Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2556

2556 - أخبرنا أبو نصر محمد بن أحمد بن إسماعيل الطابراني و بها ثنا أبو حاتم محمد بن حاتم البستي املاء أنا عمران بن موسى ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا يزيد بن هارون عن سعيد الجريري عن عبد الله بن شقيق عن عائشة رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : نعم السورتان هما تقرآن في الركعتين قبل الفجر { قل يا أيها الكافرون } و { قل هو الله أحد }

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر محمد بن احمد بن اسمٰعیل طربرانی نے ، ان کو ابو حاتم محمد بن حبان البستی نے بطور املاء کے ، ان کو عمران بن موسیٰ نے ، ان کو عثمان بن ابو شیبہ نے ، ان کو یزید بن ھارون نے ، ان کو سعید بن جریری نے، ان کو عبداللہ بن شقیق نے ، ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے بہترین بس دو سورتیں ہیں جو فجر سے قبل دو رکعت میں پڑھی جائیں ۔ ایک قل یا ایھاالکافرون اور دوسری قل ھواللہ احد۔

كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ← أبو حاتم محمد بن حاتم البستي املاء ← أبو نصر محمد بن أحمد بن إسماعيل الطابراني و بها

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2556

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2557

2557 - أخبرنا أبو القاسم عبد الواحد بن محمد بن إسحاق بن النجاد المقري بالكوفة أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم ثنا أحمد بن حازم أنا عمرو بن حماد عن عامر بن يساف عن عبد الكريم يرفعه إلى ابن عباس قال : من صلى ركعتين فقرأ فيهما { قل هو الله أحد } ثلاثين مرة بني له ألف قصر من الذهب في الجنة و من قرأها في غير الصلاة بني له مائة قصر في الجنة و من قرأها إذا دخل على أهله أصاب أهله و جيرانه منها خيرا

ہمیں خبر دی ہے القاسم عبدالواحد بن محمد بن اسحٰق بن نجاد مقری نے کوفہ میں ان کو ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم نے ، ان کو احمد بن حازم نے ، ان کو عمرو بن حماد نے عامر بن یساف سے ، اس نے عبدالکریم سے ، وہ اس کو مرفوع کرتے ہیں ابن عباس کی طرف سے ، انہوں نےفرمایا جس نے دو رکعت پڑھیں اور دونوں میں قل ھواللہ احد تیس مرتبہ پڑھی ، اس کے لیے جنت میں ایک ہزار محل تیار کیے جائیں گے اور جو شخص اسے بغیر نماز کے پڑھے اس کے لیے جنت میں ایک سو محل تیار کیے جائیں گے اور جو شخص اسے اس وقت پڑھے جب اپنے گھر میں آئے اور اس سے اس کے گھر اور پڑوس کو خیر پہنچے گی۔

عبد الكريم يرفعه إلى ابن عباس ← عَامِرُ بْنُ يِسَافٍ، ← عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أبو القاسم عبد الواحد بن محمد بن إسحاق بن النجاد المقري بالكوفة

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2557

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص المعوذتين بالذكر · حديث 2558

2558 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا سعدان بن نصر ثنا سفيان عن عبدة بن أبي لبابة عن زر بن حبيش قال : سألت أبي بن كعب عن المعوذتين قال : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن المعوذتين فقال : قيل لي فقلت : فنحن نقول مثل ما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم رواه البخاري في الصحيح عن قتيبة و غيره محمد سفيان

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف اصفہانی نے ، ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ، ان کو سعدان بن نصر نے ، ان کو سفیان نے عبدۃ بن ابی لبابہ سے ، اس کو ذر بن حبیش نے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب سے پوچھا معوذ تین ( آخرت دو سورتوں ) کے بارے میں ۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے معوذتین کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے کہا گیا ہے ۔ میں کہتا ہوں ( وہ بھی یہی کہتے ہیں ) جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں قتبہ سے اور محمد بن سفیان سے ۔

المعوذتين فقال قيل لي فقلت فنحن نقول مثل ما ← سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الْمُعَوِّذَتَيْنِ ← سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ کَعْبٍ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ← سُفْيَانَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the two female pilgrims to mention · Hadith 2558

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص المعوذتين بالذكر · حديث 2559

2559 - حدثنا عبد الله بن يوسف أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا علي بن الحسن الهلالي ثنا يعلى بن عبيد ثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس عن عقبة بن عامر الجهني قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لقد أنزلت علي آيات لم أر و لم يرى مثلهن يعني المعوذتين

ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن یوسف نے ، ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ، ان کو علی بن حسن الھلالی نے ، ان کو یعلی بن عبید نے ، ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے ، ان کو قیس نے ان کو عقبہ بن عامر جھنی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ البتہ تحقیق مجھ پر کچھ آیات نازل ہوئی ہیں کہ ان جیسی میں نے دیکھی نہیں تھی یا یوں فرمایا کہ ان جیسی دیکھی نہیں تھیں ۔ یعنی معوذتین۔

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the two female pilgrims to mention · Hadith 2559

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص المعوذتين بالذكر · حديث 2560

2560 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الوهاب أنا يعلى بن عبيد : فذكره أخرجه مسلم من أوجه في الصحيح عن إسماعيل بن أبي خالد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ، ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ، ان کو یعلی بن عبید نے پھر اس کو ذکر کیا ہے اور مسلم نے اس کو کئی طریقوں سے صحیح میں اسماعیل بن ابو خالد سے نقل کیا ہے ۔

إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يعلى بن عبيد فذكره أخرجه مسلم من أوجه في الصحيح ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the two female pilgrims to mention · Hadith 2560

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص المعوذتين بالذكر · حديث 2561

2561 - و روينا عن عقبة بن عامر : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال له : ألا أعلمك خير سورتين قرئتا فعلمه { قل أعوذ برب الفلق } و { قل أعوذ برب الناس }

ہم نے روایت کی ہے عقبہ بن عامر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں آپ کو ایسی دو سورتیں نہ سکھلاؤ جو بہترین ہیں ان سب میں جو پڑھی گئی ہیں ۔ پھر اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس سکھلائیں۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← و روينا

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the two female pilgrims to mention · Hadith 2561

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص المعوذتين بالذكر · حديث 2562

2562 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس الدوري و محمد بن إسحاق الصغاني ح و أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا أحمد بن سلمان النجاد املاء ثنا هندام بن قتيبة قالوا : ثنا سعيد بن سليمان ثنا عباد بن العوام عن الجريري عن أبي نضرة أبي سعيد الخدري قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يتعوذ من عين الجان و من عين الأنس فلما نزلت سورة المعوذتين أخذهما و ترك ما سوى ذلك لفظهما سواء

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو عباس دوری نے اور محمد بن اسحاق صغانی نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ، ان کو احمد بن سلمان نجاد نے بطور املاء کے ، ان کو ھندام بن قتیبہ نے ، انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سعید بن سلیمان نے ، ان کو عباد عوام نے ، ان کو جریر نے ، ان کو ابو نضرہ نے ، ان کو ابو سعید خدری نے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پناہ مانگتے تھے جنوں کی نظر بد سے اور انسانوں کی نظر بد سے ۔ جب سورۃ معوذتین نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سورتوں کو لے لیا اور ان کے ماسوا سب شے کو چھوڑ دیا ۔ لفظ دونوں کے برابر ہیں ۔

أبي نضرة أبي سعيد الخدري ← الْجُرَيْرِيِّ، ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← هندام بن قتيبة ← أحمد بن سلمان النجاد إملاء ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و، ← العباس الدوري و محمد بن إسحاق الصغاني ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the two female pilgrims to mention · Hadith 2562

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص المعوذتين بالذكر · حديث 2563

2563 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا عبد الله بن أحمد بن سعد الحافظ ثنا محمد بن إبراهيم البوشنجي ثنا النفيلي ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن عبد الله بن عقبة بن عامر قال : بينا أنا أسير مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما بين الجحفة و الأبواء إذ غشيتنا ريح و ظلمة شديدة فجعل رسول الله صلى الله عليه و سلم يتعوذ بأعوذ برب الفلق و أعوذ برب الناس و يقول يا عقبة تعوذ بهما فما تعوذ متعوذ بمثلهما قال وسمعته يؤمنا بهما في الصلاة

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ، ان کو ابو عبداللہ بن احمد بن سعد حافظ نے ، ان کو محمد بن ابراہیم بوشنجی نے ، ان کو نفیلی نے ، ان کو محمد بن سلمہ نے ، ان کو محمد بن اسحاق نے سعید بن ابو سعید مقبری سے ، اس نے عبداللہ بن عقبہ بن عامر سے ، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے ۔ مقام صحفہ اور ابواء کے درمیان کہ اچانک ہمیں ہوا نے اور شدید آندھی نہ چھپا لیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قل اعوذبرب الفلق اور قل اعوذبرب الناس کے ساتھ تعوذ اور پناہ مانگنا شروع کیا اور فرماتے تھے کہ اے عقبہ ان دونوں سورتوں کے ساتھ تو بھی پناہ مانگ لو کہ کسی پناہ مانگنے والے نے دونوں کی مثل پناہ نہیں مانگی۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم لوگوں کی امامت کیا کرتے تھے نماز میں ان دونوں سورتوں کےساتھ۔

بَيْنَا ← عبد الله بن عقبة بن عامر ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← النُّفَيْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْحَافِظُ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the two female pilgrims to mention · Hadith 2563

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص المعوذتين بالذكر · حديث 2564

2564 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الفضل محمد بن عبد الرحمن بن خميرويه ثنا أحمد بن نجدة ثنا أحمد بن يونس ثنا الليث بن مسعد المصري عن ابن عجلان عن سعيد بن أبي سعيد المقبري أن عقبة بن عامر الجهتني قال : مشيت مع النبي صلى الله عليه و سلم فقال لي : يا عقبة قل فقلت : أيش أقول قال : فسكت عني فقلت : اللهم أردده علي فقال : يا عقبة قل فقلت : أيش أقول فقال فقال : { قل أعوذ برب الفلق } فقرأتها حتى جئت على آخرها ثم قال : يا عقبة قل فقلت : ما أقول قال : { قل أعوذ برب الناس } فقرأتها حتى جئت على آخرها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عند ذلك ما سأل بمثلها و لا استعاذ مستعيذ بمثلها

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ، ان کو ابو الفضل محمد بن عبدالرحمٰن بن خمیر ویہ نے، ان کو احمد بن نجدہ نے ، ان کو احمد بن یونس نے، ان کو لیث بن مسعد مصری نے ، ان کو ابن عجلان نے، ان کو سعید بن ابو سعید مقبری نے ، ان کو عقبہ بن عامر جھنی نے ، کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے عقبہ کہو میں نے کہا ، کیا کہوں ۔ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے خاموش ہو گئے ۔ میں نے کہا اے اللہ اب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مجھ پر لوٹا دیں۔ (یعنی اب مجھ سے دوبارہ کچھ بات کریں) پھر فرمایا کہ اے عقبہ کچھ کہو ۔ میں نے کہا میں کیا کہوں ۔ کہتے ہیں پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کہو قل اعوذ برب الفلق ۔ میں نے اس کو پڑھا اور پورا کر دیا ۔ پھر فرمایا عقبہ کہو میں نے کہا کہ میں کیا کہوں ۔ فرمایا : قل اعوذ برب الناس ۔ میں نے اسے بھی پورا کر دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہ تو ان دونوں کی مثل کسی نے سوال کیا ہے اور نہ ہی ان دونوں کی مثل کسی پناہ مانگنے والے نے پناہ مانگی ہے ۔

قل أعوذ برب الناس فقرأتها حتى جئت على آخرها ← يا عقبة قل فقلت ما أقول ← قل أعوذ برب الفلق فقرأتها حتى جئت على آخرها ثم ← يا عقبة قل فقلت أيش أقول ← فسكت عني فقلت اللهم أردده علي ← لي يا عقبة قل فقلت أيش أقول ← مشيت مع النبي صلى الله عليه و سلم ← سعيد بن أبي سعيد المقبري أن عقبة بن عامر الجهتني ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← الليث بن مسعد المصري ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو الفضل محمد بن عبد الرحمن بن خميرويه ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the two female pilgrims to mention · Hadith 2564

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص المعوذتين بالذكر · حديث 2565

2565 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في آخر التاريخ ثنا أبو الحسين محمد بن يعقوب بن ناصح الأصبهاني الأديب ثنا بشر بن موسى الأسدي ثنا أبو عبد الرحمن المقري عن سعيد بن أبي أيوب حدثني يزيد بن عبد العزيز الرعيني و أبو مرحوم عبد الرحيم بن ميمون عن يزيد بن محمد القرشي عن علي بن رباح عن عقبة بن عامر الجهني قال : أمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أقرأ المعوذات في دبر كل صلاة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے تاریخ کے آخر میں ۔ ان کو ابو الحسینی محمد بن یعقوب بن ناصح اصفہانی ، ادیب نے ، ان کو بشر بن موسیٰ اسدی نے ، ان کو ابو عبدالرحمٰن مقری نے ، ان کو سعید بن ابو ایوب نے ، ان کو یزید بن عبدالعزیز عینی سے اور ابو مرحوم عبدالرحیم بن میمون نے یزید بن محمد قرشی نے ، ان کو علی بن رباح نے ، ان کو عقبہ بن عامر جھنی نے ، انہوں نے کہا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا کہ میں ہر نماز کے بعد موذات پڑھا کروں۔

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، ← يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ، ← يزيد بن عبد العزيز الرعيني و أبو مرحوم عبد الرحيم بن ميمون ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ ← أبو الحسين محمد بن يعقوب بن ناصح الأصبهاني الأديب ← أبو عبد الله الحافظ في آخر التاريخ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the two female pilgrims to mention · Hadith 2565

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص المعوذتين بالذكر · حديث 2566

2566 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق أنا يونس بن محمد المؤدب ثنا ليث بن سعد عن يزيد عن أبي عمران عن عقبة بن عامر ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا وهب بن جرير ثنا أبي قال : قال سمعت يحيى بن أيوب يحدث عن يزيد بن أبي حبيب عن أسلم أبي عمران التجيبي عن عقبة بن عامر قال : قلت يا رسول الله أقرأ من سورة يوسف وسورة هود قال يا عقبة إقرأ بأعوذ برب الفلق فإنك لن تقرأ بسورة أحب إلى الله عز و جل و أبلغ عنده منها فإن استطعت أن لا تفوتك فافعل لفظ حديث يحيى و في رواية الليث قال : تبعت النبي صلى الله عليه و سلم و هو راكب فوضعت يدي على قدمه فقلت له اقرأ من سورة هود و من سورة يوسف فقال لن تقرأ بشيء أبلغ عند الله من { قل أعوذ برب الفلق }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو یونس بن محمد مؤدب نے ان کو لیث بن سعد نے ان کو یزید نے ان کو ابو عمران نے ان کو عقبہ بن عامر نے " ح" اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو وہب بن جریر نے ان کو ان کے والد نے انہوں نے سنا یحییٰ بن ایوب سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں۔ یزید بن ابو حبیب سے اس نے اسلم ابو عمران سے اس نے عقبہ بن عامر سے اس نے کہا کہ میں نے غرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سورۃ یوسف اور سورۃ ھود پڑھتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے عقبہ آپ قل اعوذ برب الفلق پڑھیں اس لیے کہ آپ ہر گز ایسی سورہ نہیں پڑھیں گے جو اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہو اور اس کے نزدیک اس کے سے زیادہ بلیغ ہو اگر آپ اس بات کی استطاعت رکھیں کہ وہ آپ سے کبھی فوت نہ ہونے پائے تو ایسے ہی کیجیے۔ یہ الفاظ یحییٰ کی روایت کے ہیں ۔ اور لیث کی روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلا آپ سواری پر تھے میں نے جا کر اپنا ہاتھ ان کے قدم مبارک پر رکھا اور میں نے عرض کی کہ کیا میں سورۃ ھود اور سورہ یوسف پڑھو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آپ ہر گز ایسی کوئی چیز نہیں پڑھیں گے جو اللہ کے ہاں زیادہ بلیغ ہو قل اعوذ برب الفلق سے۔

قُلْتُ ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ التُّجِيبِيِّ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي عِمْرَانَ، ← يَزِيدُ: ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the two female pilgrims to mention · Hadith 2566

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص المعوذتين بالذكر · حديث 2567

2567 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا سعيد بن أبي مريم ثنا يحيى بن أيوب حدثني يحيى بن سعيد عن عمرو بنت عبد الرحمن عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقرأ في الوتر في الركعة الأولى بـ { سبح اسم ربك الأعلى } و في الثانية بـ { قل يا أيها الكافرون } و في الثالثة بـ { قل هو الله أحد } و { قل أعوذ برب الفلق } و { قل أعوذ برب الناس }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان ان کو سعید بن ابو مریم نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے ان کو سیدہ عائشہ زوجۃ الرسول سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وترکی پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الا علیٰ پڑھتے تھے اور دوسری رکعت میں قل یا ایھاالکافرون اور تیسری رکعت میں قل ھواللہ احد اور کبھی قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذبرب الناس پڑھتے تھے ۔

عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← عمرو بنت عبد الرحمن ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the two female pilgrims to mention · Hadith 2567

chevron_left Previous
1…121314…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood