مسند الشهاب · ( الباب السادس ) ‹ ( 558 لا ينتطح فيها عنزان ) · حديث 856
856 - أخبرنا الشيخ أبو طاهر محمد بن الحسين بن محمد بن سعدون الموصلي قدم علينا أبنا أبو الحسن علي بن محمد بن الحسن الحربي الحنبلي السكري ثنا أبو الفضل جعفر بن أحمد بن محمد بن الصباح الجرجائي بها ثنا محمد بن إبراهيم بن العلاء الشامي ثنا محمد بن الحجاج اللخمي أبو إبراهيم الواسطي عن مجالد بن سعيد عن الشعبي عن بن عباس قال Y هجت امرأة من بني خطمة النبي صلى الله عليه و سلم بهجاء لها فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه و سلم فاشتد عليه ذلك وقال من لي بها فقال رجل من قومها أنا يا رسول الله وكانت تمارة تبيع التمر قال فأتاها أجود من هذا قال فدخلت التربة قال ودخل خلفها فنظر يمينا وشمالا فلم ير إلا خوانا قال فعلا به رأسها حتى دمغها به قال ثم أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله قد كفيتكها قال فقال النبي صلى الله عليه و سلم أما إنه لا ينتطح فيها عنزان فأرسلها مثلا
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بنی خطمہ قبیلہ کی ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو (گستاخی) کی جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی تو آپ پر گراں گزری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون ہے جومیری طرف سے اس کا بدلہ لے؟ اس عورت کی قوم سے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں (اس گستاخ کا کام تمام کروں گا) وہ عورت کھجوریں بیچا کرتی تھی پس وہ شخص اس کے پاس آیا اور اس کا تعاقب کیا جب وہ اپنے کھجوروں کے گودام میں داخل ہوئی تو وہ بھی اس کے پیچھے داخل ہو گیا اس نے دائیں بائیں دیکھا کسی کو نہ پایا تو اس کے سر پر حملہ کیا اور اس کا دماغ (یعنی سر قلم کر دیا) تک گیا۔ پھر وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تلوار کو (اس گستاخ کے قصاص میں ) خون آلود نہیں کیا جائے گا۔ (یعنی اس عورت کا خون رائیگاں گیا اس کے بدلے میں اس مرد حق کا قتل نہیں کیا جائے گا۔)
بْنِ عَبَّاسٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ← محمد بن الحجاج اللخمي أبو إبراهيم الواسطي ← محمد بن إبراهيم بن العلاء الشامي ← أبو الفضل جعفر بن أحمد بن محمد بن الصباح الجرجائي بها
Musnad Al Shahab · (Chapter Six) › -558 · Hadith 856
