Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ السِّينِ ‹ مَنِ اسْمُهُ سَلَامَةُ · حديث 484

484 - حَدَّثَنَا سَلَامَةُ بْنُ نَاهِضٍ التِّرْيَاقِيُّ الْمَقْدِسِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عُلَيٍّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَعُودُ مَرِيضًا إِلَّا بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ إِلَّا مَسْلَمَةُ تَفَرَّدَ بِهِ هِشَامٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی مریض کی عیادت کے لئے ( مرض شروع ہونے کے ) تین دن کے بعد جایا کرتے تھے ۔ اس حدیث کو ابن جریج سے صرف مسلمہ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ہشام منفرد ہیں ۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مَسْلَمَةُ بْنُ عُلَيٍّ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← سَلَامَةُ بْنُ نَاهِضٍ التِّرْيَاقِيُّ الْمَقْدِسِيُّ،

Hadith 484

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ السِّينِ ‹ مَنِ اسْمُهُ سَلَامَةُ · حديث 485

485 - حَدَّثَنَا سَلَامَةُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ الْجَنْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزْدَادُ الزَّمَانُ إِلَّا شِدَّةً , وَلَا يَزْدَادُ النَّاسُ إِلَّا شُحًّا , وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بَنِ صُهَيْبٍ إِلَّا مُبَارَكُ بْنُ سُحَيْمٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : زمانے میں مسلسل شدت بڑھتی رہے گی ، لوگوں میں بخل بڑھتا رہے گا ، اور قیامت شریر ترین لوگوں پر قائم ہو گی۔ اس حدیث کو عبدالعزیزی بن صہیب سے صرف مبارک بن سحیم نے روایت کیا ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← مُبَارَكُ بْنُ سُحَيْمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئٍ النَّيْسَابُورِيُّ ← سَلَامَةُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ الْجَنْدَرِيُّ،

Hadith 485

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ السِّينِ ‹ مَنِ اسْمُهُ سَلَامَةُ · حديث 486

486 - حَدَّثَنَا سَلَامَةُ بْنُ مَكْحُولٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الرَّبَابِ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ هَارُونَ، أَخُو يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ وَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ أَنْ تَغْتَسِلَ لِكُلِّ صَلَاةٍ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهَا , وَأَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي غُسْلٍ , وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي غُسْلٍ , وَتَغْتَسِلُ لِلصُّبْحِ لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ هَارُونَ إِلَّا أَسْبَاطٌ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي الرَّبَابِ , وَلَا يُحْفَظُ لِلْعَلَاءِ بْنِ هَارُونَ إِلَّا دُونَ عَشَرَةِ أَحَادِيثَ، مَخَارِجُهَا مِنَ الرَّمْلَةِ , وَأَظُنُّهُ كَانَ وَقَعَ إِلَى الرَّمْلَةِ مِنَ الْعِرَاقِ؛ لِأَنَّا لَا نَحْفَظُ عَنِ الْوَاسِطِيِّينَ عَنْهُ شَيْئًا , وَهُوَ ثِقَةٌ

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت سہلہ بنت سہیل ( جو کہ مستحاضہ تھیں ) کو حکم دیا کہ ہر نماز کے لئے نیا غسل کیا کرو، ان کو اس پر عمل کرنے میں بہت دقت پیش آئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ظہر اور عصر کی نماز ایک غسل کے ساتھ پڑھ لیا کرو اور مغرب اور عشاء کی نماز ایک غسل کے ساتھ پڑھ لیا کرو، اور فجر کے لئے غسل کر لیا کرو۔ اس حدیث کو علاء بن ہارون سے صرف اسباط نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابن ابی الرباب منفرد ہیں اور ملاء بن ہارون کی دس سے کم روایات محفوظ ہیں ۔ وہ بھی رملہ سے حاصل کی ہوئی ہیں ۔ میرا یہ گمان ہے کہ وہ عراق سے رملہ میں منتقل ہو گئے تھے ، کیونکہ ہمارے پاس واسطیین کے حوالے سے ان کی کوئی روایت موجود نہیں ہے ، حالانکہ وہ ثقہ ہیں ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← الْعَلَاءُ بْنُ هَارُونَ، أَخُو يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ ← أَسْبَاطُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الرَّمْلِيُّ، ← إِدْرِيسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الرَّبَابِ الرَّمْلِيُّ، ← سَلَامَةُ بْنُ مَكْحُولٍ الرَّمْلِيُّ،

Hadith 486

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ السِّينِ ‹ مَنِ اسْمُهُ سُلَيْمَانُ · حديث 487

487 - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ حَذْلَمِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا حُرَيْثُ بْنُ أَبِي مَطَرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، ح وَعَنْ حُرَيْثٍ، عَنِ الْحَكَمِ، وَحَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " بَاشَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ حُرَيْثٍ , عَنِ الْحَكَمِ وَحَمَّادٍ إِلَّا سَعْدَانُ بْنُ يَحْيَى تَفَرَّدَ بِهِ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزے کی حالت میں میرے ساتھ مباشرت فرمائی ( یعنی جسم کے ساتھ جسم لگا کر لیٹے ) اس حدیث کو حریث کے واسطے سے حکم اور حماد سے صرف سعد ان بن یحییٰ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں سلیمان بن عبدالرحمن منفرد ہیں ۔

الْحَكَمِ، وَحَمَّادٍ، إِلَّا سَعْدَانُ بْنُ يَحْيَى، تَفَرَّدَ بِهِ: سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ» ← حُرَيْثٍ ← بَاشَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ لَمْ يَرْوِهِ ← عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْحَکَمِ وَحَمَّادٌ ← وَعَنْ حُرَيْثٍ ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← حُرَيْثِ بْنِ أَبِي مَطَرٍ، ← سَعْدَانُ بْنُ يَحْيَی ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ حَذْلَمٍ الدِّمَشْقِيُّ

Hadith 487

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ السِّينِ ‹ مَنِ اسْمُهُ سُلَيْمَانُ · حديث 488

488 - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُعَافَى بْنِ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا خَطَّابُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَهُمَا صَائِمَتَانِ , ثُمَّ خَرَجَ وَرَجَعَ وَهُمَا يَأْكُلَانِ فَقَالَ: «أَلَمْ تَكُونَا صَائِمَتَيْنِ؟» قَالَتَا: بَلَى , وَلَكِنْ أُهْدِيَ لَنَا هَذَا الطَّعَامُ , فَأَعْجَبَنَا , فَأَكَلْنَا مِنْهُ , فَقَالَ: «صُومَا يَوْمًا مَكَانَهُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ خُصَيْفٍ إِلَّا خَطَّابُ بْنُ الْقَاسِمِ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے ، یہ دونوں روزے سے تھیں ، پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پس سے واپس تشریف لے گئے ، جب لوٹ کر دوبارہ ان کے پاس آئے تو دونوں کھانا کھا رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تم دونوں کا روزہ نہیں تھا ؟ انہوں نے کہا :جی ہاں ۔ لیکن ہمیں یہ کھانا تحفہ دیا گیا ، یہ ہمیں بہت اچھا لگا تو ہم نے کھا لیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اب ( اس کے قضاء کے طور پر ) تم ایک ایک روزہ رکھو۔ اس حدیث کو خصیف سے صرف خطاب بن القاسم نے روایت کیا ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← خُصَيْفٍ ← خَطَّابُ بْنُ الْقَاسِمِ ← أَبِي ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُعَافَى بْنِ سُلَيْمَانَ

Hadith 488

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ السِّينِ ‹ مَنِ اسْمُهُ سُلَيْمَانُ · حديث 489

489 - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مِنْهَالِ ابْنُ أَخِي حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ , حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ فِي هَيْئَةِ أَعْرَابِيٍّ , فَقَالَ لَهُ: «مَا لَكَ مِنَ الْمَالِ؟» , فَقَالَ: مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: «فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَنْعَمَ عَلَى الْعَبْدِ نِعْمَةً أَحَبَّ أَنْ تُرَى عَلَيْهِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْمَشْهُورُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ وَاسْمُ أَبِي الْأَحْوَصِ: عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْجُشَمِيُّ مِنْ جُشَمِ سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ

ابو الاحوص اپنے والد کے بارے میں مروی ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو دیکھا ، کسی دیہاتی کی طرح ان کے بال اور کپڑے غبار سے اٹے پڑے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو فرمایا : کیا تیرے پاس کوئی مال نہیں ہے ؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کا مال عطا فرمایا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو نعمت عطا فرماتا ہے تو اس کو اپنے بندے پر دیکھنا بھی چاہتا ہے ۔ اس حدیث کو عبدالملک بن عمیر سے صرف حماد بن سلمہ نے روایت کیا ہے جبکہ یہ حدیث ابواسحاق سبیعی کی سند کے ہمراہ مشہور ہے ۔ ابو الاحوص کا نام عوف بن مالک الجشمی ہے ۔ کیونکہ ان کا تعلق سعد بن بکر قبیلے کی شاخ جشم سے ہے ۔

أَبِيهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مِنْهَالِ ابْنُ أَخِي حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ

Hadith 489

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ السِّينِ ‹ مَنِ اسْمُهُ سُلَيْمَانُ · حديث 490

490 - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ يَحْيَى الطَّبِيبُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ الْأُبُلِّيُّ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «سُورَةٌ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هِيَ إِلَّا ثَلَاثُونَ آيَةً خَاصَمَتْ عَنْ صَاحِبِهَا حَتَّى أَدْخَلَتْهُ الْجَنَّةَ , وَهِيَ سُورَةُ تَبَارَكَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ إِلَّا سَلَّامٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قرآن کریم کی ایک سورت ہے جس کی صرف تیس آیات ہیں ، وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کے حق میں اس قدر جھگڑے کہ بالا آخر اس کو جنت میں لے جائے گی ۔ وہ ہے سورۃ الملک ۔ اس حدیث کو ثابت البنانی سے صرف سلام نے روایت کیا ہے ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ الْأُبُلِّيُّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ يَحْيَى الطَّبِيبُ الْبَصْرِيُّ

Hadith 490

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ السِّينِ ‹ مَنِ اسْمُهُ سُلَيْمَانُ · حديث 491

491 - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ فراخى أَبُو الرَّبِيعِ الْفَرْغَانِيُّ بِمِصْرَ وَكَانَ ضَرِيرًا , أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الثَّوْرِيِّ إِلَّا بَكْرُ بْنُ بَكَّارٍ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کو قاضی بنا دیا گیا ، ا کو کھنڈی چھری کے ساتھ ذبح کر دیا گیا ۔ اس حدیث کو ثوری سے صرف بکر بن بکار نے روایت کیا ہے ۔

الثَّوْرِيِّ إِلَّا بَكْرُ بْنُ بَكَّارٍ ← «مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ» لَمْ يَرْوِهِ ← رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← بكر بن بكار ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← سُلَيْمَانُ بْنُ فراخى أَبُو الرَّبِيعِ الْفَرْغَانِيُّ بِمِصْرَ وَكَانَ ضَرِيرًا

Hadith 491

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ السِّينِ ‹ مَنِ اسْمُهُ سَلْمٌ · حديث 492

492 - حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ عِصَامٍ أَبُو أُمَيَّةَ الثَّقَفِيُّ، بأَصْبَهَانَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصِ بْنِ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، فَأَقُولُ: أَبْقِ لِي أَبْقِ لِي " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يُونُسَ إِلَّا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ

ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ، میں اور سول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے ( پانی سے ) غسل کر لیا کرتے تھے ۔ میں کہا کرتی تھی ، میرے لئے بھی بچائیں میرے لئے بھی بچائیں۔ اس حدیث کو یونس سے صرف سالم بن نوح العطار نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں محمد بن عبداللہ بن حفص منفرد ہیں ۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← أُمِّهِ2، ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصِ بْنِ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ← سَلْمُ بْنُ عِصَامٍ أَبُو أُمَيَّةَ الثَّقَفِيُّ،

Hadith 492

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ السِّينِ ‹ مَنِ اسْمُهُ سَيْفٌ · حديث 493

493 - حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ أَبُو التَّمَامِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ شُعْبَةَ إِلَّا بَقِيَّةُ، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر وہ شرط جو کتاب اللہ میں نہ ہو وہ باطل ہے اگرچہ 100 شرطیں ہوں ۔ اس حدیث کو شعبہ سے صرف بقیہ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابن ابی السری منفرد ہیں ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← شُعْبَةُ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ← سَيْفُ بْنُ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ أَبُو التَّمَامِ،

Hadith 493

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ السِّينِ ‹ مَنِ اسْمُهُ السَّرِيُّ · حديث 494

494 - حَدَّثَنَا السَّرِيُّ بْنُ سَهْلٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُجَّاعَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اسْتَحْيُوا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا لَنَسْتَحْيِي وَالْحَمْدُ لِلَّهِ , فَقَالَ: «مَنِ اسْتَحْيَا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ فَلْيَحْفَظِ الرَّأْسَ وَمَا حَوَى , وَالْبَطْنَ وَمَا وَعَى , وَلْيَذْكُرِ الْمَوْتَ وَالْبَلَاءَ , وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ تَرَكَ زِينَةَ الدُّنْيَا , فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدِ اسْتَحْيَا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قَتَادَةَ إِلَّا مُجَّاعَةُ تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رُشَيْدٍ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ؛ اللہ تعالیٰ سے اس طرح حیاء کرو جیسے اس سے حیاء کرنے کا حق ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کا شکر ہے ہم حیاء کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جو اللہ تعالیٰ سے حیاء کرتا ہے وہ اپنے سر کی حفاظت کرے اور جو کچھ اس میں خیالات آتے ہیں ان کی بھ حفاظت کرے ۔ اور پیٹ کی حفاظت کرے اور جو کچھ س میں ہے اس کی بھی حفاظت کرے ۔ اور موت اور آزمائش کو یاد کرتے رہنا چاہیے ،اور جس نے آخرت کو چاہا ، اس نے دنیا کی زینت کو ترک کر دیا، جس نے یہ کیا ا س نے اللہ تعالیٰ سے حیاء کیا جیسے اس سے حیاء کرنے کا حق ہے ۔ اس حدیث کو قتادہ سے صرف مجاعہ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں عبداللہ بن رشید منفرد ہیں ۔

أَبِيهِ ← أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ← قَتَادَةَ ← مُجَّاعَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رُشَيْدٍ ← السَّرِيُّ بْنُ سَهْلٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ

Hadith 494

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الشِّينِ ‹ مَنِ اسْمُهُ شُعَيْبٌ · حديث 495

495 - حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ عِمْرَانَ الْعَسْكَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَسْكَرِيُّ الْوَكِيلُ الْقَدِيمُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ السُّلَمِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " يُقَالُ لِلْكَافِرِ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي , فَهُوَ تِلْكَ السَّاعَةُ أَصَمُّ أَعْمَى أَبْكَمُ، فَيُضْرَبُ بِمِرْزَبَةٍ , لَوْ ضُرِبَ بِهَا جَبَلٌ صَارَ تُرَابًا , فَيَسْمَعُهَا كُلُُّ شَيءٍ غَيْرُ الثَّقَلَيْنِ " قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ: {يُثَبِّتُ اللَّهَ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ} [إبراهيم: 27] لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعْدٍ إِلَّا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کافر سے کہا جئے گا : تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہے گا : میں نہیں جانتا ، وہ اسی لمحے اندھا ، بہرہ اور گونگا ہو جائے گا۔ پھر اس کو ایسے ہتھوڑے سے مارا جائے گا کہ اگر اس ہتھوڑے سے پہار پر مارا جائے تو پہاڑ مٹی بن جائے ۔ انسانوں کو سوا باقی ہر مخلوقو اس کی آواز کو سنتی ہے ۔ آپ فرماتے ہیں : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت پڑھیں : ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ ٢٧﴾ [إبراهيم: 27]" اللہ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے اور اللہ جو چاہے کرے " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان امام احمد رضا ) اس حدیث کو اعمش کے واسطے سے سعد سے صرف یحییٰ بن زکریا نے روایت کیا ہے ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ السُّلَمِيِّ، ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَسْكَرِيُّ الْوَكِيلُ الْقَدِيمُ، ← شُعَيْبُ بْنُ عِمْرَانَ الْعَسْكَرِيُّ

Hadith 495

chevron_left Previous
1234…100
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter