المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْحِاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ حَفْصٌ · حديث 425
425 - حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَاحِ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا فَيْضُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِدٍ، عَنْ عَلِيٍّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ فِي الْجَنَّةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ أَبْرَارُهَا أُمَرَاءُ أَبْرَارِهَا , وَفُجَّارُهَا أُمَرَاءُ فُجَّارِهَا , وَلِكُلٍّ حَقٌّ، فَآتُوا كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ , وَإِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ مُجَدَّعٌ , فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا مَا لَمْ يُخَيِّرْ أَحَدَكُمْ بَيْنَ إِسْلَامِهِ وَبَيْنَ ضَرْبِ عُنُقِهِ , فَإِنْ خُيِّرَ بَيْنَ إِسْلَامِهِ وَبَيْنَ ضَرْبِ عُنُقِهِ فَلْيَمْدُدْ عُنُقَهُ ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ , فَلَا دُنْيَا وَلَا آخِرَةَ بَعْدَ ذَهَابِ إِسْلَامِهِ (دِينِهِ) » لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مِسْعَرٍ إِلَّا فَيْضٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ائمہ قریش سے ہی ہونگے ، نیک قریشی نیکوں کے سردار ہونگے اور فاجر قریشی فاجروں کے سردار ہوں گے ، ہر ایک کا حق ہے اور ہر حق والے کو اس کا حق دو، اگر تم پر کسی حبشی کان کٹے غلام کو امیر مقرر کر دیا جائے تو اس کی بھی بات غور سے سنو اور اس وقت تک اس کی اطاعت کرو جب تک تمہیں اسلام اور اس کی گردن مار دینے کے درمیان اختیار نہ دے دیا جائے ۔ اگر اس کے اسلام اور اس کی گردن مارنے کے درمیان تمہیں اختیار دیا جائے ( یعنی وہ کوئی ایسا کام کرے جس کی وجہ سے اس کو قتل کرنا واجب ہو جائے ) تو اس کی گردن کھینچ کر لمبی کر دینا ( یعنی اس کو پھانسی دے دینا ) ا س کی ماں اس کو روئے ، اسلام جانے کے بعد نہ دنیا باقی رہ جاتی ہے اور نہ آخرت ۔ اس حدیث کو مسعر سے صرف فیض نے روایت کیا ہے ۔
عَلِيٍّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ فِي الْجَنَّةِ ← رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِدٍ، ← أبي صادق ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← فَيْضُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ
Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 425
