Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2604

2604 - أخبرنا أبو القاسم عبد الخالق بن علي المؤذن أنا أبو بكر بن خنب البغدادي ببخاري ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب قالا : ثنا يحيى بن أبي طالب أنا زيد بن الحباب ثنا مالك بن مغول عن عبيد الله بن يزيد عن أبيه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جاء إلى المسجد فوجدني على باب المسجد فأخذ بيدي و أدخلني المسجد فإذا رجل يصلي و يدعوا و يقول : اللهم إني اسألك بأني أشهد أن لا إله إلا أنت الأحد الصمد الذي لم يلد و لم يولد و لم يكن له كفوا أحد قال : فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : و الذي نفسي بيده لقد سأل الله بإسمه الأعظم الذي إذا سئل به أعطى و إذا دعي به أجاب قال : و إذا رجل يقرأ في جانب المسجد فقال : لقد أعطى هذا مزمارا من مزامير آل داود فقلت : يا رسول الله أخبره قال : نعم فأخبرته قال : فلم يزل لي صديقا و إذا هو أبو موسى الأشعري رضي الله عنه قال : زيد بن الحباب فحدث زهير بن معاوية بهذا الدعاء فقال : ثنا أبو إسحاق عن مالك بن مغول بهذا الحديث بعينه و أخبرني به سفيان الثوري عن مالك بن مغول و أخرجناه من حديث أبي بردة عن أبي موسى قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ـ لو رأيتني و أنا أسمع قراءتك البارحة لقد أوتيت مزمارا من مزامير آل داود فقال : لو علمت لحبرته لك تحبيرا و قد أخرجاه في الصحيح دون قول أبي موسى و أخرجه مسلم من حديث بريدة مختصرا في شأن أبي موسى

ہمیں خبر دی ہے ابو القاسم عبدالخالق بن علی مؤذن نے انکو ابو بکر بن خنب بغدادی نے بخارا میں "ح" اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے دونوں کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو زید بن حباب نے ان کو مالک بن مغول نے ان کو عبید اللہ بن یزید نے ان کو ان کے والد نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مسجد کی طرف آئے تو مجھے مسجد کے دروازے پر پایا لہذا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے میر ہاتھ پکڑا اور مجھے مسجد میں لے گئے اچانک دیکھا تو ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا اور دعا بھی کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا ۔ "اللھم انی اسئلک بانی اشھدان لا الہ الا انت الا حدالصمد الذی لم یلد ولم یو لد ولم یکن لہ کفواً احد"۔ کہتے ہیں کہ رسول الہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کھرے ہو گئے اور فرمانے لگے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اس بندے نے اللہ سے مانگا ہے اس کے اسم اعظم کے ساتھ وہ ایسا اسم ہے کہ جب اس کے ساتھ سوال کیا جائے تو وہ ضرور عطا کرتا ہے اور جب اس کے ساتھ مانگا جائے دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے ۔ اور فرمایا کہ دیکھا تو ایک آدمی میں مسجد کے کونے میں قرأت کر رہا ہے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کو خوبصورت سر عطا کیا گیا ہے آل داؤد کی سروں میں سے ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں اس کو خبر دوں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کو ہاں میں جواب دیا چنانچہ میں نے جا کر اس کو خبر دے دی اس شخص نے کہا کہ حضور ہمیشہ میرے دوست رہے ہیں ۔ وہ شخص ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے ۔ زید بن حباب کہتے ہیں کہ زہیر بن معاویہ نے میری دعا بیان کی ۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدہث بیان کی ہے ابو اسحٰق نے مالک بن مغول سے اسی حدیث کے ساتھ بعینہ اور اسی حدیث کی مجھے خبر دی سفیان ثوری نے مالک بن مغول سے اور ہم نے اس کو نقل کیا ہے ابو بردہ کی حدیث سے ان کو ابو موسیٰ نے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ کاش اگر آپ مجھے دیکھتے کہ میں گذشتہ شب تیری قرأت سن رہا تھا البتہ تحقیق تم خوبصورت سر دے گئے ہو آل داؤد کی خوبصورت سروں میں سے ابو موسیٰ نے کہا اگر میں جان لیتا تو میں اور خوبصورت آواز کرکے پڑھتا۔ بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا ہے ۔ مگر اس میں ابو موسیٰ کا قول نہیں ہے اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے ۔ مختصراً بریدہ کی حدیث سے ابو موسیٰ کی شان میں۔

أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← أبو بكر بن خنب البغدادي ببخاري ← أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَذِّنُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2604

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2605

2605 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق أنا يوسف بن يعقوب ثنا سليمان بن حرب ثنا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها : أن رجلا قام من الليل يقرأ فرفع صوته بالقرآن فقال : رسول الله صلى الله عليه و سلم : يرحم الله فلانا كأين من آية أذكرينها الليلة كنت أسقطتها و رواه أيضا أبو أسامة و غيره عن هشام بن عروة من ذلك الوجه أخرجاه في الصحيح

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو سلمہ ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک آدمی رات کو اٹھا اور وہ اونچی آواز کے ساتھ قرآن مجید پڑھ رہا تھا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اللہ فلاں پر رحم کرے کتنی آیات اس نے مجھے یاد دلائی جنہیں میں ساقط کر چکا تھا۔ اور اس کو روایت کیا ابو اسامہ نے ہشام بن عروہ اسی طریق سے بخاری مسلم نے اس کو صحیح میں روایت کیا ہے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2605

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2606

2606 - أنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا يونس بن بكير عن ابن أبي إسحاق حدثني محمد بن إبراهيم التيمي قال : كان عبد الله بن مزينة ذو النجادين يتيما في حجر عمه و كان يعطيه و كان محسنا إليه فبلغ عمه أنه قد تابع دين محمد صلى الله عليه و سلم : فقال له لئن فعلت و تبعت محمدا لأنزعن منك كل شيء أعطيتك قال : فإن مسلم فنزع منه كل شيء أعطاه حتى جرده من ثوبه فأتى أمه فقطعت له نجادا لها باثنين فاتزر نصفا و ارتدى نصفا ثم أصبح يصلي مع رسول الله صلى الله عليه و سلم الصبح فلما صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم أخذ يتصفح الناس ينظر من أتاه و كذلك كان يفعل فرآه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : من أنت قال : أنا عبد العزى قال : بل أنت عبد الله ذو النجادين فالزم بابي فكان يلزم باب رسول الله صلى الله عليه و سلم و كان يرفع صوته بالقرآن و التكبير و التسبيح فقال : عمر بن الخطاب رضي الله عنه يا رسول الله مرائي قال : دعه عنك فإنه أحد الأواهين

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالجبار نے ان کو یونس بن بکیر نے ان کو ابن ابو اسحٰق نے ان کو محمد بنابراہیم تیمی نے وہ کہتے ہیں عبداللہ بن مزینہ ذوالنجادین تھا۔ یتیم تھا چچا کی گود نے میں پلاتھا چچا اس کو دیا کرتے تھے اور اس کے محسن تھے ، عبداللہ جب مسلمان ہو گیا تو خبر اس کے چچا کو پہنچی کہ عبداللہ دین محمد کا پیرو ہو گیا ہے ، چچا نے کہا کہ اگر تم نے ایسا کیا اور دین محمد کی اتباع کی تو میں تجھ سے وہ سب کچھ چھین لوں گا جو کچھ میں نے تجھے دے رکھا ہے ۔ اس نے کہا کہ میں مسلمان ہو گیا ہوں لہذا اس نے اس سے ہر وہ چیز چھین لی جو اسے دے رکھی تھی یہاں تک کہ اس کے جسم کے کپڑے تک اتار لیے وہ اسی حالت میں اپنی والدہ کے پاس آئے تو اس کی والدہ نے اپنی اوڑھنی پھاڑ دی اور ایک حصے کو اس نے بطور تہبند کے باندھ لیا اور دورے کو بطور اوپر اوڑھ لیا تو باللہ یہ دو چھتھڑے جس سے لپیٹ کر جب صبح کی نماز پڑھنے مسجد نبوی میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیچھے گیا تو جب نماز پڑھ چکے تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم لوگوں سے مصافحہ کرنے لگے کہ دیکھیں کون ان کے پاس آیا ہے ۔ اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے عبداللہ کو بھی اس حال میں دیکھا تو پوچھا کہ تم کون ہو اس نے کہا میرا نام عبدالعزیٰ ہے رحمت عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا بلکہ تم عبداللہ ہو ذوالنجادین (اس نے اپنی پریشانی سنائی تو ) حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا میرے دروازے پر بیٹھے رہا کرو لہذا (کل کا عبدالعزیٰ آج کا یہ ذوالنجادین کے لقب کا حامل دربان رسول کی سعادت پاکر) حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دروازے پر بیٹھا رہتا تھا ، اور زور زور کے ساتھ اونچی آواز کے ساتھ قرآن پڑھتا اور اونچی آواز سے تسبیح اور تکبیر کہتا رہتا تھا ۔ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ ریا کر رہا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا چھور تو اس کو یہ درد دل رکھنے اور اللہ کے آگے رونے والوں میں سے ایک ہے ۔

مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← ابْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2606

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2607

2607 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو إسحاق إبراهيم بن سليمان البرلسي بمصر ثنا سعيد بن منصور ثنا ابن أبي الزناد عن عمرو بن أبي عمرو عن عكرمة عن ابن عباس قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يصلي من الليل فيسمع قراءته من وراء الحجر و هو في البيت

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا ان کو حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو اسحاق ابراہیم بن سلیمان برلسی نے مصر میں ان کو سعید بن منصور نے ان کو ابن ابو الزناد نے ان کو عمر و بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس نے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم رات میں نماز پڑھتے (تو تہجد کی قرأت ) آپ کے حجروں کے باہر سنائی دیتی تھی جب کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم گھر کے اندر ہوتے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أبو إسحاق إبراهيم بن سليمان البرلسي بمصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2607

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2608

2608 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتاب العبدي ثنا أبو بكر بن أبي العوام الرياحي ثنا يزيد بن هارون أنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أذن الله لشيء كإذنه لنبي يتغنى بالقرآن يجهر به

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن عبدالوہاب بن عتاب عبدی نے ان کو ابو بکر بن ابو العوام ریاحی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو محمد بن عمرو نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو کسی شے کے لیے اس قدر اجازت نہیں دی جس قدر آپ کو قرآن مجید زور زور سے پڑھنے اور سر کے ساتھ پڑھنے کی اجازت دی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْعَوَّامِ الرِّيَاحِيُّ، ← أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتاب العبدي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2608

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2609

2609 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا خلف بن محمد البخاري ثنا حامد بن سهل ثنا أحمد بن منيع أنا أبو يوسف القاضي ثنا أبو حنيفة عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر عن أبيه عن عمر : أنه قال لرجل : اقرأ سورة الحجر قال : أو ليست معك يا أمير المؤمنين قال : إما بمثل صوتك فلا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خلف بن محمد بخاری نے ان کو حامد بن سہل نے ان کو احمد بن منیع نے ان کو ابو یوسف قاضی نے ان کو ابو خلیفہ نے ان کو ابراہیم بن محمد بن منتشر نے ان کو ان کے والد نے ان کو عمر نے کہا انہوں نے ایک آدمی سے کہا کہ آپ سورۃ الحجر پڑھئیے اس نے کہا امیر المومنین کیا آپ کے ساتھ نہیں ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے یاد تو ہے مگر تیری جیسی آواز کے ساتھ نہیں ہے ، (یعنی تیری خوبصورت آواز کے ساتھ سننا چاہتا ہوں۔ )

إما بمثل صوتك فلا ← أو ليست معك يا أمير المؤمنين ← لرجل اقرأ سورة الحجر ← عُمَرَ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، ← أبو حنيفة ← أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← حَامِدُ بْنُ سَهْلٍ ← خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبُخَارِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2609

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2610

2610 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران و أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري ببغداد في آخرين قالوا ثنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا الحسن بن عرفة ثنا إسماعيل بن عياش الحمصي عن بحير بن سعد الكلاعي عن خالد بن معدان عن بشر بن مرة الحضرمي عن عقبة بن عامر الجهني قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الجاهر بالقرآن كالجاهر بالصدقة و المسر بالقرآن كالمسر بالصدقة

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران اور ابو محمد عبداللہ بن یحییٰ بن عبدالجبار سکری نے بغداد میں انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو حسن بن عرفہ نے ان کو اسماعیل بن عیاش حمصی نے ان کو بحیر بن سعد کلاع نے ان کو خالد بن معدان نے ان کو بشر بن مروہ حضرمی نے ان کو عقبہ بن عامر جہنی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے ۔زور زور سے تلاوت کرنے والا چھپ کر صدقہ کرنے والے کی مثل ہے ( جو صرف اپنے رب کے سامنے کرتا ہے ۔)

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← بشر بن مرة الحضرمي ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بحير بن سعد الكلاعي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2610

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2611

2611 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي ثنا أحمد بن عبدوس الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد ثنا عبد الله بن صالح أن معاوية بن صالح حدثه عن بحير بن سعد : فذكره بإسناده نحوه غير أنه قال : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال البيهقي رحمه الله : ـ و قد قال الله عز و جل : { إن تبدوا الصدقات فنعما هي وإن تخفوها وتؤتوها الفقراء فهو خير لكم } و هذا و الله أعلم لأن إخفاءها يكون أبعد من الرياء و كذلك قراءة القرآن

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو احمد بن عبدوس طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو معاویہ بن صالح نے ان کو بحیر بن سعد نے پھر اس کو اس نے اس کی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے مذکور کی مثل امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ "ان تبدو الصدقات فنعما ھی وان تخفوھا وتؤ تو ھاالفقر اء فھو خیر لکم" اگر تم لوگ صدقات کو ظاہر کرو تو یہ بہت اچھی بات ہے ( دوسروں کو بھی ترغیب ہوگی) اور اگر تم اسے چھپاؤ اور اسے فقراء کو دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے ۔ یہ اس لیے ہے کہ اس کا اخفار یاء سے بعید ہے ، چنانچہ قرأت قرآن بھی اسی طرح ہے ۔

بحير بن سعد فذكره بإسناده نحوه غير أنه ← عبد الله بن صالح أن معاوية بن صالح ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أحمد بن عبدوس الطرائفي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2611

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2612

2612 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس الأصم ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا ابن فضيل عن أشعث عن محمد بن سيرين : في قوله ( و لا تجهر بصلاتك و لا تخافت بها ) قال كان أبو بكر يخافت بصوته فيقول أناجي ربي و كان يرفع صوته عمر و يقول : أزجر الشيطان و أوقظ الوسنان حتى نزلت هذه الآية فأمر أبو بكر فرفع من صوته شيئا و أمر عمر فخافت من صوته هذا مرسل و قد رويناه موصولا من حديث أبي قتادة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو فضیل نے ان کو شعث نے ان کو محمد بن سرین نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں ۔ ولا رجھر بصلاتک ولا تخافت بھا الخ" (اے پیغمبر) اپنی نماز (کی تلاوت کے ساتھ) نہ تو جہر کر اور نہ اس کو زیادہ آہستہ کر بلکہ (جہر اً اور مخفی) کے درمیان راستہ تلاش کر ابن سیرین نے کہا کہ ابو بکر صدیق اپنی آواز کو مخفی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ میں اپنے رب کے ساتھ شر گوشی کرتا ہوں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی آواز اونچی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ میں شطان کو بھگاتا ہوں اور سوتے کو جگاتا ہوں ۔ یہاں تک کہ یہ مذکورہ آیت نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اپنی آواز کو کچھ اونچا کر لے اور عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اپنی آواز کو ہلکا کر لے ۔ یہ حدیث مرسل اور تحقیق ہم نے اس کو روایت کیا ہے موصول ابو قتادہ کی حدیث سے۔

كَانَ أَبُو بَكْرٍ يُخَافِتُ بِصَوْتِهِ ← محمد بن سيرين في قوله و لا تجهر بصلاتك و لا تخافت بها ← أَشْعَثَ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2612

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2613

2613 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا علي بن حمشاذ ثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان عن عمرو بن دينار عن ابن أبي مليكه عن عبد الله بن أبي نهيك عن سعد قال : أتيته فسألني من أنت فأخبرته عن نسبي فقال : سعد تجار كسبة سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول ليس منا من لم يتغن بالقرآن قال سفيان يغني يستغني به قال البيهقي رحمه الله : و قد ذهب بعض أهل العلم أي أن المراد به تحسين الصوت بالقرآن و ذلك بأن يقرأه حدرا و تحزينا و استدلوا على ذلك برواية عبد الجبار بن الورد عن ابن أبي مليكة هذا الحديث بإسناد ثم قال : قلت لابن أبي مليكة يا أبا محمد أرأيت إذا لم يكن حسن الصوت قال : يحسنه ما استطاع قالوا : و قوله ليس منا يريد ليس على سنتنا فإن السنة في قراءة القرآن الحدر و التحزين فإذا ترك ذلك كان تاركا لسنته و الله أعلم و ذكر جماعا من الأئمة إن المراد بهذا الخبر الإستغناء بالقرآن و التكثير و الاكتفاء به قال : الله عز و جل { أولم يكفهم أنا أنزلنا عليك الكتاب يتلى عليهم }

ہمیں خبر دی عبداللہ حافط نے ان کو علی بن حمشاد نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو حمیدی نے ان کو سفیان نے ان کو عمرو بن دینار نے ان کو ابن ابی ملیکہ نے ان کو عبداللہ بن ابی نہیک نے ان کو سعد نے وہ کہتے ہیں کہ میں سعد کے پاس گیا انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون ہو میں نے ان کو اپنے نسب کے بارے میں بتایا تو حضرت سعد نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا تھا آپ نے فرمایا تھا۔ وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو شخص قرآن مجید کو سر اور خوبصورت آواز کے ساتھ نہ پڑھے۔ اور حضرت سفیان نے یتغنیٰ کا معنی یستغنی بہ کا کیا ہے ۔ یعنی قرآن کے ساتھ جو مستغنیٰ نہ ہو وہ ہم میں سے نہیں یعنی حامل قرآن کو مخلوق سے مستغنیٰ ہو جاتا چاہیے ۔

البيهقي و قد ذهب بعض أهل العلم أي ← سفيان يغني يستغني به ← «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ ← سعد تجار كسبة ← نسبي ← أَتَيْتُهُ فَسَأَلَنِي مَنْ أَنْتَ فَأَخْبَرْتُهُ ← سَعْدٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2613

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2614

2614 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو طاهر المحمد أبادي ثنا الحسن بن سفيان ثنا محمد بن عباد المكي ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الحسين هبة الله بن محمد المقرئ ببغداد إملاء ثنا الحسن بن علي بن شيب المعمري ثنا محمد بن عباد ثنا حاتم بن إسماعيل عن شريك عن الأعمش عن يزيد بن أبان عن الحسن عن أنس بن مالك : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ـ القرآن غني لا فقر بعده و لا غني دونه لفظها سواء و روي هذا الحديث من وجه آخر ضعيف عن الحسن عن أبي هريرة و هذا أشبه

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافط نے ان کو ابو لحسین ہبۃ اللہ بن محمد مقری نے بغداد میں بطور املاء کے ان کو حسن بن علی بن شبیب معمری نے ان کو محمد بن عباد نے ان کو حاتم بن اسماعیل نے شریک سے اس نے اعمش سے اس نے یزید بن ابان سے اس نے حسن سے اس نے انس بن مالک سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن غناء ہے قرآن کے بعد کوئی فقیر فقر نہیں اور نہ ہی اس کے سوا کوئی غنا ہے ۔ اس کے الفاظ برابر ہیں۔ یہ حدیث ایک دوسرے طریق ضعیف ہے حسن سے اس نے ابوہریرہ سے مروی ہے اور یہ زیادہ مناسب ہے اور درست ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ ← الْاَعْمَشِ ← شَرِيکٍ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ ← الحسن بن علي بن شيب المعمري ← أبو الحسين هبة الله بن محمد المقرئ ببغداد إملاء ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ آبَادِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2614

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2615

2615 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن الكازري أنا علي بن عبد العزيز عن أبي عبيد ثنا ابن مهدي عن أبي إسحاق عن سليم بن حنظلة عن عبد الله قال : من قرأ سورة آل عمران فهو غني

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابوالحسن کا رزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابو عبید نے ان کو ابن مہدی نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو سلیم بن حنظلہ نے ان کو عبداللہ نے وہ فرماتے ہیں جس نے سورۃ آل عمران پڑھی ہے وہ غنی ہے ۔

من قرأ سورة آل عمران فهو غني ← عَبْدُ اللَّهِ ← سُلَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← ابْنُ مَهْدِيٍّ، ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَازِرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2615

chevron_left Previous
1…161718…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood