Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2640

2640 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق قالا : ثنا أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا يحيى بن بكير ثنا مالك ح قال و ثنا القعنبي فيما قرأه على مالك عن يحيى بن سعيد عن محمد بن إبراهيم عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبي سعيد الخدري أنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : يخرج فيكم قوم تحقرون صلاتكم مع صلاتهم و صيامكم مع صيامهم و عملكم مع عملهم يقرؤن القرآن لا يجاوز حناجرهم يمرقون من الدين مروق السهم من الرمية تنظر في النصل فلا ترى شيئا و تنظر في القدح فلا ترى شيئا و تنظر في الريش فلا ترى شيئا و يتمارى في الفوقة رواه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن يوسف عن مالك و أخرجاه من وجه آخر كما :

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن ابو اسحاق نے ، دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الحسن ظرائفی نے ، ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ، ان کو یحییٰ بن بکیر نے، ان کو مالک نے (ح) وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے قعنبی نے ، اس میں جو انہوں نے مالک کے آگے پڑھا اس نے یحییٰ بن سعید سے اس نے محمد بن ابراہیم سے ، اس نے سلمہ بن عبدالرحمٰن سے، اس نے ابو سعید خدری سے یہ کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا وہ فرما رہے تھے ۔ تم لوگوں میں ایک قوم باجماعت نکلے گی جو اپنی نمازوں کے ساتھ تمہاری نمازوں کو حقیر سمجھیں گے اور اپنے روزوں کے آگے تمہارے روزوں کو حقیر جانیں گے اور اپنے عمل کے مقابلے میں تمہارے عمل کو حقیر جانیں گے ۔ وہ قرآن مجید کو تو پڑھیں گے مگر وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں گذرے گا ۔ وہ لوگ دین میں سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر اپنے نشانے سے نکل جاتا ہے ۔ آپ اس کے پھالے پر نظر ڈالیں تو آپ کو کچھ لگا ہوا اس پر نظر نہیں آتا ۔ آپ اس کے تیر کو دیکھیں تو آپ کو کچھ نطر نہیں آئے گا اس کے پر میں دیکھیں تو کچھ نظر نہیں آئے گا۔ (یعنی دین کا تو ان پر کوئی نشان نظر نہیں آئے گا مگر وہ تقویٰ اور برتری کا دعویٰ اور مقابلہ کریں گے )۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← القعنبي فيما قرأه على مالك ← و، ← مَالِكٍ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2640

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2641

2641 - أخبرناه أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا محمد بن يوسف الفريابي قال : ذكر سفيان عن محمد بن المنكدر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سيجيء قوم يقرؤون القرآن يقيمونه إقامة القدح يتعجلون أجره و لا يتأجلونه هكذا رواه الثوري مرسلا و كذلك رواه ابن عيينة عن ابن المنكدر مرسلا

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ، ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ، ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ، ان کو محمد بن یوسف فریابی نے ، انہوں نے کہا کہ سفیان نے ذکر کیا ہے محمد بن منکدر سے ، اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا عنقریب کچھ لوگ آئٰں گے وہ قرآن مجید کی قرأت کریں گے اور اس کو تیر کی طرح سیدھا کریں گے اور اس کا اجر او رمعاوضہ حاصل کرنے کی جلدی کریں گے (یعنی اس کا معاوضہ دنیا میں دینوی مال و متاح کے طور پر لیں گے ) اور اس کو آخرت کے لیے نہیں چھوڑیں گے۔ ثوری نے اس کو اسی طرح مرسل روایت کیا ہے اور اس کو ابن عیینہ نے ابن منکدر سے مرسلاً روایت کیا ہے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2641

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2642

2642 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر القاضي و أبو صادق العطار قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق ثنا أبو سعيد الحداد ثنا خالد عن عبد الله عن حميد الأعرج عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال : خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم و نحن نقرأ القرآن و فينا العجمي و العربي فقال : إقرؤا بكل حسن و سيجيء أقوام يتعجلونه و لا يتأجلونه و تابعه أسامة بن زيد على وصله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ اور ابو بکر قاضی اور ابو صادق عطاء نے ، انہوں نے کہا کہ ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق بن اسحاق نے ، ان کو ابو سعید حداد نے ، ان کو خالد نے ، ان کو عبداللہ نے ، ان کو حمید اعرج نے ، ان کو محمد بن منکدر نے ، ان کو جابر بن عبداللہ نے ، انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمارے پاس نکل کر تشریف لائے ، جب کہ ہم لوگ قرآن مجید پڑھ رہے تھے ۔ ہم میں عربی بھی اور عجمی بھی تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ ہر ایک صحیح ہے درست ہے اور عنقریب کچھ قومیں اور جماعتیں آئیں گی جو اس کی اجرت میں جلدی کریں گے ، یعنی دینوی معاوضہ لیں گے اور تاخیر نہیں کریں گے ۔ یعنی آخرت کے لیے نہیں چھوڑیں گے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← خَالِدٌ، ← أَبُو سَعِيدٍ الْحَدَّادُ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر القاضي و أبو صادق العطار ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2642

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2643

2643 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا إسماعيل القاضي ثنا إسماعيل بن أبي أويس ثنا سليمان بن بلال عن أسامة بن زيد أن محمد بن المنكدر أخبره أن جابر بن عبد الله أخبرهم قال : كنا جلوسا نقرأ القرآن فخزج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم مسرورا فقال : إقرؤا القرآن فيوشك أن يأتي قوم يقرؤونه فيقومونه كما يقوم القدح و يتعجلونه و لا يتأجلونه و رواه عبد العزيز بن محمد الداروي عن أسامة بن زيد عن محمد بن المنكدر عن جابر أن النبي صلى الله عليه و سلم رأى قوما يقرؤون القرآن في المسجد فقال اقرؤا القرآن قبل أن يأتي قوم يقيمونه إقامة القدح يتعجلونه و لا يتأجلونه

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ، ان کو احمد بن عبید صفار نے، ان کو اسماعیل قاضی نے ، ان کو اسماعیل بن ابو اویس نے ، ان کو سلیمان بن بلال نے ، ان کو اسامہ بن زید نے ان کو محمد بن منکدر نے ا س کو خبر دی ہے کہ جابر بن عبداللہ نے ان کو خبر دی ہے کہ ہم لوگ بیٹھے قرآن مجید پڑھ رہے تھے کہ اتنے میں ہمارے اوپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لائے جو کہ خوش خوش تھے اور فرمانے لگے پڑھ لو تم لوگ قرآن مجید قریب ہے کہ کچھ لوگ آپ کے جو اس کو پڑھیں گے اور اس کو تیر کی مانند سیدھا کریں گے اور اس کا معاوضہ لینے میں جلدی کریں گے ۔ اس میں تاخیر نہیں کریں گے ۔ (مطلب یہ ہے کہ اس کا معاوضہ دنیوی مال و متاع کی صورت میں دنیا میں لے لیں گے ۔ آخرت میں لینے کے لئے تاخیر نہیں کریں گے ۔ اس کو روایت کیا ہے کہ عبدالعزیز بن محمد دراور دی نے اسامہ بن زید سے اس نے محمد بن منکدر سے ، اس نے جابر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک قوم کو دیکھا جو مسجد میں بیٹھے قرآن مجید پڑھ رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ قرآن مجید پڑھو اس سے قبل کہ وہ لوگ آجائیں جو اس کو تیر کی مانند سیدھا کریں گے دنیا میں اس کا معاوضہ لینے کی جلدی کریں گے ۔ اسے آخرت کے لیے نہیں چھوڑیں گے ۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2643

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2644

2644 - أخبرناه علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا أبو جعفر الدينوري ثنا أبو مروان العثماني ثنا عبد العزيز فذكره و رواه موسى بن عبيدة عن أخيه عن سهل بن سعد : عن النبي صلى الله عليه و سلم و قال في الحديث يتعجلون أجره و لا يتأجلونه

ہمیں اس کی خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ، ان کو احمد بن عبید نے ، ان کو ابو جعفر دنیوری نے ، ان کو ابو مروان عثمانی نے، ان کو عبدالعزیز نے اس کو ذکر کیا اور اس کو روایت کیا ہے موسیٰ بن عبیدہ نے اپنے بھائی سے ، اس نے سھل بن سعد سے ، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اور اس نے کہا کہ حدیث میں ہے کہ وہ اس کے معاوضہ کی جلدی کریں گے ، دیر نہیں کریں گے۔ (یعنی دنیا میں دنیوی معاوضہ اور اجرت کے حاصل کرنے کی جلدی کریں گے آخرت کی اجرت و معاوضہ پر صبر نہیں کریں گے)۔

في الحديث يتعجلون أجره و لا يتأجلونه ← النبي صلى الله عليه و سلم و ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَخِيهِ ← عبد العزيز فذكره و رواه موسى بن عبيدة ← أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، ← أبو جعفر الدينوري ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2644

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2645

2645 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا روح بن عباده ثنا موسى بن عبيدة حدثني عبد الله بن عبيدة حدثني سهل بن سعد الساعدي قال : خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم و نحن نقترئ يقرئ بعضنا بعضا فقال : الحمد لله كتاب الله فيكم وأجد فيكم الأخيار فيكم الأحمر و الأسود اقرؤا و اقرئوا قبل أن يأتي قوم يقرؤنه يقومونه يقيمون حروفه كما يقام السهم لا يجاوز تراقيهم يتعجلون أجره و لا يتأجلونه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو محمد بن اسحاق صغانی نے ، ان کو روح بن عبادہ نے ، ان کو موسیٰ بن عبیدہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن عبیدہ نے، ان کو حدیث بیان کی ہے سہل بن سعد سعدی نے، انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لائے جب کہ ہم ایک دوسرے کو پڑھا رہے تھے ۔ یعنی بعض ہمارا بعض کو پڑھا رہا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اللہ کاشکر ہے کہ اللہ کی کتاب تمہارے اندر موجود ہے اور پاتا ہوں اخیار اور بہترین لوگوں کو ۔ تم لوگوں میں گورے بھی ہیں اور کالے بھی ہیں ۔ قرآن مجید کو پڑھ اور ایک دوسرے کو پڑھاؤ۔ اس وقت سے پہلے کہ وہ لوگ آجائیں جو اس کو پڑھیں گے، اس کو کھڑا کریں گے اور اس کے حروف کو سیدھا کریں گے ۔ جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید ان کی ہنسلیوں سے تجاروز نہیں کرے گا (یعنی نیچے اتر کر دل میں جگہ نہیں پکڑے گا) اس کی اجرت دنیا میں لے لیں ، اسے آخرت کے لئے نہیں چھوڑیں گے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدَةَ، ← موسى بن عبيدة ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2645

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2646

2646 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي ثنا الفريابي ثنا أبو قدامة ثنا إسحاق بن سليمان الرازي قال : سمعت موسى بن عبيدة يذكر عن أخيه عبد الله بن عبيدة عن سهل بن سعد : خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم و نحن نقترئ يقرئ بعضنا على بعض فقال : الحمد لله كتاب الله واحد فيكم الأخيار فيكم الأحمر و الأسود اقرؤا قبل أن يجيء أقوام يقيمونه كما يقام القدح لا يجاوز تراقيهم يتعجلون أجره و لا يتأجلونه 2646 - مكرر ـ و لهذا شاهد من حديث ابن وهب عن عمرو بن الحارث عن بكر بن سوادة عن وفاء بن شريح عن سهل بن سعد أشار إليه البخاري في التاريخ : ـ

ہمیں خبر دی ہے ابو سعد مالینی نے، ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو فریابی نے ،ا ن کو ابو قدامہ نے ، ان کو اسحاق بن سلیمان رازی نے ، وہ کہتےہیں کہ میں نے سنا موسیٰ بن عبیدہ سے، وہ اپنے بھائی عبداللہ بن عبیدہ سے ذکر کرتا تھا اور وہ سھل بن سعد سے کہ رسول الہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم لوگ باہم قرآن پڑھ رہے تھے ۔ یعنی بعض ہمارا بعض کو پڑھ کر سنا رہا تھا۔ (یعنی ہم لوگ قرآن مجید کو دور کر رہےتھے) آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے کتاب اللہ ایک ہے ۔ تم لوگوں میں اچھے لوگ بھی ہیں اور تم میں سرخ بھی ہیں سیاہ بھی اس وقت سے پہلے قرآن مجید کو پڑھو کہ کچھ قومیں آئیں گی جو اس کو ایسے سیدھا کریں گی جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے ۔ قرآن ان کی ہنسلیوں سے آگے نہیں بڑھے گا ۔ اس کا معاوضہ جلدی لیں گے ۔( یعنی دنیاوی اسباب کی صورت میں ) اور آخرت میں لینے کی تاخیر و انتطار نہیں کریں گے ۔ مکرر ہے۔ اور س کے لیے شاہد ابن وھب کی روایت ہے اس نے عمرو بن حارث سے ، اس نے بکر بن سوادہ سے اس نے وفاء بن شریح سے ، اس نے سہل بن سعد سے اور بخاری نے التاریخ میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے ۔

أَخِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدَةَ، ← موسى بن عبيدة يذكر ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← أَبُو قُدَامَةَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2646

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2647

2647 - أخبرناه أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسه ثنا أبو داود ثنا أحمد بن صالح ثنا عبد الله بن وهب أخبرني عمرو و ابن لهيعة عن بكر بن سواده عن وفاء بن شريح الصدفي عن سهل بن سعد قال : خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما و نحن نقترئ فقال : الحمد لله كتاب الله واحد و فيكم الأحمر و الأبيض و فيكم الأسود إقرؤوه قبل أن يقرأه أقوام يقيمون كما يقوم السهم يتعجل أجره و لا يتأجله

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ، ان کو ابوبکر بن داسہ نے ، ان کوابوداؤد نے ، ان کو احمد بن صالح نے ، ان کو عبداللہ بن وہب نے ، ان کو خبر دی عمرو بن لھیعہ نے ، ان کو بکر بن سوادہ نے ، ان کو وفاءبن شریح صد فی نے سھہ بن سعد سے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک دن ہم لوگوں پر تشریف لائے او رہم لوگ قرآن مجید کا دور کر رہے تھے ۔ فرماتے لگے اللہ کا شکر ہے کہ کتاب اللہ ایک ہے ۔ تم لوگوں میں سرخ بھی ہیں اور سفید بھی ، تم میں کالے بھی ہیں ۔ تم لوگ اس کو پڑھو اس وقت سے قبل کہ وہ لوگ اس کو پڑھیں جو اس کو سیدھا کھڑا کریں گے جیسے تیر سیدھا اور درست کیا جاتا ہے ۔ اس کا معاوضہ لینے کی جلدی کریں گے دیر نہیں کریں گے ۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← وَفَاءِ بْنِ شُرَيْحٍ الصَّدَفِيِّ ← بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، ← عمرو و ابن لهيعة ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2647

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2648

2648 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي عمارة عن حذيفة قال : يقرأ القرآن أقوام يقومونه كما يقام القدح و لا يدعون منه ألفا و لا واوا و لا يجاوز إيمانهم حناجرهم

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ، ان کو ابو منصور نضروی نے ، ان کو احمد بن نجدہ نے، ان کو سعید بن منصور نے ، ان کو ابو معاویہ نے اعمش سے ، اس نے ابو عمارہ سے ، اس نے حذیفہ سے ، اس نے کہا قرآن کو کچھ لوگ پڑھیں گے۔ اس کو ایسے سیدھا کریں گے اور درست کریں گے جیسے تیر سیدھا کیا جاتا ہے وہ نہ اس میں الف چھوڑیں گے نہ واؤ چھوڑیں گے ۔ (یعنی سب کا تقاضا پورا کریں گے ان کا ایمان ان کی ہنسلیوں سے تجاوز نہیں کرے گا۔

حُذَيْفَةَ ← أَبِي عُمَارَةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2648

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2649

2649 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان حدثني الوليد بن عتبة الدمشقي و إسحاق بن إبراهيم قالا : ثنا بقية بن الوليد و حدثني حصين بن مالك الفزاري قال : سمعت شيخا يكنى أبا محمد و كان قديما يحدث عن حذيفة بن اليمان : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : إقرؤا القرآن بلحون العرب و أصواتها و إياكم و لحون أهل الفسق و أهل الكتابين فإنه سيجيء من بعدي قوم يرجعون بالقرآن ترجيع الغناء و الرهبانية و النوح لا يجاوز حناجهم مفتونة قلوبهم و قلوب من يعجبهم شأنهم قال بقية ليس إلا حديث واحد و هو من أهل أفريقية

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے ، ان کو عبداللہ بن جعفر نے ، ان کو یعقوب بن سفیان نے، ان کو ولید بن عتبہ دمشقی نے اور اسحٰق بن ابراہیم نے ، انہوں نے ہمیں حدیث بیان کی ہے بقیہ بن ولید نے ، ان کو حصین بن مالک خزار نے ، انہوں نے کہا کہ میں نے سنا اس شیخ سے جس کی کنیت ابو محمد ہے ۔ وہ بزرگ تھے حضرت حذیفہ بن یمان سے حدیث بیان کرتے تھے ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن مجید کو عرب لہجوں کے ساتھ پڑھا کرو اور عربوں کی آوازوں کے ساتھ اور اہل فسق کے لہجوں سے اپنے آپ کو بچاؤ ( یعنی گانے بجانے والے بد کرداروں کے لہجوں اور سروں سے ) اور اہل کتابین (یہود ونصاریٰ کے ) لہجوں سے بچاؤ۔ بے شک بات یہ ہے کہ میرے بعد کچھ لوگ آئیں گے وہ قرآن کی آواز کو گانے کی آواز کی طرح حلق میں دھرائیں گے اور راھبوں اور نوحہ بین کرنے والوں کی طرح ۔ حالانکہ قرآن ان کے حلق سے نیچے (دل کی جانب ) نہیں اترے گا ۔ اس کے دل فتنے میں پڑے ہوئے ہوں گے اور ان کے دل بھی جن کو ان کی حالت پسند آئے گی اور اچھی لگے گی۔ بقیہ نے کہا کہ حصین فزاری کی صرف یہی ایک مروی حدیث ہے اور اہل افریقہ سےتھے۔

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← شيخا يكنى أبا محمد و كان قديما ← حُصَيْنِ بْنِ مَالِكٍ الْفَزَارِيِّ ← بقية بن الوليد و ← الوليد بن عتبة الدمشقي و إسحاق بن إبراهيم ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2649

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2650

2650 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو عتبة ثنا بقية : فذكره بإسناده مثله غير أن هذا الإسناد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم و لم يذكر قول بقية في آخر الحديث

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابوبکر بن حسن نے ، دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو ابو عتبہ نے ، ان کو بقیہ پھر اس کو اس نے ذکر کیا ہے ۔ اسی اسناد کے ساتھ اس کی مثل۔ سوائے اس کے یہ اسناد ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مگر آخر حدیث میں بقیہ کا قول ذکر نہیں کیا۔

بقية فذكره بإسناده مثله غير أن هذا الإسناد ← أَبُو عُتْبَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2650

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2651

2651 - أخبرنا أبو عبد الله و أبو بكر قالا : ثنا أبو العباس ثنا أبو عتبة ثنا بقية ثنا نصر بن علقمة الحضرمي عمن حدثه قال : قال أبو الدرداء : إياكم و الذين يحرفون القرآن و إياكم و الهذاذين بالقرآن الذين يهذون القرآن و يسرعون بقراءته فإنما مثل ذلك كمثل الأكمة لا أمسكت ماء و لا أنبتت كلأ

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ اور ابو بکر دونوں نے او العباس سے ، ان کو عتبہ نے ان کو بقیہ نے ، ان کو نصر بن علقمہ حضرتمی نے ، اس نے اس سے جس نے اس کو حدیث بیان کی تھی ۔ اس نے کہا کہ حضرت ابو درداء نے کہا تھا بچاؤ تم اپنے آپ کو ان لوگوں سے جو قرآن کی تحریف کریں گے (بدلیں گے ) اور بچانا اپنے آپ کو قرآن مجید کے جلدی جلدی پڑھنے والوں سے جو قرآن بڑبڑائیں گے اور اس کی قرأت میں سرعت اور جلدی کریں گے ۔ اس کی مثال اس ٹیلے جیسی ہے جو نہ تو اپنے اوپر پانی کو روک سکے اور نہ ہی سبزہ اگا سکے ( بلکہ پانی اوپر سے پھسل جائے)۔

نصر بن علقمة الحضرمي عمن ← بَقِيَّةُ ← أَبُو عُتْبَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أبو عبد الله و أبو بكر

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2651

chevron_left Previous
1…192021…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood