شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2604
2604 - أخبرنا أبو القاسم عبد الخالق بن علي المؤذن أنا أبو بكر بن خنب البغدادي ببخاري ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب قالا : ثنا يحيى بن أبي طالب أنا زيد بن الحباب ثنا مالك بن مغول عن عبيد الله بن يزيد عن أبيه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جاء إلى المسجد فوجدني على باب المسجد فأخذ بيدي و أدخلني المسجد فإذا رجل يصلي و يدعوا و يقول : اللهم إني اسألك بأني أشهد أن لا إله إلا أنت الأحد الصمد الذي لم يلد و لم يولد و لم يكن له كفوا أحد قال : فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : و الذي نفسي بيده لقد سأل الله بإسمه الأعظم الذي إذا سئل به أعطى و إذا دعي به أجاب قال : و إذا رجل يقرأ في جانب المسجد فقال : لقد أعطى هذا مزمارا من مزامير آل داود فقلت : يا رسول الله أخبره قال : نعم فأخبرته قال : فلم يزل لي صديقا و إذا هو أبو موسى الأشعري رضي الله عنه قال : زيد بن الحباب فحدث زهير بن معاوية بهذا الدعاء فقال : ثنا أبو إسحاق عن مالك بن مغول بهذا الحديث بعينه و أخبرني به سفيان الثوري عن مالك بن مغول و أخرجناه من حديث أبي بردة عن أبي موسى قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ـ لو رأيتني و أنا أسمع قراءتك البارحة لقد أوتيت مزمارا من مزامير آل داود فقال : لو علمت لحبرته لك تحبيرا و قد أخرجاه في الصحيح دون قول أبي موسى و أخرجه مسلم من حديث بريدة مختصرا في شأن أبي موسى
ہمیں خبر دی ہے ابو القاسم عبدالخالق بن علی مؤذن نے انکو ابو بکر بن خنب بغدادی نے بخارا میں "ح" اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے دونوں کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو زید بن حباب نے ان کو مالک بن مغول نے ان کو عبید اللہ بن یزید نے ان کو ان کے والد نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مسجد کی طرف آئے تو مجھے مسجد کے دروازے پر پایا لہذا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے میر ہاتھ پکڑا اور مجھے مسجد میں لے گئے اچانک دیکھا تو ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا اور دعا بھی کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا ۔ "اللھم انی اسئلک بانی اشھدان لا الہ الا انت الا حدالصمد الذی لم یلد ولم یو لد ولم یکن لہ کفواً احد"۔ کہتے ہیں کہ رسول الہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کھرے ہو گئے اور فرمانے لگے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اس بندے نے اللہ سے مانگا ہے اس کے اسم اعظم کے ساتھ وہ ایسا اسم ہے کہ جب اس کے ساتھ سوال کیا جائے تو وہ ضرور عطا کرتا ہے اور جب اس کے ساتھ مانگا جائے دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے ۔ اور فرمایا کہ دیکھا تو ایک آدمی میں مسجد کے کونے میں قرأت کر رہا ہے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کو خوبصورت سر عطا کیا گیا ہے آل داؤد کی سروں میں سے ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں اس کو خبر دوں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کو ہاں میں جواب دیا چنانچہ میں نے جا کر اس کو خبر دے دی اس شخص نے کہا کہ حضور ہمیشہ میرے دوست رہے ہیں ۔ وہ شخص ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے ۔ زید بن حباب کہتے ہیں کہ زہیر بن معاویہ نے میری دعا بیان کی ۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدہث بیان کی ہے ابو اسحٰق نے مالک بن مغول سے اسی حدیث کے ساتھ بعینہ اور اسی حدیث کی مجھے خبر دی سفیان ثوری نے مالک بن مغول سے اور ہم نے اس کو نقل کیا ہے ابو بردہ کی حدیث سے ان کو ابو موسیٰ نے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ کاش اگر آپ مجھے دیکھتے کہ میں گذشتہ شب تیری قرأت سن رہا تھا البتہ تحقیق تم خوبصورت سر دے گئے ہو آل داؤد کی خوبصورت سروں میں سے ابو موسیٰ نے کہا اگر میں جان لیتا تو میں اور خوبصورت آواز کرکے پڑھتا۔ بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا ہے ۔ مگر اس میں ابو موسیٰ کا قول نہیں ہے اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے ۔ مختصراً بریدہ کی حدیث سے ابو موسیٰ کی شان میں۔
أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← أبو بكر بن خنب البغدادي ببخاري ← أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَذِّنُ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2604
