Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 556

556 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الْمِلْحِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَبَّاسِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ زُفَرَ، حَدَّثَنَا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ ابْنِ أَبِي جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ , وَأَرْفَقُ أُمَّتِي لِأُمَّتِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ , وَأَصْدَقُ أُمَّتِي حَيَاءً عُثْمَانُ , وَأَقْضَى أُمَّتِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ , وَأَعْلَمُهَا بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمَامَ الْعُلَمَاءِ بِرَتْوَةٍ , وَأَقْرَأُ أُمَّتِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ , وَأَفْرَضُهَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ , وَقَدْ أُوتِيَ عُوَيْمِرٌ عِبَادَةً، يَعْنِي أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ إِلَّا مِنْدَلٌ

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ٭ میری امت پر سب سے زیادہ رحم کرنے والا ابو بکر ہے ۔ ٭ میری امت پر سب سے زیادہ نرم دلی کرنے والا عمر بن خطاب ہے ۔ ٭ سب سے زیادہ حیا دار عثمان ہے ۔ ٭ میری امت میں سب سے زیادہ اچھے فیصلے کرنے والا علی بن ابی طالب ہے ۔ ٭ حلال و حرام کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والا معاذ بن جبل ہے ۔ قیامت کے دن ان کو تمام علماء کے آگے بلند مقام پر بٹھایا جائے گا۔ ٭ میری امت میں سب سے بہترین خیرات کرنے والے ابی ابن کعب ہیں ۔ ٭ وراثت کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والے زید بن ثابت ہیں ۔ ٭ عویمر یعنی ابودرداء کو عبادت کی توفیق بخشی گئی ہے ۔ اس حدیث کو ابن جریج سے صرف مندل نے روایت کیا ہے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← ابْنُ أَبِي جُرَيْجٍ، ← مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ← عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَبَّاسِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الْمِلْحِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 556

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 557

557 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْهَيْثَمِ الْمِصْرِيُّ، سَمِعْتُ ذَا النُّونِ الْمِصْرِيَّ الْعَابِدَ أَبَا الْفَيْضِ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الَّذِينَ جَاوَزُوا دَارَ الظَّالِمِينَ , وَاسْتَوْحَشُوا مِنْ مُؤَانَسَةِ الْجَاهِلِينَ , وَشَابُوا ثَمَرَةَ الْعَمَلِ بِنُورِ الْإِخْلَاصِ , وَاسْتَقَوْا مِنْ عَيْنِ الْحِكْمَةِ , وَرَكِبُوا سَفِينَةَ الْفِطْنَةِ , وَأَقْلَعُوا بِرِيحِ الْيَقِينِ , وَلَجَجُوا فِي بَحْرِ النَّجَاةِ , وَأَرْسَوْا بِشَطِّ الْإِخْلَاصِ , اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الَّذِينَ سَرَحَتْ أَرْوَاحُهُمْ فِي الْعُلَا , وَحَطَّتْ هِمَمَ قُلُوبِهِمْ فِي غَادِيَاتِ التُّقَى، حَتَّى أَنَاخُوا فِي رِيَاضِ النَّعِيمِ، وَجَنُوا مِنْ ثِمَارِ رِيَاضِ التَّسْنِيمِ , وَخَاضُوا لُجَّةَ السُّرُورِ , وَشَرِبُوا بِكَأْسِ الْعَيْشِ , وَاسْتَظَلُّوا تَحْتَ (في) الْكَرَامَةِ , اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الَّذِينَ فَتَحُوا بَابَ الصَّبْرِ , وَأَرْدَمُوا خَنَادِقَ الْجَزَعِ , وَجَازُوا شَدَائِدَ الْعِقَابِ , وَعَبَرُوا جِسْرَ الْهَوَاءِ؛ فَإِنَّهُ جَلَّ اسْمُهُ يَقُولُ: {وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى} [النازعات: 41] اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِمَّنْ أَشَارَتْ إِلَيْهِمْ أَعْلَامُ الْهِدَايَةِ , وَوَضَحَتْ لَهُمْ طَرِيقُ النَّجَاةِ , وَسَلَكُوا سَبِيلَ إِخْلَاصِ الْيَقِينِ

حضرت علی بن ہیثم المصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ذوالنون مصری رضی اللہ عنہ عابد ابو الفیض کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے ۔ اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں سے بنا جو ظالموں کی حویلی سے آگے نکل چکے ہیں اور جو جاہلوں کی دوستی سے دور بھاگتے ہیں جنہوں نے عمل کے ثمر کو اخلاص کے نور کے ساتھ ملایا ہے ، جنہوں نے حکمت کے چشمے سے پانی پیا ہے ، جو سمجھ داری کی کشتی پر سوار ہوئے ہیں اور یقین کی ہوا کے ساتھ بادبان اٹھا دئیے ہیں ، جو نجات کے سمندر کی گہرائیوں میں اترے ہیں اور جنہوں نے اخلاص کے کنارے پر لنگر ڈالے ہیں ۔ ۔ اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں سے بنا جن کی روحیں بلندیوں میں سیر کرتی ہیں ، جن کے دلوں کی خواہشات پرہیز گاری کی انتہاؤں میں گر چکی ہیں حتیٰ کہ انہوں نے نعمتوں والے باغوں میں اپنی سواریاں بٹھا دی ہیں اور نسیم کے باغیچوں سے انہوں نے پھل چنے ہیں اور انہوں نے سرور کی گہرائی میں غوطہ لگایا ہے اور انہوں نے آب حیات کو نوش کیا اور وہ کرامت کے سائے کے نیچے بیٹھے ہیں ۔ اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں سے کر جنہوں نے صبر کا دروازہ کھولا ہے جو ہمیشہ پریشانیوں کی خندقوں میں رہتے ہیں ، جو مصیبتوں کی سختیوں کو عبور کر گئے ہیں ، جو خواہشات کے پلوں کو عبور کر گئے ہیں ۔ بیشک تیرا نام بہت برکت والا ہے تیرا ارشاد ہے " ﴿وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى٤٠ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى٤١﴾ [النازعات: 40-41] " اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا تو بیشک جنت ہی ٹھکانہ ہے " اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں سے بنا جن کی جانب ہدایت کی نشانیاں متوجہ ہیں اور جن کے لئے نجات کا راستہ واصح ہے اور جو اخلاص و یقین کے راستوں پر چلے ۔

ذَا النُّونِ الْمِصْرِيَّ الْعَابِدَ أَبَا الْفَيْضِ ← عَلِيُّ بْنُ الْهَيْثَمِ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 557

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 558

558 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَبَّاسِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْجِيزِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ وَهْبُ اللَّهِ بْنُ رَاشِدٍ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: «أَلَا أُعَلِّمُكَ دُعَاءً تَدْعُو بِهِ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلٍ دَيْنًا لَأَدَّى اللَّهُ عَنْكَ؟ قُلْ يَا مُعَاذُ , اللَّهُمَّ مَالِكُ الْمُلْكِ , تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ , وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ , وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ , وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ , بِيَدِكَ الْخَيْرِ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ , رَحْمَانُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , تُعْطِيهُمَا مَنْ تَشَاءُ , وَتَمْنَعُ مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ , ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ إِلَّا يُونُسُ , وَلَا عَنْهُ إِلَّا وَهْبُ اللَّهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی دعا نہ سکھا دوں کہ اگر تیرے اوپر پہاڑوں کے برابر بھی قرضہ ہوا تو اللہ تعالیٰ تیرا قرضہ ادا کر دے گا اے معاذ یہ دعا مانگا کرو :﴿قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ٢٦ ﴾ [آل عمران: 26] رحمان الدنیا والاخرۃ تعطیھا من تشاء ، وتمنع منھما من تشاء ارحمنی رحمۃ بھا عن رحمہ من سواک " یوں عرض کر " اے ملک کے مالک تو جسے چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے ، ساری بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے بیشک تو سب کچھ کر سکتا ہے ، اے دنیا اور آخرت میں رحم کرنے والے تو جس کو چاہتا ہے دنیا اور آخرت عطا فرماتا ہے اور جس سے چاہتا ہے روک لیتا ہے ، اے اللہ مجھ پر ایسی رحمت فرما جو مجھے تیرے سوا ہر کسی سے بے نیاز کر دے " اس حدیث کو زہری سے صرف یونس نے روایت کیا ہے اور ان سے صرف وہب اللہ نے روایت کیا ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ، ← أَبُو زُرْعَةَ وَهْبُ اللَّهِ بْنُ رَاشِدٍ، ← الربيع بن سليمان الجيزي ← عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَبَّاسِ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 558

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 559

559 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدُوسَ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَامِرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ نَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ , فَجَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَلْ عَلَيْنَا مِنْ حَرَجٍ فِي كَذَا؟ هَلْ عَلَيْنَا مِنْ حَرَجٍ فِي كَذَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «وَضَعَ اللَّهُ الْحَرَجَ إِلَّا امْرَأً اقْتَرَضَ امْرَأً مُسْلِمًا ظُلْمًا فَذَاكَ الَّذِي حَرَجَ وَهَلَكَ» ؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنَتَدَاوَى مِنْ كَذَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " تَدَاوَوْا عِبَادَ اللَّهِ؛ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ: الْهَرَمُ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَمَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْإِنْسَانُ؟ فَقَالَ: «خُلُقٌ حَسَنٌ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَالِكٍ إِلَّا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ

حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں موجود تھا ۔ آپ کے پاس کچھ دیہاتی لوگ آئے اور آپ سے دائیں بائیں کے سوالات کرنا شروع کئے ۔ کہنے لگے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فلاں کام میں ہم پر کوئی حرج ہے ؟ کیا ہم پر فلاں کام میں حرج ہے ؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حرج معاف کر دیا ہے ۔ سوائے اس شخص کے جو کسی مسلمان سے ظلماً قرضہ لیتا ہے یہ وہ حرج ہے جو باعث ہلاکت ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم فلاں بیماری کی دوا لے لیا کریں ؟ فلاں بیماری کی دوا لے لیا کریں ؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اللہ کے بندو ، دوا لیا کرو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری بنائی ہے اس کے لئے شفا بھی رکھی ہے ۔ سوائے ایک بیماری کے اور وہ ہے بڑھاپا۔ انہوں نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انسان کو جو کچھ عطا کیا جاتا ہے اس میں سب سے افضل چیز کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا حسن اخلاق ۔ اس حدیث کو مالک سے صرف نعمان بن عبدالسلام نے روایت کیا ہے ۔

أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ ← أَبِي ← إبراهيم بن عامر بن إبراهيم ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدُوسَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 559

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 560

560 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هِشَامٍ الرَّقِّيُّ، بِنَصِيبِينَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ الْقَاضِي، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: " يَا عَائِشَةُ , {إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا} [الأنعام: 159] هُمْ أَصْحَابُ الْبِدَعِ وَأَصْحَابُ الْأَهْوَاءِ وَلَيْسَ لَهُمْ تَوْبَةٌ , أَنَا مِنْهُمْ بَرِيءٌ , وَهُمْ مِنِّي بِرَاءٌ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ شُعْبَةَ إِلَّا بَقِيَّةُ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ مُصَفًّى وَهُوَ حَدِيثُهُ

حضرت عمر بن خطب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : اے عائشہ " ان الذین فرقوا دینھم و کانوا شیعا " وہ جنہوں نے اپنے دین میں جدا دا راہیں نکالیں اور کئی گروہ ہو گئے " ۔ (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) میں جن لوگوں کا ذکر ہے ان سے مراد بدعتی لوگ ہیں اور وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والے لوگ ہیں ۔ ان کی توبہ قبول نہیں ہے ۔ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔ اس حدیث کو شعبہ سے صرف بقیہ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابن مصفی منفرد ہیں اور یہ انہی کی حدیث ہے ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← شُرَيْحٍ الْقَاضِي، ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← شُعْبَةُ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى ← عَلِيُّ بْنُ هِشَامٍ الرَّقِّيُّ، بِنَصِيبِينَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 560

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 561

561 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ الشَّاعِرُ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ» , وَالْقَتَّاتُ: النَّمَّامُ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا إِسْرَائِيلُ , وَلَا عَنْهُ إِلَّا أَبُو أَحْمَدَ تَفَرَّدَ بِهِ الْحَجَّاجُ

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قتات جنت میں نہیں جائے گا اور ( راوی ) کہتے ہیں : قتات چغلخوز کو کہتے ہیں : اس حدیث کو ابراہیم بن مہاجر سے صرف اسرائیل نے روایت کیا ہے اور ان سے صرف ابو احمد نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں حجاج منفرد ہیں۔

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← حجاج بن يوسف الشاعر ← عَلِيُّ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 561

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 562

562 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الطَّيَالِسِيُّ عَلَّانُ مَاغَمَّةُ , حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الدَّبَّاسُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَحْيَى إِلَّا عَبْدُ الْعَزِيزِ تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے جمعہ کی ایک رکعت پائی ، اس نے جمعہ کو پا لیا ۔ اس حدیث کو یحییٰ سے صرف عبدالعزیز نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابراہیم بن سلیمان منفرد ہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِیُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الدَّبَّاسُ ← الْحَجَّاجُ بْنُ مَخْلَدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الطَّيَالِسِيُّ عَلَّانُ مَاغَمَّهُ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 562

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 563

563 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ هَارُونَ الْحَنْبَلِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَغَوِيُّ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ شَرِبَ فِي إِنَاءٍ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَإِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ بُرْدٍ إِلَّا ابْنُهُ الْعَلَاءُ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے سونے یا چاندی کے برتن میں پیا ، اس کے پیٹ میں دوزخ کی آگ بھری جائے گی۔ اس حدیث کو برد سے صرف ان کے بیٹے علاء نے روایت کیا ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءُ بْنُ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَغَوِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ هَارُونَ الْحَنْبَلِيُّ الْبَغْدَادِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 563

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 564

564 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ الرَّيَّانِ الْخُرَاسَانِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخُرَاسَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أُمَرَاءُ ظَلَمَةٌ , وَوُزَرَاءُ فَسَقَةٌ , وَقُضَاةٌ خَوَنَةٌ , وَفُقَهَاءُ كَذَبَةٌ , فَمَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ ذَلِكَ الزَّمَنَ فَلَا يَكُونَنَّ لَهُمْ جَابِيًا وَلَا عَرِيفًا وَلَا شُرْطِيًّا» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قَتَادَةَ إِلَّا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ , وَلَا عَنْهُ إِلَّا ابْنُ الْمُبَارَكِ تَفَرَّدَ بِهِ دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ , وَهُوَ شَيْخٌ لَا بَأْسَ بِهِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آخری زمانے میں ظالم حکمران ہوں گے ، فاسق وزیر ہوں گے ، خائن جج ہوں گے اور جھوٹ بولنے والے فقیہہ ہوں گے ۔ تم میں سے جو شخص وہ زمانہ پائے ، وہ ان کا نہ خیرات جمع کرنے والا بنے ، نہ قوم کے معاملات کی دیکھ بھال کرنے کی ذمہ داری لے اور نہ ان کا سپاہی بنے ۔ اس حدیث کو قتادہ سے صرف سعید نے روایت کیا ہے اور سعید سے صرف ابن مبارک نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں داؤد بن سلیمان منفرد ہیں اور وہ ایسے شیخ ہیں ، جن کی روایت نقل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخُرَاسَانِيُّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ الرَّيَّانِ الْخُرَاسَانِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 564

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 565

565 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الطُّوسِيُّ، بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ وَهْبٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ جَسْرِ بْنِ فَرْقَدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكَرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَاءِ وَأَهْلَ الْأَرْضِ اجْتَمَعُوا عَلَى قَتْلِ مُسْلِمٍ لَكَبَّهَمُ اللَّهُ جَمِيعًا عَلَى وُجُوهِهِمْ فِي النَّارِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْحَسَنِ إِلَّا جَسْرٌ

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر آسمان اور زمین کی تمام مخلوقات مل کر کسی ایک مسلمان کو قتل کریں ، اللہ تعالیٰ ان سب کو اندھا کر کے دوزخ میں ڈال دے گا۔ اس حدیث کو حسن سے صرف جسر نے روایت کیا ہے ۔

لَوْ ← أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← أَبِي ← جَعْفَرُ بْنُ جِسْرِ بْنِ فَرْقَدٍ ← عَلِيُّ بْنُ وَهْبٍ الرَّازِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الطُّوسِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 565

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 566

566 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عُبَيْدٍ الْفَزَارِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ يَزِيدَ الْمَوْصِلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ، عَنْ وَاسِطِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ حَتَّى يَمُوتَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ وَاسِطٍ بِهَذَا اللَّفْظِ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ الْحَوْشِيُّ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے شراب پی اور اسی حالت میں مر گیا ، آخرت میں اس پر شراب حرام کر دی جائے گی۔ اس حدیث کو ان الفاظ کے ہمراہ واسط سے صرف عبداللہ بن خراش نے روایت کیا ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← وَاسِطِ بْنِ الْحَارِثِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ خِرَاشٍ ← مَسْعُودُ بْنُ يَزِيدَ الْمَوْصِلِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عُبَيْدٍ الْفَزَارِيُّ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 566

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 567

567 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ زَاطِيَا الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ ثَعْلَبٍ، حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «إِنْ كُنْتُ لَأُفْطِرُ أَيَّامًا مِنْ رَمَضَانَ , فَمَا أَقْضِيهَا إِلَّا فِي شَعْبَانَ مِنْ أَجْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرَةَ إِلَّا فَرَجُ , وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُهُمَا , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : اگر میرے ماہ رمضان کے کچھ روزے جھوٹ جاتے تو میں ان کو صرف رسول اللہ کی وجہ سے صرف شعبان کے اندر قضا کرتی ۔ اس حدیث کو یحییٰ بن سعید انصاری سے پھر عمرہ سے صرف فرج نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کو سفیان ثوری سے ابن عیینہ سے اور دیگر محدثین نے یحییٰ بن سعید کے واسطے سے ابو سلمہ کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے ۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← فَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ، ← الرَّبِيعُ بْنُ ثَعْلَبٍ، ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ زَاطِيَا الْبَغْدَادِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 567

chevron_left Previous
1…678…100
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter