Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْبَاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ بِشْرٌ · حديث 299

299 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى بْنِ شَيْخِ بْنِ عَمِيرَةَ الْأَسَدِيُّ أَبُو عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ صُقَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَكُونُ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَالْجِهَادِ حَتَّى ذَكَرَ سِهَامَ الْخَيْرِ , وَمَا يُجْزَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا بِقَدْرِ عَقْلِهِ» ، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا ابْنُ أَعْيَنَ تَفَرَّدَ بِهِ مَنْصُورُ بْنُ صُقَيْرٍ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک آدمی نمازی ہوتا ہے زکوٰۃ ادا کرنے والا ، حج اور عمرہ کرنے والا، جہاد کرنے والا ہوتا ہے ، اس کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اور بھی نیکی کے کئی کام شمار کروائے ، لیکن قیامت کے دن اس کو اس کی عقل کے مطابق ثواب دیا جائے گا ۔ ( کیونکہ ثواب نیت کے بغیر نہیں ملتا اور نیت کے لئے عقل چاہیئے ) ۔ اس حدیث کو " عبید اللہ بن عمر " سے صرف " ابن اعین " نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں " منصور بن صقیر " منفرد ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← مَنْصُورُ بْنُ صُقَيْرٍ ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى بْنِ شَيْخِ بْنِ عَمِيرَةَ الْأَسَدِيُّ أَبُو عَلِيٍّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 299

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْبَاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ بِشْرٌ · حديث 300

300 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْغَزِّيُّ، بِغَزَّةَ , حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ سَيَّارٍ، عَنْ عَزَّةَ بِنْتِ عِيَاضٍ، عَنْ جَدِّهَا أَبِي قِرْصَافَةَ جَنْدَرَةَ بْنِ خَيْشَنَةَ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا وَحَفِظَهَا , فَرُبَّ حَامِلِ عِلْمٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَعْلَمُ مِنْهُ ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ الْقَلْبُ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ , وَمُنَاصَحَةُ الْوُلَاةِ , وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ " لَا يُرْوَى عَنْ أَبِي قِرْصَافَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: وَبَلَغَنِي أَنَّ ابْنًا لِأَبِي قِرْصَافَةَ أَسَرَتْهُ الرُّومُ , فَكَانَ أَبُو قِرْصَافَةَ يُنَادِيهُ مِنْ سُورِ عَسْقَلَانَ فِي وَقْتِ كُلِّ صَلَاةٍ: يَا فُلَانُ الصَّلَاةَ , يَا فُلَانُ الصَّلَاةَ , فَيَسْمَعُهُ , فَيُجِيبُهُ , وَبَيْنَهُمَا عَرْضُ الْبَحْرِ

ابو قر صافہ جندرہ بن خیثنہ لیثی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ خوش و خرم رکھے اس شخص کو جس نے میری گفتگو کو سنا ، اور یاد رکھا اور ( من وعن ) آگے پہنچا دیا، کیونکہ بسا اوقات جس تک علم پہنچایا جائے وہ پہنچانے والے زیادہ سمجھدار ہوتا ہے ۔ تین چیزیں ایسی جن پر دل دھوکہ نہیں کھاتا ۔ ٭ اللہ کی رضا کے لئے خالص عمل۔ ٭ حکومتی ذمہ داروں کو نصیحت کرنا۔ ٭ ہمیشہ جماعت کے ساتھ رہنا ۔ اس حدیث کو ابو قر صافہ سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ روایت کیا گیا ابو القاسم کہتے ہیں : مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ ابو قرصافہ کے ایک بیٹے کو رومیوں نے قید کر لیا تھا ، ابو قر صافہ عسقلان کی دیوار سے ہر نماز کے وقت اعلان کیا کرتے تھے " اے فلاں نماز کا وقت ہو گیا ہے ، اے فلاں نماز کا وقت ہو گیا ہے ، وہ اس آواز کو سنتے بھی تھے اور جواب بھی دیتے ہیں ، حالانکہ ان کے درمیان ایک دریا حائل تھا۔

جَدِّهَا أَبِي قِرْصَافَةَ جَنْدَرَةَ بْنِ خَيْشَنَةَ اللَّيْثِيِّ ← عَزَّةَ بِنْتِ عِيَاضٍ، ← زِيَادُ بْنُ سَيَّارٍ، ← أَيُّوبُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْهَيْثَمِ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْغَزِّيُّ، بِغَزَّةَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 300

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْبَاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ بِشْرٌ · حديث 301

301 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بِشْرِ الْعَمِّيُّ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَصْرٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي لَأَذْبَحُ الشَّاةَ وَأَنَا أَرْحَمُهَا , فَقَالَ: «وَالشَّاةُ إِنْ رَحِمْتَهَا يَرْحَمُكَ اللَّهُ» ، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَالِكٍ إِلَّا إِسْحَاقُ الطَّبَّاعُ تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَصْرٍ

حض معاویہ بن قرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ( وہ فرماتے ہیں ) میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں بکری ذبح کرتا ہوں لیکن میں اس پر رحم بھی بہت کرتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو بکری پر رحم کرے تھا تو اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرتے گا۔ اس حدیث کو مالک سے صرف " اسحاق الطباع " نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں " عبداللہ بن نصیر " منفرد ہیں ۔

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، ← مالک بن أنس ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَصْرٍ الْأَنْطَاكِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بِشْرِ الْعَمِّيُّ الْأَنْطَاكِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 301

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْبَاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ بِشْرٌ · حديث 302

302 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عَاصِمٍ ابْنُ أَخِي هَنَّادٍ السَّرِيِّ , حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْبَجَلِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَحْرَقَنِي لِسَانِي قَالَ: «فَأَيْنَ أَنْتَ عَنِ الِاسْتِغْفَارِ , إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلِ إِلَّا الْمُحَارِبِيُّ تَفَرَّدَ بِهِ هَنَّادٌ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری زبان نے مجھے جلا دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تو تم استغفار کیوں نہیں کرتے ؟ امیں اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں اور ایک دن میں سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں۔ اس حدیث کو مالک بن مغول سے صرف محاربی نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ہناد منفرد ہیں ۔

قُلْتُ ← حُذَيْفَةَ ← عُبَيْدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْبَجَلِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ. ← هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ← بِشْرُ بْنُ عَاصِمٍ ابْنُ أَخِي هَنَّادٍ السَّرِيِّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 302

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْبَاءِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ بِشْرَانُ · حديث 303

303 - حَدَّثَنَا بِشْرَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْمَوْصِلِيُّ، حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا يَخَافُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ» ، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ إِلَّا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ تَفَرَّدَ بِهِ غَسَّانُ , وَلَمْ نَكْتُبْهُ إِلَّا عَنْ بِشْرَانَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص امام سے پہلے اپنا سر اٹھاتا ہے وہ اس بات سے ڈرتا کیوں نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا چہرہ گدھے جیسا کر دے ۔ اس حدیث کو حسن بن ابی جعفر سے صرف ثابت بن یزید نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں غسان منفرد ہیں اور ہم نے یہ حدیث فقط بشران سے لکھی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ← ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ ← غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، ← بُشْرَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْمَوْصِلِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 303

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْبَاءِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ بَكْرٌ · حديث 304

304 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ أَبُو مُحَمَّدٍ الدِّمْيَاطِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَلَاءَ , وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لِصَاحِبِهِ مِنْ جَزِيلِ الثَّوَابِ إِذَا هُوَ صَبَرَ , وَذَكَرَ الْعَافِيَةَ , وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِصَاحِبِهَا مِنْ جَزِيلِ الثَّوَابِ إِذَا هُوَ شَكَرَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَئِنْ أُعَافَى فَأَشْكُرُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُبْتَلَى فَأَصْبِرُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «وَرَسُولُ اللَّهِ يُحِبُّ مَعَكَ الْعَافِيَةَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ شُعْبَةَ إِلَّا إِبْرَاهِيمُ تَفَرَّدَ بِهِ بَكْرٌ

حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آزمائشوں کا ذکر کیا اور آزمائش میں مبتلا شخص اگر صبر کرے تو اس کیلئے عظیم ثواب کا ذکر کیا ، پھر عافیت کا ذکر فرمایا ، اور اگر عافیت والا شخص شکر کرے تو اس پر عظیم ثواب کر ذکر بھی کیا۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے عافیت ملے اور میں اس پر شکر کروں ، یہ مجھے اس بات سے زیادہ عزیز ہے کہ مجھ پر آزمائش آئے اور میں صبر کروں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اور اللہ کا رسول بھی یہی چاہتا ہے کہ آپ کے ساتھ عافیت ہی رہے ۔ اس حدیث کو شعبہ سے صرف ابراہیم نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں " بکر " منفرد ہیں ۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← إبراهيم بن البراء بن النضر بن أنس بن مالك، ← بَكْرُ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ أَبُو مُحَمَّدٍ الدِّمْيَاطِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 304

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْبَاءِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ بَكْرٌ · حديث 305

305 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُفَضَّلٍ الْبَصْرِيُّ الْحَافِظُ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَوْذَةَ بْنِ خَلِيفَةَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا عَمِّي عُمَرُ بْنُ خَلِيفَةَ , عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ، فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ نَوَازِعِ الطَّيْرِ إِلَى أَوْطَانِهَا» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ إِلَّا عَمْرٌو، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ هَوْذَةَ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قرآن کریم کو اکثر پڑھتے رہا کرو کیونکہ پرندے ( جال سے نکل کر ) اپنے گھونسلوں کی جانب اتنی تیزی سے نہیں جاتے جتنی تیزی سے قرآن ( سینوں سے چلا جاتا ہے ۔ ) اس حدیث کو ابن عون سے صرف " عمرو " نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں " ابن ہوذہ " منفرد ہیں ۔

ابْنِ عَوْنٍ إِلَّا عَمْرٌو، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ هَوْذَةَ ← «تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ، فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ نَوَازِعِ الطَّيْرِ إِلَى أَوْطَانِهَا» لَمْ يَرْوِهِ ← النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← عَمِّي عُمَرُ بْنُ خَلِيفَةَ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَوْذَةَ بْنِ خَلِيفَةَ الْبَكْرَاوِيُّ، ← بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُفَضَّلٍ الْبَصْرِيُّ الْحَافِظُ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 305

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْبَاءِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ بَكْرٌ · حديث 306

306 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَزَّازُ أَبُو عُمَرَ الْبَصْرِيُّ الْمُعَدِّلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ حَتَّى يَقُولَ: «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ هِشَامٍ إِلَّا وُهَيْبٌ تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ , وَمَا كَتَبْنَاهُ إِلَّا عَنْ أَبِي عُمَرَ الْقَزَّازِ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد بیٹھا کرتے تھے ، آپ یہ سلام پڑھا کرتے تھے " اللھم انت السلام و منک السلام تبارکت یا ذا الجلال والاکرام " اس حدیث کو ہشام سے صرف " وہیب " نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں " عبداللہ بن معاویہ " منفرد ہیں ۔ اور ہم نے یہ حدیث صرف " ابو عمر القزاز " سے ان کی اصل کتاب سے لکھی ہے ۔

أَبِي عُمَرَ الْقَزَّازِ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ ← هِشَامٍ إِلَّا وُهَيْبٌ تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ وَمَا كَتَبْنَاهُ إِلَّا ← «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» لَمْ يَرْوِهِ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ حَتَّى ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَزَّازُ أَبُو عُمَرَ الْبَصْرِيُّ الْمُعَدِّلُ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 306

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْبَاءِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ بَكْرٌ · حديث 307

307 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدَوَيْهِ الطَّاحِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ أَخِيهِ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: كَتَبَ إِلَى بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ: «مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا» , فَمَا قَرَأَهُ إِلَّا رَجُلٌ مِنْ بَنِي ضُبَيْعَةَ , فَهُمْ يُسَمَّوْنَ بَنِي الْكَاتِبِ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قَتَادَةَ إِلَّا خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بکر بن وائل کی جانب یہ خط لکھا : محمد رسول اللہ کی جانب سے بکر بن وائل کی طرف ، تم اسلام قبول کر لو، سلامت رہو گے " اس کو ضبیعہ کے ایک آدمی نے پڑحا تھا ، ان لوگوں کو بنی الکاتب کہا جاتا ہے ۔ اس حدیث کو قتادہ سے صرف خالد بن قیس نے روایت کیا ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← أَخِيهِ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ، ← نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدَوَيْهِ الطَّاحِيُّ الْبَصْرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 307

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْبَاءِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ بُهْلُولٌ · حديث 308

308 - حَدَّثَنَا بُهْلُولُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُدْعَانِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ , بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا الْجُدْعَانِيُّ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دعا مانگی " اے اللہ میری امت کو صبح میں برکت عطا فرما" اس حدیث کو عبید اللہ بن عمر سے صرف " جدعانی " نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں " ابن ابی اویس " منفرد ہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَدْعَانِيُّ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← بُهْلُولُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ الْأَنْبَارِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 308

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْبَاءِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ بُجَيْرٌ · حديث 309

309 - حَدَّثَنَا بُجَيْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ الْمُحَارِبِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ، عَنْ فِرَاسِ بْنِ يَحْيَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى أَنْ يَذْبَحَ الرَّجُلُ أُضْحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ إِلَّا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُهُ يَحْيَى

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عید پڑھنے سے پہلے قربانی کرنے سے منع ، فرمایا ہے ۔ اس حدیث کو غیلان بن جامع سے صرف " یعلیٰ بن الحارث " نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ان کے صاحبزادے "یحیٰ " منفرد ہیں ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← فِرَاسِ بْنِ يَحْيَى، ← غَيْلاَنَ بْنَ جَامِعٍ ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ، ← بُجَيْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ الْمُحَارِبِيُّ الْكُوفِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 309

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْبَاءِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ بَانُوبَةُ · حديث 310

310 - حَدَّثَنَا بَانُوبَةُ بْنُ خَالِدِ بْنِ بَانُوبَةَ الْأَيْلِيُّ (الْأُبُلِّيُّ) ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الضَّالُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقَصَرْتَ الصَّلَاةَ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ: «بَلْ نَسِيتُ» , فَقَامَ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ , ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ سَلَّمَ، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ إِلَّا عُمَرُ بْنُ يَحْيَى , وَإِنَّمَا سُمَيَّ مُعَاوِيَةَ الضَّالَّ؛ لِأَنَّهُ ضَلَّ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ عَنِ الطَّرِيقِ فَفُقِدَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں دوپہر کی دو نمازوں ظہر یا عصر میں سے ایک پڑھائی اور دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا ایک ذوالیدین نامی شخص نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: نما زچھوٹی ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ( نماز چھوٹی نہیں ہوئی بلکہ میں بھول گیا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر کھڑے ہو کر مزید دو رکعتیں پڑھائیں ، آخر ( سہو کے ) دو سجدے کئے ، اس کے بعد سلام پھیر دیا۔ اس حدیث کو معاویہ بن عبدالکریم سے صرف " عمر بن یحییٰ نے روایت کیا ہے اور معاویہ کا نام ضال بھی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مکہ جاتے ہوئے راستے میں گم ہو گئے تھے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الضَّالُّ، ← بَانُوبَةُ بْنُ خَالِدِ بْنِ بَانُوبَةَ الْأَيْلِيُّ (الْأُبُلِّيُّ)

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 310

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter