المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 1025
1025 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ بَهْمُرْدَ الْعَسْكَرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا مَسْتُورُ بْنُ عَبَّادٍ أَبُو هَمَّامٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا تَرَكْتُ مِنْ حَاجَةٍ وَلَا دَاجَةٍ إِلَّا أَتَيْتُ عَلَيْهَا، قَالَ: «أَلَيْسَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «فَإِنَّ هَذَا يَأْتِي عَلَى ذَلِكَ كُلِّهِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ ثَابِتٍ إِلَّا مُسْتَوْرِدٌ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو عَاصِمٍ
محمد بن حفص بن بھمر دالعسکری سے مروی ھدیث ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری امت ہر حاجت اور ہر ضرورت پوری ہو جاتی ہے آپ نے فرمایا کیا تو اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور بے شک محمد اللہ کے رسول ہیں اس نے کہا جی ہاں آپ نے فرمایا یہ گواہی تمام ضرورتوں کو پوری کر دیتی ہے ۔ اس حدیث کو ثابت سے صرف مستور و نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے ابو عاصم منفرد ہیں۔
رَجُلٌ: ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← مَسْتُورُ بْنُ عَبَّادٍ أَبُو هَمَّامٍ، ← الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ بَهْمَرْدَ الْعَسْكَرِيُّ،
Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1025
