Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 7

7 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ الْيَحْصِبِيُّ بِحِمْصَ سَنَةَ 27 8 ثَمَانٍ وَسَبْعِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الزُّبَيْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ أَصْفَرُ وَأَبْيَضُ لَمْ يَتْهَنْ بِالْعَيْشِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ إِلَّا بَقِيَّةُ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ عِرْقٍ، وَلَا يُرْوَى عَنِ الْمِقْدَامِ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ

احمد بن محمد بن الحارث بن محمد بن عبدالرحمٰن بن عرق الحمصی الیحصی سے مروی حدیث، یہ حدیث ۲۷۸ ہجری کو حمص میں سماعت کی۔حضرت مقدام بن معد یکرب زبیدی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ جس کے پاس دراہم و دنا نیر نہیں ہو نگے وہ اپنی زندگی پر خوش نہیں ہوگا۔ یہ حدیث ’’ابو بکر بن ابی مریم ‘‘ سے صرف ’’ بقیہ بن الولید‘‘ نے روایت کی ہے، اور ان سے روایت کرنے ۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 8

8 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْإِيَادِيُّ الْأَعْرَجُ، بِجَبَلَةَ سَنَةَ تِسْعٍ وَسَبْعِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ قَيْسٍ، حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ الطُّهَوِيُّ الْحِمْصِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا , وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةُ , وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْحَكَمِ إِلَّا عَبْدُ الْعَزِيزِ , وَلَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَّا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ تَفَرَّدَ بِهِ الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ الطُّهَوِيُّ , وَلَيْسَ بِالْمَوْصِلِيِّ , وَالْمَشْهُورُ مِنْ حَدِيثِ مَنْصُورٍ وَالْأَعْمَشِ وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ

احمد بن زکریا الایا دی الاعرج سے مروی حدیث، یہ حدیث ۲۷۹ ہجری کو شہر جبلہ میں سنی۔حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ثابت قدم رہو، لیکن تم یہ کر نہیں سکو گے اور جان لو کہ تمہارے اعمال میں سب سے بہتر عمل نماز ہے، اور وضو کی محافظت صرف مومن ہی کرتا ہے۔ یہ حدیث ’’ حکم‘‘ سے صرف’’ عبدالعزیز‘‘ نے روایت کی ہے اور ’’ عبدالعزیز ‘‘ سے صرف ’’ اسماعیل بن عیاش‘‘ نے روایت کی ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’ معافی بن عمران طہوی‘‘ منفرد ہیں۔( یہ معافی بن عمران موصلی نہیں ہیں بلکہ طہوی ہیں) اور مشہور وہ حدیث ہے جو ’’ منصور‘‘، ’’ اعمش‘‘ اور’’ یزید بن ابی زیاد‘‘ نے ’’ سالم بن ابی الجعد‘‘ سے روایت کی ہے۔

ثَوْبَانَ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ الطُّهَوِيُّ الْحِمْصِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ قَيْسٍ ← أَحْمَدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْإِيَادِيُّ الْأَعْرَجُ، بِجَبَلَةَ سَنَةَ تِسْعٍ وَسَبْعِينَ وَمِائَتَيْنِ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 9

9 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُعْفِيُّ ابْنُ أَخِي حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْجُعْفِيِّ , حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّاطَرِيُّ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ السِّمْطِ، عَنِ الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ , ثُمَّ قَلَبَ جُبَّةً كَانَتْ عَلَيْهِ , فَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ» لَا يُرْوَى عَنْ سَلْمَانَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّاطَرِيُّ , وَكُلُّ مَنْ يَبِيعُ الْكَرَابِيسَ بِدِمَشْقَ يُسَمَّى الطَّاطَرِيُّ

ابو العباس احمد بن الحسنین بن علی بن ابراہیم الدمشقی سے مروی حدیث، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا ، پھر اپنے جبہ مبارک کی الٹی جانب سے اپنے چہرہ انور سے پانی صاف کیا۔ یہ حدیث اس اسناد کے ہمراہ صرف ’’ سلمان ‘‘ سے مروی ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’ مروان بن محمد طاطری‘‘ منفرد ہیں۔( دمشق میں کاٹن بیچنے والے کو طاطری کہاجاتا ہے)۔

سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ← مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ ← يَزِيدَ بْنِ مَرْثَدٍ، ← الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ، ← يَزِيدَ بْنِ السِّمْطِ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّاطَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُعْفِيُّ ابْنُ أَخِي حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْجُعْفِيِّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 9

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 10

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْقَاهِرِ بْنِ الْعَنْبَرِيِّ اللَّخْمِيُّ الدِّمَشْقِيُّ نَزِيلٌ بِدِمَشْقَ سَنَةَ تِسْعٍ وَسَبْعِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا مُنَبِّهُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْوَضِينُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَشْرَفُ الْإِيمَانِ أَنْ يَأْمَنَكَ النَّاسُ , وَأَشْرَفُ الْإِسْلَامِ أَنْ يَسْلَمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ , وَأَشْرَفُ الْهِجْرَةِ أَنْ تَهْجُرَ السَّيِّئَاتِ , وَأَشْرَفُ الْجِهَادِ أَنْ تَقْتُلَ وَتَعْقِرَ فَرَسَكَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْوَضِينِ إِلَّا صَدَقَةُ، تَفَرَّدَ بِهِ مُنَبِّهُ بْنُ عُثْمَانَ

احمد بن عبدالقاہر بن العنبری اللخمی دمشقی سے مروی حدیث،یہ حدیث آپ سے ۲۷۹ ہجری میں لی، اس وقت آہ دمشق میں رہائش پزیر تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے بہتر ایمان یہ ہے کہ لوگ تجھ سے امن میں رہیں۔ اور سب سے بہتر اسلام یہ ہے کہ لوگ تیری زبان اور تیرے ہاتھ سے امن میں رہیں۔اور سب سے بہتر ہجرت یہ ہے کہ تو گناہوں کو چھوڑ دے۔اور سب سے بہتر جہاد یہ ہے کہ تو اپنے گھوڑے کہ کونچیں کاٹ کر جہاد کرے۔ اس حدیث کو ’’ وضین‘‘ سے ’’صدقہ‘‘ کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا۔ اور ان سے روایت کرنے میں’’ منبہ بن عثمان‘‘ منفرد ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ ← مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ ← الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ، ← صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُنَبِّهُ بْنُ عُثْمَانَ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 11

11 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ سَعْدٍ الْمُرِّيُّ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْمُطْعِمُ بْنُ الْمِقْدَامٍ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ ابْنِ عُمَرَ , " إِذْ مَرَّ بِرَاعٍ يَزْمِرُ , فَضَرَبَ وَجْهَ النَّاقَةِ , وَصَرَفَهَا عَنِ الطَّرِيقِ , وَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: أَتَسْمَعُ أَتَسْمَعُ؟ حَتَّى انْقَطَعَ الصَّوْتُ , فَقُلْتُ: لَا أَسْمَعُ , فَرَدَّهَا إِلَى الطَّرِيقِ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْمُطْعِمِ إِلَّا خَالِدٌ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُهُ مَحْمُودٌ , وَلَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ نَافِعٍ إِلَّا الْمُطْعِمٌ , وَمَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ , وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، تَفَرَّدَ بِهِ عَنْ مَيْمُونٍ أَبُو الْمَلِيحِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ , وَتَفَرَّدَ بِهِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

احمد بن محمد بن ولید بن سعد المری دمشقی سے مروی حدیث ، حضرت نافع فرماتے ہیں میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پیچھے سوار تھا ہمارا گزر ایک چرواہے کے پاس سے ہوا وہ بانسری بجا رہا تھا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے وہ راستہ چھوڑ دیا ، کانوں میں انگلیاں ڈال لیں ، اور مجھ سے پوچھتے رہے ؟ کیا ابھی بھی بانسری کی آواز سنائی دے رہی ہے ؟ جب وہاں سے اتنی دور نکل گئے جہاں بانسری کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ، میں نے بتایا کہ اب آواز نہیں آرہی ، تب اپنے کانوں سے انگلیاں بھی نکال لیں اور اونٹنی کو دوبارہ راستے پر لے آئے اور فرمایا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا۔ یہ حدیث ’’ مطعم‘‘ سے صرف ’’خالد‘‘ نے روایت کی ہے اور ’’ خالد‘‘ سے روایت کرنے میں ان کا بیٹا ’’محمود‘‘ منفرد ہے۔ اور اس حدیث کو ’’نافع‘‘ سے صرف مطعم ، میمون بن مہران، اور سلیمان بن موسیٰ نے روایت کیا ہے۔ یہ حدیث میمون سے روایت کرنے میں ’’ ابو الملیح حسن بن عمر رقی ‘‘ منفرد ہیں اور ’’ سلیمان بن موسیٰ‘‘ سے روایت کرنے میں ’’سعید بن عبدالعزیز‘‘ منفرد ہیں۔

سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← مَيْمُونٍ أَبُو الْمَلِيحِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ وَتَفَرَّدَ بِهِ ← نَافِعٍ إِلَّا الْمُطْعِمٌ وَمَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، تَفَرَّدَ بِهِ ← الْمُطْعِمِ إِلَّا خَالِدٌ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُهُ مَحْمُودٌ وَلَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ ← هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَفْعَلُ، لَمْ يَرْوِهِ ← أَتَسْمَعُ أَتَسْمَعُ؟ حَتَّى انْقَطَعَ الصَّوْتُ فَقُلْتُ: لَا أَسْمَعُ فَرَدَّهَا إِلَى الطَّرِيقِ ← الطَّرِيقِ وَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَهُوَ ← كُنْتُ رِدْفَ ابْنِ عُمَرَ إِذْ مَرَّ بِرَاعٍ يَزْمِرُ فَضَرَبَ وَجْهَ النَّاقَةِ وَصَرَفَهَا ← نَافِعٍ ← الْمُطْعِمِ بْنِ الْمِقْدَامِ الصَّنْعَانِيِّ، ← أَبِي ← مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ سَعْدٍ الْمُرِيُّ الدِّمَشْقِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 11

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 12

12 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَعْدٍ الْقَاضِي الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ زِيَادٍ الْبَسْتِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى , فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ» ، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ نَافِعٍ إِلَّا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ تَفَرَّدَ بِهِ الْفَضْلُ بْنُ زِيَادٍ , وَقَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَهُمَا صَحِيحَانِ

احمد بن علی بن سعد القاضی الحمصی سے مروی حدیث، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رات کے نوافل دو دو کر کے پڑھنا چاہئیں، اگر اسی اثنا میں طلوع فجر کا خوف ہو تو اس دو کے ساتھ ایک اور رکعت ملا کر ان کو وتر (یعنی طاق )کر دو ۔اس حدیث کو ’’محمد بن عمرو‘‘ کے واسطےسے ’’نافع ‘‘ سے صرف’’ عباد بن عباد‘‘ نے روایت کیا ہے اور’’ عباد ‘‘سے روایت کرنے میں ’’فضل بن زیاد ‘‘ منفرد ہیں ۔ البتہ اسی حدیث کو ’’محمد بن عمر ‘‘ کے واسطے سے ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے متعدد راویوں نے روایت کیا ہے اور یہ دونوں صحیح ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ زِيَادٍ الْبَسْتِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَعْدٍ الْقَاضِي الْحِمْصِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 13

13 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ لِكُلِّ دِينٍ خُلُقًا , وَخُلُقُ الْإِسْلَامِ الْحَيَاءُ» ، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَالِكٍ إِلَّا عِيسَى بْنُ يُونُسَ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ سَهْمٍ

احمد بن محمد ابو موسیٰ الانطا کی سے مروی حدیث، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر دین کا ایک خلق ہوتا ہے اور اسلام کا خلق ’’ حیاء‘‘ ہے۔ اس حدیث کو مالک سے صرف ’’ عیسٰی بن یونس‘‘ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’ ابن سہم ‘‘ منفرد ہیں۔

أَنَسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← محمد بن عبد الرحمن بن سهل الأنطاكي ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَنْطَاكِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 14

14 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْخَشَّابُ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ جُنَادٍ الْحَلَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَفَّافُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ رَوْحِ بْنِ زِنْبَاعٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى تَمِيمٍ الدَّارِيِّ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَهُوَ يُنَقِّي لِفَرَسِهِ شَعِيرًا , فَقُلْتُ لَهُ: أَيُّهَا الْأَمِيرُ , أَمَا كَانَ لَكَ مَنْ يَكْفِيكَ هَذَا؟ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ نَقَّى لِفَرَسٍ شَعِيرًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ , ثُمَّ قَامَ بِهِ حَتَّى يُعَلِّقَهُ عَلَيْهِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ شَعِيرَةٍ حَسَنَةً» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ إِلَّا ابْنُ شَوْذَبٍ , وَلَا عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ إِلَّا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ تَفَرَّدَ بِهِ عُبَيْدُ بْنُ جُنَادٍ

احمد بن اسحاق الخشاب رقی سے مروی حدیث، روح بن زنباع بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت تمیم داری کے پاس گیا، آپ ان دنوں بیت المقدس کے امیر تھے، آپ اپنے گھوڑے کے لیے جو صاف کر رہے تھے، میں نے کہا: اے امیر! اس کام کے لئے آپ کے پاس کوئی خادم وغیرہ نہیں ہے؟ آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ’’ جس نے اللہ کی راہ میں گھوڑے کے لئے جو صاف کئے پھر اس کو لے کر کھڑا ہوگا، اور گھوڑے کو کھلا دئیے ، اللہ تعالی اس گھوڑے کے ہر ہر بال کے بدلے اس کو نیکی عطاء کرتا ہے‘‘۔ اس حدیث کو ’’ ابراہیم بن ابی عبلہ ‘‘ سے صرف ’’ عبداللہ بن شوذب‘‘ نے روایت کیا ہے اور ’’ ابن شوزب‘‘ سے صرف ’’عطاء بن مسلم ‘‘نے روایت کیا ہے اور ’’ عطاء‘‘ سے روایت کرنے میں ’’ عبید بن جناد‘‘ منفرد ہیں۔

روح بن زنباع ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، ← عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَفَّافُ، ← عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْخَشَّابُ الرَّقِّيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 15

15 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْخَشَّابُ الْبَلَدِيُّ بِبَلَدٍ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَعَنَ الْمُخَنَّثِينَ وَقَالَ: «لَا تُدْخِلُوهُمْ بُيُوتَكُمْ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْحَارِثِ إِلَّا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ , وَلَا عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ إِلَّا عَفَّانُ

احمد بن اسحا ق الخشاب البلدی سے مروی حدیث، حضرت عبداللہ بن عباسرضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہیجڑوں پر لعنت فرمائی اور ان کو اپنے گھروں میں داخل کرنے سے منع فرمایا ۔ اس حدیث کو ’’ حارث بن حصیرہ‘‘ سے صرف ’’عبد الواحد بن زیاد‘‘ نے روایت کیا ہے اور ’’ عبدالواحد‘‘ سے روایت کرنے میں ’’عفان ‘‘ منفرد ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْخَشَّابُ الْبَلَدِيُّ بِبَلَدٍ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 16

16 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ أَبُو الْفَوَارِسِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ، عَنْ جَدَّتِهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: إِنِّي وُلِدَ لِي غُلَامٌ , فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا , وَكَنَّيْتُهُ أَبَا الْقَاسِمِ , فَذُكِرَ لِي أَنَّكَ تَكْرَهُ ذَلِكَ , فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا الَّذِي أَحَلَّ اسْمِي وَحَرَّمَ كُنْيَتِي , وَمَا الَّذِي حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ صَفِيَّةَ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ , وَلَا يُرْوَى عَنْ عَائِشَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ

احمد بن عبدالرحمٰن بن عقال ابو الفوارس الحرانی سے مروی حدیث، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں: ایک خاتون حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئی ، اور کہنے لگی میرے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے ، میں نے اس کا نام ’’محمد ‘‘ اور کنیت ’’ابو القاسم ‘‘رکھی ہے ۔ مجھے کسی نے بتایا کہ آپ اس کو پسند نہیں فرماتے ، (میں اس کی وضاحت کے لئے آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی ہوں ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کس نے میرا نام رکھنا حلال اور کنیت رکھنا حرام کیا ؟ (یا شاید یہ الفاظ فرمائے )وہ کون ہے جس نے میری کنیت حرام کی اور میرا نام رکھنا حلال کیا؟۔ اس حدیث کو ’’صفیہ بنت شیبہ ‘‘ سے صرف ’’محمد بن عمران ‘‘نے روایت کیا ہے اور ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اس اسناد کے ہمراہ صرف یہی حدیث مروی ہے ۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 17

17 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَطِيرٍ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَا يَأْكُلُ إِلَّا مِنْ كَسْبِ يَدِهِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ إِلَّا الْوَلِيدُ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ

احمد بن مطیر ابو جعفر الرملی القاضی سے مروی حدیث، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے ۔اس حدیث کو اوزاعی سے صرف ’’ولید ‘‘ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’ابن ابی السری ‘‘منفرد ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَطِيرٍ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ الْقَاضِي،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 18

18 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْحَلَبِيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، بِحَلَبَ سَنَةَ 278 ثَمَانٍ وَسَبْعِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يُونُسَ الْأَفْطَسُ أَخُو أَبِي مُسْلِمٍ الْمُسْتَمْلِي , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دَعَا اللَّهُ عَبْدًا مِنْ عَبِيدِهِ , فَيُوقَفُ بَيْنَ يَدَيْهِ , فَيَسْأَلُهُ عَنْ جَاهِهِ كَمَا يَسْأَلُهُ عَنْ مَالِهِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ إِلَّا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ تَفَرَّدَ بِهِ يُوسُفُ بْنُ يُونُسَ

ابو عبد اللہ احمد بن خالد الحلبی سے مروی حدیث، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالی اپنے ایک بندے کو بلا کر اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور جیسے اس سے اس کے مال کے بارے میں سوال ہوگا اسی طرح اس کے مقام اور مرتبے کے بارے میں بھی سوال ہوگا ۔یہ حدیث ’’عبداللہ بن دینار ‘‘سے صرف ’’سلیمان بن بلال ‘‘ہی نے روایت کی ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’یوسف بن یونس ‘‘منفرد ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← يُوسُفُ بْنُ يُونُسَ الْأَفْطَسُ، أَخُو أَبِي مُسْلِمٍ الْمُسْتَمْلِي ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْحَلَبِيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، بِحَلَبَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18

chevron_left Previous
1…606162…100
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter