مسند الشهاب · ( الباب السابع ) ‹ ( 663 إن لكل ساع غاية وغاية كل ساع الموت ) · حديث 1025
1025 - وجدت بخط شيخنا أبي محمد عبد الغني بن سعيد الحافظ أبنا أحمد بن الحسن بن إسحاق الرازي ثنا علي بن محمد الرقاشي ثنا يحيى الحماني ثنا رباح أبو المهاجر الزاهد ثنا أبو يحيى الرقاشي عن أبي سورة بن أخي أبي أيوب عن أبي أيوب قال Y خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما فأخذ بعضادتي باب المسجد ونادى بأعلى صوته يا أيها الناس يا أهل الإسلام جاء الموت بما جاء جاء بالروح والرحمة والكرة المباركة لأولياء الله من أهل دار السرور الذين كان سعيهم ورغبتهم فيها يا أيها الناس يا أهل الإسلام جاء الموت بما جاء جاء بالحسرة والندامة والكرة الخاسرة لأولياء الشيطان من أهل دار الغرور الذين كان سعيهم ورغبتهم فيها ألا إن لكل ساع غاية وغاية كل ساع الموت
سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا اے لوگوں تمہارے پاس موت آچکی ہے۔ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو مسجد کو دونوں چوکٹھوں کو پکڑ کر دروازہ پر کھڑے ہوئے اور بلند آواز کے ساتھ آواز دی اور فرمایا: اے لوگو! اے اہل اسلام تمہارے پاس موت آچکی ہے اپنے سامان کے ساتھ آرام و راحت کو بھی ساتھ لائی ہے اور تکلیف و کراہت کو بھی ساتھ لائی ہے وہ اللہ کے ولیوں کے لیے بابرکت ہے جو سکون والے گھروں میں سے ہیں جن کی کوشش اور رغبت اس دنیا میں اسی گھر کے لیے ہوتی تھی۔ اے لوگو، اے اہل اسلام ، ومت اپنے سازوں سامان کے سات آچکی ہے حسرۃ ندامت اور تکلیف ناکامی کو ساتھ لائی ہے شیطان کے دوستوں کے لیے جو اہل غرور کے گھر وں والے ہیں انکی دنیا میں کوشش و رغبت اسی کے لیے ہوتی تھی خبردار بے شک ہر دوڑنے والے کے لیے ایک حد اور انتہاہے اور ہر کوشش کرنے والے کی حد کی انتہاموت ہے ۔
أَبِي أَيُّوبَ، ← أبي سورة بن أخي أبي أيوب ← أَبُو يَحْيَى الرَّقَّاشِيُّ، ← رباح أبو المهاجر الزاهد ← يحيى الحماني ← علي بن محمد الرقاشي
Musnad Al Shahab · (Chapter Seven) › (663 Every hour has a purpose and an end for every hour of death) · Hadith 1025
