Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2616

2616 - قال : أبو عبيد و ثنا الأشجعي عن مسعر ثنا جابر قبل أن يقع فيما وقع فيه عن الشعبي عن عبد الله أنه قال : نعم كنز الصعلوك سورة آل عمران يقوم بها من آخر الليل

ابو عبید نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے اشجعی نے ان کو مسعر نے ان کو جابر نے اس سے قبل کہ وہ واقع ہو گئے تھے جس چیز میں واقع ہوئے تھے ۔ انہوں نے شعبی سے اس نے عبداللہ سے انہوں نے کہا۔ درویش لوگوں کا بہترین خزانہ آل عمران ہے جس کے ساتھ رات کے پچھلے حصے میں قیام کرتے ہیں۔

نعم كنز الصعلوك سورة آل عمران يقوم بها من آخر الليل ← عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ ← الشَّعْبِيِّ، ← جابر قبل أن يقع فيما وقع فيه ← مِسْعَرٍ، ← الْأَشْجَعِيُّ ← أبو عبيد و

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2616

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2617

2617 - قال : أبو عبيد و عنه الحديث الآخر : ـ : من قرأ القرآن فرأى أن أحدا أعطى أفضل مما أعطي فقد عظم صغيرا و صغر عظيما

ابو عبید نے کاہ کہ انہیں سے دوسری حدیث بھی ہے جو شخص قرآن بھی پڑھتا ہے اور وہ یہ خیال کرتا ہے کہ کوئی دوسرا اس سے بہتر لے چکا ہے اس نے گھٹیا چیز کو عظیم اور عظیم چیز کو حقیر اور چھوٹا سمجھا ہے ۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2617

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المباهاة بقراءة القرآن · حديث 2618

2618 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل ثنا يحيى بن أبي طالب ثنا عبد الوهاب بن عطاء أخبرني ابن جريج أخبرني يونس بن يوسف عن سليمان بن يسار قال : تفرق الناس عن أبي هريرة فقال : له ناتل أهل الشام يا أبا هريرة حدثنا حديثا سمعته من رسول الله قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ـ إن أول الناس يقضي فيه يوم القيامة ثلاثة رجل استشهد فأتى به فعرفه نعمته فعرفها فقال ما عملت فيها فقال : قاتلت في سبيلك حتى استشهدت قال : كذبت إنما أردت أن يقال : فلان جريء فقد قيل فيؤمر به فيسحب على وجهه حتى ألقي في النار و رجل تعلم العلم و قرأ القرآن فعرفه نعمته فعرفها فقال ما علمت فيها قال : تعملت العلم و قرأت القرآن و علمته فيك قال : كذبت و إنما أردت أن يقال فلان عالم و فلان قارئ فقد قيل فأمر بعه فسحب على وجهه حتى ألقي في النار و رجل أتاه الله من أنواع المال فأتى به فعرفه نعمه فعرفها فقال : ما عملت فيها قال : ما تركت من شيء أن تحب أن أنفق إلا أنفقت فيه لك قال : كذبت إنما أردت أن يقال فلان جواد فقد قيل فيأمر به فسحب على وجهه حتى ألقي في النار أخرجه مسلم في الصحيح من حديث خالد بن الحارث و حجاج بن محمد عن ابن جريج قال الحليمي رحمه الله : ـ و أيضا إن قراءة القرآن عبادة و المباهاة بها مراءاة و الرياء فيها كالرياء في غيرها من العبادات و الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالفضل حسن بن یعقوب بن یوسف عدل نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب بن عطا نے ان کو خبر دی ابن جریج نے انکو خبر دی یونس بن یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو سلیمان بن یسار نے وہ کہتے ہیں کہ لوگ حضرت ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے علیحدہ ہو گئے تھے ۔ سلیمان بن یسار نے ان سے کہا آپ اہل شام سے آگے بڑھیے ان کو چھوڑئیے اے ابو ہریرہ ہمیں حدیث بیان کیجئے وہ حدیث جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنی ہو ۔ انہوں نے فرمایا میں نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے آپ فرما رہے تھے۔ قیامت کے دن سب سے پہلے جن لوگوں کا فیصلہ ہوگا وہ تین قسم کے لوگ ہوں گے ایک تو وہ آدمی جو شہید ہو گیا تھا اسے پیش کیا جائے گا کہ میں نے تیری راہ میں قتال کیا تھا یہاں تک کہ میں خود شہید ہو گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تم نے جھوٹ بولا ہے تیرا ارادہ یہ تھا کہ لوگ یہ کہیں کہ تو بہادر ہے اور وہ لوگوں نے تیرے بارے میں وہاں کہہ دیا تھا۔ چنانچہ حکم ہوگا اس کو گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور دوسرا وہ آدمی جس نے علم سیکھا تھا اور قرآن مجید پڑھا تھا اللہ اس کو اپنی نعمتیں یاد دلائیں گے وہ ان کا اعتراف کرے گا۔ اس سے اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کہ دنیا میں کیا عمل کیا تھا وہ کہتے گا کہ میں نے علم پڑھا تھا اور قرآن پڑھا تھا اور تیری رضا کے لیے اسے پڑھایا تھا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم نے جھوٹ بولا ہے تیرا ارادہ تو یہ تھا کہ یہ کہا جائے کہ تو عالم ہے اور تو قاری ہے ۔ اور کہہ دیا گیا تھا۔ پھر اس کے بارے میں حکم ہو گا اسے گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ تیسرا وہ بندہ جسے اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کا مال دیا تھا اسے لایا جائے گا۔ وہ بھی اللہ کی ساری نعمتیں پہچانے گا اس سے سوال ہو گا کہ دنیا میں کیا عمل کیا تھا ؟ وہ کہے گا کہ میں نے کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا تھا جہاں پر تو چاہے کہ میں خرچ کروں مگر میں نے ہر اس جگہ پر تیرے لئے خرچ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم نے جھوٹ بولا ۔ تیرا ارادہ یہ تھا کہ لوگ یہ کہیں کہ فلاں بڑا سخی ہے اور وہ کہہ دیا گیا تھا ۔ پھر اس کے بارے میں حکم ہوگا وہ اپنے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ اس کو مسلم نے صحیح میں خالد بن حارث اور حجاج بن محمد سے ابن جریج سے نقل کیا ہے ۔

مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← حَدِيثًا ← له ناتل أهل الشام يا أبا هريرة ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← تَفَرَّقَ النَّاسُ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving boasting about reading the Qur’an · Hadith 2618

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المباهاة بقراءة القرآن · حديث 2619

2619 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا عبيد بن شريك ثنا أبو صالح محبوب بن موسى ثنا الفزاري يعني أبا إسحاق عن سعيد الجريري عن ابن نصره عن أبي فراس قال : خطبنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه فقال في خطبته و لقد أتى علي زمان و ما أدري أحدا أظنه قال يقرأ القرآن يريد به إلا الله و ما عنده و لقد يخيل إلي أن أناسا يقرؤن القرآن يريدون به ما عند الناس فأريد و الله بقراءتكم و أعمالكم

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو ابو صالح محبوب بن موسیٰ ان کو فزاری نے یعنی ابو اسحٰق نے ان کو سعید جریری نے ان کو ابن نصرہ نے ان کو ابو فراس نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حضرت عمر بن خطابرضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور انہوں نے اپنے خطبے میں فرمایا مجھ پر ایسا وقت بھی آیا ہے ۔ میں نہیں جانتا کسی ایک کو بھی جس کو میں گمان کروں کہ کوئی یہ کہے کہ (قرآن صرف اللہ کے لیے پڑھا جائے) بلکہ ان کا مقصود غیر اللہ ہوتا ہے ، اور جوان کے پاس ہے ۔ البتہ تحقیق مجھے تو خیال آتا ہے کہ بے شک لوگ قرآن پڑھتے ہیں اور ارادہ کرتے ؟ ہیں اس مال کا جو لوگوں کے پاس ہے ۔ اللہ کی قسم میں ارادہ کرتا ہوں تمہاری قرأت کے ساتھ اور تمہارے اعمال کے ساتھ (اللہ کی رضا کا)۔

في خطبته و لقد أتى علي زمان و ما أدري أحدا أظنه ← خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ← أَبِي فِرَاسٍ ← ابن نصره ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← الفزاري يعني أبا إسحاق ← أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَی ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving boasting about reading the Qur’an · Hadith 2619

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المباهاة بقراءة القرآن · حديث 2620

2620 - أخبرنا أبو القاسم عبد العزيز بن محمد بن شيبان العطار ببغداد ثنا أحمد بن سلمان ثنا محمد بن يونس القرشي ثنا يحيى بن كثير العنبري ثنا ابن عبيد عن الحسن : أن هذا القرآن قرأه ناس ثلاثة : ـ قوم اتخذوه بضاعة ينقلونه من بلد إلى بلد لا أكثرهم الله و هم كثيرون و قوم تدانوا من السلطان وراءوا به في أعمالهم و قوم وجدوا فيه دواء قلوبهم على داء قلوبهم فقاموا به في محاريبهم و خفوا في برانسهم فبمثل هؤلاء يدل على الأعداء و يستنزل القطر

ہمیں خبر دی ہے ابو القاسم عبدالعزیز بن محمد بن شیبان عطار نے بغداد میں ۔ ان کو احمد بن سلمان نے ان کو محمد بن یونس قرشی نے ان کو یحییٰ بن کثیر عنبری نے ان کو ابن عبیدی نے ان کو حسن نے کہا اس قرآن مجید کو تین طرح کے لوگوں نے پڑھا ہے ۔ ایک تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کوسامان تجارت کے طور پر حاصل کیا ہے وہ اس کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرتے رہتے ہیں ۔ اللہ ان کی تعداد میں اضافہ نہ کرے ایسے لوگ (بہت ہیں) اور دوسرے لوگ وہ ہیں جو بادشاہوں کے قریب ہو گئے ہیں اور انہوں نے ریاکاری کی قرآن کے ذریعے اپنے اعمال میں اور تیسرے وہ لوگ ہیں جنہوں نے قرآن میں اپنے دلوں کی دواء پالی ہے انہوں نے اس کو استعمال کیا اپنے دلوں کی بیماری پر پس وہ لوگ اس کو لے کر کھڑے ہوگئے ہیں اپنے حجروں میں (یا مساجد کےمحرابوں میں ) اور وہ لوگ ٹوپیوں میں چھپ گئے ہیں پس ایسے لوگ اعداء کی اور خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں اور بارش پر سوائے ہیں ( یعنی اس کا سبب بنتے ہیں)۔

ابْنُ عُبَيْدٍ ← يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ ← محمد بن يونس القرشي ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم عبد العزيز بن محمد بن شيبان العطار ببغداد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving boasting about reading the Qur’an · Hadith 2620

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المباهاة بقراءة القرآن · حديث 2621

2621 - و قد أنبأني محمد بن موسى بن الفضل أجازة أن أبو عبد الله الصفار ثنا أحمد بن محمد بن مهران الأصبهاني ثنا أبو الوليد خلف بن الوليد ثنا المحاربي عن بكر بن خنيس عن ضرار بن عمرو عن الحسن قال : قرأ القرآن ثلاثة رجل أخذه بضاعة ينقله من مصر إلى مصر إلى مصر يطلب به ما عند الناس وقوم قرؤوا القرآن و حفظوا حروفه و ضيعوا حدوده و استزلوا به الولاه و استطالوا به على أهل بلادهم فقد كثر هذا الضرب في حملة القرآن لا كثرهم الله و رجل قرأ القرآن فتداوى بدواء القرآن فوضعه على داء قلبه فسهر ليله و عملت عيناه تسربلوا الحزن و ارتدوا بالخشوع ذكروا في محاريبهم و اخفوا في برانسهم فبهم يسقي الله الغيث و ينزل النصر و يرفع البلاء و الله لهذا الضرب في حملة القرآن أقل من الكبريت الأحمر

اور تحقیق مجھے خبر دی ہے محمد بن موسیٰ بن فضل نے بطور اجازت کے ان کو خبر دی ہے ابو عبداللہ صفار نے ان کو احمد بن محمد بن مہران اصفہانی نے ان کو ابو الولید خلف بن ولید نے ان کو محاربی نے ان کو بکر بن خنیس نے ان کو ضرار بن عمرو نے ان کو حسن نے فرماتے ہیں کہ تین طرح کے لوگوں نے قرآن کو پڑھا ہے ایک تو وہ آدمی جس نے اس کو سامان تجارت کی طرح لیا ہے وہ اسے ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرتا رہتا ہے اس کے ذریعے وہ مال طلب کرتا ہے جو لوگوں کے پاس ہے دوسرے وہ لوگ ہیں جنہوں نے قرآن پڑھا ہے اور اس کے الفاظ کی حفاظت کی ہے اور اس کی حدود کو ضائع کر دیا ہے اور اس کے ذریعے انہوں نے حکمرانوں کو بہکایا ہے اور اس کے ذریعے اپنے اہل شہر پر اپنی برتری دکھائی ہے یہ قسم حاملین قرآن میں بہت ہے اللہ ان کی تعداد کو زیادہ نہ کرے ۔اور ایک وہ آدمی بھی ہے جس نے قرآن پڑھا ہے اور اس نے قرآن کی دواء کے ساتھ علاج کیا ہے یعنی اس کو اپنے دل کی بیماری پر استعمال کیا ہے اور اپنی راتوں کو جاگا ہے اور اپنی آنکھیں کام میں لگ گئی ہیں کہ انہوں نے حزن و غم کا لباس پہن لیا ہے اور خشوع کا چادر اوڑھ رکھا ہے اپنےحجروں محرابوں میں اس کو یاد کرتے ہیں اور اپنی ٹوپیوں کے نیچے (عاجزی کرتے ہوئے ) چھپ گئے ہیں انہیں (نیک لوگوں کی ) بدولت اللہ تعالیٰ بارش برساتا ہے انہیں کے بسبب مدد خدا وندی اترتی ہے اور مصیبت دور ہوتی ہے ۔ اللہ کی قسم لوگوں کی قسم حاملین قرآن میں یاقوت احمر سے بھی کم ہے ۔

الْحَسَنِ، ← ضرار بن عمرو ← بكر بن خنيس ← الْمُحَارِبِيُّ2 ← أبو الوليد خلف بن الوليد ← أحمد بن محمد بن مهران الأصبهاني ← محمد بن موسى بن الفضل أجازة أن أبو عبد الله الصفار ← و قد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving boasting about reading the Qur’an · Hadith 2621

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المباهاة بقراءة القرآن · حديث 2622

2622 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا أبو عثمان الخياط ثنا أحمد بن أبي الحواري قال : سمعت أبا زكريا يحيى بن العلاء و كان من البكائين قال : إذا قرأ ابن آدم القرآن ثم خلط ثم عاد يقرأ يقول الله له مالك أو قال : ما أنت و لكلامي

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو ابو عثمان خیاط نے انکو احمد بن ابو الحواری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو زکریا یحییٰ بن علاء سے وہ خوف خدا سے مشہور رونے والوں میں تھے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ابن آدم قرآن پڑھتا ہے اس کے بعد نیک و بد اعمال میں خلط کرتا ہے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے اور تلاوت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے فرماتے ہیں تجھے میرے کلام سے کیا نسبت ہے ۔

ما أنت و لكلامي ← الله له مالك أو ← إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ الْقُرْآنَ ثُمَّ خَلَطَ ثُمَّ عَادَ يَقْرَأُ ← أبا زكريا يحيى بن العلاء و كان من البكائين ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← أَبُو عُثْمَانَ الْخَيَّاطُ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving boasting about reading the Qur’an · Hadith 2622

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المباهاة بقراءة القرآن · حديث 2623

2623 - قال : و ثنا أحمد قال : سمعت أبا سليمان يقول الزبانية يوم القيامة أسرع إلى حملة القرآن الذين عصوا الله بعد قراءة القرآن منهم إلى عبدة الأوثان غضبا عليهم حين عصوا الله بعد قراءة القرآن

انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد نے انہوں نے کہا میں نے سنا ابو سلیمان سے وہ کہتے ہیں کہ خیر کا دربان زبانیہ فرشتہ قیامت کے دن ان حاملین قرآن کی گرفتار کرنے کے لیےجنہوں نے اللہ کی نافرمانی کی تھی قرأت قرآن کے با وجود زیادہ تیز ہیں اس سے بھی جتنی کہ وہ بت پرستوں پر غضبناک ہو جب کہ وہ اللہ کی نافرمانی کریں پڑھنے کے بعد۔

أَبَا سُلَيْمَانَ، ← أَحْمَدُ، ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving boasting about reading the Qur’an · Hadith 2623

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك قراءة القرآن في المساجد و الأسواق ليعطى و يستأكل به · حديث 2624

2624 - أخبرنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان أنا أبو عمر إسماعيل بن نجيد ثنا محمد بن أيوب البجلي ثنا سهل بن بكار ثنا أبان بن يزيد عن يحيى بن أبي كثير عن زيد بن سلام عن أبي سلام عن أبي راشد الحبراني عن عبد الرحمن بن شبل الأنصاري : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ـ اقرأوا القرآن و لا تغلوا فيه و لا تجفوا عنه و لا تأكلوا به و لا تستكثروا به رواه علي بن المبارك عن يحيى بن أبي كثير و زاد فيه : اقرؤا القرآن و اعملوا بما فيه

ہمیں خبر دی امام ابو لطیب سہل بن محمد بن سلیمان نے ان کو ابو عمرو اسماعیل بن نجید نے ان کو محمد بن ابوبجلی نے اس کو سہل بن بکار نے ان کو ابان بن یزید نے ان کو یحییٰ بن ابوکثیر نے ان کو زید بن سلام نے ان کو ابوسلام نے ان کو ابو راشد حبرانی نے ان کو عبدالرحمٰن بن شبل انصاری نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ قرآن مجید کو پڑھو اور اس میں غلو اور زیادتی نہ کرو ( یا اس میں خیانت نہ کرو) اور اس سے دور نہ ہو وہ۔یا بوجھل نہ ہو ، نہ ہی اسے کھانے کا ذریعہ بناؤ اور نہ ہی اس کے ذریعے مال جمع کرو۔ اس کو روایت کیا ہے علی بن مبارک نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے اور اس نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ ۔ قرآن کو پڑھو اور اس میں جو کچھ ہے اس پر عمل کرو۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← محمد بن أيوب البجلي ← أبو عمر إسماعيل بن نجيد ← الْإِمَامُ أَبُو الطِّيبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on giving up reading the Qur’an in mosques and markets, to be given and eaten · Hadith 2624

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك قراءة القرآن في المساجد و الأسواق ليعطى و يستأكل به · حديث 2625

2625 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو القاسم بن حبيب المفسر من أصل كتابه و محمد بن موسى بن الفضل قالوا أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار الأصبهاني ثنا أحمد بن هيثم ابن أبي نعيم الفضل بن دكين ثنا علي بن قادم الخزاعي عن سفيان الثوري عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ القرآن يتأكل به الناس جاء يوم القيامة و وجهه عظم ليس عليه لحم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ اور ابو القاسم بن حبیب مفسر نے اپنی اصل کتاب سے اور محمد بن موسیٰ بن فضل نے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ بن عبداللہ صفار اصفہانی نے ان کو احمد بن ہثیم ابن ابو نعیم نے فصل بن اکین نے ان کو علی بن قادم خزاعی نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو علقمہ بن مرثد نے ان کو سلیمان بن بریدہ نے ان کو ان کے والد نے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص قرآن مجید پڑھے اور اس کے ذریعے لوگوں کا مال کھائے قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا چہرہ ہڈی ہوگا اس پر گوشت نہیں ہوگا۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← علي بن قادم الخزاعي، ← أحمد بن هيثم ابن أبي نعيم الفضل بن دكين ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on giving up reading the Qur’an in mosques and markets, to be given and eaten · Hadith 2625

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك قراءة القرآن في المساجد و الأسواق ليعطى و يستأكل به · حديث 2626

2626 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الله بن إسحاق الخزاعي بمكة ثنا ابن أبي ميسرة ثنا المقري ثنا حيوة أخبرني بشير بن أبي عمرو الخولاني أن الوليد بن قيس التجيبي حدثه أنه سمع أبا سعيد الخدري يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ـ و تلا هذه الآية { فخلف من بعدهم خلف } فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يكون خلف من بعد ستين سنة أضافوا الصلاة و اتبعوا الشهوات فسوف يلقون غيا ثم يكون خلف يقرؤن القرآن لا يعدو تراقيهم و يقرأ القرآن ثلاثة مؤمن و منافق و فاجر قال بشير فقلت للوليد ما هؤلاء الثلاثة فقال المنافق كافر به و الفاجر يتأكل به و المؤمن يؤمن به

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی عبداللہ بن اسحٰق خزاعی نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابن ابو میسرہ نے ان کو مقری نے ان کوحیاۃ نے ان کو بشیر بن ابی عمرو خولانی نے کہ ولید بن قیس تجیبی نے ان وک حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے ابو سعید خذری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سےسنا آپ فرماتے تھے اور آپ نے یہ آیت تلاوت کی تھی ۔ فختلف من بعدھم خلف ۔ کہ ان کے بعد ناخلف پیدا ہو گئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا نا خلف ہوں گے ساٹھ سال کے بعد وہ نمازوں کو ضائع کر دیں گے ، اور شہوات و لذات کے پیچھے چلیں گے پس بہت جلدی پالیں گے وادی غیبی (جہنم کی وادی) کو پھر اس کے بعد دوسرے ناخلف یعنی نالائق پیدا ہوں گے جو قرآن کو تو پڑھیں گے ۔ لیکن قرآن ان کے ہنسلیوں سے نیچے نہیں اترے گا،اور قرآن کو پڑھتے ہیں تین طرح کے لوگ پہلے نمبر پر صحیح مؤمن دوسرے نمبر پر منافق تیسرے نمبر پر بدکردار ، بشیر بن عمرو خولانی کہتے ہیں میں نے ولید بن قیس سے پوچھا کہ ان تینوں کی ماہیت و حقیقت کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ منافق تو سرے سے قرآن (کو پڑھنے کے باوجود ) منکر اور کافر ہوتا ہے اور فاجر یعنی گنہگار و بدکردار اس کے ذریعے سے کھاتا ہے (یعنی پیٹ پالتا ہے ) اور مؤمن حقیقت میں اس کے ساتھ ایمان رکھتا ہے ۔

و تلا هذه الآية ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَنَّهُ ← بَشِيرُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الْخَوْلَانِيُّ،أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ ← حَيْوَةُ، ← الْمُقْرِئُ ← ابْنُ أَبِي مَيْسَرَةَ ← عبد الله بن إسحاق الخزاعي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on giving up reading the Qur’an in mosques and markets, to be given and eaten · Hadith 2626

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك قراءة القرآن في المساجد و الأسواق ليعطى و يستأكل به · حديث 2627

2627 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي أنا أحمد بن محمد بن دلوية ثنا أحمد بن حفص عن عبد الله حدثني أبي حدثني إبراهيم بن طهمان عن الحسن بن عمارة عن الأعمش عن خيثمة عن الحسن البصري أنه قال : كنت مع عمران بن حصين إذ مر رجل يقرأ سورة يوسف فاستمع له فلما فرغ سأل فقال عمران بن حصين إنا لله و إنا إليه راجعون سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول اقرؤا القرآن سلوا به الله فإنه سيجيء قوم يقرؤون القرآن يسألون به الناس

ہمیں خبر دی ابو الحسن محمد بن حسن علوی نے ان کو احمد بن محمد بن دلویۃ نے ان کو احمد بن حفص نے ان کو عبداللہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابراہیم بن طہمان نے ان کو حسن بن عمارہ نے ان کو اعمش نے ان کو خیثمہ نے ان کو حسن بصری نے انہوں نے کہا کہ میں عمران بن حصین کے ساتھ تھا اچانک ایک آدمی گذرا جو کہ سورۃ یوسف پڑھ رہا تھا عمران نے اس کی طرف کان لگا لیا جب وہ فارغ ہوئے تو مانگنا شروع کر دیا پس عمران بن حصین نے کہا انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا فرماتے تھے قرآن مجید پڑھو (مگر سوال ) اس کے ذریعے اللہ سے کرو بے شک عنقریب کچھ لوگ آئیں گے جو قرآن پڑھیں گے مگر اس کے ذریعے لوگوں سے سوال کریں گے۔

الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، ← خيثمة ← الْاَعْمَشِ ← الحسن بن عمارة ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ← أحمد بن محمد بن دلوية ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on giving up reading the Qur’an in mosques and markets, to be given and eaten · Hadith 2627

chevron_left Previous
1…171819…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood