Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 211

211 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَعْمَرٍ الصَّنْعَانِيُّ، بِصَنْعَاءَ سَنَةَ 284 أَرْبَعٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا صَامِتُ بْنُ مُعَاذٍ الْجَنَدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ إِلَّا أَبُو قُرَّةَ تَفَرَّدَ بِهِ الصَّامِتُ

ابراہیم بن معمر صنعانی سے مروی حدیث : یہ حدیث ان سے 284 ہجری میں صنعا میں سنی تھی ۔حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کی نماز نہیں ہوتی جس نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی ۔(یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو اکیلے نماز پڑھ رہا ہو اگر امام کے ساتھ پڑھ رہے ہو تو امام کی پڑھی ہوئی فاتحہ مقتدی کی جانب سے بھی ہو جاتی ہے ) اس حدیث کو موسی بن عقبہ سے صرف ابو قرہ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں صامت منفرد ہیں۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ، ← صَامِتُ بْنُ مُعَاذٍ الْجَنَدِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَعْمَرٍ الصَّنْعَانِيُّ، بِصَنْعَاءَ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 211

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 212

212 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ سُلَيْمَانَ الشَّيْزَرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «طُوبَى لِمَنْ مَلَكَ لِسَانَهُ , وَوَسِعَهُ بَيْتُهُ , وَبَكَى عَلَى خَطِيئَتِهِ» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ثَوْبَانَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ عِيسَى بْنُ سُلَيْمَانَ , وَهُوَ ثِقَةٌ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ مِنْ ثِقَاتِ الشَّامِيِّينَ , وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ثِقَةٌ فِيمَا رَوَى عَنِ الشَّامِيِّينَ , وَأَمَّا رِوَايَتُهُ عَنْ أَهْلِ الْحِجَازِ , فَإِنَّ كِتَابَهُ ضَاعَ , فَخَلَطَ فِي حِفْظِهِ عَنْهُمْ

ابراہیم بن محمد بن عرق حمصی سے مروی حدیث : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جس کو اپنی زبان پر کنٹرول ہے اور جس کا گھر کشادہ ہے اور جو اپنی خطاؤں پر روتا ہے ۔یہ حدیث ثوبان سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ منقول ہیں ۔اسماعیل سے روایت کرنے میں عیسی بن سلیمان منفرد ہے وہ ثقہ ہیں۔ میں نے امام احمد بن حنبل کو بھی فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ شرجیل بن مسلم شام کے ثقہ محدثین میں سے ہیں اور محمد بن عثمان بن ابی شیبہ نے یحیی بن معین کا یہ قول بیان کیا ہے کہ اسماعیل بن عیاش ثقہ راوی ہے اور یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو شامیوں سے روایت لیتے ہیں ، اور اہل حجاز کی روایت انہوں نے جس کتاب میں جمع کی تھی ، ان کی وہ کتاب ضائع ہو گئی تھی ، اس کتاب کی روایت ان سے غلط ملط ہو گئی ہیں۔

ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ← شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عِيسَى بْنُ سُلَيْمَانَ الشَّيْزَرِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 212

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 213

213 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ الشِّبَامِيُّ، بِمَدِينَةِ شِبَامَ بِالْيَمَنِ سَنَةَ 282 اثْنَتَيْنِ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " يُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ: إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا , وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَعِيشُوا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا , وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا , وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا " لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الثَّوْرِيِّ إِلَّا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَوَهِمَ أَبُو إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ فِي كُنْيَةِ الْأَغَرِّ , فَقَالَ: أَبُو مُسْلِمٍ , وَالصَّوَابُ مَا رَوَى أَهْلُ الْمَدِينَةِ: الزُّهْرِيُّ، وَصَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ وَغَيْرُهُمَا , فَقَالُوا: عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مُسْلِمٍ الْأَغَرِّ

ابراہیم بن سویتہ الشبا می سے مروی حدیث ۔یہ حدیث 282 کو شام میں سنی گئی ۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنتیوں کو کہا جائے گا بے شک تم سے صحت مند ہوگئے ہو اور اب کبھی بیمار نہیں ہوں گے اور تم زندگی گزارو تم کبھی بھی نہیں مرو گے اور تمہیں نعمت دی گئی ہے اب تم کبھی بھی ان سے محروم نہیں ہوں گے اور تم کو جوانی دی گئی ہے تم کبھی بھی بوڑھے نہیں ہوگے ۔اس حدیث کو ثوری سے صرف عبد الرزاق نے روایت کیا ہے ۔اور ابو اسحاق سبیعی کو اغر کی کنیت میں غلطی لگی ہے انہوں نے ان کی کنیت ’’ابو مسلم ‘‘بیان کی ہے جبکہ وہ درست ہے جو اہل مدینہ نے روایت کیا ہے۔ یعنی زہری اور صفوان بن سلیم اور دیگر محدثین نے روایت بیان کرتے ہوئے یوں کہا ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا ← الْاَغَرِّ اَبِیْ مُسْلِمٍ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ الشِّبَامِيُّ، بِمَدِينَةِ شِبَامَ بِالْيَمَنِ سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 213

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 214

214 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَارَةَ الرَّقِّيُّ، حَدثَّنَا يَاسِينُ سَنَةَ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ الْحِصْنِيِّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَاعَ أَوِ احْتَاجَ , فَكَتَمَهُ النَّاسُ , وَأَفْضَى بِهِ إِلَى اللَّهِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَفْتَحَ لَهُ قُوتَ سَنَةٍ مِنْ حَلَالٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ إِلَّا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ تَفَرَّدَ بِهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ الْحِصْنِيُّ مِنْ أَهْلِ حِصْنٍ عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ

ابراھیم بن اسماعیل بن عبداللہ بن زرارہ الرقی سے مروی حدیث: حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بھوکا ہوں ہو یا ضرورت مند ہوں لیکن اپنی یہ حالت لوگوں سے چھپائے اور اس کو اللہ ہی کے سپرد کرے اور یہ حق ہے کہ اس کے لئے پورے سال کے لئے حلال روزی کے دروازے کھول دے اس حدیث کو ’’اعمش ‘‘سے صرف موسی بن عین نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں اسماعیل بن رجاء الحصنی منفرد ہیں.انہوں نے اس کو مسلمہ بن عبدالملک سے روایت کیا ہے

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ الْحِصْنِيِّ، ← يَاسِينُ سَنَةَ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَتَيْنِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَارَةَ الرَّقِّيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 214

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 215

215 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا أَنَّ مُحْرِمًا وَقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ فَمَاتَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ , وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ , وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ , وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا؛ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ إِلَّا قَيْسٌ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ

ابراہیم بن محمد بن بکار بن ریان بغدادی سے مروی حدیث : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک محرم شخص کو اس کی اونٹنی نے گرادیا گرتے ہیں اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل دو اور اس کو اسی کپڑوں میں کفن دے دو اور اس کا سر مت ڈھانپواور اس کو خوشبو بھی مت لگاؤ کیونکہ یہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتا ہوا اٹھے گا ۔اس حدیث کو سالم الافطس سے صرف قیس نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں محمد بن بکار منفرد ہیں۔

سَالِمٍ الْأَفْطَسِ إِلَّا قَيْسٌ، تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا أَنَّ مُحْرِمًا وَقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ فَمَاتَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سَالِمٌ الْأَفْطَسُ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ الْبَغْدَادِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 215

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 216

216 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَبُو مُسْلِمٍ الْكَجِّيُّ، بِمَكَّةَ سَنَةَ 283 ثَلَاثٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ عَوْذِ اللَّهِ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي صِدِّيقٍ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَيْتٍ فِيهِ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ , فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ ثُمَّ قَالَ: «هَلْ فِي الْبَيْتِ إِلَّا قُرَشِيٌّ؟» قَالُوا: لَا، إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا , فَقَالَ: ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ , ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ لَا يَزَالُ فِي قُرَيْشٍ مَا إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا , وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا , وَإِذَا أَقْسَمُوا أَقْسَطُوا , وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» لَا يُرْوَى عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ مُعَاذُ بْنُ عَوْذِ اللَّهِ

ابراہیم بن عبد اللہ بن مسلم ابو مسلم الکجی سے مروی حدیث : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مکان پر کھڑے ہوئے اس میں قریش کے کچھ لوگ موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دروازے کے دونوںپٹ پکڑے اور فرمایا اس گھر میں کیا صرف قریشی لوگ ہیں لوگوں نے بتایا کہ نہیں ہمارا بھانجا بھی ہے آپ ﷺنے کس قوم کا بھانجا انہی میں سے ہوتا ہے ۔پھر فرمایا امور خلافت مسلسل قریش میں رہیں گے جب ان سے رحم طلب کیا جائے تو یہ رحم کریں جو فیصلہ کریں تو انصاف کرے جب قسم کھائے تو سچی کھائے اور جو ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالی کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ۔اس حدیث کو ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ نقل کیا گیا ہے اور اس کو روایت کرنے میں معاذبن عوذاللہ منفردہیں۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 216

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 217

217 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ، بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: سَمَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ أَسْمَاءً مِنْهَا مَا حَفِظْنَاهَا , فَقَالَ: «أَنَا مُحَمَّدٌ , وَأَحْمَدُ , وَالْمُقَفِّي , وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ , وَنَبِيُّ الْملْحَمَةِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مِسْعَرٍ إِلَّا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ

ابراہیم بن احمد بن عمر الوکیعی سے مروی حدیث : حضرت ابو موسی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے کافی اسماء گرامی بتائیے ہم نے وہ یاد کر لئے تھے ان میں سے کچھ یہ ہیں۔محمد ،احمد ،مقفی ،نبی الرحمۃ ، نبی الملحمہ ، وہ اس حدیث کو مسعر سے صرف ’’جعفر بن عون ‘‘نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کو ’’ابراہیم بن احمد بن عمر ‘‘اپنے والد سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔

أَبِيهِ ← مِسْعَرٍ إِلَّا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ ← مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ، وَالْمُقَفَّى، وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ، وَنَبِيُّ الْمَلْحَمَةِ» لَمْ يَرْوِهِ ← سَمَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ نَفْسَهُ أَسْمَاءً مِنْهَا مَا حَفِظْنَاهَا فَقَالَ: ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ، بِبَغْدَادَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 217

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 218

218 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ الْبَسَّامِيُّ، حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ نَجِيحٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنِّي أَشْتَهِي الْجِهَادَ وَلَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ قَالَ: فَهَلْ بَقِيَ أَحَدٌ مِنْ وَالِدَيْكَ؟ فَقَالَ: أُمِّي قَالَ: «فَابْلُ اللَّهَ عُذْرًا فِي بِرِّهَا , فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَأَنْتَ حَاجٌّ وَمُعْتَمِرٌ وَمُجَاهِدٌ إِذَا رَضِيَتْ عَنْكَ أُمُّكَ , فَاتَّقِ اللَّهَ وَبَرَّهَا» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْحَسَنِ إِلَّا مَيْمُونُ بْنُ نَجِيحٍ

ابراہیم بن ہاشم البغوی سے مروی حدیث :حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے جہاد کا بہت شوق ہے لیکن میرے اندر اس کی استطاعت نہیں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے آپ اس نے کہا جی ہاں میری والدہ نے فرمایا اس کی خدمت کا اللہ کی بارگاہ میں عذر پیش کردے کیونکہ ماں کی خدمت کرنا جہاد میں نہ جانے کا قابل قبول عذر ہے ، تو ماں کی خدمت کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کر اللہ تعالی سے ڈر اگر تیری ماں تجھ پر راضی ہو گئی تو تجھے حج عمرہ اور جہاد کا ثواب اسی مل جائے گا اس حدیث کو حسن سے صرف میمون بن نجیح نے روایت کیا ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← مَيْمُونُ بْنُ نَجِيحٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ الْبَسَّامِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 218

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 219

219 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْجِفْشِيشِ الْكِنْدِيِّ قَالَ: جَاءَ قَوْمٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: أَنْتَ مِنَّا وَادَّعُوهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَا نَنْبُوا أُمَّنَا , وَلَا نَنْتَفِي مِنْ أَبِينَا , نَحْنُ مِنْ وَلَدِ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ إِلَّا عَنْ جِفْشِيشٍ , وَلَهُ صُحْبَةُ وَهُوَ الَّذِي خَاصَمَ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَرْضِ , فَنَزَلَتْ فِيهِمَا هَذِهِ الْآيَةُ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: 77] الْآيَةَ لَا يُرْوَى إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ

ابراہیم بن نائلہ الاصبہانی سے مروی حدیث :جفشیش الکندی بیان کرتے ہیں کہ کندہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور دعوے سے کہنے لگے آپ ہم میں سے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم ماؤ ں کی جانب اپنا نسب منسوب نہیں کرتے اور نہ ہم اپنے والد کے نسب کی نفی کرتے ہیں ہم تو ’’نضر بن کنانہ ‘‘کی اولاد میں سے ہیں ۔ اس حدیث کو جفشیش سے روایت کیا گیا ہے آپ صحابی رسول ہیں ۔یہ وہی صحابی ہیں جو اشعس بن قیس کے ساتھ اپنا جھگڑا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لائے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی تھی ترجمہ وہ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے میں ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں ہے اور اللہ نہ ان سے بات کرے اور نہ ان کی طرف نظر فرمائے قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ترجمہ کنزالایمان امام احمد رضا ۔اس حدیث کو صرف اسی اسناد کے ہمراہ نقل کیا گیا ہے اور اس کو روایت کرنے میں حسن بن صالح منفرد ہے

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 219

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 220

220 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَزَلَتْ عَلَيَّ سُورَةُ الْأَنْعَامِ جُمْلَةً وَاحِدَةً يُشَيِّعُهَا سَبْعُونَ أَلْفِ مَلَكٍ لَهُمْ زَجَلٌ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ إِلَّا يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ تَفَرَّدَ بِهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو

ابراہیم بن نا ئلہ سے مروی حدیث : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھ پر پوری سورۃ الانعام یکبارگی نازل ہوئی ستر ہزار فرشتے مل کر اس کو اٹھا کر لائے تھے وہ سبحان اللہ اور الحمد اللہ پڑھتے ہوئے نیچے اتر رہے تھے اس حدیث کو ابن عون سے یوسف بن عطیہ کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور ان سے روایت کرنے میں اسماعیل بن عمر و منفرد ہے

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ الصَّفَارُ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 220

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 221

221 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَيُّوبَ الْمُخَرِّمِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ , وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قَتَادَةَ إِلَّا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ

ابراہیم بن عبداللہ بن ایوب المخرمی سے مروی حدیث : حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی نرمی والا ہے اور وہ نرمی ہی کو پسند کرتا ہے اور وہ نرمی پر جو کچھ عطا کرتا ہے وہ سختی پر عطا ء نہیں کرتا ۔ اس حدیث کو قتادہ سے سعید بن ابی عروبہ کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجِرْمِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَيُّوبَ الْمَخْرَمِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 221

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 222

222 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّيرَازِيُّ، بِمَكَّةَ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ , وَفِيهَا مَاتَ , حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ , حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلِ , عَنِ الْمَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشِ , عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا بَصَقْتَ فِي الصَّلَاةِ فَابْصُقْ عَنْ يَسَارِكِ , أَوْ تَحْتَ قَدَمِكَ الْيُسْرَى» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلِ إِلَّا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ , وَمَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ , حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ لِمَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ: اتَّقِ اللَّهَ , فَوَضَعَ خَدَّهُ عَلَى الْأَرْضِ

ابراہیم بن صالح الشیرازی سے مروی حدیث: حضرت طارق بن عبداللہ المحاربی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نماز کے دوران تھوکنے کی حاجت ہو تواپنے بائیں جانب تھو کو یا بائیں پاؤں کے نیچے تھو کو ۔اس حدیث کو مالک بن مغول سے حجاج بن نصیر کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور مالک بن مغول نیک مسلمانوں میں سے ہیں ۔ ہمیں امام احمد بن حنبل نے اپنے والد کے حوالے سے سفیان بن عینیہ کا یہ بیان سنا یا ہے کہ ایک آدمی نے مالک بن مغول سے کہا اللہ سے ڈر مالک بن مغول نے فورا اپنا رخسار زمین پر رکھ دیا۔

طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← الْمَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّيرَازِيُّ، بِمَكَّةَ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ وَفِيهَا مَاتَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 222

chevron_left Previous
1…777879…100
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter