481 - حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ أَحْمَدَ الْفَوْزِيُّ الْحِمْصِيُّ، وَمَا كَتَبْنَاهُ إِلَّا عَنْهُ , حَدَّثَنَا جَدِّي لِأُمِّي خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ الْفَوْزِيُّ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ , حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ بَرِيرَةَ أُعْتِقَتْ وَلَهَا زَوْجٌ , فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّ بَرِيرَةَ تُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِلَحْمٍ , فَنَصَبُوهُ , فَقَدَّمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا غَيْرَ اللَّحْمَ , فَقَالَ: «أَلَمْ أَرَ عِنْدَكُمْ لَحْمًا؟» , فَقَالُوا: إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ , فَقَالَ: «هُوَ لِبَرِيرَةَ صَدَقَةٌ , وَلَنَا هَدِيَّةٌ» , وَإِنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ إِلَى عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا , فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: إِنْ شَاءَ أَهْلُكِ اشْتَرَيْتُكِ , وَنَقَدْتُ ثَمَنَكِ عَنْكِ مَرَّةً وَاحِدَةً , فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا , فَقَالَتْ لَهُمْ ذَلِكَ , فَقَالُوا: وَلَنَا وَلَاؤُكِ , فَجَاءَتْ عَائِشَةَ , فَقَالَتْ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ وَلَاؤُكِ لَنَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «اشْتَرِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ إِلَّا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ تَفَرَّدَ بِهِ خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ وَرَبِيعَةُ مَشْهُورٌ، وَخَطَّابٌ مَشْهُورٌ
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بریرہ کو آزاد کر دیا گیا، اس کا شوہر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بریرہ کو اختیار عطا فرمایا ( کہ اگر وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو رہ سکتی ہے ) اور بریرہ کو کسی نے صدقے کا گوشت دیا، انہوں نے گوشت اپنے پاس رکھ لیا اور کوئی دوسری چیز رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں تحفہ پیش کر دی ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے تمہارے پاس گوشت دکھائی نہیں دے رہا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ تو بریرہ کو کسی نے صدقہ دیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ صدقہ بریرہ کے لئے ہے ، ہمارے لئے تو وہ ہدیہ ہے ۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اپنے کتابت کے معاملے میں مدد لینے آئی تھیں، ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا اگر تیرے مالک چاہیں تو میں تجھے خرید لیتی ہوں اور تیری قیمت یکمشت ادا کر دیتی ہوں ، حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے پاس گئیں اور یہی بات ان کے سامنے رکھی ، انہوں نے کہا: تیری ولاء ہمارے لئے ہو گی ، حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا لوٹ کر ام المومنین رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور ان کو بتایا کہ وہ کہہ رہے ہیں میری ولاء ان کے لئے ہو گی ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اے عائشہ رضی اللہ عنہا تم اس کو خرید لو کیونکہ جو آزاد کرتا ہے پھر اس آزاد شدہ کی ولاء اس آزاد کنندہ کے لئے ہوتی ہے ۔ اس حدیث کو یحییٰ بن سعید سے صرف اسماعیل بن عیاش نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں خطاب بن عثمان منفرد ہیں اور بیعہ مشہور ہیں اور خطاب بھی مشہور راوی ہیں ۔
رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← جَدِّي، لِأُمِّي خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ الْفَوْزِيُّ ← سَلَمَةُ بْنُ أَحْمَدَ الْفَوْزِيُّ الْحِمْصِيُّ، وَمَا كَتَبْنَاهُ إِلَّا عَنْهُ