Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ السِّينِ ‹ مَنِ اسْمُهُ سَعِيدٌ · حديث 475

475 - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ الصَّفَّارُ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَذَّاءُ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ , وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ تَفَرَّدَ بِهِ أَيُّوبُ , وَلَا يُرْوَى عَنْ أَنَسٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو تیرے ساتھ امانتداری سے پیش آئے تو اس کے ساتھ امانتداری کر ، اور جو تجھ سے خیانت کرے تو اس کے ساتھ خیانت کر۔ اس حدیث کو ابو التیاح یزید بن حمید سے صرف عبداللہ بن شوذب نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ایوب منفرد ہیں اور حضرت انس سے یہ حدیث صرف اسی اسناد کے ہمراہ مروی ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي التَّيَّاحِ ← ابْنِ شَوْذَبٍ ← اَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَذَّاءُ الرَّمْلِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ الصَّفَّارُ الْأَنْبَارِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 475

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ السِّينِ ‹ مَنِ اسْمُهُ سَعِيدٌ · حديث 476

476 - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدَوَيْهِ الصَّفَّارُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ ثَعْلَبٍ، حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ فِرَاشِهِ , فَقُلْتُ: إِنَّهُ قَامَ إِلَى جَارِيَتِهِ مَارِيَةَ , فَقُمْتُ أَلْتَمِسُ الْجِدَارَ , فَوَجَدْتُهُ قَائِمًا يُصَلِّي , فَأَدْخَلْتُ يَدَيَّ فِي شَعْرِهِ لِأَنْظُرَ اغْتَسَلَ أَمْ لَا , فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «أَخْذَكَ شَيْطَانُكِ يَا عَائِشَةُ» ، قُلْتُ: وَلِي شَيْطَانٌ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ، وَلِجَمِيعِ بَنِي آدَمَ» قُلْتُ: وَلَكَ شَيْطَانٌ؟ فَقَالَ (قَالَ) : «نَعَمْ , وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ إِلَّا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے بستر سے غائب پایا ، میں سمجھی کہ آپ اپنی لونڈی ماریہ کے پاس گئے ہوں گے ، میں دیوار ڈھونڈتے ہوئے اٹھی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے پایا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر دیکھا کہ آپ نے غسل کیا ہوا ہے یا نہیں ؟ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : اے عائشہ رضی اللہ عنہا تجھ پر تیرا شیطان مسلط ہو گیا تھا، میں نے پوچھا کیا میرا بھی شیطان ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں بلکہ ہر انسان کا شیطان ہوتا ہے ۔ میں نے کہا: اور آپ کا بھی شیطان ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں ، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف میری مدد فرمائی ہے تو وہ مسلمان ہو چکا ہے ۔ اس حدیث کو یحییٰ بن سعید سے صرف فرج بن فضالہ نے روایت کیا ہے ۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← فَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ، ← الرَّبِيعُ بْنُ ثَعْلَبٍ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدَوَيْهِ الصَّفَّارُ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 476

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ السِّينِ ‹ مَنِ اسْمُهُ سَعِيدٌ · حديث 477

477 - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ هَاشِمِ بْنِ مَرْثَدٍ الطَّبَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا دُحَيْمٌ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ، وَأَبُو مُعَيْدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةٌ عَلَى إِثْرِ صَلَاةٍ لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ حَفْصِ بْنِ غَيْلَانَ إِلَّا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک نماز کے بعد دوسری نماز اس طرح ادا کرنا کہ دونوں نمازوں کے درمیانی وقفے میں کوئی لغو بات نہ کی گئی ہو، یہ اعلیٰ علیین میں لکھی جاتی ہے ۔ اس حدیث کو حفص بن غیلان سے صرف ولید بن مسلم نے روایت کیا ہے ۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ، وَأَبُو مُعَيْدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← دُحَيْمٌ الدِّمَشْقِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ هَاشِمِ بْنِ مَرْثَدٍ الطَّبَرَانِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 477

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ السِّينِ ‹ مَنِ اسْمُهُ سَهْلٌ · حديث 478

478 - حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " اثْنَانِ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمَا رُءُوسَهُمَا: عَبْدٌ آبِقٌ مِنْ مَوَالِيهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِمْ , وَامْرَأَةٌ عَصَتْ زَوْجَهَا حَتَّى تَرْجِعَ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ إِلَّا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ , وَلَا عَنْهُ إِلَّا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي صَفْوَانَ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دو آدمی ایسے ہیں کہ ان کی نمازیں ان کے سروں سے اوپر نہیں جاتیں ، 1۔ اپنے آقا سے بھاگا ہوا غلام جب تک کہ واپس نہ آ جائے ۔ 2۔ وہ عورت جو اپنے شوہر کی نافرمان ہو جب تک اس کے پاس واپس نہ لوٹ آئے ۔ اس حدیث کو ابراہیم بن مہاجر سے صرف عمر بن عبید نے روایت کیا ہے اور ان سے صرف ابراہیم بن ابی الوزیر نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابن ابی صفوان منفرد ہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، ← عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ← سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 478

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ السِّينِ ‹ مَنِ اسْمُهُ سَهْلٌ · حديث 479

479 - حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُوسَى شِيرَانُ الْقَاضِي الرَّامَهُرْمُزِيُّ , حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّحِيلُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، أَخُو زُهَيْرٍ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِالنَّاسِ , ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى قَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنْهَا بُيُوتَهُمْ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الرَّحِيلِ إِلَّا زِيَادٌ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں چاہتا ہوں کہ جمعہ کے دن کسی شخص کو جمعہ کی جماعت کروانے کے لئے کھڑا کروں اور خود ان لوگوں کے گھروں کو آگ لگا دوں جو اس وقت اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں ۔ اس حدیث کو رحیل سے صرف زیاد نے روایت کیا ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← الرُّحَيْلُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، أَخُو زُهَيْرٍ، ← زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَکَّائِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← سَهْلُ بْنُ مُوسَى شِيرَانُ الْقَاضِي الرَّامَهُرْمُزِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 479

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ السِّينِ ‹ مَنِ اسْمُهُ سَهْلٌ · حديث 480

480 - حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مَرْدَوَيْهِ الْأَهْوَازِيُّ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَنَا صَبِيُّ يَشْتَكِي , فَقَالَ: «مَا لَهُ؟» , فَقُلْنَا: اتَّهَمْنَا بِهِ الْعَيْنَ , فَقَالَ: «أَلَا تَسْتَرْقُونَ لَهُ مِنَ الْعَيْنِ؟» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ إِلَّا أَبُو مُعَاوِيَةَ

ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، اس وقت ہمارے پاس ایک بیمار بچہ موجود تھا ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا اسے کیا ہوا ہے ؟ ہم نے کہا : ہم تو یہ سمجھتی ہیں کہ اس کو نظر لگی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو اس کو نظر بد کا دم کیوں نہیں کروا لیتی ؟ اس حدیث کو یحییٰ بن سعید انصاری سے صرف ابو معاویہ نے روایت کیا ہے ۔

يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ إِلَّا أَبُو مُعَاوِيَةَ ← «أَلَا تَسْتَرْقُونَ لَهُ مِنَ الْعَيْنِ؟» لَمْ يَرْوِهِ ← «مَا لَهُ؟» فَقُلْنَا: اتَّهَمْنَا بِهِ الْعَيْنَ ← دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَنَا صَبِيُّ يَشْتَكِي ← أُمِّ سَلَمَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ← سَهْلُ بْنُ مَرْدَوَيْهِ الْأَهْوَازِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 480

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ السِّينِ ‹ مَنِ اسْمُهُ سَلَمَةُ · حديث 481

481 - حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ أَحْمَدَ الْفَوْزِيُّ الْحِمْصِيُّ، وَمَا كَتَبْنَاهُ إِلَّا عَنْهُ , حَدَّثَنَا جَدِّي لِأُمِّي خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ الْفَوْزِيُّ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ , حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ بَرِيرَةَ أُعْتِقَتْ وَلَهَا زَوْجٌ , فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّ بَرِيرَةَ تُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِلَحْمٍ , فَنَصَبُوهُ , فَقَدَّمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا غَيْرَ اللَّحْمَ , فَقَالَ: «أَلَمْ أَرَ عِنْدَكُمْ لَحْمًا؟» , فَقَالُوا: إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ , فَقَالَ: «هُوَ لِبَرِيرَةَ صَدَقَةٌ , وَلَنَا هَدِيَّةٌ» , وَإِنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ إِلَى عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا , فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: إِنْ شَاءَ أَهْلُكِ اشْتَرَيْتُكِ , وَنَقَدْتُ ثَمَنَكِ عَنْكِ مَرَّةً وَاحِدَةً , فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا , فَقَالَتْ لَهُمْ ذَلِكَ , فَقَالُوا: وَلَنَا وَلَاؤُكِ , فَجَاءَتْ عَائِشَةَ , فَقَالَتْ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ وَلَاؤُكِ لَنَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «اشْتَرِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ إِلَّا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ تَفَرَّدَ بِهِ خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ وَرَبِيعَةُ مَشْهُورٌ، وَخَطَّابٌ مَشْهُورٌ

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بریرہ کو آزاد کر دیا گیا، اس کا شوہر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بریرہ کو اختیار عطا فرمایا ( کہ اگر وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو رہ سکتی ہے ) اور بریرہ کو کسی نے صدقے کا گوشت دیا، انہوں نے گوشت اپنے پاس رکھ لیا اور کوئی دوسری چیز رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں تحفہ پیش کر دی ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے تمہارے پاس گوشت دکھائی نہیں دے رہا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ تو بریرہ کو کسی نے صدقہ دیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ صدقہ بریرہ کے لئے ہے ، ہمارے لئے تو وہ ہدیہ ہے ۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اپنے کتابت کے معاملے میں مدد لینے آئی تھیں، ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا اگر تیرے مالک چاہیں تو میں تجھے خرید لیتی ہوں اور تیری قیمت یکمشت ادا کر دیتی ہوں ، حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے پاس گئیں اور یہی بات ان کے سامنے رکھی ، انہوں نے کہا: تیری ولاء ہمارے لئے ہو گی ، حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا لوٹ کر ام المومنین رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور ان کو بتایا کہ وہ کہہ رہے ہیں میری ولاء ان کے لئے ہو گی ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اے عائشہ رضی اللہ عنہا تم اس کو خرید لو کیونکہ جو آزاد کرتا ہے پھر اس آزاد شدہ کی ولاء اس آزاد کنندہ کے لئے ہوتی ہے ۔ اس حدیث کو یحییٰ بن سعید سے صرف اسماعیل بن عیاش نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں خطاب بن عثمان منفرد ہیں اور بیعہ مشہور ہیں اور خطاب بھی مشہور راوی ہیں ۔

رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← جَدِّي، لِأُمِّي خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ الْفَوْزِيُّ ← سَلَمَةُ بْنُ أَحْمَدَ الْفَوْزِيُّ الْحِمْصِيُّ، وَمَا كَتَبْنَاهُ إِلَّا عَنْهُ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 481

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ السِّينِ ‹ مَنِ اسْمُهُ سَلَمَةُ · حديث 482

482 - حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ الْحَضْرَمِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ الْحَضْرَمِيِّ , عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِي هَذَا , وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ , وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى , وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ فَوْقَ يَوْمَيْنِ إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ , وَلَا يُصَامُ يَوْمَانِ فِي السَّنَةِ: الْفِطْرُ وَالْأَضْحَى , وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الصَّلَاتَيْنِ: بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ , وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سَلَمَةَ إِلَّا ابْنُهُ يَحْيَى تَفَرَّدَ بِهِ وَلَدُهُ عَنْهُ

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کجاوے مت باندھو مگر تین مسجدوں کی طرف ، میری یہ مسجد ، مسجد حرم اور مسجد اقصیٰ ۔ اور عورت دو دن سے زیادہ کی مسافت کے سفر پر اپنے شوہر یا محرم کے بغیر نہ جائے ۔ اور سال میں دو موقعوں پر روزہ نہ رکھا جائے ۔ عیدالفطر کے دن اور قربانی کے دن ۔ اور دو نمازوں کے بعد کوئی نفلی نماز نہیں پڑھ سکتے ، نماز فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک۔ اس حدیث کو سلمہ سے صرف ان کے صاحبزادے یحییٰ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ان کے صاحبزادے منفرد ہیں ۔

عَلِيٍّ، ← حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، ← جَدِّهِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ الْحَضْرَمِيِّ ← أَبِيهِ ← أَبِي

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 482

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ السِّينِ ‹ مَنِ اسْمُهُ سَلَمَةُ · حديث 483

483 - حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ حَمْزَةَ الْمُقْرِئُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَأَنَّهَا ثَغَامَةٌ , فَقَالَ: «غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَاجْتَنِبُوا الْسَّوَادَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَجْلَحِ إِلَّا شَرِيكٌ تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ میں تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں حضرت ابو قحافہ کو پیش کیا گیا ، ان کا سر اور داڑھی گل بابونہ کی مانند بالکل سفید تھے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : بڑھاپے کو تبدیل کر دو لیکن سیاہی سے بچو۔ اس حدیث کو اجلح سے صرف شریک نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابوبکر بن ابی شیبہ منفرد ہیں ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الأَجْلَحِ، ← شَرِيکٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← سَلَمَةُ بْنُ حَمْزَةَ الْمُقْرِئُ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 483

chevron_left Previous
1…979899100
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter