Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2532

2532 - أخبرنا أبو عمرو محمد بن عبد الله الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني أبو يعلى و الحسن بن سفيان و عمران بن موسى قالوا ثنا أبو معمر إسماعيل بن إبراهيم الهلالي ثنا إسماعيل بن جعفر عن مالك بن أنس عن عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي صعصعة عن أبيه عن أبي سعيد أنه قال : أخبرني قتادة بن النعمان : أن رجلا قام في زمن النبي صلى الله عليه و سلم و هو يقرأ { قل هو الله أحد } يرددها لا يزيد عليها فلما أصبح أتى الرجل النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله فلان قام الليلة يقرأ من السحر { قل هو الله أحد * الله الصمد * لم يلد و لم يولد * و لم يكن له كفوا أحد } يرددها لا يزيد عليها كان الرجل يتقالها فقال النبي صلى الله عليه و سلم و الذي نفسي بيده إنها لتعدل ثلث القرآن قال البخاري رحمه الله و زاد أبو معمر ثم ساقه

ہمیں خبر دی ہے ابو عمرو محمد بن عبداللہ ادیب نے ، ان کو ابوبکر اسماعیلی نے ، ان کو خبر دی ہے ابو یعلی نے اور حسن بن سفیان اور عمران بن موسیٰ نے ان سب نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو معمر اسماعیل بن ابراہیم ھلالی نے ، ان کو اسماعیل بن جعفر نے مالک بن انس سے ، اس نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ سے ، اس نے ان کے والد سے ، اس نے ابو سعید سے کہ انہوں نے کہا کہ مجھے خبر دی ہے قتادہ بن نعمان نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی نے نماز میں قیام کیا اور وہ بار بار سورۃ قل ھواللہ احد کو پڑھتا رہا ۔ اس کے علاوہ اس نے کچھ بھی نہیں پڑھا۔ جب صبح ہوئی تو کوئی آدمی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ فلاں آدمی نے آج رات قیام کیا ہے اور رات بھر سحر سے قل ھواللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یو لد ولم یکن لہ کفوا احد پڑھتا رہا ہے ۔ مگر اس کے علاوہ اس نے کچھ بھی نہیں پڑھا ۔ گویا کہ وہ آدمی اسے بہت کم سمجھ رہا تھا ۔ مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے بے شک یہ سورۃ البتہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ بخاری نے کہا ہے کہ ابو معمر نے ثم ساقہ کا اضافہ کیا ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، ← مالک بن أنس ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أبو معمر إسماعيل بن إبراهيم الهلالي ← أبو يعلى و الحسن بن سفيان و عمران بن موسى ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَدِيبُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2532

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2533

2533 - أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله الحرفي ببغداد أنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن إبراهيم الشافعي ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب قالا ثنا جعفر بن محمد بن شاكر ثنا عمر بن حفص بن غياث ثنا أبي ثنا الأعمش عن إبراهيم و الضحاك المشرقي عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أيعجز أحدكم أن يقرأ كل ليلة ثلث القرآن قالوا و أينا يطيق ذلك قال : { قل هو الله أحد * الله الصمد } ثلث القرآن و في رواية الحرفي الله الواحد الصمد { لم يلد و لم يولد * و لم يكن له كفوا أحد } ثلث القرآن رواه البخاري في الصحيح عن عمر بن حفص و رواية إبراهيم عن أبي سعيد مرسلة و رواية الضحاك عنه مسنده قاله البخاري رحمه الله

ہمیں خبر دی ہے ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن عبید اللہ حرفی نے بغداد میں ، ان کو ابو بکر محمد بن عبداللہ بن ابراہیم شافعی نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان دونوں کو جعفر بن محمد بن شاکر نے ، ان کو عمر بن حفص بن غیاث نے ، ان کو ان کے والد نے ، ان کو اعمش نے ، ان کو ابراہیم نے اور ضحاک مشرقی نے ان کو ابو سعید خدری نے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کیا ایک تمہارا اس بات سے عاجز ہے کہ وہ رات ایک تہائی قرآن مجید پڑھ لیا کرے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھے گا (یعنی مشکل ہے ) تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:" قل ھواللہ احد اللہ الصمد ایک تہائی قرآن ہے ۔ اور حرفی کی ایک روایت میں ہے اللہ الواحد الصمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد"۔ یہ ایک تہائی قرآن ہے ۔ اور اس کو بخاری نے صحیح میں عمر بن حفص سے روایت کیا ہے اور ابراہیم کی روایت ابو سعید سے مرسل ہے اور ضحاک کی روایت اس سے مسند ہے بخاری نے اس کو بیان کیا ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← إبراهيم و الضحاك المشرقي ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← أبو بكر محمد بن عبد الله بن إبراهيم الشافعي ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله الحرفي ببغداد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2533

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2534

2534 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو سهل بن زياد القطان ثنا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب بن عطاء أنا سعيد عن قتادة عن سالم بن أبي الجعد عن معدان بن أبي طلحة اليعمري عن أبي الدرداء : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ما يستطيع أحدكم أن يقرأ كل ليلة ثلث القرآن قالوا يا رسول الله نحن أعجر و أضعف من مرتين أو ثلاثا كل ذلك يرددون عليه مثل ذلك فقال صلى الله عليه و سلم أن الله عز و جل جزأ القرآن ثلاثة أجزاء فجعل { قل هو الله أحد } جزءا من القرآن أخرجه مسلم من حديث سعيد بن أبي عروبة و من حديث شعبة و أبان بن يزيد عن قتادة

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے ، ان کو ابو سھل بن زیاد قطان نے ، ان کو یحییٰ بن ابی طالب نے ، ان کو عبدالواہاب بن عطاء نے ان کو سعید نے ، ان کو قتادہ نے ، ان کو سالم بن ابو جعد نے ، ان کو معدان بن ابو طلحہ یعمری سے ، ان کو ابوالدرداء نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ ہر رات کو ایک تہائی قرآن مجید پر سو لیا کرو۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہم لوگ اس سے عاجز ہیں اور کمزور ہیں ۔ دو یا تین بار کہا مگر ہر دفعہ وہی جواب دیتے رہے ۔ لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے قل ھواللہ احد کو قرآن کا ایک حصہ بنا دیا ہے ۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے سعید بن ابو عروہہ سے اور شعبہ کی روایت سے اور ابان بن یزید نے قتادہ سے روایت کیا ہے ۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2534

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2535

2535 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا عباس بن محمد الدوري ثنا شاذان ثنا بكير بن أبي السميط عن قتادة : فذكره بإسناده و معناه

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذ باری نے ، ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ، ان کو عباس بن محمد دوری نے ، ان کو شاذان نے ، ان کو بکیر بن ابو سمٰیط نے ان کو قتادہ نے ، پھر اس کو اس کے اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے اور اس کے مفہوم کو بیان کیا ہے ۔

قتادة فذكره بإسناده و معناه ← بُكَيْر بْنُ أَبِي السُّمَّيْطِ ← شَاذَانُ ← عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2535

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2536

2536 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي و أبو سعيد بن أبي عمرو قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا ابن فضيل عن بشير أبي إسماعيل عن أبي حازم عن أبي هريرة قال : خرج إلينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال احشدوا فإني سأقرأ عليكم ثلث القرآن فقرأ { قل هو الله أحد * الله الصمد } حتى ختمها قال البيهقي رضي الله عنه : هكذا أخبرنا أبو عبد الله مرة و قال : مرة أخرى مع القاضي و غيره قال : خرج إلينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال اقرأ عليكم ثلث القرآن فذكره رواه مسلم في الصحيح عن واصل بن عبد الأعلى عن ابن فضيل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسن قاضی نے اور ابو سعید بن ابو عمرو نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو احمد بن عبدالجبار نے ، ان کو ابن فضیل نے ، ان کو بشیر ابو اسماعیل نے ، ان کو ابو حازم نے ، ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہماری طرف نکل کر تشریف لائے اکٹھے ہو کر تیار رہو ۔ عنقریب میں تمہارے لیے قرآن مجدی کی ایک تہائی پڑھوں گا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے قل ھواللہ احد اللہ الصمد پوری سورۃ پڑھی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2536

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2537

2537 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو بن السماك ثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور ثنا يحيى بن سعيد ثنا يزيد بن كيسان ثنا أبو حازم عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم احشدوا فإني اقرأ عليكم فحشد من حشد فخرج نبي الله صلى الله عليه و سلم فقرأ عليهم { قل هو الله أحد } ثم دخل فقال بعضنا لبعض أنا نرى هذا الخير جاءه من السماء فلذلك الذي أدخله ثم خرج نبي الله صلى الله عليه و سلم فقال : إني قلت لكم سأقرأ عليكم ثلث القرآن ألا و إنها تعدل ثلث القرآن أخرجه مسلم من حديث يحيى القطان

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو عمرو بن سماک نے ، ان کو عبدالرحمٰن بن محمد بن منصور نے، ان کو یحییٰ بن سعید نے، ان کو یزید بن کیسان نے ، ان کو ابو حازم نے ، ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اکٹھے ہو جاؤ۔ بے شک میں تمہارے سامنے پڑھوں گا جس نے انتظام کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم باہر تشریف لائے اور لوگوں کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نےقل ھواللہ احد پڑھی ، پھر اندر چلے گئے ۔ ہم میں سے بعض نے بعض سے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ خبر آسمان سے آئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس یہی چیز ہے جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اندر چلے گئے ہیں ۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: کہ میں نے تم لوگوں سے کہا تھا کہ میں عنقریب تمہارے سامنے ایک تہائی قرآن پڑھوں گا۔ ہوشیار ہو جاؤ یہی ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے یحییٰ بن قطان کی روایت سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو حَازِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2537

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2538

2538 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد ثنا يحيى بن بكير ثنا مالك و قال و ثنا القعنبي فيما قرأه على مالك ح و أخبرنا أبو أحمد المهرجاني أنا أبو بكر بن جعفر المزكي ثنا محمد بن إبراهيم البوشنجي ثنا ابن بكير ثنا مالك عن عبيد الله بن عبد الرحمن عن عبيد بن حنين مولى آل زيد بن الخطاب أنه قال : سمعت أبا هريرة يقول : أقبلت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فسمع رجلا يقرأ { قل هو الله أحد * الله الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد } فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم وجبت فسألته ماذا يا رسول الله قال الجنة قال أبو هريرة فأردت أن أذهب إلى الرجل فأبشره ثم فرقت أن يفوتني الغداء مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فآثرت الغداء مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ذهبت إلى الرجل فوجدته قد ذهب

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے، ان کو ابو الحسن طرائفی نے ، ان کو عثمان بن سعید نے ، ان کو یحییٰ بن بکیر نے ، ان کو مالک نھے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو احمد مھرجانی نے ، ان کو ابوبکر بن جعفر مزکی نے ، ان کو محمد بن ابراہیم بوشنجی نے ، ان کو بکیر نے ، ان کو مالک نے ، ان کو عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے ، ان کو عبید بن حنین مولیٰ آل یزید بن خطاب نے کہ انہوں نے کہا کہ میں نےسنا ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کےساتھ آیا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک آدمی سے سنا جو کہ یہ پڑھ رہاتھا۔ قل ھواللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفواً احد۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ، واجب ہو گئی ۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیا چیز واجب ہو گئی ہے ۔ فرمایا کہ جنت واجب ہو گئی ہے ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے ارادہ کیا کہ میں اس بندے کو خوشخبری دوں ۔ مجھے خیال آیا کہ میرا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ کھانا رہ جائے گا۔ لہذا میں نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ کھانا کھانے کو ترجیح دی۔ پھر میں اس آدمی کی طرف گیا تو وہ جا چکا تھا۔

عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ مَوْلَی آلِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ← عبيد الله بن عبد الرحمن ← مَالِكٍ، ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ← أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ← و، ← القعنبي فيما قرأه على مالك ← و، ← مَالِکٌ و ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2538

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2539

2539 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن سفيان ثنا حرملة ثنا عبد الله بن وهب ح قال و ثنا محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن سهل بن بحر ثنا أحمد بن عبد الرحمن بن وهب حدثني عمي ثنا عمرو بن الحارث عن سعيد بن أبي هلال أن أبا الرجال محمد بن عبد الرحمن حدثه عن أمه عمرة بنت عبد الرحمن و كانت في حجر عائشة عن عائشة رضي الله عنها : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث رجلا على سرية و كان يقرأ لأصحابه في صلاتهم فكان يختم بقل هو الله أحد فلما رجعوا ذكروا ذلك لرسول صلى الله عليه و سلم فقال سلوه لأي شيء يصنع هذا فسألوه فقال : لأنها صفة الرحمن فأنا أحب أن أقرأ بها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم اخبروه أن الله يحبه أخرجه مسلم عن أحمد بن عبد الرحمن بن وهب و أخرجه البخاري عن أحمد بن صالح عن ابن وهب و في بعض النسخ عن محمد غير منسوب عن أحمد بن صالح عن ابن وهب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ، ان کو حسن بن سفیان نے ، ان کو حرملہ نی ، ان وک عبداللہ بن وہب نے (ح) انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن یعقوب نے اور احمد بن سھل بن بحر نے ، ان کو احمدبن عبدالرحمٰن بن وہب نے ، ان کو ان کے چچا نے ، ان کوعمر و بن حارث نے ، ان کو سعید بن ابوھلال نے یہ کہ ابو الرجال محمد بن عبدالرحمٰن نے اس کو حدیث بیان کی اپنی ماں عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گود میں تھیں ، وہ روایت کرتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک آدمی کو ایک لشکر جہاد میں بھیجا وہ لشکر میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے ۔ قل ھواللہ احد پر نماز ختم کرتےتھے ۔ جب وہ لوگ واپس لوٹے تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے آگے اس بات کا ذکرکیا گیا اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کہا کہ آپ اس سے پوچھیں کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ لوگوں نے پوچھا تو اس نے بتایا کہ میں اس لیے کرتا ہوں کہ یہ رحمٰن کی صفت ہے ، میں پسند کرتا ہوں کہ میں اس کو پڑھوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اس شخص کو خبر دے دو کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے ۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے احمد بن عبدالرحمٰن بن وہب سے اوربخاری نے اس کو نقل کیا ہے احمد بن صالح سے ، اس نے ابن وہب سے اور ۔۔۔۔ میں ہے محمد سے اور احمد بن صالح سے مصعب سے منسوب نہیں ہے۔

عَائِشَةَ ← أمه عمرة بنت عبد الرحمن و كانت في حجر عائشة ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ بَحْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← و، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2539

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2540

2540 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الحسن علي بن محمد بن سختويه العدل ثنا علي بن محمد بن الصقر ثنا إبراهيم بن حمزة ثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي عن عبيد الله بن عمر عن ثابت البناني عن أنس بن مالك : أن رجلا كان يأمهم بقباء فكان إذا افتتح سورة قرأ { قل هو الله أحد } ثم يقرأ بالسورة يفعل ذلك في صلاته كلها فقال له أصحابه في ذلك فقال لهم ما أنا بتاركها إن أحببتم أن أؤمكم بذلك فعلت و إلا فلا و كان من أفضلهم و كانوا يكرهون أن يؤمهم غيره فأتوا رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكروا ذلك له فدعاه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا فلان ما منعك أن تفعل ما يأمرك به أصحابك و ما يحملك على لزوم هذه السورة فقال حبها يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم حبها أدخلك الجنة قال البخاري رحمه الله : و قال عبيد الله عن ثابت عن أنس فذكر هذا الحديث

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو الحسن علی محمد بن سثحوی عدل نے ، ان کو علی بن محمد بن صقر نے ، ان کو ابراہیم بن حمزہ ان کو عبدالعزیز بن محمد دراوردی نے ، ان کو عبید اللہ بن عمر نے ، ان کو ثابت بنانی نے ، ان کو انس بن مالک نے کہ ایک آدمی ان کی قباء میں امامت کرتا تھا ۔ جب سورۃ شروع کرتا تو یہی سورۃ پڑھتا قل ھواللہ احد، اس کے بعد کوئی سورۃ پڑھتا تھا۔ وہ پوری نماز میں ایسے ہی کرتا تھا اس کے احباب نے اس سے اس بارے میں پوچھا تو اس نے اس سے کہا کہ میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا اگر تم لوگ چاہو میں تمہاری امامت کروں توکروں گا ورنہ نہیں اور وہ آدمی ان میں سے افضل بھی تھا ۔ لہذا وہ ناپسند کرتے تھے کہ اس کے سوا کوئی اور ان کی امامت کرے ۔ لہذا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے ذکر کی ۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کو بلایا اور فرمایا اے فلانے، کس چیز نے آپ کو روکا کہ آپ ویسے کریں جیسے آپ کے احباب نے آپ سے کہا ہے ۔ آپ کو اس سورۃ کے لازم کرنے پر کس چیز نے ابھارا ہے ۔ اس نے جواب دیا کہ اس سورۃ کی محبت نے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تیری اس سے محبت تجھے جنت میں داخل کرائے گی۔اور بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ عبداللہ نے کہا ہے روایت ہے ثابت سے ، اس نے انس رضی اللہ عنہ سے پھر اس حدیث کو ذکر کیا ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← علي بن محمد بن الصقر ← أبو الحسن علي بن محمد بن سختويه العدل ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2540

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2541

2541 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنا الحسن بن علي بن زياد ثنا ابن أبي أويس حدثني أخي عن سليمان بن بلال عن عبيد الله عن ثابت عن أنس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم : قال لرجل لم تلزم { قل هو الله أحد } قال الرجل : أحبها يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن حبها أدخلك الجنة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو بکر احمد بن اسحٰق فقیہ نے ، ان کو حسن بن علی بن زیادہ نے، ان کو ابن ابو اویس نے، ان کو ان کے بھائی نےسلیمان بن بلال سے ، اس نے عبداللہ سے ، اس نے ثابت سے ، اس نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پوچھا کہ قل ھواللہ کا لازم کیوں کر لیا ہے ؟ اس آدمی نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں اس سے محبت کرتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا بےشک تیری اس سے محبت تجھے جنت میں داخل کرادے گی۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَخِي ← ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← الحسن بن علي بن زياد ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2541

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2542

2542 - أخبرنا أبو سعيد عبد الرحمن بن محمد بن شبابه بهمدان ثنا عبد الرحمن بن الحسن الأسدي و أبو القاسم ثنا محمد بن أيوب الرازي ثنا عبد الرحمن بن المبارك ثنا صالح المري ثنا ثابت عن أنس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ { قل هو الله أحد } مائتي مرة غفر له ذنب مائتي سنة

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید عبدالرحمٰن بن محمد بن شبابہ نے ھمدان میں ان کو عبدالرحمٰن بن حسین اسدی نے اور ابوالقاسم نے ان کو محمد بن ایوب رازی نے، ان کو عبدالرحمٰن بن مبارک نے ، ان کو صالح مری نے ، ان کو ثابت نے ، ان کو انس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے فرمایا جس نے قل ھواللہ احد پڑھی دو سو بار اس کے لیے دو سو سال کے گناہ معاف ہو جائیں گے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← صالح المري ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الرَّازِيُّ ← عبد الرحمن بن الحسن الأسدي و أبو القاسم ← أبو سعيد عبد الرحمن بن محمد بن شبابه بهمدان

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2542

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2543

2543 - أخبرنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي أنا أبو عمرو بن مطر ثنا أبو محمد بن أيوب ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا الحسن بن أبي جعفر و أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي بمكة ثنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا إسباط بن محمد القرشي ثنا زكريا بن أبي زائدة عن الشعبي حدثني عبد الرحمن بن أبي ليلى حدثني أبو أيوب الأنصاري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : { قل هو الله أحد } ثلث القرآن

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر محمد بن ابراہیم فارسی نے ، ان کو ابو عمرو بن مطر نے، ان کو ابومحمد بن ایوب نے ، ان کو مسلم بن ابراہیم نے ، ان کو حسن بن ابو جعفر نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ، ان کو سعید بن اعرابی نے مکہ مکرمہ میں ، ان کو حسن بن محمد زعفرانی نے ، ان کو اسباط بن محمد قرشی نے ، ان کو زکریا بن ابو زائدہ نے، ان کو شعبی نے ، ان کو عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰ نے ، ان کو ایوب انصاری نے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا قل ھواللہ احد تہائی قرآن ہے ۔

أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أبو سعيد بن الأعرابي بمكة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← الحسن بن أبي جعفر و ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2543

chevron_left Previous
1…101112…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood