مسند الشهاب · ( الجزء السادس من مسند الشهاب ) ‹ ( 530 ما امتلأت دار حبرة إلا امتلأت عبرة ) · حديث 803
803 - أخبرنا محمد بن أبي سعيد بمكة أبنا زاهر بن أحمد الفقيه ثنا محمد بن معاذ ثنا الحسين بن الحسن أبنا بن المبارك أبنا عكرمة بن عمار عن يحيى بن أبي كثير أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال Y والذي نفس محمد بيده ما امتلأت دار حبرة إلا امتلأت عبرة وما كان فرحة إلا تبعتها ترحة
یحییٰ بن ابو کثیر سے روایت ہے کہ بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے جس گھر میں نقش و نگار اور خوشی ہوتی ہے اور عبرت بن جاتا ہے اور جب کوئی خوشی آتی ہے تو اسکے ساتھ پریشانی آجاتی ہے۔ نوٹ: جبرۃ کا ایک معنی یمنی چادر بھی ہے اور نقش و نگار بھی یہاں جو میں مطلب سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ جس گھر میں آرائش کی گئی ہو اور طرح طرح کے نقش و نگار کیے ہوں وہ گھر عبرت ہے کیونکہ اس گھر میں ہم نے ہمیشہ نہیں رہنا جس میں ہمیشہ نہیں رہنا اس کو اتنا مزین کرنے کی کیا ضرورت ہے اور جس گھر یعنی قبر میں ہمیشہ رہنا ہے اس کی تیاری کرنی چاہیے اس کو عقائدہ حقہ اور اعمال صالحہ سے خوبصورت اور مزین کرنا چاہیے اور مزید گھر میں کچھ لمحات کے لیے خوشی آتی ہے اور جب وہی شخص فوت ہو جاتا ہے تو اس خوشی کے بعد غم و پریشانی ہو گی ۔
يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الحسين بن الحسن أبنا بن المبارك أبنا عكرمة بن عمار ← مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، ← محمد بن أبي سعيد بمكة أبنا زاهر بن أحمد الفقيه
Musnad Al Shahab · (The sixth part of the datum of the shooting star) › (530 Whenever the House of Habra is full, it is filled with a lesson) · Hadith 803
