المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ التَّاءِ ‹ بَابُ التَّاءِ · حديث 314
314 - حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَارِسِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَسَوِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْمَدِينِيُّ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: فَقَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا كَانَ يُجَالِسُهُ فَقَالَ: «مَالِي فَقَدْتُ فُلَانًا؟» قَالُوا: اغْتَبَطَ , وَكَانُوا يُسَمُّونَ الْوَعْكَ الِاغْتِبَاطَ , فَقَالَ: «قُومُوا حَتَّى نَعُودُهُ» , فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ بَكَى الْغُلَامُ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَبْكِ؛ فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَخْبَرَنِي أَنَّ الْحُمَّى حَظُّ أُمَّتِي مِنْ جَهَنَّمَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ , وَلَا عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ إِلَّا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ تَفَرَّدَ بِهِ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو مفقود پایا ، وہ اکثر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھا کرتا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے ؟ فلاں شخص نظر نہیں آ رہا ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بتایا کہ وہ بیمار ہو گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : چلو اس کی عیادت کو چلیں ، جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس پہنچے تو وہ لڑکا رو پڑا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تم مت رؤو ، کیونکہ جبرائیل امین علیہ السلام نے بتایا ہے کہ بخار امت کا جہنم کا حصہ ہے ۔ اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے صرف محمد بن عجلان نے روایت کیا ہے اور ابن عجلان سے صرف عمر بن راشد نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں یعقوب بن سفیان منفرد ہیں ۔
هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ وَلَا ← أَنَّ الْحُمَّى حَظُّ أُمَّتِي مِنْ جَهَنَّمَ» لَمْ يَرْوِهِ ← لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَبْكِ؛ فَإِنَّ جِبْرِيلَ ← قُومُوا حَتَّى نَعُودَهُ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ بَكَى الْغُلَامُ ← اغْتَبَطَ وَكَانُوا يُسَمُّونَ الْوَعْكَ الِاغْتِبَاطَ ← «مَالِي فَقَدْتُ فُلَانًا؟» ← فَقَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا كَانَ يُجَالِسُهُ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← عمر بن راشد المديني مولى عبد الرحمن بن أبان بن عثمان ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَسَوِيُّ ← تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَارِسِيُّ
Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 314
