Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 91

91 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُكْرَمِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ , وَنُهِيتُ أَنْ أَكُفَّ شَعَرًا أَوْ ثَوْبًا» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عِيسَى بْنِ مَاهَانَ أَبِي جَعْفَرٍ إِلَّا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ

احمد بن الحسن بن مکرم البغدادی سے مروی حدیث :حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات ہڈیوں پر سجدہ کرو ں۔ اور مجھے (نماز کے دوران )بال یا کپڑے لپیٹنے سے منع کیا گیا ہے ۔اس حدیث کو عیسی بن ماہان ابو جعفر ‘‘سے ’’علی بن الجعد ‘‘کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← أبو جعفر الرازي ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَغْدَادِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 91

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 92

92 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمُقْرِئُ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بِلَالٌ الْأَشْعَرِيُّ، حَدَّثَنَا شَبِيبُ بْنُ شَيْبَةَ السَّعْدِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ دَاءً إِلَّا وَقَدْ خَلَقَ لَهُ دَوَاءً إِلَّا السَّامَ , وَهُوَ الْمَوْتُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ إِلَّا شَبِيبٌ

احمد بن حمید المقری ابو جعفر البغدادی سے مروی حدیث : حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی نے جو بھی بیماری پیدا کی ہے ، اس کی دوا بھی پیدا کی ہے سوائے سام کے اور سام ’’موت ‘‘کو کہتے ہیں ۔اس حدیث کو ’’عطا ‘‘کے واسطے سے ’’ابوسعید ‘‘سے صرف ’’شیب‘‘ نے روایت کیا ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← شَبِيبُ بْنُ شَيْبَةَ السَّعْدِيُّ، ← أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمُقْرِئُ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 92

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 93

93 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقُرْدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ أَتَاهُ ابْنُ عَمِّهِ , فَسَأَلَهُ مِنْ فَضْلِهِ , فَمَنَعَهُ مَنَعَهُ اللَّهُ فَضْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , وَمَنْ مَنَعَ فَضْلَ الْمَاءِ لِيَمْنَعَ بِهِ فَضْلَ الْكَلَأِ مَنَعَهُ اللَّهُ فَضْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ إِلَّا جَرِيرٌ , وَلَا عَنْ جَرِيرٍ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ تَفَرَّدَ بِهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَرِيرٍ , وَلَا رَوَى عَنِ الْأَعْمَشِ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ وَلَا كَتَبْنَاهُ إِلَّا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ

احمد بن عبید اللہ بن جریر بن جبلہ سے مروی حدیث :عمرو بن شعیب والد سے ، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کے پاس اس کا چچا زاد بھائی آیا اور اس سے کچھ مانگا ، اس نے اگر منع کر دیا تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس کو اپنے فضل سے محروم رکھے گا ، اور جو شخص اپنا اضافی پانی اس کے لئے روک کر رکھے گا کہ اس سے اضافی گھاس نہ اگے ، اللہ تعالی قیامت کے دن اپنا فضل اس سے روک لے گا ۔اس حدیث کو ’’اعمش‘‘ سے ’’جریر ‘‘ کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور ’’جریر ‘‘سے ’’محمد بن الحسن ‘‘کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور ان سے روایت کرنے میں ’’عبید اللہ بن جریر ‘‘منفرد ہیں۔اور ’’اعمش ‘‘کے واسطے سے ’’عمرو بن شعیب ‘‘سے اس حدیث کے سوا کوئی حدیث مروی نہیں ہے اور ہم نے اس کو ’’احمد بن عبید اللہ ‘‘کے حوالے سے ہی نقل کیا ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقُرْدُوسِيُّ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ جَبَلَةَ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 93

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 94

94 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْمُرِّيُّ الْقَنْطَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ الْحَسَنِ الطَّحَّانُ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الحَسَنِ الْأَشْقَرُ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبَايَةَ يَعْنِي ابْنَ رِبْعِيٍّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَاطِمَةَ: «نَبِيُّنَا خَيْرُ الْأَنْبِيَاءِ وَهُوَ أَبُوكِ , وَشَهِيدُنَا خَيْرُ الشُّهَدَاءِ وَهُوَ عَمُّ أَبِيكِ حَمْزَةُ , وَمِنَّا مَنْ لَهُ جَنَاحَانِ يَطِيرُ بِهِمَا فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ يَشَاءُ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِيكِ جَعْفَرٌ , وَمِنَّا سِبْطَا هَذِهِ الْأُمَّةِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَهُمَا ابْنَاكِ , وَمِنَّا الْمَهْدِيُّ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ إِلَّا قَيْسٌ تَفَرَّدَ بِهِ حُسَيْنٌ الْأَشْقَرُ

احمد بن محمد بن العباس المری القنطری سے مروی حدیث : حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ارشادفرمایا : ہمارا نبی سب نبیوں سے بہتر ہے ، اور وہ تیرا والد ہے ۔ہمارا شہید سب شہیدوں سے افضل ہے , اور وہ تیرے والد کا چچا حمزہ ہے , اور ہم میں کوئی ایسا بھی ہے جس کو جنت میں دو پر ملیں گے اوہ جہاں چاہے گا ان پرو ں کی مدد سے جنت میں جہاں چاہے اڑ کر جاسکے گا ، وہ میرے والد کا چچا جعفر ہے ،ہم میں اس امت کے دونواسے حسن اور حسین بھی ہیں اور وہ دونوں آپ ہی کے بیٹے ہیں ۔اور ہم میں مہدی بھی ہوں گے ۔اس حدیث کو ’’اعمش‘‘ سے صرف ’’قیس‘‘ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’حسین الا شقر‘‘ منفرد ہیں ۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← عَبَايَةَ يَعْنِي ابْنَ رِبْعِيٍّ، ← الْاَعْمَشِ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَشْقَرُ ← حَرْبُ بْنُ الْحَسَنِ الطَّحَّانُ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْمُرِّيُّ الْقَنْطَرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 94

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 95

95 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ الطَّائِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمرِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى فَلْيَتَحَرَّ حَتَّى يَسْتَيْقِنَ , ثُمَّ لِيُتِمَّ عَلَى مَا فِي نَفْسِهِ , ثُمَّ لِيَسْجُدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ إِلَّا أَبُو يُوسُفَ

احمد بن القاسم الطائی البغدادی سے مروی حدیث : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کسی کو نماز کی رکعتوں میں شک پڑے ، اس کو سمجھ نہ آ رہی ہو کہ کتنی رکعتیں پڑھ چکا ہے تو خوب سوچ بچار کرے ، جس طرف ظن غالب جائے اس پر عمل کرے کرے اور ظن غالب کے مطابق جتنی رکعتیں رہتی ہو ں وہ پوری کرے اور آخر میں سجدہ سہو کر دے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي، ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ الطَّائِيُّ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 95

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 96

96 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَيْشُونَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ مِنْهُمْ , ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ , ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قَتَادَةَ إِلَّا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ

احمد بن محمد الصید لانی البغدادی سے مروی حدیث : حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت میں وہ زمانہ سب سے بہتر ہے جس میں مجھے نبی بنا کر بھیجا گیا ، اس کے بعد وہ لوگ جن کا زمانہ ان کے بعد ہوگا ، پھر وہ لوگ جن کا زمانہ ان کے بعد ہوگا ۔ اس حدیث کو ’’قتادہ ‘‘سے صرف ’’سلام بن ابی مطیع‘‘ نے روایت کیا ۔ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’محمد بن سلیمان بن ابی داؤدحرانی ‘‘منفرد ہیں ۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَلاَّمُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَيْشُونَ الْحَرَّانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ الْبَغْدَادِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 96

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 97

97 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ كَعْبٍ الْوَاسِطِيُّ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: 178] قَالَ «كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِذَا قُتِلَ فِيهِمُ الْقَتِيلُ عَمْدًا لَمْ يَحِلَّ لَهُمْ إِلَّا الْقَوَدُ , وَأُحِلَّتْ لَكُمُ الدِّيَةُ , فَأُمِرَ هَذَا أَنْ يَتِّبِعَ بِالْمَعْرُوفِ وَأُمِرَ هَذَا أَنْ يُؤَدِّيَ بِإِحْسَانٍ , فَذَلِكُمْ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبَانَ إِلَّا شَرِيكٌ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ

احمد بن کعب الواسطی الحافظ سے مروی حدیث : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ ،سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۱۷۸۔﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [البقرة: 178] ’’اے ایمان والو تم پر فرض ہے کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لوآزادکے بدلے آزاد اورغلام کے بدلے غلام اور عورت خط عورت کے بدلے عورت تو جس کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہو ہو تو بھلائی سے تقاضہ ہو اور اچھی طرح ادا ۔یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارا بوجھ ہلکا کرنا ہے اور تم پر رحمت ۔تو اس کے بعد جو زیادتی کرے اس کے لئے دردناک عذاب ہے ‘‘ (ترجمہ کنزالایمان ،امام احمد رضا )کے بارے میں فرماتے ہیں : بنی اسرائیل میں قتل عمد (جان بوجھ کر قتل کرنے )کی سزا صرف قصاص تھا (یعنی بدلے میں قاتل کو قتل کیا جاتا تھا ) اور تمہارے لئے دیت بھی جائز کر دی گئی ، مقتول کے ورثاء کو کہا گیا کہ وہ نرمی کا برتاؤ کریں اور قاتل کے وارثوں کو اچھے انداز میں ادائیگی کا حکم دیا گیا ۔یہ تمہارے رب کی جانب سے تمہارے لیے آسانی ہے ۔اس حدیث کو ’’ابان‘‘ سے صرف ’’شریک ‘‘ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’محمد بن ابی نعیم ‘‘منفرد ہیں ۔؎

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← اَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ الْوَاسِطِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ كَعْبٍ الْوَاسِطِيُّ الْحَافِظُ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 97

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 98

98 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ اللِّحْيَانِيُّ الْعَكَّاوِيُّ بِمَدِينَةِ عَكَّاءَ سَنَةَ 275 خَمْسٍ وَسَبْعِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ , وَوَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ الْيَشْكُرِيُّ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَاصِمٍ امْرَأَةُ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ السُّلَمِيِّ قَالَتْ: كُنَّا عِنْدَ عُتْبَةَ أَرْبَعَ نِسْوَةٍ , مَا مِنَّا امْرَأَةٌ إِلَّا وَهِيَ تَجْتَهِدُ فِي الطِّيبِ لِتَكُونَ أَطْيَبَ مِنْ صَاحِبَتِهَا , وَمَا يَمَسُّ عُتْبَةُ الطِّيبَ إِلَّا يَمَسُّ دُهْنًا يَمْسَحُ بِهِ لِحْيَتِهِ , وَهُوَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنَّا , وَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى النَّاسِ قَالُوا: مَا شَمِمْنَا رِيحًا أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ عُتْبَةَ , فَقُلْتُ لَهُ يَوْمًا: إِنَّا لَنَجْتَهِدُ فِي الطِّيبِ , وَلَأَنْتَ أَطْيَبُ مِنَّا رِيحًا , فَمِمَّ ذَاكَ؟ فَقَالَ: أَخَذَنِي الشَّرَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَتَيْتُهُ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَيْهِ , فَأَمَرَنِي أَنْ أَتَجَرَّدَ , فَتَجَرَّدْتُ , وَقَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ , وَأَلْقَيْتُ ثَوْبِي عَلَى فَرْجِي , فَنَفَثَ فِي يَدِهِ عَلَى ظَهْرِي وَبَطْنِي , فَعَقَبَ بِي هَذَا الطِّيبُ مِنْ يَوْمَئِذِ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ وَرْقَاءَ إِلَّا آدَمُ

احمد بن عبداللہ الحیانی العکاوی سے مروی حدیث : عتبہ بن فرقد سلمی رضی اللہ تعالی عنہ کی زوجہ امام عاصم بیان کرتی ہیں : عتبہ کی چار بیویاں تھیں، میں بھی ان میں سے ایک تھی ، ہم چاروں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر خوشبو کا استعمال کرتی تھیں، ہر ایک کی خواہش تھی کہ سب سے زیادہ خوشبو اس میں سے آئے ،جب کہ حضرت عتبہ نے کبھی کوئی خوشبو نہیں لگائی تھی ، آپ سادہ تیل اپنی داڑھی شریف پر لگایا کرتے تھے لیکن اس کے باوجود ان کے جسم سے ہم سب سے زیادہ خوشبو آتی تھی ۔جب آپ باہر تشریف لے جاتے تو لوگ کہتے ہم نے اس سے زیادہ اچھی خوشبو کسی سے نہیں سونگھی ، میں نے ایک دن ان سے پوچھ لیا کہ ہم بہت محنت اور کوشش سے خوشبو لگاتی ہے اس سے آتی ہے اس کے باوجود ہم سے زیادہ خوشبو آپ سے آتی ہے ،اس کی وجہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا :رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے مجھے خارش کی بیماری ہوگئی تھی ، میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی آپ نے فرمایا آپ نے کپڑے اتار دو میں نے اپنے جسم کے تمام کپڑے اتار دیے ، ایک کپڑے سے شرمگاہ کو چھپا لیا ، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری پشت اور پیٹ پر اپنا دست مبارک پھیرا ، اس دن سے میرے جسم سے خوشبو آنے لگی ۔اس حدیث کو ’’ورقا‘‘سے صرف ’’ آدم ‘‘نے روایت کیا ہے ۔

حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَاصِمٍ امْرَأَةُ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ السُّلَمِيِّ ← شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ الْيَشْكُرِيُّ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ اللِّحْيَانِيُّ الْعَكَّاوِيُّ بِمَدِينَةِ عَكَّاءَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 98

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 99

99 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْفِرْيَابِيُّ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ الْقَدَّاحُ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ إِلَّا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ , وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا الشَّعْثَاءِ

احمد بن عبید بن اسماعیل الفریابی سے مروی حدیث : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح کیا ۔ اس حدیث کو ’’ابو الشعثاء ‘‘سے صرف ’’سعید بن سالم ‘‘ نے روایت کیا ہے اور دیگر راویوں نے اس حدیث کو ’’ابن جریح‘‘ پھر ’’عطا ‘‘کے واسطے سے ’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ ‘‘ سے روایت کیا ہے اور اس میں ابوالشعثا کا ذکر نہیں ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الشَّعْثَاءِ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ الْقِدَاحُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْفِرْيَابِيُّ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 99

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 100

100 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ عُقْدَةَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَاضِي، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ عُمَيْرٍ الْهُذَلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ , وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ إِلَّا عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ أَبُو قِلَابَةَ , وَاسْمُ أَبِي الْمَلِيحِ: عَامِرٌ

احمد بن سعید الہمدانی ابوالعباس بن عقدہ الکو فی سے مروی حدیث : ابو الملیح بن اسامہ بن عمیر الہذلی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی طہارت کے بغیر پڑھی گئی نماز قبول نہیں کرتا اور حرام کمائی سے دیا ہوا صدقہ قبول نہیں کرتا ۔اس حدیث کو ’’خالد الخدا ‘‘ سے صرف ’’عمر بن حبیب ‘‘نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’عبد الملک بن محمد رقاشی ابوقلابہ ‘‘منفرد ہیں۔ابو الملیح کا نام ’’عامر ‘‘ہے ۔

أَبِيهِ ← أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ عُمَيْرٍ الْهُذَلِيِّ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَاضِي، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ عُقْدَةَ الْكُوفِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 100

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 101

101 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْهَرَوِيُّ، بِمَكَّةَ سَنَةَ 283 ثَلَاثٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ هَيَّاجِ بْنِ بِسْطَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ , وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ رَوْحٍ إِلَّا هَيَّاجٌ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُهُ خَالِدٌ

احمد بن محمد بن عباس الہروی سے مروی حدیث : حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس کو دفن کر دیا جائے ۔اس حدیث کو ’’روح بن القاسم ‘‘سے ’’ہیا ج ‘‘کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور ان سے روایت کرنے میں انکا بیٹا ’’خالد ‘‘منفرد ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← أَبِي ← خَالِدُ بْنُ هَيَّاجِ بْنِ بِسْطَامٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْهَرَوِيُّ، بِمَكَّةَ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 101

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 102

102 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِمْرَانَ أَبُوِ مُوسَى السُّوسِيُّ بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَنْبٌ لَا يُغْفَرُ , وَذَنْبٌ لَا يُتْرَكُ , وَذَنْبٌ يُغْفَرُ , فَأَمَّا الذَّنْبُ الَّذِي لَا يُغْفَرُ فَالْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ , وَأَمَّا الذَّنْبُ الَّذِي لَا يُتْرَكُ فَظُلْمُ الْعِبَادِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا , وَأَمَّا الذَّنْبُ الَّذِي يُغْفَرُ فَذَنْبُ الْعَبْدِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ إِلَّا يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو الرَّبِيعِ

احمد بن عمران ان ابوموسی السوسی اسی سے مروی حدیث : حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک گناہ ایسا ہے جو بخشا نہیں جاتا ، ایک گناہ ایسا ہے جو چھوڑا نہیں جاتا ، ایک گناہ ایسا ہے جو بخش دیا جاتا ہے ،وہ گناہ جس کی بخشش نہیں ہے ، وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ہے ، وہ گناہ جس کو چھوڑا نہیں جاتا وہ لوگوں کا ایک دوسرے پر ظلم کرنا ہے ،وہ گناہ جو بخش دیا جاتا ہے وہ وہ گناہ ہے جو بندے اور اللہ تعالی کے درمیان ہے ۔اس حدیث کو ’’ سلیمان التیمی ‘‘سے ’’یزید بن سفیان ‘‘کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’ابو الربعی ‘‘منفرد ہیں۔

سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو الرَّبِيعِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عِمْرَانَ أَبُوِ مُوسَى السُّوسِيُّ بِبَغْدَادَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 102

chevron_left Previous
1…676869…100
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter