٹایا اور فرمایا کہ بے شک تم میں سے ہر بندہ اپنے رب کے ساتھ مناجات اور رازونیاز کرتا ہے یا یہ کہا کہ اپنے رب کے ساتھ مناجات کرنے والا ۔ لہذا بعض تمہارا بعض کو ایذا نہ پہنچائے ۔ بعض تمہارا بعض پر قرأت کرنے میں اونچی آواز نہ کرے ۔ قرأت میں یا نماز میں فرمایا تھا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2658

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2659

2659 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو محمد بن شوذب المقرئ ثنا شعيب بن أيوب ثنا عمرو بن عون عن خالد عن مطرف عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى أن يرفع الرجل صوته بالقرآن قبل العشاء و بعدها يغلط أصحابه في الصلاة قال البيهقي رضي الله عنه : أما ما جاء في قراءة الإمام و استماع المأموم لقراءته و اقتصاره على قراءة الفاتحة خلف الإمام في سكتاته فقد ذكرنا الحجة فيه كتاب السنن فأما استماع غير القارئ للقارئ في غير الصلاة فإنه داخل في عموم قوله عز و جل : { وإذا قرأ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا لعلكم ترحمون }

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ، ان کو ابو محمد بن شوزب مقری نے ، ان کو شعیب بن ایوب نے ، ان کو عمرو بن عون نے ، ان کو خالد نے ان کو مصرف نے ، ان کو ابو اسحاق نے ، ان کو حارث نے ، ان کو علی نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے منع فرمایا اس بات سے کہ کوئی آدمی قرآن پڑھنے میں اپنی آواز زیادہ اونچی نہ کرے ۔ عشاء سے پہلے اور عشاء کے بعد کہ وہ اپنے ساتھیوں کی نماز غلط کرائے گا۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا بہرحال امام کی قرأت کے بارے میں اور مقتدی کے اس کی قرأت کو توجہ سے سننے کے بارے میں اور مقتدی کا فاتحہ خلف الامام کی قرأت پر اکتفا کرنا سکنات کے اندر تحقیق ہم نے اس کی دلیل کتاب السنن میں ذکر کی ہے جہر نہ پڑھنے والے کا پڑھنے والے کی قرأت توجہ کے ساتھ سننا جب کہ نماز سے باہر وہ ( وہ ضروری ہے ) تو وہ اللہ کے اس قول کے عموم میں داخل ہے : "واذاقری القران فاستمعو الہ انصتوا لعلکم ترحمون"۔ جب قرآن پڑھا جائے تم لوگ سب اس کی توجہ کے ساتھ سنو اور چپ رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مُطَرِّفٍ ← خَالِدٌ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ← أبو محمد بن شوذب المقرئ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2659

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعظيم المصحف بأن لا يحمل فوقه متاع و لا ينبذ حيث اتفق · حديث 2660

2660 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا أحمد بن شيبان ثنا سفيان بن عيينة عن أيوب عن نافع عن ابن عمر : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا تسافروا بالقرآن إلى أرض العدو فإني أخاف أن يناله العدو رواه مسلم عن ابن عمر عن ابن عيينة قال البيهقي رضي الله عنه : ـ فإذا كان منهيا أن يعرضه بنفسه على من يستهينه و ينتهك حرمته كان نهيه عن أن يزدرى به و يستهينه بنفسه أولى و لأن الله تعالى وصف القرآن بأنه في كتاب مكنون لا يمسه إلا المطهرون فإذا كان فوق السماوات مكتوبا محفوظا و ليس هناك إلا الملائكة المطهرون فلأن يكون فيما بيننا مكتوبا محفوظا و الناس مختلفون و الأحوال شتى أشبه و الله أعلم و يذكر عن عمر بن عبد العزيز رضي الله عنه أنه قال : لا تكتبوا القرآن حيث يوطأ

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس اصم نے، ان کو احمد بن شیبان نے ، ان کو سفیان بن عیینہ نے، ان کو ایوب نے نافع سے ، اس نے ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن مجید ساتھ لے جا کر اہل کفر کی طرف سفر نہ کرو ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں دشمن اس کی بے حرمتی نہ کرے ۔ اس کو روایت کیا ہے مسلم نے ابن ابو عمر سے ، اس نے ابن عیینہ سے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on glorifying the Qur’an by not carrying luggage over it or rejecting it as agreed · Hadith 2660

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعظيم المصحف بأن لا يحمل فوقه متاع و لا ينبذ حيث اتفق · حديث 2661

2661 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا الحسن بن رشيق المصري إجازة حدثني أبو حفص عمر بن عبد الله الواعظ قال : كان بشر بن الحارث شاطرا يخرج بالحديد و كان سبب توبته أنه وجد قرطاسا في أتون حمام فيه بسم الله الرحمن الرحيم فعظم ذلك عليه و رفع طرفه إلى السماء و قال سيدي اسمك هاهنا ملقى فرفعه من الأرض و قلع عنه السحاة التي فوقها و أتى عطارا فاشترى بدرهم غاليه لم يكن معه سواه و لطخ بذلك السحاة بالغالية فأدخله شق حائط و انصرف إلى زجاج و كان يجالسه فقال له الزجاج : و الله يا أخي لقد رأيت لك في هذه الليلة رؤيا ما رأيت أحسن منه و لست أقوله حتى تحدثني ما فعلت في هذه الأيام فيما بينك و بين الله تعالى قال : ما فعلت شيئا أعلمه غير أني أخذني النوم بأتون حمام فذكره فقال الزجاج : رأيت كأن قائلا يقول لي في المنام قل لبشر يرفع اسما لنا من الأرض إجلالا أن يداس لننوهن باسمك في الدنيا الآخرة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو حسن بن زشیق مصری نے بطور اجازت کے ان کو ابو حفص عمر بن عبداللہ واعظ نے وہ کہتے ہیں کہ بشر بن الحارث چالاک آدمی تھا۔ اسلحہ کے ساتھ نکلتا تھا ۔ اس کی توبہ قبول ہونے کا سبب یہ بنا تھا کہ اس کو غسل خانے کے کچرے پر کاغذ کا ایک ٹکڑا ملا تھا جس میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لکھا ہوا تھا اس پر گہرا اثر ہوا۔ لہذا اس نے وہ ٹکڑا اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا اور بولا اے میرے مالک تیرا نام اور اس گندی جگہ پڑا ہے ۔ اس نے اسے زمین سےاٹھایا اور اس کے اوپر سے میل اور مٹی صاف کی جو اس پر لگی ہوئی تھی اور عطر فروش کے پاس آیا اور اس سے مہنگا والا عطر خریدا جو اس کے پاس سب سے زیادہ قیمتی عطر تھا اور وہ اس کو لگا کر بسم اللہ کو عطر میں بسایا پھر اس کو کسی دیوار کی دراز یا سوراخ میں رکھ دیا ۔ اس کے بعد وہ زجاج کے پاس گیا کیونکہ اس کے پاس اس کا اٹھنا بیٹھنا تھا۔ زجاج نے اس سے پوچھا کہ بھائی میں نے آج رات تیرے بارے میں ایک بہت اچھا خواب دیکھا ہے ۔ میں نے اس سے زیادہ اچھا خواب آج تک نہیں دیکھا۔ مگر میں تمہیں بتاؤں گا نہیں جب تک آپ مجھے یہ نہ بتائیں کہ آپ نے ان دونوں میں کونسی نیکی کی ہے جو تیرے اور رب کے درمیان ہے اس نے بتایا کہ میں نے تو کچھ نہیں کیا جو مجھے یاد ہو صرف یہ ہے کہ مجھے حمام کے پاس نیند آ گئی پھر آگے کاغذ کے ٹکڑے کا ذکر کیا ۔ زجاج نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے مجھ سے نیند میں کہ بشر سے کہو کہ ہمارے نام کو زمین سےاٹھالے تعظیم کے لیے کہ وہ پیروں کو نیچے نہ روندا جائے۔ البتہ ہم تیرے نام کو دنیا اور آخرت میں عزت دیں گے بلند کر دیں گے۔

كان بشر بن الحارث شاطرا يخرج بالحديد و كان سبب توبته ← أبو حفص عمر بن عبد الله الواعظ ← الحسن بن رشيق المصري ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on glorifying the Qur’an by not carrying luggage over it or rejecting it as agreed · Hadith 2661

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعظيم المصحف بأن لا يحمل فوقه متاع و لا ينبذ حيث اتفق · حديث 2662

2662 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي في : ذكر منصور بن عمار و أنه أوتي الحكمة و قيل أن سبب ذلك أنه وجد رقعة في الطريق مكتوبا عليها بسم الله الرحمن الرحيم فأخذها فلم يجد لها موضعا فأكلها فأرى فيما يرى النائم كأن قائلا يقول قد فتح عليك باب الحكمة باحترامك لتلك الرقعة و كان بعد ذلك يتكلم بالحكمة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے منصور بن عمار کے تذکرے میں اور وہ حکمت عطا کیے گئے تھے ۔ کہا گیا ہے کہ اس کا سبب یہ تھا کہ اس نے راستے میں کاغذ کا ایک ٹکڑا پایا تھا جس پر لکھا ہوا تھا بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ اس نے اسے اٹھا لیا تھا مگر اس کو کہا رکھے ، اس کے لیے اس کو کوئی جگہ نہیں مل رہی تھی۔ لہذا اس نے اس پرچے کو کھالیا ۔ چنانچہ اس نے خواب میں دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے تحقیق تیرے لیے اس پرچے کا احترام کرنے کی وجہ سے حکمت و دانائی کا دروازہ کھول دیا گیا ہے ۔ اس کے بعد وہ حکمت و عقلمندی کی باتیں کرتا تھا۔

أبو عبد الرحمن السلمي في

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on glorifying the Qur’an by not carrying luggage over it or rejecting it as agreed · Hadith 2662

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تفخيم قدر المصحف و تفريج خطه · حديث 2663

2663 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة انا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا هشيم أخبرني عبد الملك بن شداد عن عبد العزيز بن سليمان أخبرني أبو حكيم العبدي قال : أتى علي علي و أنا كاتب صحفا فجعل ينظر إلى كتابي فقال : أجل قلمك فقضمت من قلمي قضمة ثم جعلت أكتب فقال : نعم نوره كما نوره الله

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ، ان کو ابو منصور نضروی نے ، ان کو احمد بن نجدہ نے ، ان کو سعید بن منصور نے ، ان کو ھشیم نے ، ان کو خبر دی عبدالملک بن شداد نے ، ان کو عبدالعزیز بن سلیمان نے ، ان کو خبر دی ابوحکیم عبدی نے ، وہ کہتے ہیں کہ مجھ پر حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے اور میں قرآن مجید لکھتا تھا۔ وہ میری لکھائی کو دیکھنے لگے اور فرمایا کہ قلم کو موٹا کیجیے ۔ چنانچہ میں نے قلم کو تراش کر موٹا کر لیا ۔ پھر میں نے لکھنا شروع کیا۔ اب انہوں نے فرمایا ہاں صحیح ہے ۔ اس کو واضح اور روشن کرو جیسے اللہ نے اس کو روشن کیا ہے ۔

نعم نوره كما نوره الله ← أجل قلمك فقضمت من قلمي قضمة ثم جعلت أكتب ← كاتب صحفا فجعل ينظر إلى كتابي ← أتى علي علي و ← أبو حكيم العبدي ← عبد العزيز بن سليمان ← عبد الملك بن شداد ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on glorifying the volume of the Qur’an and deflecting its script · Hadith 2663

chevron_left Previous
1…202122…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood