المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 1085
1085 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ الْكِسَائِيُّ الْأُبُلِّيُّ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَنْشَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُحَدِّثُنَا عَنْ أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرِينَا مَصَارِعَ أَهْلِ بَدْرٍ بِالْأَمْسِ مِنْ بَدْرٍ يَقُولُ: «هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا , وَهَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ» قَالَ عُمَرُ: فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ , مَا أَخْطَأُوا الْحُدُودَ الَّتِي حَدَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَجُعِلُوا فِي بِئْرٍ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ , فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ , فَقَالَ: «يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ , وَيَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ , هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ حَقًّا؟ فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي اللَّهُ حَقًّا» , فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ تُكَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاحَ فِيهَا؟ فَقَالَ: «مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَرُدُّوا شَيْئًا» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عُمَرَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ
موسیٰ بن حسن الکسائی الا بلی سے مروی حدیث ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہمیں اہل بدر کے بارے میں واقعات سنانا شروع ہوئے انہوں نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر سے ایک دن پہلے ہی بدر کے مقتولوں کے قتل ہونے مقامات دکھا دیے تھے اور آپ نے فرمایا تھا اس جگہ پر فلاں شخص قتل ہو گا اس جگہ پر فلاں شخص قتل ہو گا ان شاء اللہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےجو نشانات لگائے تھے کوئی بھی مقتول وہاں سے ذرا بھی آگے پیچھے نہ تھا پھر ان مقتولوں کو ایک کنویں کے اندر ایک دوسرے کے اوپر پھینک دیا گیا ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اس کنویں کے پاس آگئے آپ نے فرمایا اے فلاں بن فلاں اے فلاں بن فلاں کیا تم نے اللہ اور اسکے رسول کاکیا ہوا وعدہ حق پالیا ؟ کیونکہ اللہ نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا میں نے تو اس کو حق پالیا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ایسے جسموں کے ساتھ کیسے گفتگو فرما رہے ہیں جن کے اندر روح نہیں ہے ؟ آپ نے فرمایا میں جوکچھ کہہ رہا ہوں تم اس کو ان سے زیادہ نہیں سن پارہے ہو فرق صرف یہ ہے کہ یہ لوگ کسی بات کا جواب دینے کی استطاعت نہیں رکھتے ۔ اس حدیث کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ روایت کیا گیا ہے اس حدیث کو روایت کرنے میں سلیمان بن مغیرہ منفرد ہیں ۔
أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ ← أَنشأَ عمرُ بنُ الخطابِ يُحدِّثنا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ الْكَسَائِيُّ الْأُبُلِّيُّ
Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1085
