Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 115

115 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً قَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللهِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ، لَا تَغُلُّوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تُمَثِّلُوا وَلَا تَقْتُلُوا الْوِلْدَانَ» لَا يُرْوَى عَنْ جَرِيرٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ

احمد بن ابراہیم بن ملحان البغدادی سے مروی حدیث : حضرت جریر بن عبداللہ الجبکی فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کوئی جنگی مہم روانہ فرماتے تو ’’ بسم اللہ و با اللہ ا فی سبیل اللہ و علی ملۃ رسول اللہ ‘‘ پڑھ کر مجاہدین کو یہ تاکید فرماتے ملاوٹ نہ کرنا ، غداری نہ کرنا ، مثلہ نہ کرنا ، (مقتولین کی شکلیں نہ بگاڑنا) ، بچوں کو قتل نہ کرنا۔یہ حدیث ’’جریر ‘‘سے اسی اسناد کے ہمراہ مروی ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’ابن لہیعہ‘‘ منفرد ہیں۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 115

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 116

116 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ يُوسُفَ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الْأَعْرَجِ ع‍َنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَحْيَى إِلَّا يَزِيدُ تَفَرَّدَ بِهِ مَنْصُورٌ

احمد بن محمد بن ابی صعصہ البغدادی سے مروی حدیث : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی (نفلی )نماز نہیں پڑھی جائے گی اور عصر کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نماز جائز نہیں ہے۔اس حدیث کو ’’یحییٰ ‘‘سے صرف ’’یزید ‘‘نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’منصور ‘‘منفرد ہیں۔

الْأَعْرَجِ ع‍َنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← يَزِيدُ بْنُ يُوسُفَ الصَّنْعَانِيُّ، ← مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 116

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 117

117 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ مُوسَى الْجَوْهَرِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «قَرَأَ بِهِمْ فِي الْمَغْرِبِ بِ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ إِلَّا أَبُو مُعَاوِيَةَ، تَفَرَّدَ بِهِ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ

احمد بن منصور بن موسی ٰالجوہری البغدادی سے مروی حدیث :حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مغرب میں ’’سورۃ بینہ ‘‘تلاوت فرمائی ۔اس حدیث کو عبیداللہ صرف ابو معاویہ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں حسین بن حریث منفرد ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ مُوسَى الْجَوْهَرِيُّ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 117

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 118

118 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْجَعْدِ الْوَشَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ الْقُرَشِيُّ، عَنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِرِجَالِكُمْ فِي الْجَنَّةِ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: «النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ , وَالصِّدِّيقُ فِي الْجَنَّةِ , وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ , وَالْمَوْلُودُ فِي الْجَنَّةِ , وَالرَّجُلُ يَزُورُ أَخَاهُ فِي نَاحِيَةِ الْمِصْرِ لَا يَزُورُهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ» قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِنِسَائِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: " كُلُّ وَلُودٌ وَدُودٌ، إِذَا غَضِبَتْ أَوْ أُسِيءَ إِلَيْهَا أَوْ غَضِبَ - أَيْ: زَوْجُهَا - قَالَتْ: هَذِهِ يَدِي فِي يَدِكَ لَا أَكْتَحِلُ بِغُمْضٍ حَتَّى تَرْضَى " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلَمَةَ بْنِ دِينَارٍ الزَّاهِدِ إِلَّا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ بَكَّارٍ وَهُوَ مِمَّنْ يُكْنَى أَبَا حَازِمٍ مِمَّنْ رَوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَبُو حَازِمٍ هَذَا وَقَدْ رَوَى عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَأَبُو حَازِمٍ التَّمَّارُ الْمَدَنِيُّ , وَأَبُو حَازِمٍ الْأَشْجَعِيُّ الْكُوفِيُّ يَرْوِي عَنْهُ مَنْصُورٌ , وَالْأَعْمَشُ يُسَمَّى مَيْسَرَةَ , وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي اسْمِهِ وَأَبُو حَازِمٍ الَّذِي رَوَى عَنْهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ اسْمُهُ نَبْتَلُ وَهُوَ كُوفِيُّ

احمد بن الجعد الوشاء البغدادی سے مروی حدیث : حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں جنت لوگوں کی خبر نہ دو ں؟صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی ، کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبی جنتی ہے۔ صدیق جنتی ہے ۔ شہید جنتی ہے ۔۔نومولود بچہ جنتی ہے۔ وہ آدمی جو شہر کے دور کے محلے میں اپنے موجود بھائی سے محض اللہ کی رضا کے لئے ملنے گیا ،وہ بھی جنتی ہے ۔پھر فرمایا : کیا میں تمہیں جنتی عورتوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی : کیوں نہیں یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر وہ عورت جو بچے جننے والی ہو اور بہت محبت کرنے والے ہو، جب اس کا شوہر اس پر ناراض ہو تو وہ کہے : میرا یہ ہاتھ تیرے ہاتھ میں ہے ، جب تک مجھ سے راضی نہیں ہوگا مجھے ایک لمحے کے لئے بھی نیند نہیں آئے گی ۔اس حدیث کو ’’ابوحازم سلمہ بن دینار الزاہد ‘‘سے صرف ’’ابراہیم بن زیاد ‘‘نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’ابن بکار ‘‘منفرد ہیں ۔یہ ان میں سے ہیں،جن کی کنیت ابوہازم ہے ، جو کہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ ابوحازیہی ہیں۔ انہوں نے ’’سہل بن سعد ‘‘ سے بھی یہی روایت کی ہے ۔ایک ’’ابو حازم التمار مدنی ‘‘ہیں۔ ایک ’’ابو حازم الاشجعی الکوفی ‘‘ ہیں۔ان سے منصور روایت کرتے ہیں اور اعمش کا نام ’’میسرہ ‘‘ہے۔آپ کے نام میں بھی اختلاف ہے اور وہ ابوحازم جن سے ’’اسماعیل بن ابی خالد ‘‘روایت کرتے ہیں ان کا نام ’’نبتل‘‘ہے وہ کوفی ہیں۔

بَلٰی ← «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِرِجَالِكُمْ فِي الْجَنَّةِ؟» ← النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي حَازِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ الْقُرَشِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْجَعْدِ الْوَشَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 118

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 119

119 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ السَّوَّاقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ: «اهْجُ الْمُشْرِكِينَ , وَجِبْرِيلُ مَعَكَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عِمْرَانَ إِلَّا سُفْيَانُ , وَلَا عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا الرَّقِّيُّ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ نُعَيْمٍ

احمد بن الحسن بن عبد الجبارالصوفی البغدادی سے مروی حدیث : حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا : مشرکین کی مذمت بیان کرو اور جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔ اس حدیث کو ’’عمران ‘‘نے صرف ’’سفیان ‘‘نے روایت کیا ہے اور ’’سفیان ‘‘سے صرف رقی میں روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابن نعیم منفرد ہیں۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ السَّوَّاقُ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 119

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 120

120 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا سُرَيْحُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ثِيَابُنَا فِي الْجَنَّةِ نَنْسُجُهَا بِأَيْدِينَا؟ فَضَحِكَ الْقَوْمُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِمَّ تَضْحَكُونَ؟ مِنْ جَاهِلٍ يَسْأَلُ عَالِمًا؟ لَا يَا أَعْرَابِيُّ , وَلَكِنَّهَا تَشَقَّقُ عَنْهَا ثِمَارُ الْجَنَّةِ» ، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُجَالِدٍ إِلَّا ابْنُهُ إِسْمَاعِيلُ , وَلَا يُرْوَى عَنْ جَابِرٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ

احمد بن محمد البرتی سے مروی حدیث : حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : ایک دیہاتی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیاہم جنت میں اپنے کپڑے اپنے ہاتھوں سے بنائیں گے ؟ لوگ یہ بات سن کر ہنس پڑے ۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ کیوں ہنس رہے ہو ؟ ایک انجان آدمی نے ایک جاننے والا مسئلہ پوچھا ہے تم اس پر ہنس رہے ہو ؟پھر آپ نے فرمایا نہیں ۔وہاں تو پھول ، پھل بھی درختوں سے خود بخود ٹوٹ کر آپ کے ہاتھ میں آ جائیں گے ۔اس حدیث کو ’’مجالد ‘‘سے صرف اس کے بیٹے ’’اسماعیل ‘‘نے روایت کیا ہے اور ’’جابر ‘‘سے یہ روایت صرف اسی اسناد کے ہمراہ نقل کی گئی ہے۔

جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ ← سريح بن يونس ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ بِبَغْدَادَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 120

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 121

121 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ أَبُو الصَّقْرِ الضَّرِيرُ التَّمِيمِيُّ الْبَغْدَادِيُّ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ اللَّاحِقِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ , فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْفَجْرَ غَسَلَتْهَا , ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ , فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الظُّهْرَ غَسَلَتْهَا , ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ غَسَلَتْهَا , ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْمَغْرِبَ غَسَلَتْهَا ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعِشَاءَ غَسَلَتْهَا , ثُمَّ تَنَامُونَ , فَلَا يُكْتَبُ عَلَيْكُمْ حَتَّى تَسْتَيْقِظُوا» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ مَرْفُوعًا إِلَّا اللَّاحِقِيُّ

احمد بن علی بن الحسین ابو الصقر رحمۃ اللہ علیہ الضریر التمیمی البغدادی المودب سے مروی حدیث : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم (گناہوں کی آگ میں )جلتے رہو گے جلتے رہو گے ،حتی کے تم فجر کی نماز پڑھ لو تو وہ (جلنے کا اثر دھل جاتا ہے ، پھر مسلسل جلتے رہتے ہو اور جب ظہر کی نماز پڑھ لیتے ہو تو (جلے ہوئے کا اثر )دھل جاتا ہے ،پھر مسلسل جلتے رہتے ہو پھر جب عصر کی نماز پڑھتے ہو تو (وہ اثر )دھل جاتا ہے ، پھر مسلسل جلتے رہتے ہو اور جب مغرب کی نماز پڑھتے ہو تو (وہ اثر )دھل جاتا ہےپھر مسلسل جلتے رہتے ہو اور جب عشاء کی نماز پڑھتے ہو تو وہ اثر دھل جاتا ہے اور پھر تم سو جاتے ہو اس کے بعد بیدار ہونے تک تمہارے نامہ اعمال میں کوئی گناہ نہیں لکھا جاتا ۔ اس حدیث کو ’’حماد بن سلمہ ‘‘سے مرفوعاً صرف ’’ لا حقی ‘‘ نے روایت کیا ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ اللَّاحِقِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ أَبُو الصَّقْرِ الضَّرِيرُ التَّمِيمِيُّ الْبَغْدَادِيُّ الْمُؤَدِّبُ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 121

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 122

122 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى ثَعْلَبٌ النَّحْوِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الرُّقَادِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُمِّ عَطِيَّةَ خَتَّانَةٌ كَانَتْ بِالْمَدِينَةِ: «إِذَا خَفَضْتِ فَأَشِمِّي وَلَا تُنْهِكِي؛ فَإِنَّهُ أَسْرَى لِلْوَجْهِ وَأَحْظَى عِنْدَ الزَّوْجِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ ثَابِتٍ إِلَّا زَائِدَةُ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ

احمد بن یحیی ثعلب النحوی سے مروی حدیث:حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام عطیہ (یہ خاتون مدینہ منورہ میں عورتوں کا ختنہ کیا کرتی تھی ، آپ نے اس )سے فرمایا ختنے کرتے ہوئے بالکل تھوڑا سا گوشت کاٹا کرو زیادہ مت کاٹا کرو اس سے چہرے میں خوبصورتی بھی آتی ہے اور ہمبستری میں لذت بھی زیادہ ملتی ہے ۔ اس حدیث کو ’’ثابت ‘‘سے صرف ’’زاہدہ ‘‘نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’محمد بن سلام ‘‘منفرد ہیں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الرُّقَادِ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى ثَعْلَبٌ النَّحْوِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 122

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 123

123 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوَارِبِيُّ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , الرَّجُلُ يَكُونُ حَامِيَةَ الْقَوْمِ , وَيَدْفَعُ عَنْ أَصْحَابِهِ , أَيَكُونُ نَصِيبُهُ مِثْلَ نَصِيبِ غَيْرِهِ؟ فَقَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ابْنَ أُمِّ سَعْدٍ , وَهَلْ تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ؟» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ إِلَّا عَبْدُ الْحَمِيدِ تَفَرَّدَ بِهِ مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ

احمد بن محمد الجو اربی الواسطی سے مروی حدیث : حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی اپنی قوم کا حامی ہے اور اپنے ساتھیوں کا دفاع کرتا ہے ، کیا دوسروں کا حصہ اس کے برابر ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ! اے ام سعد کے بیٹے ! تیری ماں تجھے روئے !تمہیں انہیں کمزوروں کے باعث تو رزق دیا جاتا ہے اور انہی کی بدولت تمہاری مدد کی جاتی ہے۔ اس حدیث کو زہری سے صرف عبدالحمید نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں معلی بن عبد الرحمن منفردہیں۔

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَمِّي عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوَارِبِيُّ الْوَاسِطِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 123

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 124

124 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ وَهْبٍ أَبُو زَيْدٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ حَفْصٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَذْهَبَ اللَّهُ بَصَرَهُ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ وَاجِبًا أَنْ لَا تَرَى عَيْنَاهُ النَّارَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مِسْعَرٍ إِلَّا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ تَفَرَّدَ بِهِ وَهْبُ بْنُ حَفْصٍ

احمد بن وہب ابو زید الواسطی سے مروی حدیث : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی جس شخص کی بینائی فرما دےاور وہ بندہ اس پر صبر اختیار کرے تو اللہ تعالی پر یہ حق ہے کہ اس بندے کی آنکھ آگ نہ دیکھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَطِيَّةَ، ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← وَهْبُ بْنُ حَفْصٍ الْحَرَّانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ وَهْبٍ أَبُو زَيْدٍ الْوَاسِطِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 124

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 125

125 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَخْنَسِ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَنَافُسَ بَيْنَكُمْ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ بِاللَّيْلَ وَالنَّهَارَ , فَيَتَتَبَّعُ مَا فِيهِ فَيَقُولُ الرَّجُلُ لَوْ أَعْطَانِيَ اللَّهُ مِثْلَ مَا أَعْطَى فُلَانًا , فَأَقُومُ بِهِ مِثْلَ مَا يَقُومُ فُلَانٌ، وَرَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا يُنْفِقُ وَيَتَصَدَّقُ , فَيَقُولُ رَجُلٌ مِثْلَ ذَلِكَ " لَا يُرْوَى عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَخْنَسِ وَهُوَ أَبُو مَعْنِ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ وَابْنُهُ قَدْ صَحِبَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ الْهَيْثَمُ

احمد بن عبد اللہ بن عبد الرحیم البرقی سے مروی حدیث : یزید بن الا خنس کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے ، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دو آدمیوں کے درمیان صرف دو چیزوں میں رشک ہونا چاہیے ، وہ آدمی جس کو اللہ تعالی نے قرآن کریم کی دولت سے نوازا ہو اور وہ بندہ دن رات قرآن کریم کی تلاوت میں مشغول رہے ، اور قرآن کریم کے احکام پر عمل کرنے کی کوشش کرے اس کو دیکھنے والا کہے : جو نعمت تجھ کو عطا ہوئی ہے ، کاش یہ مجھے بھی مل جاتی اور جیسے یہ دن رات قرآن کی تلاوت میں مشغول رہتا ہے ، میں بھی اسی طرح تلاوت کرتا۔ ایسا آدمی جس کو اللہ تعالی نے مال عطا کیا اور وہ اس میں سے اپنے لئے بھی خرچ کرتا ہے اور اللہ کی راہ میں بھی صدقہ کا کرتا ہے ، دیکھنے والا کہے کاش کہ مجھے بھی ایسا مال ملا ہوتا تو میں بھی اللہ تعالی کی راہ میں اسی طرح خرچ کرتا ، یہ حدیث ابن الا خنس سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ منقول ہے ، اور ابن الاخنس ’’ابو معن بن یزید ‘‘ہیں۔ان دونوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ۔

يَزِيدَ بْنِ الْأَخْنَسِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ← الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 125

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 126

126 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى الْحَضْرَمِيُّ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَقَّارُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَقَدْ بَرِئَ مِنَ الشُّحِّ: مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ , وَقَرَّى الضَّيْفَ , وَأَعْطَى فِي النَّوَائِبِ " لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ إِلَّا بِشْرٌ الدِّمَشْقِيُّ، تَفَرَّدَ بِهِ زَكَرِيَّا

احمد بن ابی یحیٰی الحضری المصری سے مروی حدیث : حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تین خصلتیں ایسی ہیں ، کہ یہ جس میں پائی جائیں اس سے بخل ختم ہو جاتا ہے ۔جو خوش دلی کے ساتھ اپنے مال کی زکاۃ ادا کرے ۔ خوش دلی کے ساتھ مہمان نوازی کرے ۔اللہ کی رضا کے لئے مصیبت زدوں کے کام آئے ۔اس حدیث کو اوزاعی سے صرف بشرد مشقی نے روایت کیا ہے ہے اور ان سے روایت کرنے میں زکریا منفرد ہیں۔

جَابِرٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَقَّارُ ← أحمد بن أبي يحيى الحضرمي المصري

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 126

chevron_left Previous
1…697071…100
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter