المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الذَّالِ ‹ مَنِ اسْمُهُ ذَاكِرٌ · حديث 454
454 - حَدَّثَنَا ذَاكِرُ بْنُ شَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ، بِقَرْيَةِ عَجْشَرَ , حَدَّثَنَا أَبُو عِصَامٍ رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ , عَنْ أَبِي الزُّعَيْزَعَةِ، وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا مَا يَقُولُ لِي: «يَا عَائِشَةُ , مَا فَعَلَتْ أَبْيَاتُكِ؟» , فَأَقُولُ: وَأَيُّ أَبْيَاتِي تُرِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؛ فَإِنَّهَا كَثِيرَةٌ؟ فَيَقُولُ: «فِي الشُّكْرِ» , فَأَقُولُ: نَعَمْ بِأَبِي وَأُمِّي قَالَ الشَّاعِرُ: [البحر الكامل] ادْفَعْ ضَعِيفَكَ لَا يَحُرْ بِكَ ضَعْفُهُ ... يَوْمًا فَتُدْرِكَهُ الْعَوَاقِبُ قَدْ نَمَا يُجْزِيكَ أَوْ يُثْنِي عَلَيْكَ وَإِنَّ مَنْ ... أَثْنَى عَلَيْكَ بِمَا فَعَلْتَ كَمَنْ جَزَى إِنَّ الْكَرِيمَ إِذَا أَرَدْتَ وِصَالَهُ ... لَمْ تَلْفَ رَثًّا حَبْلَهُ وَاهِي الْقُوَى قَالَتْ: فَيَقُولُ: " يَا عَائِشَةُ إِذَا حَشَرَ اللَّهُ الْخَلَائِقَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ: لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِهِ اصْطَنَعَ إِلَيْهِ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِهِ مَعْرُوفًا هَلْ شَكَرْتَهُ؟ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ , عَلِمْتُ أَنَّ ذَلِكَ مِنْكَ فَشَكَرْتُكَ عَلَيْهِ , فَيَقُولُ: لَمْ تَشْكُرْنِي إِذَا لَمْ تَشْكُرْ مَنْ أَجْرَيْتُ ذَلِكَ عَلَى يَدَيْهِ" لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَّا رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اکثر مجھ سے فرمایا کرتے تھے : اے عائشہ رضی اللہ عنہا تمہارے ان اشعار کا کیا بنا ؟ میں پوچھتی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کن اشعار کی بات کر رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے : شکر کے بارے۔ میں کہتی جی ہاں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں شاعر نے کہا ہے : ٭ اپنے کمزور کو اس طرح روانہ کر کہ اس کی کمزوری کسی دن تجھے نقصان نہ پہنچا دے ، ورنہ تو انجام کو پالے گا ۔ ٭ وہ تجھے بدلہ دے گا یا تیری تعریفیں کرے گا ۔ اور جو شخص تیرے حسن عمل پر تیری تعریف کر دے ، سمجھو اس نے تجھے بدلہ دے دیا ۔ ٭ کریم شخص سے جب تم ملاقات کا ارادہ کرو گے ، وہ اپنے کمزور دھاگوں والے بوسیدہ کپڑوں کو بھی ضائع نہیں کرتا ۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ رضی اللہ عنہا جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مخلوقات کو جمع کرے گا تو اپنے ایک بندے سے فرمائے گا ، تیرے ساتھ میرے فلاں بندے نے نیکی کی تھی ، تو نے اس کا شکریہ ادا کیا ؟ وہ کہے گا اے میرے رب میں جانتا تھا کہ وہ سب تیری ہی جانگ سے ہے ، اس لئے میں نے تیرا شکر ادا کر دیا تھا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا ، میں نے اپنے جس بندے کے ہاتھوں تیرا کام کروایا ، جب تک تو اس کا شکریہ ادا نہیں کرے گا تب تک تو نے میرا شکر بھی ادا نہیں کیا۔ اس حدیث کو سعید بن عبدالعزیز سے صرف رواد بن الجراح نے روایت کیا ہے ۔
لِي: يَا عَائِشَةَ، مَا فَعَلَتْ أَبْيَاتُكِ؟ فَأَقُولُ: وَأَيُّ أَبْيَاتِي تُرِيدُ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا مَا ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مَكْحُولٌ ← أَبِي الزُّعَيْزَعَةِ، وسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← أَبُو عِصَامٍ رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← ذَاكِرُ بْنُ شَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ، بِقَرْيَةِ عَجْشَرَ
Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 454
