98 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ اللِّحْيَانِيُّ الْعَكَّاوِيُّ بِمَدِينَةِ عَكَّاءَ سَنَةَ 275 خَمْسٍ وَسَبْعِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ , وَوَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ الْيَشْكُرِيُّ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَاصِمٍ امْرَأَةُ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ السُّلَمِيِّ قَالَتْ: كُنَّا عِنْدَ عُتْبَةَ أَرْبَعَ نِسْوَةٍ , مَا مِنَّا امْرَأَةٌ إِلَّا وَهِيَ تَجْتَهِدُ فِي الطِّيبِ لِتَكُونَ أَطْيَبَ مِنْ صَاحِبَتِهَا , وَمَا يَمَسُّ عُتْبَةُ الطِّيبَ إِلَّا يَمَسُّ دُهْنًا يَمْسَحُ بِهِ لِحْيَتِهِ , وَهُوَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنَّا , وَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى النَّاسِ قَالُوا: مَا شَمِمْنَا رِيحًا أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ عُتْبَةَ , فَقُلْتُ لَهُ يَوْمًا: إِنَّا لَنَجْتَهِدُ فِي الطِّيبِ , وَلَأَنْتَ أَطْيَبُ مِنَّا رِيحًا , فَمِمَّ ذَاكَ؟ فَقَالَ: أَخَذَنِي الشَّرَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَتَيْتُهُ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَيْهِ , فَأَمَرَنِي أَنْ أَتَجَرَّدَ , فَتَجَرَّدْتُ , وَقَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ , وَأَلْقَيْتُ ثَوْبِي عَلَى فَرْجِي , فَنَفَثَ فِي يَدِهِ عَلَى ظَهْرِي وَبَطْنِي , فَعَقَبَ بِي هَذَا الطِّيبُ مِنْ يَوْمَئِذِ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ وَرْقَاءَ إِلَّا آدَمُ
احمد بن عبداللہ الحیانی العکاوی سے مروی حدیث : عتبہ بن فرقد سلمی رضی اللہ تعالی عنہ کی زوجہ امام عاصم بیان کرتی ہیں : عتبہ کی چار بیویاں تھیں، میں بھی ان میں سے ایک تھی ، ہم چاروں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر خوشبو کا استعمال کرتی تھیں، ہر ایک کی خواہش تھی کہ سب سے زیادہ خوشبو اس میں سے آئے ،جب کہ حضرت عتبہ نے کبھی کوئی خوشبو نہیں لگائی تھی ، آپ سادہ تیل اپنی داڑھی شریف پر لگایا کرتے تھے لیکن اس کے باوجود ان کے جسم سے ہم سب سے زیادہ خوشبو آتی تھی ۔جب آپ باہر تشریف لے جاتے تو لوگ کہتے ہم نے اس سے زیادہ اچھی خوشبو کسی سے نہیں سونگھی ، میں نے ایک دن ان سے پوچھ لیا کہ ہم بہت محنت اور کوشش سے خوشبو لگاتی ہے اس سے آتی ہے اس کے باوجود ہم سے زیادہ خوشبو آپ سے آتی ہے ،اس کی وجہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا :رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے مجھے خارش کی بیماری ہوگئی تھی ، میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی آپ نے فرمایا آپ نے کپڑے اتار دو میں نے اپنے جسم کے تمام کپڑے اتار دیے ، ایک کپڑے سے شرمگاہ کو چھپا لیا ، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری پشت اور پیٹ پر اپنا دست مبارک پھیرا ، اس دن سے میرے جسم سے خوشبو آنے لگی ۔اس حدیث کو ’’ورقا‘‘سے صرف ’’ آدم ‘‘نے روایت کیا ہے ۔
حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَاصِمٍ امْرَأَةُ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ السُّلَمِيِّ ← شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ الْيَشْكُرِيُّ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ اللِّحْيَانِيُّ الْعَكَّاوِيُّ بِمَدِينَةِ عَكَّاءَ