Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستشفاء بالقرآن · حديث 2580

2580 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا عباس بن الفضل الأسفاطي ثنا عقبة بن مكرم الكوفي ثنا إبراهيم بن ظبية عن الحجاج و محمد بن راشد عن مكحول عن واثلة بن الأسقع : أن رجلا شكى إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وجع حلقه قال : عليك بقراءة القرآن

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عباس بن فضل اسفاطی نے ان کو عقبہ بن مکرم کوفی نے ان کو ابراہیم بن ظبیہ نے ان کو حجاج نے اور محمد بن راشد مکحول سے اس نے واچلہ بن اسقع سے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ۔ حلق میں درج کی شکایت کی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قرآن کی تلاوت کو لازم پکڑو۔

وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← مَكْحُولٌ ← الحجاج و محمد بن راشد ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ ظَبْيَةَ، ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْكُوفِيُّ، ← عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on healing with the Qur’an · Hadith 2580

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستشفاء بالقرآن · حديث 2581

2581 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي ثنا عبد الرحمن بن سليمان بن موسى بن عدي الجرجاني بمكة ثنا علي بن سلمة النيسابوري ثنا زيد بن الحباب ثنا سفيان الثوري عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عليكم بالشفائين القرآن و العسل رفعه زيد بن الحباب و الصحيح موقوف على ابن مسعود

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو عبدالرحمٰن بن سلیمان بن موسیٰ بن عدی جرجانی نے مکہ مکرمہ میں ان کو علی بن سلمہ نے نیسا پوری نے ۔ ان کو زید بن حباب نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو ابو اسحاق نے ان کو ابو الا حوص نے ان کو عبداللہ نے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دو شفاؤں کو لازم پکڑو قرآن کو اور شہد کو ۔ زید بن حباب نے اس کو مرفوع کیا ہے ۔ حالانکہ صحیح جو ہے وہ یہ ہے کہ یہ روایت ابن مسعود پر موقوف ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← علي بن سلمة النيسابوري ← عبد الرحمن بن سليمان بن موسى بن عدي الجرجاني بمكة ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on healing with the Qur’an · Hadith 2581

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 2582

2582 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي ثنا أبو العباس الأصم ثنا يحيى بن أبي طالب أخبرني أبي حدثني أبو عبيدة عبيس الخزاز عن موسى بن أنس عن أبيه : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا تقولوا سورة البقرة و لا سورة آل عمران و سائر القرآن و لكن قولوا السورة التي يذكر فيها البقرة و السورة التي يذكر فيها آل عمران و القرآن على نحو هذا عبيس بن ميمون منكر الحديث و هذا لا يصح و إنما يروي فيه عن ابن عمر من قوله

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن حسن قاضی نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو خبر دی ہے ان کے والد نے ان کو ابو عبید عبیس خزار نے ان کو موسیٰ بن انس نے ان کو ان کے والد نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ نے فرمایا کہ یوں نہ کہوں سورۃ بقرہ اور نہ ہی سورۃ آل عمران ۔ اور سارا قرآن ۔ مگر یوں کہو وہ سورۃ جس میں بقرہ مذکور ہے وہ سورۃ جس میں آل عمران کا ذکر ہے ، اور قرآن بھی اسی صورت پر ہے ۔ عبیس بن میمون منکر الحدیث ہے اور یہ صحیح نہیں ہے یقیناً اس بارے میں روایت کی گئی ہے ابن عمر سے۔

أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، ← أبو عبيدة عبيس الخزاز ← أَبِي ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Season · Hadith 2582

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 2583

2583 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن إسحاق بن خزيمة ثنا محمد بن موسى القطان ثنا وهب بن جرير ثنا شعبة عن خالد الحذاء عن نافع عن ابن عمر قال : لا تقولوا سورة البقرة و لكن قولوا السورة التي يذكر فيها البقرة و كذا قال ابن عمر قال البيهقي رضي الله عنه :

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو ابن خزیمہ نے ان کو محمد بن موسیٰ خطاء نے ان کو وہب بن جریر نے ان کو شعبہ نے ان کو خالد حذاء نے ان کو نافع نے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ یوں نہ کہو گائے کی سورۃ بلکہ یوں کہا کرو وہ سورہ جس میں گائے کا ذکر آیا ہے اسی طرح فرمایا تھا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Season · Hadith 2583

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 2584

2584 - و قد ذكر البخاري في كتابه عن مسدد عن عبد الواحد عن الأعمش قال : سمعت الحجاج يقول على المنبر السورة التي يذكر فيها البقرة و السورة التي يذكر فيها آل عمران و السورة التي يذكر فيها النساء قال : فذكرت ذلك لإبراهيم قال : حدثني عبد الرحمن بن يزيد أنه كان مع ابن مسعود حين رمى جمرة العقبة فاستبطن الوادي حتى إذا حاذى الشجرة اعترضها فرمى سبع حصيات يكبر مع كل حصاة ثم قال ها هنا و الذي لا إله غيره قام الذي أنزلت عليه سورة البقرة أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن محمد بن يحيى ثنا مسدد ثنا عبد الواحد بن زياد ثنا الأعمش فذكره أخرجه مسلم من أوجه عن الأعمش

تحقیق بخاری نے اپنی کتاب ذکر کیا ہے مسدد سے اس نے عبدالواحد سے اس نے اعمش سے انہوں نے کہا کہ میں حجاج سے سنا منبر پر کہتے تھے وہ سورۃ جس میں عورتوں کا ذکر ہے ۔ کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات ابراہیم سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا ۔ مجھے عبدالرحمٰن بن یزید نے حدیث بیان کی تھی کہ وہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے جب انہوں نے جمرہ عقبہ کی رمی کی تھی پھر وہ وادی میں اتر گئے تھے یہاں تک کہ جب وہ درخت کے برابر آئے اس کو نشانہ بنایا اور سات کنکریاں ماریں ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے رہے انہوں نے اسی مقام پر کہا قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کھڑے ہوئے تھے وہ جن پر سورۃ بقرہ نازل ہوئی تھی۔ ہمیں اس کی خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن محمد بن یحییٰ نے ان کو مسدد نے ان کو عبدالواحد بن زیاد نے ان کو اعمش نے ۔ پھر اسی حدیث کو ذکر کیا اس نے ۔ اور اس کو مسلم نے نقل کیا ہے کئی طریقوں سے اعمیش سے۔

و قد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Season · Hadith 2584

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 2585

2585 - و روينا في حديث أبي مسعود الأنصاري : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ الآيتين من آخر سورة البقرة في ليلة كفتاه

ہم نے ابو مسعود انصاری کی حدیث میں روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص رات کو سورۃ بقرہ کے آخر سے دو آیات پڑھے وہ اس کو کفایت کریں گی۔

و روينا في حديث أبي مسعود الأنصاري

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Season · Hadith 2585

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 2586

2586 - و في حديث عائشة رضي الله عنها : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لقد أذكرني كذا و كذا آية كنت أسقطتها من سورة كذا و كذا و في حديث عمر بن الخطاب رضي الله عنه سمعت هشام بن حكيم يقرأ سورة الفرقان

اور حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ البتہ تحقیق مجھے یاد کرا دیا ہے فلاں فلاں آیت جسے میں فلاں فلاں سورۃ سے ساقط کر چکا تھا۔ اور عمر بن خطاب کی روایت میں ہے کہ میں نے سنا ہشام بن حکیم سے وہ پڑھتے تھے سورہ الفرقان ۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Season · Hadith 2586

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تقطيع آية آية في القرآن · حديث 2587

2587 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا سعيد بن يحيى الأموي ثنا أبي ثنا ابن جريح عن عبد الله بن أبي مليكة عن أم سلمة : ذكرت أو كلمة غيرها قراءة رسول الله صلى الله عليه و سلم : { بسم الله الرحمن الرحيم * الحمد لله رب العالمين * الرحمن الرحيم * مالك يوم الدين } يقطع قراءته آية آية و متابعة السنة أولى مما ذهب بعض أهل العلم بالقرآن من تتبع الأغراض و المقاصد و الوقوف عند انتهائها

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ان کو ابوبکر بن داستہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو سعید بن یحییٰ اموی نے ان کو ان کے والد نے ان کو جریج نے ان کو عبداللہ بن ابی ملیکہ نے ان کو ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرأت ذکر کی ۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمد للہ رب العلمین۔ الرحمٰن الرحیم۔ مالک یوم الدین۔ اپنی قرأت کو آیت کاٹتے اور الگ کرتے تھے ۔ سنت کی متابعت زیادہ بہتر ہے ۔ اس سے جو بعض اہل علم اس طرف گئے ہیں قرآن کے ساتھ اغراض کی اور مقاصد کی جستجو کرنے اور ان کی اتہا ء اور اختتام پر ٹھہرنے اور وقف کرنے کے بارے میں ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ جَرِیحٍ، ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on breaking up a verse in the Qur’an · Hadith 2587

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تقطيع آية آية في القرآن · حديث 2588

2588 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا خلف بن خليفة ثنا أبو سنان عن ابن أبي الهذيل قال : إذا قال أحدكم الآية فلا يقطعها حتى يتمها

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو خلف بن خلیفہ نے ان کو اب سنان نے نا کو ابن ھذیل نے وہ کہتے ہیں جب تم میں سے کوئی آدمی کسی آیت کو پڑھے تو اسے کاٹ کر (ادھورا نہ چھوڑے ) بلکہ اس کو پوار کرے۔

أحدكم الآية فلا يقطعها حتى يتمها ← «إِذَا ← ابْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ← أَبُو سِنَانٍ ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← مَنْصُورٌ النَّضْرَوِيُّ، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on breaking up a verse in the Qur’an · Hadith 2588

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في التكثر بالقرآن و الفرح به · حديث 2589

2589 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الربيع بن سليمان ثنا أسد بن موسى ثنا مروان بن معاوية أنا بشر بن نمير ثنا القاسم صاحب أبي أمامة عن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ـ من قرأ ثلث القرآن أعطى ثلث النبوة و من قرأ نصف القرآن أعطى نصف النبوة و من قرأ ثلثي القرآن أعطى ثلثي النبوة و من قرأ القرآن كله أعطى النبوة كلها و يقال له يوم القيامة إقرأ وارقة بكل آية درجة حتى ينجز ما معه من القرآن و يقال له أقبض فيقبض فإذا في يده اليمنى الخلد و في الأخرى النعيم

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافط نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو اسد بن موسیٰ نے فرمایا ۔ جو شخص قرآن مجید کی ایک تہائی پڑھ لے ( کما حقہ ) وہ شخص (علم ) نبوت کی ایک تہائی دے گیا ۔ اور جس نے نصف قرآن مجید پڑھ لیا ( کما حقہ) وہ (علم نبوت ) کا نصف دے دیا گیا ۔ اور جس نے دو تہائی قرآن مجید پڑھ لیا (کماحقہ ) وہ (علم ) نبوت کی دو تہائی دے دیا گیا۔ اور جس نے پورا قرآن مجید (کما حقہ پڑھ سمجھ لیا ) وہ ایسے ہے جسے ( پوری نبوت کا علم) دے دیا گیا ۔ اور قیامت کے دن اس کو کہا جائے گا کہ قرآن پڑھے اور ہر آیت کے ساتھ ایک درجے پر چڑھیے یہاں تک کہ پورا ہو جائے جو اس کے ساتھ قرآن مجید ہے ۔ پھر اسے کہا جائے گا مٹھی بند کر وہ مٹھی بند کرے گا یکایک اس کے دائیں ہاتھ میں جنت خلد ہو گی اور دوسری میں جنت کی نعمتیں ہوں گی۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← القاسم صاحب أبي أمامة ← بِشْرِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← محمد بن عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on abounding the Qur’an and being happy with it · Hadith 2589

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في التكثر بالقرآن و الفرح به · حديث 2590

2590 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا محمد بن عبيد ثنا محرر أبو رجاء الشامي عن إسماعيل بن عبد الله قال : قال عبد الله بن عمرو من قرأ القرآن فكأنما استدرجت النبوة بين جنبيه إلا أنه لا يوحي إليه و من أعطى القرآن فظن أن أحدا أعطى أفضل مما أعطى فقد حقر ما عظم ما حقر الله و ليس ينبغي لحامل القرآن أن يحد فيمن يحد و لا يجهل فيمن يجهل و لكن ليعف و ليصفح لحق القرآن هكذا جاء موقوفا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد وری نے ان کو محمد بن عبید نے ان کو محرر ابورحآ ء شامی نے ان کو اسماعیل بن عبداللہ نے انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمرو نے کہا جس نے پورا قرآن مجید پڑھ لیا (کما حقہ سمجھ کر) گوایا کہ اس (علم ) نبوت کو اپنے پہلوؤں میں داخل کر لیا مگر یہ کہ اس کی طرف وحی نہیں کی جاتی اور جس شخص کو قرآن ( کا علم) عطا کیا گیا پھر اس نے یہ گمان کیا کہ کوئی دوسرا شخص اس سے بہتر دیا گیا ہے اس سے تو اس نے اس چیز کو حقیر سمجھا جس کو اللہ نے عظیم بنایا ہے اور اسی خیر کو اس نے عظیم سمجھا ہے جس کو اللہ حقیر سمجھتا ہے اور حامل قرآن کے لیے یہ شایان شان نہیں ہے کہ وہ تیزی کرے جس چیز میں کوئی تیزی کرے اور نہ یہ مناسب ہے کہ وہ جہالت کرے جس میں کوئی جہالت کرے مگر حامل قرآن کو چاہیے کہ معاف کرے اور درگزر کرے قرآن مجید کے حق کی وجہ سے ، اسی طرح یہ روایت موقوف آئی ہے ۔

إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← محرر أبو رجاء الشامي ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on abounding the Qur’an and being happy with it · Hadith 2590

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في التكثر بالقرآن و الفرح به · حديث 2591

2591 - و قد أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر البغدادي ثنا يحيى بن عثمان بن صالح السهمي ثنا عمرو بن الربيع بن طارق ثنا يحيى بن أيوب ثنا خالد بن أبي يزيد عن ثعلبة بن يزيد عن يزيد عن عبد الله بن عمرو بن العاص : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ القرآن فقد استدرج النبوة بين جنبيه إلا أنه لا يوحى إليه إلا ينبغي لصاحب القرآن أن يحد مع من يحد و لا يجهل مع من يجهل و في جوفه كلام الله

اور تحقیق ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو جعفر بغدادی نے ان کو یحییٰ بن عثمان بن صالح سہمی نے ان کو عمرو بن ربیع بن طارق نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو خالد بن ابی یزید نے ان کو ثعلبہ بن یزید نے ان کو عبداللہ بن عمرو بن العاص نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔جس نے قرآن مجید پڑھا اس نے اپنے دو پہلوں کے درمیان (علم) نبوت کو بھر لیا مگر (فرق یہ ہے کہ) اس کی طرف وحی نہیں کی جاتی صاحب قرآن کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ تیزی کرے اس کے ساتھ جو تیزی کرے اور نہ یہ کہ وہ جاہل بنے اس کے ساتھ جو جاہل بنتا ہے حالانکہ اس کے سینے میں کلام اللہ ہو۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← يَزِيدُ: ← ثعلبة بن يزيد ← خَالِدِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّهْمِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و قد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on abounding the Qur’an and being happy with it · Hadith 2591

chevron_left Previous
1…141516…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood