المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْحِاءِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ حَاتِمٌ · حديث 426
426 - حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ حُمَيْدٍ أَبُو عَدِيٍّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ الْيَرْبُوعِيُّ، حَدَّثَنَا سُعَيْرُ بْنُ الْخِمْسِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقِطْعَةٍ مِنْ ذَهَبٍ كَانَتْ أَوَّلَ صَدَقَةٍ جَاءَتْهُ مِنْ مَعْدَنٍ , فَقَالَ: «مَا هَذِهِ؟» قَالُوا: صَدَقَةٌ مِنْ مَعْدَنٍ لَنَا , فَقَالَ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ مَعَادِنَ , وَسَيَكُونُ فِيهَا شَرُّ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُعَيْرٍ إِلَّا عَاصِمٌ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سونے کا ایک ٹکڑا لایا گیا، یہ معدن سے آنے والا سب سے پہلا صدقہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بتایا کہ ہماری معدن کا یہ صدقہ ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا : عنقریب بہت خزانے دریافت ہونگے اور ان میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا سب سے بڑا شر بھی ہوگا۔ اس حدیث کو سعیر سے صرف عاصم نے روایت کیا ہے ۔
ابْنِ عُمَرَ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُعَيْرُ بْنُ الْخِمْسِ، ← عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ الْيَرْبُوعِيُّ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ← حَاتِمُ بْنُ حُمَيْدٍ أَبُو عَدِيٍّ الْبَغْدَادِيُّ،
Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 426
