Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 532

532 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سِرَاجٍ الْمِصْرِيُّ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ نُبَاتَةَ قَالَ: سَمِعْتُ الْمَأْمُونَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ} [البقرة: 284] شَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَنَزَلَتْ {فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ} [البقرة: 284] , فَسُرِّيَ ذَلِكَ عَنْهُمْ " لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْمَأْمُونِ إِلَّا صَالِحٌ تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی : ﴿ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ ٢٨٤﴾ [البقرة: 284]" اور اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے جی میں ہے یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا " ۔ (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) تو یہ حکم رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب پر بہت شاق گزرا تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ ﴿ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ ٢٨٤﴾ [البقرة: 284] " تو جسے چاہے گا بخشے گا اور جسے چاہے گا سزا دے گا " ۔ (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اس آیت کے نزول کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خوش ہو گئے ۔ اس حدیث کو مامون سے صرف صالح بن نباتہ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں عبداللہ بن محمد المدینی منفرد ہیں ۔

جَدِّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِيهِ ← عَمِّهِ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← المأمون أمير المؤمنين ← صَالِحُ بْنُ نُبَاتَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْمَدِينِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ سِرَاجٍ الْمِصْرِيُّ الْحَافِظُ،

Hadith 532

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 533

533 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ ابْنِ بِنْتِ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو أَبُو غَالِبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ الزِّمِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْجَرْمِيِّ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَاعْتَرَفَتْ بِالزِّنَا , وَكَانَتْ حَامِلًا , فَأَخَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَضَعَتْ , ثُمَّ أَمَرَهَا فَشُدَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا , ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا , ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ وَرَجَمْتَهَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَ بِهَا سَبْعُونَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ , هَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا؟» ، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَيُّوبَ إِلَّا عُبَيْدُ اللَّهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک عورت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں آئی اور اس نے زنا کا اعتراف کیا ۔ اس وقت وہ حاملہ تھی ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی سزا کو بچے کی پیدائش تک ملتوی کر دیا پھر ( جب بچہ پیدا ہو گیا اور وہ کھانے پینے کے قابل ہو گیا تو وہ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ آئی ) رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا ، اس کو کپڑوں سے باندھ دیا گیا پھر آپ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا پھر اس کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ ایک شخص نے کہا: اس زانیہ عورت کو آپ نے رجم کیا ، اب آپ اس کی نماز جنازہ بھی پڑھا رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر اس کی توبہ مدینہ کے رہنے والے ستر لوگوں پر تقسیم کی جائے تو سب کی جانب سے قبول کر لی جائے ۔ اس سے بڑھ کر اچھی بات کیا ہو سکتی ہے کہ اس نے خود کو پاک کر لیا ہے ۔ اس حدیث کو ایوب سے صرف عبید اللہ بن عمر نے روایت کیا ہے ۔

Hadith 533

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 534

534 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ الصَّائِغُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً , الْإِيمَانُ يَمَانٍ , وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ , وَالْفِقْهُ يَمَانٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ شُعْبَةَ إِلَّا يَحْيَى تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: وَفَسَّرَ هَذَا الْحَدِيثَ أَهْلُ الْعِلْمِ , فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَرَادَ بِهِ الْأَنْصَارَ خَاصَّةً , وَقَالَ بَعْضُهُمْ أَرَادَ قَبَائِلَ الْيَمَنِ عَامَّةً

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے پاس یمن کے رہنے والے آئیں گے وہ بہت نرم دل کے مالک ہیں ۔ ایمان یمانی ہے اور حکمت یمانی ہے اور فقہ بھی یمانی ہے ۔ اس حدیث کو شعبہ سے صرف یحییٰ القطان نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابراہیم بن محمد تمیمی منفرد ہیں ۔ ابوا لقاسم کہتے ہیں : اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر بیان کی ہے ۔ کچھ لوگوں نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد خاص طور پر انصار ہیں اور بعض نے کہا: بالعموم یمن کے قبائل مراد ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ الْقَاضِي، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ الصَّائِغُ الْبَغْدَادِيُّ

Hadith 534

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 535

535 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَيَانٍ الْمُطَرِّزُ البَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ صَالِحُ بْنُ حَرْبٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَشَهِدْتَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: قُلْتُ: فَمَا كَانَ عَلَيْهِ؟ قَالَ: «قَمِيصٌ مِنْ قُطْنٍ , وَجُبَّةٌ مَحْشُوَّةٌ , وَرِدَاءٌ , وَسَيْفٌ , وَرَأَيْتُ النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيَّ قَائِمًا عَلَى رَأْسِهِ قَدْ رَفَعَ أَغْصَانَ الشَّجَرَةِ عَنْ رَأْسِهِ وَالنَّاسُ يُبَايِعُونَهُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مِسْعَرٍ إِلَّا إِسْمَاعِيلُ تَفَرَّدَ بِهِ صَالِحٌ

حضرت عطاء ابن ابی رباح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ بیعت رضوان میں شامل ہوئے تھے ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ( عطاء ابن ابی رباح ) فرماتے ہیں : میں نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا چیز پہن رکھی تھی ؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اون کی قمیض اور کناری دار حبہ اور ایک چادر اور ایک تلوار ۔ میں نے نعمان بن مقرن المزنی کو دیکھا وہ کھڑے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک سے درخت کی ٹہنیاں اٹھائے ہوئے تھے اور لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیت کر رہے تھے ۔ اس حدیث کو مسعر سے صرف اسماعیل بن یحییٰ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں صالح بن حرب منفرد ہیں ۔

عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ ← أَبُو مَعْمَرٍ صَالِحُ بْنُ حَرْبٍ ← علي بن بيان المطرز البغدادي

Hadith 535

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 536

536 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَقْرٍ السُّكَّرِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ: ذَكَرَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَبْعِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ إِذَا جَنَّهُمُ اللَّيْلُ آوَوْا إِلَى مَعْلَمٍ بِالْمَدِينَةِ , فَيَبِيتُونَ يَدْرِسُونَ الْقُرْآنَ , فَإِذَا أَصْبَحُوا فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ قُوَّةٌ أَصَابَ مِنَ الْحَطَبِ , وَاسْتَعْذَبَ مِنَ الْمَاءِ , وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ سَعَةٌ أَصَابُوا الشَّاةَ , فَأَصْلَحُوا , فَكَانَتْ تُصْبِحُ مُعَلَّقَةً بِحِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا أُصِيبَ خُبَيْبٌ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِيهِمْ خَالِي حَرَامُ بْنُ مِلْحَانَ , فَأَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ , فَقَالَ حَرَامٌ لِأَمِيرِهِمْ: أَلَا أُخْبِرُ هَؤُلَاءِ أَنَّا لَسْنَا إِيَّاهُمْ نُرِيدُ فَيُخَلُّوا وُجُوهَنَا؟ قَالُوا: نَعَمْ , فَأَتَاهُمْ؟ , فَقَالَ لَهُمْ ذَلِكَ , فَاسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ بِرُمْحٍ , فَأَنْفَذَهُ بِهِ , فَلَمَّا وَجَدَ حَرَامٌ مَسَّ الرُّمْحِ فِي جَوْفِهِ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ , فَانْطَوَوْا عَلَيْهِمْ , فَمَا بَقِيَ مِنْهُمْ مُخْبِرٌ , فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى سَرِيَّةٍ وَجْدَهُ عَلَيْهِمْ قَالَ أَنَسٌ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا صَلَّى الْغَدَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ يَدْعُو عَلَيْهِمْ , فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَى أَبُو طَلْحَةَ يَقُولُ: هَلْ لَكَ فِي قَاتَلِ حَرَامٍ؟ فَقُلْتُ: مَا بَالُهُ؟ فَعَلَ اللَّهُ بِهِ وَفَعَلَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: لَا تَفْعَلْ؛ فَقَدْ أَسْلَمَ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُلَيْمَانَ إِلَّا عَفَّانُ

حضرت ثابت انسانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے 70 انصاری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تذکرہ کیا ہے ۔ ان کی عادت تھی کہ جب رات ہوتی ، تو یہ لوگ مدینہ منورہ میں درس گاہ میں آ جاتے ، یہاں پر قرآن پاک کی درس و تدریس میں تات گزارتے ، جب صبح ہوتی تو جس کسی کے پاس کوئی کھجوریں وغیرہ ہوتیں ، اس کو پانی میں بھگو کر کھا لیتا اور جس کے پاس بکری ذبح کرنے کی گنجائش ہوتی وہ بکری ذبح کر لیتا اور یہ لوگ دن کے وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حجرے کے پاس رہتے ۔ جب حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لوگوں کو وہاں بھیجا، اس جماعت میں میرے ماموں حرام بن ملحان بھی موجود تھے ۔ یہ لوگ بنی سلیم کے ایک قبیلے کے پاس پہنچے حرام نے اپنے امیر سے کہا: ہم ان لوگوں کو بتا نہ دیں کہ ہم ان کا ارادہ کر کے نہیں آئے تاکہ وہ ہمارا راستہ چھڑ دیں ؟ حرام نے کہا: ٹھیک ہے ۔ چنانچہ حرام ان کے پاس آئے اور آ کر ان کو یہ بات کہی ۔ اسی دوران اس قبیلے کا ایک آدمی اپنا نیزہ لے کر آگے بڑھا اور ان کے سینے میں اتار دیا ، جب حضرت حرام رضی اللہ عنہ نے اپنے پیٹ میں نیزے کی چبھن کو محسوس کیا تو کہا اللہ اکبر ! رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا پھر قبیلے کے لوگ بھی ان پر جھپٹ پڑے ( اور ان تمام لوگوں کو شہید کر دیا گیا ) چنانچہ ان میں کوئی آدمی ایسا نہیں بچا تھا جو آ کر ان لوگوں کو ان کی خبر دیتا ( حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ) میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی جنگی مہم پر اتنا غم زدہ نہیں دیکھا جتنا ان لوگوں کی شہادت پر آپ غم زدہ ہوئے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا آپ جب بھی فجر کی نماز پڑھاتے اپنے ہاتھ اٹھا کر ان کے لئے بدعا فرماتے ۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ابو طلحہ آئے ۔ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا آپ حرام کے قاتل کی کوئی خبر سننا چاہتے ہیں ؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے پوچھا : اس کو کیا ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کے انجام تک پہنچا دیا ؟ ابو طلحہ نے کہا: ایسا مت بولو ، وہ اسلام لے آیا ہے ۔ اس حدیث کو سلیمان بن مغیرہ سے صرف عفان نے روایت کیا ہے ۔

ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← عَلِيُّ بْنُ صَقْرٍ السُّكَّرِيُّ الْبَغْدَادِيُّ،

Hadith 536

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 537

537 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ تَمِيمِ بْنِ زَيْدِ بْنِ هَالَةَ بْنِ أَبِي هَالَةَ التَّمِيمِيُّ، بِمِصْرَ , حَدَّثَنَا أَبِي مُحَمَّدٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَمْرِو بْنِ تَمِيمٍ , عَنْ أَبِيهِ تَمِيمِ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَبِيهِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاقِدٌ , فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّ هَالَةَ إِلَى صَدْرِهِ , فَقَالَ: «هَالَةُ , هَالَةُ , هَالَةُ» قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: كَأَنَّهُ سُرَّ بِهِ لِقَرَابَتِهِ مِنْ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَمْ نَكْتُبْهُ إِلَّا عَنْ هَذَا الشَّيْخِ , وَكَانَ مِنْ أَهْلِ الْفَضْلِ

حضرت زید بن ہالہ رضی اللہ عنہ اپنے والد ہالہ بن ابی ہالہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں : وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے ، اس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آرام فرما رہے تھے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیدار ہوئے اور حضرت ہالہ رضی اللہ عنہ کو اپنے سینے سے لگا کر تین مرتبہ کہا ہالہ، ہالہ ، ہالہ ، ( ابو القاسم کہتے ہیں ) ہالہ سے ملاقات کر کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس لئے اتنا خوش ہوئے تھے کہ وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کے رشتہ دار تھے ۔ اس حدیث کو صرف ایسی شیخ کے حوالے سے لکھا گیا ہے اور وہ اہل فضیلت میں سے ہے ۔

أَبِيهِ زَيْدٍ، ← أَبِيهِ تَمِيمِ بْنِ زَيْدٍ ← أَبِيهِ عَمْرِو بْنِ تَمِيمٍ، ← أبي محمد

Hadith 537

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 538

538 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ نَجِيحٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَغَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ خَيْبَرَ وَهُمْ غَارُّونَ , فَقَالُوا: مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ , خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مِسْعَرٍ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ

حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل خیبر پر حملہ کیا ، اہل خیبر بھی حملے کے لئے تیار ہو گئے اور انہوں نے کہا: محمد لشکر سمیت آیا ہے ۔ نبی اکرم نے فرمایا : اللہ اکبر خیبر برباد ہو گیا۔ : ﴿فَإِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ١٧٧﴾ [الصافات: 177]" جب ہم اس قوم کے آنگن میں اترے تو ڈرائے ہوؤں کی کیا ہی بری صبح ہو گی " ۔ (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اس حدیث کو مسعر سے صرف ابن مغیرہ نے روایت کیا ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى الْأَسْلَمِيِّ ← الشَّيْبَانِيِّ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْكُوفِيُّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ نَجِيحٍ الْمِصْرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ

Hadith 538

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 539

539 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْمُثَنَّى الْجُهَنِيُّ التُّسْتَرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْخَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي , فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَقْرِئْ أُمَّتَكَ مِنِّي السَّلَامَ , وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ الْجَنَّةَ طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ عَذْبَةُ الْمَاءِ , وَأَنَّهَا قِيعَانٌ , وَغِرَاسُهَا قَوْلُ سُبْحَانَ اللَّهِ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ , وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ , وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْقَاسِمِ إِلَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , وَلَا عَنْهُ إِلَّا عَبْدُ الْوَاحِدِ , وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ مَرْفُوعًا إِلَّا سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : معراج کی رات میں نے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو دیکھا ، انہوں نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے امت کو میری طرف سے سلام کہنا اور ان کو بتانا کہ جنت نرم زمین ہے ، اس کا پانی میٹھا ہے اور اس کی شجر کاری یہے کہ تم " سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ " پڑھا کرو۔ ا س حدیث کو قاسم سے صرف عبدالرحمن نے روایت کیا ہے اور ان سے صرف عبدالواحد نے روایت کیا ہے اور عبدالواحد سے مرفوعاً صرف سیار بن حاتم نے روایت کیا ہے ۔

جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْخَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْمُثَنَّى الْجُهَنِيُّ التُّسْتَرِيُّ،

Hadith 539

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 540

540 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَمْرٍو الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ نَافِعِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ رَاحَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَحْيَى إِلَّا هُشَيْمٌ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدٌ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو جمعہ پڑھنے کے لئے جانے کا ارادہ رکھتا ہو ، اس کو چاہیے کہ غسل کر لے ۔ اس حدیث کو یحییٰ سے صرف ہشیم نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں محمد بن خالد منفرد ہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← هُشَيْمٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَمْرٍو الْوَاسِطِيُّ،

Hadith 540

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 541

541 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَامِرِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَمْتَحِنُ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ بِهَذِهِ الْآيَةِ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ} [الممتحنة: 12] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ كُلِّهَا " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ إِلَّا الدَّرَاوَرْدِيُّ تَفَرَّدَ بِهِ ضِرَارٌ

حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : جو مومن خواتین رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانت ہجرت کر کے آتیں ، آپ اس آیت :﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ١٢﴾ [الممتحنة: 12]"اے نبی جب تمہارے حضور مسلمان عورتیں حاضر ہوں ، اس پر بیعت کرنے کو کہ اللہ کا کچھ شریک نہ ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان یعنی موضع ولادت میں اٹھائیں اور کسی نیک بات میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی تو ان سے بیعت لو اور اللہ سے ان کی مغفرت چاہو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے " ۔ (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) کی بناء پر ان کی جانچ پرکھ کیا کرتے تھے ۔ اس حدیث کو عبدالواحد ابن ابی عون صرف در اوردی نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ضرار بن صرد منفرد ہیں ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← أَبُو نُعَيْمٍ ضِرَارُ بْنُ صُرَدَ، ← عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَامِرِيُّ الْكُوفِيُّ،

Hadith 541

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 542

542 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُقَدَّمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا عَمِّي الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , فَوَضَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَهُورًا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وَضَعَهُ؟» قِيلَ ابْنُ عَبَّاسٍ , فَضَرَبَ عَلَى مَنْكِبِي , وَقَالَ: «اللَّهُمَّ , فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ , وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ دَاوُدَ إِلَّا الْقَاسِمُ تَفَرَّدَ بِهِ مُقَدَّمُ بْنُ مُحَمَّدٍ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : وہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود تھے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وضو کے لئے پانی رکھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا یہ پانی کس نے رکھا ہے ؟ آپ کو بتایا گیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے کندھوں پر تھپکی دی اور یوں دعا مانگی : اے اللہ اس کو دین کی سمجھ عطا فرما اور اس کو تفسیر کا علم عطا فرما " ۔ اس حدیث کو داؤد بن ابی ہند سے صرف قاسم بن یحییٰ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں مقدم بن محمد منفرد ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَمِّي الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَی ← مُقَدَّمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ

Hadith 542

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 543

543 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ جَبَلَةَ الْكَاتِبُ الْبَغْدَادِيُّ، بأَصْبَهَانَ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَعَلَّمَ الرَّمْيَ ثُمَّ نَسِيَهُ فَهِيَ نِعْمَةٌ جَحَدَهَا» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُهَيْلٍ إِلَّا قَيْسٌ تَفَرَّدَ بِهِ الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جس نے نشانہ بازی سیکھی پھر اس کو بول گیا ، اس نے ایک نعمت کی ناشکری کی ۔ اس حدیث کو سہیل سے صرف قیس نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں حسن بن بشر منفرد ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ الْبَجَلِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ جَبَلَةَ الْكَاتِبُ الْبَغْدَادِيُّ، بأَصْبَهَانَ

Hadith 543

chevron_left Previous
1…456…100
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter