Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 1013

1013 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الْجُوزَجَانِيُّ، بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَنَاجَشُوا , وَلَا تَبَاغَضُوا , وَلَا تَحَاسَدُوا , وَلَا تَدَابَرُوا , وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ إِلَّا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ

محمد بن حماد الجوز جانی سے مروی حدیث ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی سودے میں فقط ریٹ بڑھانے کے لیے بولی مت لگاؤ جبکہ خریدنے کا ارداہ نہ ہو اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے کے ساتھ حسد نہ کرو اور ایک دوسرے سے تعلقات مت توڑو ۔ اور اللہ کے بندوں بھائی بھائی بن جاؤ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے ۔ اس حدیث کو اعمش سے صرف ابراہیم بن طھمان نے روایت کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الْجُوزَجَانِيُّ، بِبَغْدَادَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1013

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 1014

1014 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدَانَ الْكُوفِيُّ، بِمِصْرَ سَنَةَ خَمْسٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَدَائِنِيُّ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ , عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ (أَبِي الْمُتَوَكِّلِ) النَّاجِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ , مَعَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَصًا مِنْ عِصِيِّ الْجَنَّةِ تَذُودُ بِهَا الْمُنَافِقِينَ عَنْ حَوْضِي» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ شُعْبَةَ إِلَّا سَلَّامٌ

محمد بن زیدان الکوفی سے مروی حدیث ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا دفرمایا اے علی قیامت کے دن تمہارے پاس ایک جنتی لاٹھی ہو گی تو اس کے ساتھ منافقین کو میرے حوض سے بھگائے گا ۔ اس حدیث کو شعبہ سے صرف سلام نے روایت کیا ہے ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الصِّدِّيقِ (أَبِي الْمُتَوَكِّلِ) النَّاجِيِّ ← زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ← شُعْبَةُ، ← سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَدَائِنِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدَانَ الْكُوفِيُّ، بِمِصْرَ سَنَةَ خَمْسٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1014

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 1015

1015 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ نُمَيْرٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , الْعُمْرَةُ وَاجِبَةٌ فَرِيضَتُهَا كَفَرِيضَةِ الْحَجِّ؟ فَقَالَ: «وَأَنْ تَعْتَمِرَ خَيْرٌ لَكَ» عُبَيْدُ اللَّهِ الَّذِي رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ هَذَا الْحَدِيثَ هُوَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْمِصْرِيُّ , وَلَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ إِلَّا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , وَالْمَشْهُورُ مِنْ حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ مِنْ حَدِيثِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَاهُ مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ , حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ , عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ , عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الزُّبَيْرِ

محمد بن عبدالرحیم بن نمیر المصری سے مروی حدیث ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نےعرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ واجب ہے کیا اس کے فرائض حج کے فرائض کی طرح ہیں ؟ آپ نے فرمایا نہیں اگر تم عمرہ کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے ۔ وہ عبید اللہ جن سے یحییٰ بن ایوب نے یہ حدیث روایت کی ہے وہ عبیدہ اللہ ابن ابی جعفر مصر ی ہیں اور اس حدیث کو ابو زبیر سے صرف عبید اللہ جن سے یحییٰ بن ایوب نے یہ حدیث روایت کی ہے وہ عبید اللہ ابن ابی جعفر مصری ہیں اور اس حدیث کو ابو زبیر سے صرف عبید اللہ بن ابی جعفر نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں یحییٰ بن ایوب منفرد ہیں ۔

قُلْتُ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ نُمَيْرٍ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1015

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 1016

1016 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ بَحِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ بَحِيرِ بْنِ رَيْشَانَ الْحِمْيَرِيُّ، بِمِصْرَ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ , فَلَمْ يَجِدْ أَحَدًا يَتْبَعُهُ , فَفَزِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ , فَأَتَاهُ بِمِطْهَرَةٍ مِنْ خَلْفِهِ , فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا فِي سِرْبِهِ فَتَنَحَّى عَنْهُ مِنْ خَلْفِهِ حَتَّى رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ , فَقَالَ: " أَحْسَنْتَ يَا عُمَرُ حِينَ وَجَدْتَنِي سَاجِدًا , فَتَنَحَّيْتَ عَنِّي؛ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَانِي , فَقَالَ: مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ مِنْ أُمَّتِكَ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا وَرَفَعَهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ تَفَرَّدَ بِهِ عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ

محمد بن عبدالرحیم بن بحیر بن عبداللہ بن معاویہ بن بحیر بن ریشان الحمیری سے مروی حدیث ، حضرت عمر فاروق بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت کے لیے باہر نکلے اس دن آپ کے ہمراہ جانے کے لیے کوئی شخص موجود نہ تھا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس بات سے گھبراہٹ ہوئی ، آپ پانی کا لوٹا لے کر آپ کے پیچھے آگئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گزر گاہ میں سجدہ کر رہے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سے ایک طرف ہٹ کر کھڑے ہوگئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا : اے عمر جب تم نے مجھے سجدے میں پایا تو تو نے بہت اچھا کیا کہ مجھے سے ہٹ کر کھڑے ہو گئے کیونکہ جبرائیل امین میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے کہا آپ کا جو امتی آپ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا اور اس کے دن درجات بلند فرمائے گا۔ اس حدیث کو عبید اللہ بن عمر سے صرف یحییٰ بن ایوب نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں عمر بن ربیع منفرد ہیں ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1016

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 1017

1017 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ ابْنُ الْإِمَامِ بِمَدِينَةِ دِمْيَاطَ , حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " يُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فَأُرَجِّلُهُ وَكَانَ لَا يَدْخُلُ بَيْتَهُ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، تَفَرَّدَ بِهِ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ

محمد بن جعفر ابن امام سے مروی حدیث، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت اعتکاف میں اپنا سر مبارک میری جانب بڑھا دیا کرتے تھے میں آپ کے سر میں کنگھی کر دیا کر تی تھی اور آپ طبعی حاجت کے علاوہ گھر میں تشریف نہیں لاتے تھے ۔ اس حدیث کو عبید اللہ بن عمر سے صرف انس بن عیاض نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں علی بن مدینی منفرد ہیں ۔

ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ ابْنُ الْإِمَامِ بِمَدِينَةِ دِمْيَاطَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1017

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 1018

1018 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ هُمْ شَرٌّ عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْمَجُوسِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ تَفَرَّدَ بِهِ مُؤَمَّلٌ

محمد بن ہارون محمد بن بکار بن بلال دمشقی سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے اوپر کچھ ایسے حکمران مسلط ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مجوسیوں سے بھی برے ہوں گے۔ اس حدیث کو سفیان سے صرف مالک بن سعیر نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں مومل منفرد ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مَالِكُ بْنُ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ اِھَابٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1018

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 1019

1019 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ النَّسَائِيُّ، بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , سَمِعْتُ دُعَاءَكَ اللَّيْلَةَ , فَالَّذِي وَصَلَ إِلَيَّ مِنْكَ (مِنْهُ) أَنَّكَ تَقُولُ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي , وَوَسِّعْ لِي فِي دَارِي , وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي» فَقَالَ: «هَلْ تَرَاهُنَّ تَرَكْنَ شَيْئًا» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ إِلَّا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ الْحَسَنِ تَفَرَّدَ بِهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ

محمد بن عبداللہ ابن ابی عون النسائی سے مروی حدیث ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے آپ کی رات کی دعا سنی ہے مجھ تک آپ کے جوا لفاظ پہنچے ہیں وہ یہ ہیں آپ یہ دعا مانگ رہے تھے ۔ " اے اللہ میرے گناہوں کی مغفرت فرما اور میرے گھر کو وسعت عطا فرما اور جو کچھ مجھے تو رزق عطا فرما ئے اس میں برکت عطا فرما ۔ آپ نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے ان میں کوئی چیز چھوڑنے کی ہے ؟ اس حدیث کو سعید جریری سے صرف ابو الحمید بن حسن نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں علی بن حجر منفرد ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا ← أَبِي السَّلِيلِ ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ، ← سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ النَّسَائِيُّ، بِبَغْدَادَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1019

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 1020

1020 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ الْيَافُونِيُّ بِمَدِينَةِ يَافَا , حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ هَارُونَ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُكُمُ الْمُدَافِعُ عَنْ عَشِيرَتِهِ مَا لَمْ يَأْثَمْ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أُسَامَةَ إِلَّا أَيُّوبُ

محمد بن عبداللہ بن عمیرالیافونی سے مروی حدیث ، حضرت سرقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے خاندان کا دفاع کرنے والا ہو جب تک کہ وہ گناہ نہ کرے۔ اس حدیث کو اسامہ سے صرف ایوب نے روایت کیا ہے ۔

سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ، ← اَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ← عِمْرَانُ بْنُ هَارُونَ الرَّمْلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ الْيَافُونِيُّ بِمَدِينَةِ يَافَا

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1020

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 1021

1021 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ عَمْرِو بْنِ يُوسُفَ الْقُومَسِيُّ، بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي طَيْبَةَ، عَنْ أَبِي طَيْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ يَقُولُ أَحَدُكُمْ إِذَا غَضِبَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ذَهَبَ عَنْهُ غَضَبُهُ " لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَى , عَنْ مَسْرُوقٍ إِلَّا أَبُو ظَبْيَةَ , وَرَوَاهُ أَصْحَابُ الْأَعْمَشِ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ الْخُزَاعِيِّ

محمد بن یوسف بن عمرو بن یوسف القومسی سے مروی حدیث، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کسی کو غصہ آئے اگر وہ اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھ لے تو اس کا غصہ ہو سکتا ہے۔ اس حدیث کو اعمش سے پھر ابو ضحیٰ سے پھر مسروق سے صرف ابو ظبیہ نے روایت کیا ہے اور اعمش کے شاگردوں نے اس حدیث کو اعمش سے پھر عدی بن ثابت سے پھر سلیمان صرد الخزاعی سے روایت کیا ہے ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← مَسْرُوقٍ ← مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي طَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي طَيْبَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ عَمْرِو بْنِ يُوسُفَ الْقُومَسِيُّ، بِبَغْدَادَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1021

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 1022

1022 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَى الْمَرْوَزِيُّ، بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ صَاحِبُ ابْنِ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْطَيَ أَرْبَعًا أُعْطِيَ أَرْبَعًا , وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: مَنْ أَعْطَيَ الذِّكْرَ ذَكَرَهُ اللَّهُ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ} [البقرة: 152] , وَمَنْ أَعْطَيَ الدُّعَاءَ أُعْطِيَ الْإِجَابَةَ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ} [غافر: 60] , وَمَنْ أَعْطَيَ الشُّكْرَ أُعْطِيَ الزِّيَادَةَ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ} [إبراهيم: 7] , وَمَنْ أَعْطَيَ الِاسْتِغْفَارَ أُعْطِيَ الْمَغْفِرَةَ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا} [نوح: 10] لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ إِلَّا هُشَيْمٌ تَفَرَّدَ بِهِ مَحْمُودُ بْنُ الْعَبَّاسِ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: وَقَدِ افْتَتَنَ جَمَاعَةٌ مِمَّنْ لَا عِلْمَ لَهُمْ بِأَنْ يَقُولُوا: نَدْعُو فَلَا يُسْتَجَابُ لَنَا , وَهَذَا رَدٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؛ لِأَنَّ اللَّهَ يَقُولُ وَقَوْلُهُ الْحَقُّ {ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ} [غافر: 60] , وَقَالَ: { «وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ، أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ» } [البقرة: 186] , وَلِهَذَا مَعْنًى لَا يَعْرِفُهُ إِلَّا أَهْلُ الْعِلْمِ وَالْمَعْرِفَةِ , وَقَدْ فَسَّرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَوَى أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ وَجَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو اللَّهَ بِدَعْوَةٍ إِلَّا اسْتَجَابَ لَهُ فَهُوَ مِنْ دَعْوَتِهِ عَلَى إِحْدَى ثَلَاثٍ: إِمَّا أَنْ يُعَجَّلَ لَهُ فِي الدُّنْيَا , وَإِمَّا أَنْ تُدَّخَرَ (يُؤَخَّرَ) فِي الْآخِرَةِ , وَإِمَّا أَنْ يُدْفَعَ عَنْهُ مِنَ الْبَلَاءِ مِثْلُهَا " , فَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَحَدَّثَنَاهُ أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ , عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ

محمد بن اسحاق بن موسیٰ المروزی سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا جس کو چار چیزیں مل گئیں اس کو چار اور چیزیں بھی مل گئیں اس بات کی تفصیل قرآن پاک میں موجود ہے جس کو ذکر عطاکیا گیا اللہ اس کو یاد کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے " تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا" اور جس شخص کو دعا مانگنے کی توفیق دی گئی ہے اس کی دعا کو قبول بھی کر لیا جاتا ہے ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا " تم مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا"۔ جس شخص کو شکر کی توفیق دی جاتی ہے اس کی نعمت میں زیادتی بھی کر دی جاتی ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نےا رشادفرمایا ہے " اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور ضرور تمہاری نعمتوں میں اضافہ کروں گا ۔ اور جس شخص کو استغفار کی توفیق دی جاتی ہے اس کو مغفرت عطا کر دی جاتی ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے " تم اپنے رب سے مغفرت مانگو بے شک وہ بخشنے والا ہے " ۔ اس حدیث کو اعمش سے صرف ہشیم نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں محمود بن عباس منفرد ہیں ابوالقاسم کہتے ہیں کچھ جاہل لوگوں کی جماعت فتنے میں مبتلا ہو گئی ہے وہ کہتے ہیں ہم دعائیں تو مانگتے ہیں لیکن ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں یہ تو اللہ تعالیٰ کے وعدے کی خلاف ورزی ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور اس کا وعدہ برحق ہوتا ہے اس نے ارشاد فرمایا تم مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا اور اس نے فرمایا ہے " تم مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا "" اے محبوب جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں تو ان کو کہہ دو میں قریب ہوں ۔ میں دعا مانگنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہوں ۔ وہ جب بھی دعا مانگے اور اس کے حقیقی معافی کو صرف اہل علم اور اہل معرفت ہی جانتے ہیں اور رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کی تفسیر بیان فرمائی ہے جس کو ابو سعید خدری نے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پوری ایک جماعت نے روایت کیا ہے ۔کوئی مسلمان جو اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتا ہے اس کی دعا کو قبول کیا جاتا ہے اس کی عا تین قسموں پر ہوتی ہے یا تو اس کی دعا کا اثر دنیا میں ہی دکھا دیا جاتا ہے اور ابو سعید خدری کی جو حدیث ہے وہ ہمیں ابوزرعہ دمشقی نے بیان کی ہے وہ کہتے ہیں مجھے محمد بن بکار بن بلال نے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں مجھے سعید بن بشیر نے بیان کی ہے وہ کہتے ہیں " قتادہ نے ابوالمتوکل الناجی کے واسطے سے ابو سعید خدری کے حوالے سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی جیسا فرمان نقل کیا ہے ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← الْاَعْمَشِ ← هُشَيْمٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ صَاحِبُ ابْنِ الْمُبَارَكِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَى الْمَرْوَزِيُّ، بِبَغْدَادَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1022

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 1023

1023 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جُوتَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مَعْنٍ إِلَّا عَبْدُ الْمَلِكِ الذِّمَارِيُّ

محمد بن اسحاق بن ابراہیم بن جوتی الصنعانی سے مروی حدیث ، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادف فرمایا ولآء اس شخص کے لیے ہے جس نے آزاد کیا ۔ اس حدیث کو قاسم بن معن سے صرف عبدالملک ذماری نے روایت کیا ہے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← الْقَاسِمِ بْنِ مَعْنٍ ← عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جُوتِي الصَّنْعَانِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1023

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 1024

1024 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَهْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَسْكَرِيُّ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ بَشِيرٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ فِي الْجَنَّةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي مُؤْمِنًا وَلَا مُشْرِكًا , أَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَحْجِزُهُ إِيمَانُهُ , وَأَمَّا الْمُشْرِكُ فَيَقْمَعُهُ كُفْرُهُ , وَلَكِنْ أَتَخَوَّفُ عَلَيْكُمْ مُنَافِقًا عَالِمُ اللِّسَانِ يَقُولُ مَا تَعْرِفُونَ وَيَعْمَلُ مَا تُنْكِرُونَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ إِلَّا عَبَّادُ بْنُ بَشِيرٍ وَلَا يُرْوَى عَنْ عَلِيٍّ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ

محمد بن یحییٰ بن سہل بن محمد العسکری سے مروی حدیث ، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اپنی امت کے بارے میں ان کے مومن یا مشرک ہونے کا کوئی خدشتہ نہیں ہے کیونکہ جو مومن ہوگا اس کا ایمان اس کو بچا لے گا اور جو مشرک ہو گا اس کا کفر اس کو برباد کر دے گا البتہ مجھے تم پر اس زبان جاننے والے منافق کا خوف ہے جو باتیں تو وہ کرے گا جس کو تم جانتے ہو لیکن اس کے عمل نا پسندیدہ ہوں گے ۔ اس حدیث کو ابو اسحاق سے صرف عباد بن بشیر نے روایت کیا ہے اور یہ حدیث علی سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ مروی ہے ۔

عَلِيٍّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ فِي الْجَنَّةِ ← الْحَارِثِ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← عَبَّادُ بْنُ بَشِيرٍ الْكُوفِيُّ، ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَهْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَسْكَرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1024

chevron_left Previous
1…444546…100
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter