Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة { قل يا أيها الكافرون } · حديث 2520

2520 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ املاء ثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المزني ثنا أبو جعفر الحضرمي ثنا أحمد بن يونس ثنا زهير عن أبي إسحاق عن فروة بن نوفل الأشجعي عن أبيه : أنه قال للنبي الله مرني بشيء أقوله فقال إذا آويت إلى مضجعك فأقرأ { قل يا أيها الكافرون } إلى خاتمتها فإنها براءة من الشرك تابعه على هذا إسرائيل بن يونس عن أبي إسحق كما :

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے بطور املاء کے ان کو ابو محمد احمدبن عبداللہ مزنی نے ، ان کو ابو جعفر حضرمی نے ، ان کو احمد بن یونس نے، ان کوزھیر نے ، ان کو ابو اسحاق نے ، ان کو فروہ بن نوفل اشجعی نے ، ان کو ان کے والد نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پوچھا کہ آپ مجھے کسی ایسی چیز کا حکم فرمائیے جسے میں پڑھوں۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ آپ جب اپنے بستر پر سونے کے لیے آئیں تو قل یا ایھالکافرون پوری سورۃ پڑھ لیں ۔ یہ سورۃ شرک سے بیزاری کا اعلان ہے ۔ اس روایت کا متابع بیان کیا ہے اسرائیل بن یونس نے ابو اسحٰق سے۔

أَبِيهِ ← فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْحَضْرَمِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surah (Say, O disbelievers) · Hadith 2520

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة { قل يا أيها الكافرون } · حديث 2521

2521 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ ثنا علي بن عبد الرحمن السبيعي بالكوفة ثنا أحمد بن حازم بن أبي غزرة ثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل ثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن فروة بن نوفل عن أبيه : و كان النبي صلى الله عليه و سلم دفع إليه بنت أم سلمة و قال : إنما أنت ظئري قال : فقدمت عليه فقال ما فعلت الجويرية أو الجارية قلت عند أمها قال : فمجيء ما جئت ؟ قال : جئت أن تعلمني شيئا اقرأه عند منامي قال اقرأ قل يا أيها الكافرون فإنها براءة من الشرك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عبدالرحمٰن سبیعی نے کوفہ میں، ان کو احمد بن حازم نے ابن ابی غررہ سے ، ان کو ابو غسان مالک بن اسماعیل نے ، ان کو اسرائیل نے ابو اسحٰق سے ، اس نے فروہ بن نوفل سے ، اس نے اپنے والد سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی اس کے عقد نکاح میں دے رکھی تھی اور آپ نے فرمایا کہ تم میرے داماد ہو۔ میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا کہ لڑکی کہا ہے ؟ میں نے عرض کی کہ وہ اپنی ماں کے ہاں ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا آنے کی وجہ بتاؤ کیسے آنا ہوا؟ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ میں اس لیے آیا ہوں کہ آپ مجھے ایسی چیز تعلیم فرمائٰں جسے میں سوتے وقت پڑھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تم قل یا ایھاالکافرون پڑھ کرو ۔ بے شک وہ شرک سے بیزاری ہے ۔ شرک سے برأۃ ہے ۔

فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أحمد بن حازم بن أبي غزرة ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّبِيعِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surah (Say, O disbelievers) · Hadith 2521

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة { قل يا أيها الكافرون } · حديث 2522

2522 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد ثنا محمد بن عبد الله الدينوري ثنا سليمان بن داود ثنا يزيد بن خالد عن شيان عن قتادة عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لمعاذ اقرأ { قل يا أيها الكافرون } عند منامك فإنها براءة من الشرك هو بهذا الإسناد منكر و إنما يعرف بالإسناد الأول

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ، ان کو احمد بن عبید نے ، ان کو محمد بن دینوری نے ، ان کو سلیمان بن داؤد نے ، ان کو یزید بن خالد نے ، ان کو شیبان نے ، ان کو قتادہ نے ، ان کو انس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایاکہ تم سوتے وقت قل یا ایھاالکافرون پڑھا کرو ۔ یہ شرک سے برأۃ ہے ۔ اس اسناد کے ساتھ منکر ہے ہاں پہلی اسناد کے ساتھ معروف ہے ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شيان ← يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← محمد بن عبد الله الدينوري ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surah (Say, O disbelievers) · Hadith 2522

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة { قل يا أيها الكافرون } · حديث 2523

2523 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه ثنا أبو عثمان البصري قال : قال أبو أحمد الفراء سمعت شبلا يحدث عن الأصمعي عن أبي عمرو بن العلاء قال : كانت { قل يا أيها الكافرون } تسمى المقشقشة أي أنها تبرئ من الشرك و يقال قشقش البقير إذا رمى بجرته 2523 - مكرر ـ أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد ثنا تمتام و ابن أبي قماش قالا ثنا خلف بن موسى عن أبيه عن قتادة عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقرأ في الركعتين بعد المغرب و الركعتين قبل صلاة الفجر بـ { قل يا أيها الكافرون } و { قل هو الله أحد }

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ، ان کو ابو عثمان بصری نے انہوں نے کہا کہ ابو احمد فرا نے کہا تھا کہ میں نے شبل سے سنا تھا۔ وہ حدیث بیان کرتے تھے اصمعی سے ، انہوں نے ابو عمر و بن علاء سے انہوں نے کہا کہ سورۃ قل یا ایھاالکافرون کا نام مقشقشۃ (شرک کے داغ دھونے والی ) پکارا جاتا ہے ۔ یعنی کہ وہ شرک سے بری کرتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یعنی محاورہ میں ۔ قشقش البعیر اذا رمیٰ بجرتہ (اونٹ نے جگالی کی ہے جب وہ جگالی نکالے یا مستی سے گھڑا نکالے)۔ مکرر ہے ۔ ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ، ان کو احمد بن عبید نے ، ان کو تمتام اور ابن ابی قماش نے ، دونوں نے کہا ان کو خلف بن موسیٰ نے ، ان کے باپ سے اس نے قتادہ سے ، اس نے انس سے ، اس نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مغرب کے بعد دو رکعت میں اور نماز میں اور نماز فجر سے قبل دو رکعت میں قل یا ایھا الکافرون اور قل ھواللہ احد پڑھتے تھے۔

كانت تسمى المقشقشة أي ← أَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ، ← الْأَصْمَعِيُّ ← شِبْلًا، ← أَبُو أَحْمَدَ الْفَرَّاءُ، ← أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surah (Say, O disbelievers) · Hadith 2523

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة { قل يا أيها الكافرون } · حديث 2524

2524 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا محمد بن أحمد بن حامد العطار ح و أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن إبراهيم الفارسي أنا أبو عمرو بن مطر قالا أنا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار ثنا يحيى بن معين ثنا يحيى بن عبد الله بن يزيد بن عبد الله بن أنيس الأنصاري قال : سمعت طلحة بن خراش : يحدث عن جابر بن عبد الله أن رجلا قام فركع ركعتين يقرأ في الركعة الأولى { قل يا أيها الكافرون } حتى انقضت السورة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم هذا رجل عرف ربه و قرأ في الآخرة { قل هو الله أحد } انقضت السورة فقال النبي صلى الله عليه و سلم هذا عبد آمن بربه قال طلحة : فأنا استحب أن اقرأ هاتين السورتين في هاتين الركعتين

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ، ان کو محمد بن احمد بن عبدالجبار نے ، ان کو یحییٰ بن معین نے ، ان کو یحییٰ بن عبدالہ بن یزید بن عبداللہ بن انیس انصاری نے ، وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا طلحہ بن حراش سے ، وہ حدیث بیان کرتے تھے جابر بن عبداللہ سے کہ ایک آدمی کھڑا ہوا ، اس نے دو رکعتیں پڑھیں ۔ پہلی رکعت میں قل یا ایھالکافرون پڑھی اور سورہ پوری کر لی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اس آدمی نے اپنے رب کو پہچان لیا اورد وسری رکعت میں اس نے قل ھو اللہ احد پڑھی اور سورۃ پوری کر لی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا یہ بندہ اپنے رب کے ساتھ ایمان لے آیا ۔ اس لیے طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں پسند کرتا ہوں کہ دو سورتیں اپنی دو رکعتوں میں پڑھا کروں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو بكر محمد بن أحمد بن إبراهيم الفارسي ← و، ← محمد بن أحمد بن حامد العطار، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surah (Say, O disbelievers) · Hadith 2524

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة { قل يا أيها الكافرون } · حديث 2525

2525 - حدثنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا سعدان بن نصر ثنا إسحاق بن يوسف الأزرق ثنا هشام بن حسان عن محمد بن سيرين عن سيرين عن عائشة رضي الله عنها : في ركعتي الفجر قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصليهما فيسر فيهما فيقرأ بـ { قل يا أيها الكافرون } و { قل هو الله أحد }

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو سعید بن اعرابی نے ، ان کو سعدان بن نصر نے ، ان کو اسحٰق بن یوسف ازرق نے، ان کو ہشام بن حسام نے ، ان کو محمد بن سیرین نے ، ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے صبح کی دو سنتوں کے بارے میں فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے تھے اور ان کو ہلکا پھلکا کرتے آسان کرتے تھے اور ان میں قل یا ایھاالکافرون اور قل ھو اللہ احد پڑھتے تھے۔

عائشة في ركعتي الفجر ← سِيرِينَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← إسحاق بن يوسف الأزرق ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surah (Say, O disbelievers) · Hadith 2525

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة { قل يا أيها الكافرون } · حديث 2526

2526 - أخبرنا أحمد بن الحسن القاضي أنا أبو علي الميداني عن محمد بن يحيى الذهلي ثنا سعيد بن كثير بن عفير ثنا يحيى بن أيوب عن يحيى بن سعيد عن عمرو عن عائشة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقرأ في الركعتين اللتين يوتر بعدهما بـ { سبح اسم ربك الأعلى } و { قل يا أيها الكافرون } و في الوتر بـ { قل هو الله أحد } و { قل أعوذ برب الفلق } و { قل أعوذ برب الناس } و قد مضت الرواية في أنها تعدل ربع القرآن

ہمیں خبر دی احمد بن حسن قاضٰ نے ، ان کو ابو علی میدانی نے ، ان کو محمد بن یحییٰ ذھلی نے ، ان کو سعید بن کثیر بن عفیر نے ، ان کو یحییٰ بن ایوب نے ، ان کو یحییٰ بن سعید نے عمرہ سے ، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم وتر سے قبل دو رکعت میں سبح اسم ربک الا علیٰ ۔ اور قل یا ایھاالکافرون پڑھتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم وتر کی نماز میں قل ھوا للہ احد اور قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھتے تھے اور یہ روایت گذر چکی ہے جس میں یہ چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔

عَائِشَةَ ← عَمْرٍو، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أبو علي الميداني ← أحمد بن الحسن القاضي،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surah (Say, O disbelievers) · Hadith 2526

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة { قل يا أيها الكافرون } · حديث 2527

2527 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد ثنا إسماعيل بن الفضل ثنا الحسن بن علي الحلواني ثنا زكريا بن عطية الحنفي ثنا سعد بن محمد بن المسور بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف حدثتني عائشة بنت سعد عن أبيها قالت : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : من قرأ { قل يا أيها الكافرون } كأنما قرأ ربع القرآن و من قرأ { قل هو الله أحد } فكأنما قرأ ثلث القرآن قال سعد و حدثني عمي سعد بن إبراهيم عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ { قل هو الله أحد } ثنتي عشرة مرة فكأنما قرأ القرآن أربع مرات و كان أفضل أهل الأرض

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ، ان کو احمد بن عبید نے ، ان کو اسماعیل بن فضل نے ، ان کو حسن بن علی حلوانی نے ، ان کو زکریا بن عطیہ حنفی نے، ان کو سعید بن محمد مسور بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف نے ، ان کو حدیث بیان کی سیدہ عائشہ بنت سعد نے ، ان کو ان کے والد نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے تھے جس نے قل یا ایھاالکافرون پڑھی گویا اس نے ایک چوتھائی قرآن پڑھ لیا اور جس نے قل ھواللہ احد پڑھی گویا کہ اس نے ایک تہائی قرآن پڑھ لیا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سعد بن ابراہیم نے مجھے یہ حدیث بتائی تھی ابو سلمہ سے ۔ اس نے ابو ہریرہ ؛ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جس نے پڑھا قل ھواللہ احد بارہ مرتبہ گویا اس نے چار مرتبہ قرآن مجید ختم کر لیا اور وہ اہل زمین پر سب سے افضل ہوگا۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surah (Say, O disbelievers) · Hadith 2527

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة { قل يا أيها الكافرون } · حديث 2528

2528 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو علي الحافظ ثنا أبو علي الحافظ ثنا إسحاق بن إبراهيم بن يونس بمصر ثنا الحسن بن علي الحلواني ثنا زكريا بن عطية ثنا سعد بن محمد بن المسور قال : و حدثني سعد بن إبراهيم عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من قرأ { قل هو الله أحد } ثنتي عشرة مرة بعد صلاة الفجر فكأنما قرأ القرآن أربع مرت و كان أفضل من أهل الأرض يومئذ إذا اتقى تخصيص

اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو علی حافظ نے ان کو اسحاق بن ابراہیم بن یونس نے مصر میں ، ان کو حسن بن علی حلوانی نے ، ان کو زکریا بن عطیہ نے ، ان کو سعد بن محمد مسور نے ، انہوں نے کہا مجھے حدیث بیان کی ہے سعد بن ابراہیم نے ابو سلمہ سے ، اس نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جس نے بارہ مرتبہ قل ھواللہ احد پڑھی نماز فجر کے بعد گویا اس نے چار مرتبہ قرآن مجید ختم کیا اور اس دن وہ اہل زمین پر افضل آدمی ہو گا جب وہ تقویٰ اختیار کرے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← و، ← سعد بن محمد بن المسور ← زَكَرِيَّا بْنُ عَطِيَّةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← إسحاق بن إبراهيم بن يونس بمصر ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surah (Say, O disbelievers) · Hadith 2528

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ سورة النصر بالذكر · حديث 2529

2529 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الوليد ثنا عبد الله بن محمد ثنا محمد بن المثني ثنا عبد الأعلى عن داود عن عامر عن مسروق عن عائشة رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يكثر من قول سبحان الله و بحمده و استغفره و أتوب إليه قالت : قلت يا رسول الله إنك تكثر سبحان الله و بحمده و استغفر الله و أتوب إليه قال خبرني ربي في أني سأرى علامة في أمتي فإذا رأيتها أكثر من قول سبحان الله و بحمده استغفر الله و أتوب إليه فقد رأيتها { إذا جاء نصر الله و الفتح } فتح مكة { ورأيت الناس يدخلون في دين الله أفواجا * فسبح بحمد ربك و استغفره إنه كان توابا } رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن المثنى

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو خبر دی ہے ابو الولید نے ، ان کو عبداللہ بن محمد نے ، ان کو محمد بن مثنیٰ نے ، ان کو عبدالا علیٰ نے ، ان کو داؤد نے عامر سے ، اس نے مسروق سے ، اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کثرت کے ساتھ یہ پڑھتے تھے: سبحان اللہ و بحمدہ واستغفرہ واتوب الیہ اور فرمایا کہ مجھے میرے رب نے خبر دار کیا تھا کہ میں عنقریب اپنی امت کے بارے میں ایک علامت دکھایا جاؤں گا ۔ جب میں اسے دیکھ لوں تو کثرت کے ساتھ میں یہ ورد کروں: سبحان اللہ و بحمد واستغفرالہ واتوب الیہ۔ لہذا میں ے اسے دیکھ لیا ہے : "اذاجاء نصر اللہ والفتح (فتح مکہ سے ) ورأیت الناس ید خلون فی دین اللہ افواجا فسبح بحمد ربک واستغفر ہ انہ کان توابا" اس کو مسلم نے روایت کیا ہے محمد بن مثنیٰ سے۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← عَامِرٍ، ← دَاوُدُ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Surat Al-Nasr remembrance · Hadith 2529

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ سورة النصر بالذكر · حديث 2530

2530 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أبو القاسم الطبراني ثنا محمد بن الحسن بن كيسان ثنا أبو حذيفة ثنا سفيان عن سلمة بن وردان عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم { قل يا أيها الكافرون } تعدل ربع القرآن و { إذا زلزلت } تعدل ربع القرآن و { إذا جاء نصر الله و الفتح } ربع القرآن

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ، ان کو ابوالقاسم طبرانی نے ، ان کو محمد بن حسن بن کیسان نے ، ان کو ابو حذیفہ نے ، ان کو سفیان نے ، ان کو سلمہ بن وردان نے ، ان کو انس رضی اللہ عنہ نے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ق نے فرمایا یا ایھاالکافرون چوتھائی قرآن کے برابر ہے اور اذازلزلت الا رض چوتھائی قرآن کے برابر ہے اور اذا جاء نصر اللہ و لفتح چوتھائی قرآن کے برابر ہے ۔

أَنَسٍ، ← سَلَمَۃُ بْنُ وَرْدَانَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Surat Al-Nasr remembrance · Hadith 2530

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2531

2531 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي قالا أنا أبو الحسن بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدرامي ثنا يحيى بن بكير ثنا مالك قال : و حدثنا القعنبي فيما قرأه على مالك عن عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي صعصعة عن أبيه عن أبي سعيد الخدري : أن رجلا سمع رجلا يقرأ { قل هو الله أحد } يرددها فلما أصبح جاء إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر ذلك له و كان الرجل يقللها و قال القعنبي يتقالها فقال لها رسول الله صلى الله عليه و سلم و الذي نفسي بيده أنها لتعدل ثلث القرآن لفظ حديث أبي زكريا رواه البخاري في الصحيح عن القعنبي و عبد الله بن يوسف عن مالك فقال عن أبي سعيد الخدري قال : أخبرني قتادة بن النعمان

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ، دونوں کو ابو الحسن بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ، ان کو یحییٰ بن بکیر نے، ان کو مالک نے ، اس نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے قعنبی نے اس کتاب میں جس کو اس نے پڑھا تھا۔ مالک نے پھر اس کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابو صعصعہ نے ، ان کو ان کے والد نے ، ان کو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ ایک آدمی نے ایک آدمی سے سنا جو قل ھواللہ احد پڑھ رہا تھا اور اسے باربار پڑھے جا رہا تھا۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں آکر اس بات کا ذکر کیا وہ آدمی اس کو قلیل سمجھ رہا ہے اور قعنبی نے کہا کہ وہ آدمی اس کو بہت کم کہہ رہا تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ، بے شک وہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔ یہ ابو زکریا کی روایت کے الفاظ ہیں ان کو بخاری نے صحیح میں قعنبی سے اور عبداللہ بن یوسف سے ، اس نے مالک سے ان کو روایت کیا ہے اور اس کو روایت کیا ہے اسماعیل بن جعفر نے مالک سے ۔ اس نے کہا ابو سعید خدری سے ، انہوں نے کہا کہ مجھے خبر دی ہے قتادہ بن نعمان سے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، ← القعنبي فيما قرأه على مالك ← و، ← مَالِكٍ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عثمان بن سعيد الدرامي ← أبو الحسن بن محمد بن عبدوس ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2531

chevron_left Previous
1…91011…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood