Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 1097

1097 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى مُزَيْنَةَ , حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: خَرَجَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لِطَلَبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَلَمْ يَجِدْهُ , فَطَلَبَهُ فِي بُيُوتِهِ , فَلَمْ يَجِدْهُ , فَأَتْبَعَهُ فِي سِكَّةٍ سِكَّةٍ حَتَّى دُلَّ عَلَيْهِ فِي جَبَلِ ثَوَابٍ فَخَرَجَ حَتَّى رَقِيَ جَبَلَ ثَوَابٍ , فَنَظَرَ يَمِينًا وَشِمَالًا , فَبَصُرَ بِهِ فِي الْكَهْفِ الَّذِي اتَّخَذَ النَّاسُ إِلَيْهِ طَرِيقًا إِلَى مَسْجِدِ الْفَتْحِ قَالَ مُعَاذٌ: فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ , فَهَبَطْتُ مِنْ رَأْسِ الْجَبَلِ , وَهُوَ سَاجِدٌ , فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى أَسَأْتُ بِهِ الظَّنَّ , فَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ قُبِضَ , فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَقَدْ أَسَأْتُ بِكَ الظَّنَّ , وَظَنَنْتُ أَنَّكَ قَدْ قُبِضْتَ , فَقَالَ: " جَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِهَذَا الْمَوْضِعِ , فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ , وَيَقُولُ لَكَ: مَا تُحِبُّ أَنْ أَصْنَعَ بِأُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: اللَّهُ أَعْلَمُ , فَذَهَبَ , ثُمَّ جَاءَنِي , فَقَالَ إِنَّهُ يَقُولُ: لَا أَسُوءُكَ فِي أُمَّتِكَ , فَسَجَدْتُ؛ فَأَفْضَلُ مَا يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ السُّجُودُ " لَا يُرْوَى عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , عَنْ مُعَاذٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ

مسعدہ بن سعد العطار المکی سے مروی حدیث ، حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈتے ہوئے نکلے لیکن آپ کو نہ پایا پھر انہوں نے آپ کو آپ کے حجروں میں ڈھونڈا لیکن آپ کو نہ پایا پھر وہ آپ کو گلیوں میں ڈھونڈتے رہے حتیٰ کہ کسی نے بتایا کہ آپ ثواب نامی پہاڑ میں گئے ہوئے ہیں ۔ حضرت ابو قتادہ بھی اس پہاڑ پر آئے اور اوپر چڑھ گئے اوپر چڑھ کر انہوں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو ان کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس غار میں دکھائی دیئے جس کو لوگ مسجد فتح کی جانب جانے کے لیے راستے کے طور پر استعمال کرتے تھے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے میں پہاڑ کی چوٹی سے نیچے اتر آیا لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک بد ستور سجدے میں تھے ۔ اس قدر طویل سجدے کو دیکھ کر مجھے وسوسے آنے لگے اور میں یہ سمجھا کہ شاید آپ کی روح پرواز کر گئی ہے جب آپ نے اپنا سر سجدے سے اٹھا یا میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تو آپ کے بارے میں وسوسے آنے لگے تھے اور میں تو یہ سمجھا تھا کہ شاید آپ کی روح پرواز کر گئی ہے آپ نے فرمایا میرے پاس اس جگہ پر جبرائیل امین تشریف لائے تھے میں نے کہا اللہ بہتر جاتا ہے پھر حضرت جبرائیل امین علیہ السلام گئے اور واپس تشریف لائے تھے اور میں تو یہ سمجھا تھا کہ شاید آپ کی روح پرواز کر گئی ہے آپ نے فرمایا میرے پاس اس جگہ پر جبرائیل امین تشریف لائے تھے انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے آپ کیا پسند کرتے ہیں ؟ میں آپ کی امت کے معاملے میں پریشان نہیں ہونے دوں گا ۔ اس لیے میں سجدے میں گر پڑا اور سب سے بہترین چیز جو انسان کو اللہ کے قریب کر دیتی ہے وہ سجدہ ہے ۔ اس حدیث کو ابوقتادہ کے واسطے سے حضرت معاز رضی اللہ عنہ سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ روایت کیا گیا ہے اور اس حدیث کو روایت کرنے میں ابراہیم بن منذر منفرد ہیں ۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1097

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُسْلِمٌ · حديث 1098

1098 - أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَوْجَرِيُّ الصَّنْعَانِيُّ فِي كِتَابِهِ إِلَيْنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «رَدَّ نِكَاحَ بِكْرٍ وَثَيِّبٍ أَنْكَحَهُمَا أَبَوَاهُمَا وَهُمَا كَارِهَتَانِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الثَّوْرِيِّ إِلَّا الذِّمَارِيُّ

مسلم بن محمد العوجری الصنعانی سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کنواری اور شادی شدہ لڑکی کا نکاح کالعدم قرار دیا جو نکاح ان کے ماں باپ نے انکی رضا مندی کے بغیر کیا تھا ۔ اس حدیث کوثور ی سے صرف ذماری نے روایت کیا ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ ← مُسْلِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَوْجَرِيُّ الصَّنْعَانِيُّ فِي كِتَابِهِ إِلَيْنَا

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1098

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُخَوَّلٌ · حديث 1099

1099 - حَدَّثَنَا مُخَوَّلٌ الْمُسْتَمْلِي الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَوَضَّأَ الْمُسْلِمُ , فَغَسَلَ يَدَيْهِ كُفِّرَ بِهِ مَا عَمِلَتْهُ يَدَاهُ , فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ كُفِّرَ عَنْهُ مَا نَظَرَتْ إِلَيْهِ عَيْنَاهُ , فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ كُفِّرَ عَنْهُ مَا سَمِعَتْ أُذُنَاهُ , فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ كُفِّرَ عَنْهُ مَا مَشَتْ إِلَيْهِ قَدَمَاهُ , ثُمَّ يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ , فَهِيَ فَضِيلَةٌ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ مَيْسَرَةَ إِلَّا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

مخول المستملی البغدادی سے مروی ھدیث ، حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا جب مسلمان وضو کرتا ہے اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو اس کے ساتھ کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے پھر جب وہ اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو چہرے کے کیے ہوئے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے پھر جب وہ اپنے سر کا مسح کر تا ہے تو ان گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے جو اس کے کانوں نے سنے ہیں اور جب وہ پاؤں کو دھوتا ہے تو ان گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے جن کی جانب وہ قدموں کے ذریعے چل کر گیا تھا پھر جب وہ نماز کے لیے آٹھ کر کھڑا ہوتا ہے تو یہ اس کے لیے باعث فضیلت ہوتی ہے ۔ اس حدیث کو زکریا بن میسرہ سے صرف یونس بن محمد نے روایت کیا ہے ۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَبِي غَالِبٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ مَيْسَرَةَ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← مُخَوَّلٌ الْمُسْتَمْلِي الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1099

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُصْعَبٌ · حديث 1100

1100 - حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ بِمَدِينَةِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَنَةَ 283 ثَلَاثٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَحْشِيُّ، حَدَّثَنَا عَمِّي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ مَا دَرَيْتُ شَيْئًا قَطُّ وَافَقَهُ , وَلَا شَيْئًا قَطُّ خَالَفَهُ رِضَاءً مِنَ اللَّهِ تَعَالَى بِمَا كَانَ , وَإِنْ كَانَ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ لَتَقُولُ: لَوْ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا مَا لَكَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا؟ يَقُولُ: «دَعُوهُ؛ فَإِنَّهُ لَا يَكُونُ إِلَّا مَا أَرَادَ اللَّهُ» , وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ مِنْ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ لِلَّهِ حُرْمَةٌ، فَإِذَا انْتُهِكَتْ للَّهِ تَعَالَى حُرْمَةٌ , كَانَ أَشَدَّ النَّاسِ غَضَبًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَمَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ لِلَّهِ فِيهِ سَخَطٌ، فَإِنْ كَانَ لِلَّهِ فِيهِ سَخَطٌ كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ إِلَّا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَحْشِيُّ تَفَرَّدَ بِهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشِ بْنِ رِئَابٍ الْأَسَدِيِّ نَسِيبِ زَيْنَبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا

مصعب بن ابراہیم بن حمزہ بن محمد بن حمزہ بن مصعب بن زبیر بن عوام سے مروی حدیث ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے دس سال رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارے ہیں میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی معاملے میں موافقت یا مخالفت اللہ کی رضا کے بغیر کی ہو ۔ اگرچہ آپ کی بعض ازواج آپ کو کہا کرتی تھیں اگر آپ ایسا کام کریں تو کتنا ہی اچھا ہو ( اور بعض اوقات یوں کہا کرتی تھیں ) آپ کو کیا ہوا ہے ؟ آپ فلاں فلاں کام کیوں نہیں کرتے ؟ آپ فرماتے اس کو چھوڑ دو اس لیے کہ ہو گا وہی جو اللہ چاہے گا اور میں نے کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی چیز کا انتظام لیا ہو ، سوائے اس بات کے کہ اللہ تعالیٰ کے محارم کی برحرمتی کی گئی ہو اور جب اللہ کی حدود کو توڑا جاتا تو آپ اللہ کے لیے بہت زیادہ غضبناک ہوتے اور آپ پر جب بھی کوئی دوکام پیش کیے جاتے تو آپ ان میں سے ہمیشہ آسان کو پسند کرتے ، جب تک اس کہ اندر اللہ کی کوئی ناراضگی نہ ہو اور اگر اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کی کوئی ناراضگی ہوتی تو آپ لوگوں میں سب سے زیادہ اس سے دور ہو جاتے ہیں ۔ اس حدیث کو ابن عجلان سے صرف عمر بن محمد جحشی نے روایت کیا ہے اور اس ھدیث کو روایت کرنے میں عبیداللہ بن محمد منفرد ہیں اور یہ عبیدا للہ بن محمد عبداللہ بن حجش بن رباب الاسدی کی اولاد میں سے ہے جو کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے قریبی رشتہ دار ہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← عَمِّي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَحْشِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1100

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُوَرِّعٌ · حديث 1101

1101 - حَدَّثَنَا مُوَرِّعُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو ذُهْلٍ الْمِصِّيصِيُّ، بِالْمِصِّيصَةِ سَنَةَ 278 ثَمَانٍ وَسَبْعِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى الْحَرْبِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَبُو رَجَاءٍ الْكَلِينِيُّ , عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا جُعِلَتِ الشَّفَاعَةُ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ إِلَّا رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ تَفَرَّدَ بِهِ الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى

مورع بن عبداللہ ابو ذبل المصیصی سے مروی ھدیث ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے ۔ اس حدیث کو یزید رشک کے واسطے سے انس بن مالک سے صرف بن مسیب نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں حسن بن عیسیٰ منفرد ہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَزِيدُ الرِّشْكُ ← رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَبُو رَجَاءٍ الْكَلِينِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى الْحَرْبِيُّ ← مُوَرِّعُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو ذُهْلٍ الْمِصِّيصِيُّ، بِالْمِصِّيصَةِ سَنَةَ ثَمَانٍ وَسَبْعِينَ وَمِائَتَيْنِ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1101

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُفَضَّلٌ · حديث 1102

1102 - حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ أَبُو سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ قَالَ: ذَكَرَ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ وَقَفَ بَيْنَ الْجَمْرَتَيْنِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ , وَذَلِكَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ: «هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَعْقُوبَ إِلَّا زَمْعَةُ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو قُرَّةَ

مفضل بن محمد الجندی ابو سعید سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حج کے دوران قربانی کے دن دو جمروں کے درمیان کھڑے ہوئے اور ارشادفرمایا یہ حج اکبر کا دن ہے ۔ اس حدیث کو یعقوب سے صرف زمعہ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابو قرہ منفرد ہیں ۔

يَعْقُوبَ إِلَّا زَمْعَةُ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو قُرَّةَ ← «هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ» لَمْ يَرْوِهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ ← زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ، ← عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ← مُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ أَبُو سَعِيدٍ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1102

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُؤَمَّلٌ · حديث 1103

1103 - حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَيَّارٍ الشِّيرَازِيُّ، بِشِيرَازَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُثَنَّى الْبَاهِلِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ إِلَّا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ

مومل بن محمد سیار الشیرازی سے مروی حدیث ، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ( پردے کا خیال رکھتے ہوئے ) ایک ہی برتن سے غسل کر لیا کرتی تھیں ۔ اس حدیث کو عمر بن عامر سے صرف سالم بن نوح نے روایت کیا ہے ۔

عَائِشَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ، ← سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُثَنَّى الْبَاهِلِيُّ الْبَصْرِيُّ، ← مؤمل بن محمد بن سيار الشيرازي

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1103

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ النُّونِ ‹ مَنِ اسْمُهُ نَصْرٌ · حديث 1104

1104 - حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ السِّنْجَارِيُّ، بِمَدِينَةِ سِنْجَارَ سَنَةَ 278 ثَمَانٍ وَسَبْعِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , حَدَّثَنَا أَبِي مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِيهِ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا طَنَّتْ أُذُنُ أَحَدِكُمْ فَلْيَذْكُرْنِي وَلْيُصَلِّ عَلَيَّ» لَا يُرْوَى عَنْ أَبِي رَافِعٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ مَعْمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ

نصر بن عبدالملک السنجاری سے مروی حدیث ، حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کسی کا کان بچنے لگ جائے تو وہ مجھےیاد کرے اور مجھ پر درود پڑھے ۔ اس حدیث کو ابو رافع سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ روایت کیا گیا ہے او اس حدیث کو روایت کرنے میں محمد بن معمر منفرد ہیں ۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1104

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ النُّونِ ‹ مَنِ اسْمُهُ نَصْرٌ · حديث 1105

1105 - حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْفَتْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا , وَلَوْ كَمَفْحَصِ قَطَاةٍ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي فِي الْجَنَّةِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ إِلَّا مُؤَمَّلٌ

نصر بن الفتح المصری سے مروی حدیث ، حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا جس نے اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنائی اگرچہ کبوتر کے گھونسلے کی مقدار میں حصہ شامل کیا ہو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا ۔ اس حدیث کو ابن عینہ سے صرف ابن مومل نے روایت کیا ہے ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← سفيان -يعني ابن عيينة- ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ ← نَصْرُ بْنُ الْفَتْحِ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1105

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ النُّونِ ‹ مَنِ اسْمُهُ نَصْرٌ · حديث 1106

1106 - حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْحَكَمِ الْمَرْوَزِيُّ، بِبَغْدَادَ سَنَةَ 287 سَبْعٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَسَّامٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ الْقَارِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ: «اللَّهُمَّ , بَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ نَافِعٍ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ

نصر بن حکم المروزی سے مروی حدیث ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے یوں دعا مانگی ۔ " اے اللہ ان کی مد اور ان کے صاع میں برکت عطا فرما" اس حدیث کو نافع سے صرف عبداللہ بن جعفر نے روایت کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← نَافِعِ بْنِ أَبِي نُعَيْمٍ الْقَارِيِّ، ← عبد الله بن جعفر المديني ← مُحَمَّدُ بْنُ بَسَّامٍ الْمَرْوَزِيُّ، ← نَصْرُ بْنُ الْحَكَمِ الْمَرْوَزِيُّ، بِبَغْدَادَ سَنَةَ سَبْعٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1106

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ النُّونِ ‹ مَنِ اسْمُهُ نَفِيسٌ · حديث 1107

1107 - حَدَّثَنَا نَفِيسٌ الرُّومِيُّ، بِمَدِينَةِ عَكَّاءَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّبَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «انْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ دُونَكُمْ , وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ؛ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ إِلَّا يَحْيَى بْنُ عِيسَى تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ إِسْحَاقَ , وَرَوَاهُ أَصْحَابُ الْأَعْمَشِ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

نفیس رومی سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا اس شخص کی طرف دیکھو جو تم سے کم درجے کا ہے اس کی طرف نہ دیکھو جو تم سے اوپر والے درجے کا ہے کیونکہ اس طرح تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اچھی طرح شکر ادا کرو گے ۔ اس حدیث کو اعمش سے ابو وائل سے صرف یحییٰ بن عیسیٰ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں عبدالوحد بن اسحاق منفرد ہیں جبکہ اعمش کے دیگر شاگردوں نے اعمش کے واسطے سے ابو سہل کے بیٹے کے واسطے سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہ حدیث نقل کی ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّبَرَانِيُّ، ← نَفِيسٌ الرُّومِيُّ، بِمَدِينَةِ عَكَّاءَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1107

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ النُّونِ ‹ مَنِ اسْمُهُ نُعَيْمٌ · حديث 1108

1108 - حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّورِيُّ، بِمَدِينَةِ صُورَ , حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ النَّصِيبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دِهْقَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ مُعْنِقًا صَالِحًا مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا , فَإِذَا أَصَابَ دَمًا حَرَامًا بَلَّحَ» لَا يُرْوَى عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ خَالِدُ بْنُ دِهْقَانَ

نعیم بن محمد الصوری سے مروی حدیث ، حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مومن اس وقت تک نیکیوں میں چست رہتا ہے جبب تک ناحق قتل نہ کرے ، جب وہ ناحق قتل کرتا ہے تو نیکیاں کرنے میں ست ہو جاتا ہے ۔ اس حدیث کو ابو درداء سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں خالد بن دہقان منفرد ہیں ۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا، ← خَالِدِ بْنِ دِهْقَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، ← مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ النَّصِيبِيُّ ← نُعَيْمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّورِيُّ، بِمَدِينَةِ صُورَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1108

chevron_left Previous
1…515253…100
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter