Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 856

856 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ الْبَصْرِيُّ ابْنُ أَخِي الْعَبَّاسِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيِّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ حَاتِمٍ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ [ص:101] الْأَنْصَارِيُّ , عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ , فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَيْهِ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ رِجَالَ الْأَنْصَارِ وَنِسَاءَهُمْ قَدْ أَتْحَفُوكَ غَيْرِي , وَلَمْ أَجِدْ مَا أُتْحِفُكَ إِلَّا ابْنِي هَذَا , فَاقْبَلْ مِنِّي يَخْدُمْكَ مَا بَدَا لَكَ قَالَ: فَخَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ , فَلَمْ يَضْرِبْنِي ضَرْبَةً قَطُّ , وَلَمْ يَسُبَّنِي , وَلَمْ يَعْبِسْ فِي وَجْهِي , وَكَانَ أَوَّلُ مَا أَوْصَانِي بِهِ أَنْ قَالَ: «يَا بُنَيَّ , اكْتُمْ سِرِّي تَكُنْ مُؤْمِنًا» , فَمَا أَخْبَرْتُ بِسِرِّهِ أَحَدًا , وَإِنْ كَانَتْ أُمِّي , وَأَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلْنَنِي أَنْ أُخْبِرَهُنَّ بِسِرِّهِ فَلَا أُخْبِرُهُنَّ وَلَا أُخْبِرُ بِسِرِّهِ أَحَدًا أَبَدًا , ثُمَّ قَالَ: «يَا بُنَيَّ أَسْبِغِ الْوُضُوءَ يُزَدْ فِي عُمْرِكَ وَيُحِبَّكَ حَافِظَاكَ» , ثُمَّ قَالَ: «يَا بُنَيَّ , إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَبِيتَ إِلَّا عَلَى وُضُوءٍ فَافْعَلْ , فَإِنَّهُ مَنْ أَتَاهُ الْمَوْتُ وَهُوَ عَلَى وُضُوءٍ أُعْطِيَ الشَّهَادَةَ» , ثُمَّ قَالَ: «يَا بُنَيَّ , إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَزَالَ تُصَلِّي فَافْعَلْ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَزَالُ تُصَلِّي عَلَيْكَ مَا دُمْتَ تُصَلِّي» , ثُمَّ قَالَ «يَا بُنَيَّ , إِيَّاكَ وَالِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ , فَإِنَّ الِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ هَلَكَةٌ , فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَفِي التَّطَوُّعِ لَا فِي الْفَرِيضَةِ» , ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا بُنَيَّ , إِذَا رَكَعْتَ فَضَعْ كَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ , وَافْرُجْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ , وَارْفَعْ يَدَيْكَ عَلَى جَنْبَيْكَ , فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَكُنْ لِكُلِّ عُضْو [ص:102] مَوْضِعَهُ , فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ» , ثُمَّ قَالَ: " يَا بُنَيَّ , إِذَا سَجَدْتَ فَلَا تَنْقُرْ كَمَا يَنْقُرُ الدِّيكُ , وَلَا تُقْعِ كَمَا يُقْعِي الْكَلْبُ , وَلَا تَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْكَ افْتِرَاشَ السَّبْعِ , وَافْرِشْ ظَهْرَ قَدَمَيْكَ الْأَرْضَ , وَضَعْ إِلْيَتَيْكَ عَلَى عَقِبَيْكَ فَإِنَّ ذَلِكَ أَيْسَرُ عَلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي حِسَابِكَ , ثُمَّ قَالَ: «يَا بُنَيَّ بَالِغْ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ تَخْرُجْ مِنْ مُغْتَسَلِكَ لَيْسَ عَلَيْكَ ذَنْبٌ وَلَا خَطِيئَةٌ» قُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي , مَا الْمُبَالَغَةُ؟ قَالَ: «تَبُلُّ أُصُولَ الشَّعْرِ , وَتُنَقِّي الْبَشَرَةَ» , ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا بُنَيَّ , إِنْ (إِذَا) قَدَرْتَ أَنْ تَجْعَلَ مِنْ صَلَوَاتِكَ فِي بَيْتِكَ شَيْئًا فَافْعَلْ فَإِنَّهُ يُكْثِرُ خَيْرَ بَيْتِكَ» ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا بُنَيَّ , إِذَا دَخَلْتَ عَلَى أَهْلِكَ فَسَلِّمْ يَكُنْ بَرَكَةً عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ» , ثُمَّ قَالَ: «يَا بُنَيَّ , إِذَا خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ فَلَا يَقَعَنَّ بَصَرُكَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ إِلَّا سَلَّمْتَ عَلَيْهِ تَرْجِعُ وَقَدْ زِيدَ فِي حَسَنَاتِكَ» , ثُمَّ قَالَ: «يَا بُنَيَّ , إِنْ قَدَرْتَ أَنْ تُمسِيَ وَتُصْبِحَ وَلَيْسَ فِي قَلْبِكَ غِشٌّ لِأَحَدٍ فَافْعَلْ» , ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا بُنَيَّ , إِذَا خَرَجْتَ مِنْ أَهْلِكَ فَلَا يَقَعَنَّ بَصَرُكَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ إِلَّا ظَنَنْتَ أَنَّ لَهُ الْفَضْلَ عَلَيْكَ» , ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا بُنَيَّ , إِنْ حَفِظْتَ وَصِيَّتِي فَلَا يَكُونَنَّ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنَ الْمَوْتِ» , ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا بُنَيَّ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ سُنَّتِي وَمَنْ أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي وَمَنْ أَحَبَّنِي كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ» لَا يُرْوَى عَنْ أَنَسٍ بِهَذَا التَّمَامِ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ مُسْلِمٌ الْأَنْصَارِيُّ وَكَانَ ثِقَةً

محمد بن صالح بن ولید النر سی البصری سے مروی حدیث ۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اس وقت میری عمر آٹھ سال تھی میری والدہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے کر گئی اور عرض کی یا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم میرے سوا تمام انصاری مرد اور خواتین نے آپ کی بارگاہ میں تحائف پیش کیے ہیں میرے پاس اس بیٹے کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے جو آپ کی بارگاہ میں نظر کر سکوں آپ میرے بیٹے کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما لیجیے یہ آپ کی خدمت کرتا رہے گا ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ نے مجھے کبھی بھی مارا نہیں کبھی بھی برا بھلا نہیں کہا اور نہ ہی کبھی میرے ساتھ تر شروئی سے پیش آئے آپ نے مجھے جو ابتدائی وصیتیں فرمائیں ان میں سے یہ بھی تھی ۔ اے میرے بیٹے میرے راز کو چھپا کر رکھنا تو مومن رہے گا چنانچہ میں نے آپ کا راز کبھی کسی پر ظاہر نہیں کیا اگرچہ میری والدہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مجھے کہا کرتی تھیں کہ میں ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز بتاؤں لیکن میں ان کو نہ بتاتا اور میں کبھی بھی آپ کا راز کسی پر ظہر نہیں کروں گا۔ اے میرے بیٹے وضو اچھے طریقے سے کیا کرو تیری عمر میں اضافہ ہو گا اور تیرے محافظ فرشتے تجھ سے محبت کریں گے۔ اے بیٹے اگر تو باوضو حالت میں رات گزار سکے تو ایسا ضرور کرنا کیونکہ جس کو وضو کی حالت میں موت آجائے اس کو مقام شہادت مل جاتا ہے ۔ اے بیٹے اگر ہو سکے تو مسلسل مجھ پر دردو پڑھتا رہ کیونکہ جب تک تم مجھ پر درود پڑھتے رہو گے فرشتے تم پر رحمتیں نازل کرتے رہیں گے ۔ اے بیٹے نماز کے دوران ادھر ادھر دیکھنے سے بچو کیونکہ نماز کے دوران ادھر ادھر دیکھنا ہلاکت ہے اور اگر نماز کے دوران ادھر ادھر دیکھنے کی بہت ضرورت ہو تو نفل میں اسکی اجازت ہے فرضوں میں نہیں۔اے بیٹے جب تو رکوع کرے تو اپنی ہتھلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھ دے اور اپنی انگلیوں کو کھلا ہوا رکھ اور اپنے ہاتھوں کے اپنے پہلوؤں سے کھلا ہوا رکھ اور جب تو رکوع سے سر اٹھائے تو اپنے تمام اعضاء کو ان کے مقام پر قرار پکڑنے دو کیونکہ جس شخص کی پشت اس کےرکوع اور سجدے میں سیدھی نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جانب نگاہ رحمت نہیں فرمائے گا۔ اے بیٹے جب سجد ہ کرے تو مرغے کی طرح ٹھونگا مت ماراور کتے کی طرح بازو بچھا کر مت بیٹھو اور اپنی کلائیاں زمین کے ساتھ اس طرح مت بچھاؤ جس طرح درند بچھا کر بیٹھتا ہے اپنے قدموں کی پشت زمین کے ساتھ ملا دو اور اپنی سرین اپنی ایڑیوں پررکھو اس کی بناء پر قیامت کے دن تیرے حساب میں آسانی ہو گی ۔اے بیٹے جنابت کا غسل کرنے میں مبالغہ کراس اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ تو غسل خانے سے نکلے گا تو تیری ذمے نہ کوئی گناہ ہو اور نہ کوئی خطا ہو گی میں نے عرض کیا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں مبالغہ کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے فرمایا اپنے بالو ں کی جڑوں کو اچھی طرح تر کر لو اور پانی جلد کو اچھی دھولو ۔ اے بیٹے اگر اپنی نماز کا کچھ حصہ اپنے گھر میں پڑھ سکو تو ایسا ضرور کرنا کیونکہ اس سے تیرے گھر میں خیر و برکت بڑھتے کی اے بیٹے جب اپنے گھر آؤ تو گھروالوں کو سلام کرو ۔ اس سے تجھے اور تیرے گھر والوں کو برکت ملے گی ۔ اے بیٹے جب تو اپنے گھر سے نکلے تو اہل قبلہ میں جس پر بھی تیری نگاہ پڑے اس کو سلام کر جب تک گھر کو لوٹ کر آئے گا تو تیری نیکیوں میں اضافہ ہو گا ۔ اے بیٹے اگر ایسا ہو سکے تو ایسا ضرور کرنا کہ تو صبح کر ے یا تو شام کرے تو تیرے دل میں کسی کے لیے بھی کھوٹ نہ ہو ۔ اے بیٹے جب تو اپنے گھر سے نکلے تو اہل قبلہ میں جس پر بھی تیری نگاہ پڑے تو اس کے بارے میں یہی سمجھ کہ وہ تجھ پر فضیلت رکھتا ہے ۔ اے بیٹے اگر تو نے میری وصیت کو یاد رکھا اور اس کی حفاظت کی تو تجھے موت سے بڑھ کر کوئی چیز زیادہ محبوب نہ ہو گی ۔ اے میرے بیٹے یہ میر ی سنت ہے جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ہمراہ ہو گا۔ اس حدیث کو اس تفصیل کے ہمراہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ روایت کیا گیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں مسلم الانصاری منفرد ہیں اور وہ فقہ ہیں ۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 856

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 857

857 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَاهِيُّ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَمْرٍو الْأَحْمَسِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ لِيَعْقُوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَخٌ مُؤَاخًى، فَقَالَ لَهُ ذَاتَ يَوْمٍ: يَا يَعْقُوبُ , مَا الَّذِي أَذْهَبَ بَصَرَكَ؟ مَا الَّذِي قَوَّسَ ظَهْرَكَ , فَقَالَ: أَمَّا الَّذِي أَذْهَبَ بَصَرِي فَالْبُكَاءُ عَلَى يُوسُفَ , وَأَمَّا الَّذِي قَوَّسَ ظَهْرِي فَالْحُزْنُ عَلَى ابْنِي بِنْيَامِينَ , فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ , فَقَالَ: يَا يَعْقُوبُ , إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ , وَيَقُولُ لَكَ: أَمَا تَسْتَحِي أَنْ تَشْكُونِي إِلَى غَيْرِي؟ فَقَالَ يَعْقُوبُ: إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ , فَقَالَ جِبْرِيلُ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَشْكُو يَا يَعْقُوبُ , ثُمَّ قَالَ يَعْقُوبُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَيْ رَبِّ , أَمَا تَرْحَمُ الشَّيْخَ الْكَبِيرَ , أَذْهَبْتَ بَصَرِي , وَقَوَّسْتَ ظَهْرِي , فَارْدُدْ عَلَيَّ رَيْحَانَتِي يُوسُفَ أَشُمُّهُ شَمَّةً قَبْلَ الْمَوْتِ , ثُمَّ اصْنَعْ بِي يَا رَبِّ مَا شِئْتَ , فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ , فَقَالَ: يَا يَعْقُوبُ , إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ , وَيَقُولُ لَكَ: أَبْشِرْ , وَلْيَفْرِحْ قَلْبُكَ , فَوَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَوْ كَانَا مَيِّتَيْنِ لَنَشَرْتُهُمَا لَكَ , فَاصْنَعْ طَعَامًا لِلْمَسَاكِينِ؛ فَإِنَّ أَحَبَّ عِبَادِي إِلَيَّ الْمَسَاكِينُ , وَتَدْرِي لِمَ أَذْهَبْتُ بَصَرَكَ , وَقَوَّسْتُ ظَهْرَكَ , وَصَنَعَ إِخْوَةُ يُوسُفَ بِيُوسُفَ مَا صَنَعُوا، لِأَنَّكُمْ ذَبَحْتُمْ شَاةً , فَأَتَاكُمْ فُلَانٌ الْمِسْكِينُ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَمْ تُطْعِمُوهُ مِنْهَا , وَكَانَ يَعْقُوبُ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا أَرَادَ الْغِذَاءَ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى أَلَا مَنْ أَرَادَ الغَدَاءَ مِنَ الْمَسَاكِينِ فَلْيَتَغَدَّ مَعَ يَعْقُوبٍ، فَإِذَا كَانَ صَائِمًا أَمَرَ مُنَادِيًا , فَنَادَى أَلَا مَنْ كَانَ صَائِمًا مِنَ الْمَسَاكِينِ فَلْيُفْطِرْ مَعَ يَعْقُوبَ " لَا يُرْوَى عَنْ أَنَسٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ

ابو حسین محمد بن احمد الباہی البصری سے مروی حدیث ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت یعقوب علیہ السلام کا ایک منہ بولا بھائی تھا انہوں نے ایک دن کہا اے یعقوب آپ کی آنکھوں کی بینائی کس وجہ سے زائل ہوئی اور آپ کی کمر میں جھکا ؤ کس وجہ سے آیا ؟ حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا میری بنائی زائل ہونے کی وجہ یوسف علیہ السلام کے بارے میں رونا ہے اور میرے بیٹے یامین کی پریشانی نے میری پشت کو ٹیڑھا کر دیا ۔ فوراً حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کیا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کہ آپ کو اس بات سے حیا نہں آتی کہ آپ میرے سوا اور کسی کے سامنے اپنی شکایت پیش کر رہے ہیں حضرت جبرائیل نے کہا اے یعقوب آپ جو شکایت اللہ کی بارگاہ میں پیش کر رہے ہیں اللہ اس کو بہتر طریقے سے جانتا ہے پھر یعقوب علیہ السلام نے کہا اے میرے رب تو اس بوڑھے پر کیوں رحم نہیں کرتا تو نے میر ی بینائی ختم کر دی میری پشت کو ٹیڑھا کر دیا تو میری خؤشبو یوسف کو میرے پاس بھیج دے کہ میں مرنے سے پہلے اس خوشبو کو سونگھ لوں ۔ اس کے بعد اے میرے رب تو جو چاہے میرے ساتھ معاملہ فرمالے حضرت جبرائیل امین تشریف لائے عرض کیا اے یعقوب اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے آپ کو خوشخبری ہو دل خوش ہو جائے میر ی عزت اور میرے جلال کی مجھے قسم اگر تمہارے یہ بچے مر بھی چکے ہوتے تو میں زندہ کر کے ان کو تمہارے پاس واپس بھیجتا آپ مسکینوں کے لیے کھانا پکائیے کیونکہ مجھے بندوں میں سب سے زیادہ محبت مسکینوں سے ہے اور آپ جانتے ہو کہ میں نے آپ کی بینائی کو زائل کیوں کیا اور یوسف کے بھائیوں نے یوسف کے ساتھ جو سلوک کیا وہ کیوں کیا ؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک مرتبہ تم نے بکری ذبح کی تھی ۔ تمہارے پاس فلاں مسکین آیا تھا وہ روزے دار تھا تم نے اس کو اس بکری میں سے کھانا نہیں دیا تھا ۔ اس کے بعد حضر ت یعقوب علیہ السلام نے یہ دعادت بنا لی کہ جب بھی کھانا کھانے کا ارادہ کرتے تو اعلان کرتے کہ اے لوگو جو بھی مسکین روزے دار ہو وہ یعقوب کے ساتھ آکر افطاری کرے" اس حدیث کو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ روایت کیا گیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں وہب بن بقیہ منفرد ہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حُصَيْنِ بْنِ عَمْرٍو الْأَحْمَسِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّة ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَاهِيُّ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 857

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 858

858 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَزِيدَ الْقَصَّاصُ الْبَصْرِيُّ , حَدَّثَنَا دِينَارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَنَسٍ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «طُوبَى لِمَنْ رَآنِي , وَمَنْ آمَنَ بِي , وَمَنْ رَأَى مَنْ رَآنِي»

محمد بن احمد بن یزید القصاص البصری سے مروی حدیث ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خؤشخبری ہے اس شخص کے لیے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا اور اس کے لیے خوشخبری ہے جس نے اس شخص کو دیکھا جس نے مجھے دیکھا اور اس کے لیے بھی خوشخبری ہے جس نے اس شخص کو دیکھا جس نے اس شخص کو دیکھا جس نے مجھے دیکھا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← دِينَارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَنَسٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَزِيدَ الْقَصَّاصُ الْبَصْرِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 858

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 859

859 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الطَّيَالِسِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ طَهْمَانَ أَبُو عَزَّةَ الدَّبَّاغُ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبَابِ مَوْلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ , فَأَتَيْنَا عَلَى مَكَانٍ فِيهِ ثُومٌ , فَأَصَابَ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْهُ , وَجَاءُوا إِلَى الْمُصَلَّى , فَقَالَ: «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا» لَا يُرْوَى عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو عَزَّةَ الدَّبَّاغُ , وَكَانَتْ هَذِهِ الْقِصَّةُ يَوْمَ خَيْبَرَ

محمد بن ابراہیم بن بکیر الطیالسی البصری سے مروی حدیث ، حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر میں تھے ہم ایک علاقے میں پہنچے وہاں پر لہسن تھا کچھ لوگوں نے لہسن کھایا اور اس کے بعد نماز پڑھنے کے لیے آگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے لہسن کھایا ہے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے ۔ اس حدیث کو معقل بن یسار سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ کیا گیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابو عزہ دباغ منفرد ہیں اور یہ واقعہ جنگ خیبر کا ہے ۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 859

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 860

860 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ زَكَرِيَّا بْنُ دِينَارٍ الْغَلَابِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْغُدَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَأَى إِنْسَانًا بِهِ بَلَاءٌ , فَقَالَ: «لَعَلَّكَ سَأَلْتَ رَبَّكَ فَلْيُعَجِّلْ لَكَ الْبَلَاءَ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " فَهَلَّا سَأَلْتَ رَبَّكَ الْعَافِيَةَ , وَقُلْتَ: {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً , وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً , وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} [البقرة: 201] " لَا يُرْوَى عَنْ بُرَيْدَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ

ابو عبداللہ بن محمد بن زکریا بن دینار البصری سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو ایک آزمائش میں گرفتار دیکھا آپ نے فرمایا شاید کہ تو نے اللہ تعالیٰ سے اسی دنیا میں آزمائش آنے کی دعا کی تھی ۔ اس نے کہا جی ہاں آپ نے فرمایا تو نے اپنے رب سے عافیت کیوں نہیں مانگی تمہیں یہ دعا مانگنی چاہیے تھی ۔ اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا فرما اور آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا " اس حدیث کو بریدہ سے اسی اسناد کے ہمراہ روایت کیا گیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں عبداللہ بن رجاء منفرد ہیں ۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 860

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 861

861 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الشَّافِعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ هَاشِمٍ السِّمْسَارُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسٍ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا سِكِّينُ بْنُ سِرَاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ , وَأَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ , وَأَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ سُرُورٌ تُدْخِلُهُ عَلَى مُسْلِمٍ , أَوْ تَكْشِفُ عَنْهُ كُرْبَةً , أَوْ تَقْضِي عَنْهُ دَيْنًا , أَوْ تَطْرُدُ عَنْهُ جُوعًا، وَلَئِنْ أَمْشِي مَعَ أَخٍ لِي فِي حَاجَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتَكِفَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ شَهْرًا فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ , وَمَنْ كَفَّ غَضَبَهُ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ , وَمَنْ كَظَمَ غَيْظَهُ وَلَوْ شَاءَ أَنْ يُمْضِيَهُ أَمْضَاهُ؛ مَلَأَ اللَّهُ قَلْبَهُ رَجَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ , وَمَنْ مَشَى مَعَ أَخِيهِ فِي حَاجَةٍ حَتَّى يُثَبِّتَهَا لَهُ ثَبَّتَ اللَّهُ قَدَمَهُ يَوْمَ تَزُولُ الْأَقْدَامُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَمْرٍو بْنِ دِينَارٍ إِلَّا سِكِّينُ بْنُ سِرَاجٍ , وَيُقَالُ: ابْنُ أَبِي سِرَاجٍ الْبَصْرِيُّ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسٍ الضَّبِّيُّ

محمد عبدالرحیم شافعی البصری سے مروی حدیث ، حضرت عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے مادہ محبوب بندہ کون ہے اور اللہ تعالیٰ کو سب سے مادہ محبت اس شخص سے ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ نفع دینے والا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ کسی مسلمان کے دل کے اندر خوشی داخل کی جائے یا اس سے کوئی مصیبت دور کی جائے یا اس کی جانب سے قرضہ ادا کیا جائے اس کی بھوک مٹائی جائے اور اپنے بھائی کے کام کے لیے اس کے ساتھ چل کر جانا میرے نزدیک مدینہ کی مسجد میں پورا مہینہ مکاتب کرنے سے زیادہ محبوب ہے اور جو شخص اپنے غصے کو کنٹرول کر لیتا ہے اللہ اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے اور جو شخص اپنے غصے کے مطابق عمل کرنے کی قدرت رکھنے کے باوجود اپنے غصے کو پی جاتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دل کو امید بھر دے گا جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت کے لیے اس کے ساتھ چل کر جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس دن اس کے قدموں کو ۔۔۔رکھے گا ۔ جس دن لوگوں کے قدم پھسل رہے ہوں گے ۔ اس حدیث کو عمر و بن دینار سے صرف سکین بن سراج نے روایت کیا ہے ان کا نام ابن ابی سراج بصری بھی بیان کیا گیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں عبدالرحمن بن قیس ضمی منفرد ہیں ۔

عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُكَيْنُ بْنُ سِرَاجٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسٍ الضَّبِّيُّ، ← الْقَاسِمُ بْنُ هَاشِمٍ السِّمْسَارُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الشَّافِعِيُّ الْبَصْرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 861

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 862

862 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْأُبُلٍّيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْمُفَسِّرُ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يَحْيَى الْأُبُلِّيُّ , حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ جُمَيْعٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «الْجَزُورُ وَالْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُغِيرَةَ إِلَّا حَفْصُ بْنُ جُمَيْعٍ تَفَرَّدَ بِهِ عُمَرُ بْنُ يَحْيَى

محمد بن موسیٰ ابو عبداللہ ابو لمفسر ےسے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اونٹ اور گائے سات آدمیوں کی جانب سے قربان کی جا سکتی ہے ۔ اس حدیث کو مغیرہ سے صرف حفص بن جمیع نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں عمربن یحییٰ منفرد ہیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← حَفْصُ بْنُ جُمَيْعٍ، ← عُمَرُ بْنُ يَحْيَى الْأُبُلِّيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْأُبُلٍّيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْمُفَسِّرُ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 862

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 863

863 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ الْبَيْرُوتِيُّ مَكْحُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ , وَعَمِلَ بَعْدَ الْمَوْتِ , وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا وَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَكْحُولٍ إِلَّا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ , وَغَالِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيُّ، تَفَرَّدَ بِهِ عَنْ ثَوْرٍ عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ

محمد بن عبداللہ عبدالسلام البیروتی مکحول ابو عبدالرحمن سے مروی حدیث ، حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشافرمایا سمجھ دار وہ ہے جو اپنا محاسبہ کرتا ہے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرتا ہے اور عاجز وہ شخص ہے جو اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے اور اللہ کے بارے میں امیدیں رکھتا ہے ۔ اس حدیث کو مقبول سے صرف ثور بن اور غالب بن عبداللہ جذری نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں عمرو بن بکر منفرد ہیں ۔

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← مَكْحُولٌ ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ الْبَيْرُوتِيُّ مَكْحُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 863

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 864

864 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُرَاعَا بْنِ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلِ الْمُزَنِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ عَائِشَةَ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: اسْتَقْبَلَ مَطْلَعَ الشَّمْسِ فَقَالَ: «مِنْ هَا هُنَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ , وَمِنْ هَا هُنَا الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَالْفَدَّادُونَ وَغِلَظُ الْقُلُوبِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ إِلَّا حَمَّادٌ

محمد بن زیاد بن عبداللہ بن خراعا بن زیاد سے مروی حدیث ، حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرک کی جانب رخ کیا اور فرمایا اس جانب سے شیطان کا سینگ طلوع ہو گا اور اس جانب سے زلزلے آئیں گے اور اس جانب سے فتنے برپا ہوں گے بہت چلانے والے ہونگے اور وہاں کے لوگوں کے دل بہت سخت ہوں گے۔ اس حدیث کو علی بن زید سے صرف حماد نے روایت کیا ہے ۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنِ عَائِشَةَ التَّيْمِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 864

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 865

865 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمِ الْبَغْدَادِيُّ بِالْبَصْرَةِ , حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ السِّجِسْتَانِيُّ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيَعْجَزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَنْ يَسْتَطِيعُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: «أَيَعْجَزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ إِلَّا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ , وَلَا عَنْهُ إِلَّا أَبُو حَاتِمٍ تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو حَاتِمٍ

محمد بن حسین بن مکرم البغدادی سے مروی حدیث ، حضرت ابو مسعود عقبہ بن عمر انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم اتنا بھی نہیں کر سکتے ہو کہ ہر رات ایک تہائی قرآن پڑ ھ لیا کرو ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون شخص یہ استطاعت رکھتا ہے کہ ایک تہائی قرآن پڑھے؟ آپ نے فرمایا کیا تم اتنا بھی کر سکتے ہو کہ سورۃ اخلاص ایک مرتبہ پڑ ھ لیا کرو۔ اس حدیث کو محمد بن جحادہ سے صرف حسن بن ابی جعفر نے روایت کیا ہے اور حسن سے صرف ابو جابر نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابو ہاشم منفرد ہیں ۔

أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ ← عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيُّ، ← أَبِي قَيْسٍ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرَوَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ← أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ← أَبُو حَاتِمٍ السِّجِسْتَانِيُّ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمِ الْبَغْدَادِيُّ بِالْبَصْرَةِ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 865

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 866

866 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ مَرْزُوقٍ أَبُو عَلِيٍّ الْمَاوَرْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: مَا جَلَسَ ابْنُ عُمَرَ مَجْلِسًا إِلَّا تَكَلَّمَ فِيهِ بِكَلِمَاتٍ فَسَأَلَ عَنْهُنَّ , فَقَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِنَّ: «اللَّهُمَّ , اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ , وَمَا أَخَّرْتُ , وَمَا أَسْرَرْتُ , وَمَا أَعْلَنْتُ , وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي اللَّهُمَّ , ارْزُقْنِي مِنْ طَاعَتِكَ مَا يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَعْصِيَتِكَ , وَارْزُقْنِي مِنْ خَشْيَتِكَ مَا تُبَلِّغُنِي بِهِ رَحْمَتَكَ , وَارْزُقْنِي مِنَ الْيَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيَّ مِنْ مَصَائِبِ الدُّنْيَا , وَبَارِكْ فِي سَمْعِي وَبَصَرِي , وَاجْعَلْهُمَا الْوَارِثَ مِنِّي , وَاجْعَلْ ثَأْرِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي , وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ عَادَانِي , وَلَا تَجْعَلْ مُصِيبَتِي فِي دِينِي , وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّي , وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِي» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ نَافِعٍ إِلَّا خَالِدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ , وَبُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَشَجُّ

محمد بن ایو ب بن مرزوق ابو علی الماوردی البصری سے مروی حدیث ، حضرت نافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب کسی مجلس میں بیٹھتے تو اس میں چند مخصوص کلمات کے ساتھ دعا مانگتے آپ سے ان کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتےتھے ۔ ترجمہ ۔ "اے اللہ میرے اگلے اور پچھلے اور ظاہر اور باطن گناہوں کو معاف فرما دے اور ان گناہوں کو بھی معاف فرما دے جن کو میرےبارے میں تو نے مجھ سے زیادہ جانتا ہے اے اللہ مجھے وہ اطاعت فرما جو میرے اور تیری نافرمانی کے درمیان حائل ہو جائے ۔ اے اللہ مجھے اپنی وہ خشیت عطا فرما جو مجھے تیری رحمت تک پہنچا دے اور مجھے وہ یقین عطا فرما جسکی بنا پر دنیا کی مصیبتیں مجھ پر آسان ہو جائیں اور میر ی سماعت اور بصارت میں برکت عطا فرما اور ان دونوں کو میرا وارث بنا اور جو شخص مجھ سے ظلم کرے تو اس کا بدلہ عطا فرما جو میرے ساتھ دشمنی کر ے اس کے خلاف تو میری مدد فرما اور میرے دین کے معاملات میں مجھے کسی مصیبت میں گرفتار نہ فرما اور دنیا کو میری سب سے بڑی خواہش نہ بنا اور دنیا کو میرے علم کا انجام نہ بنا ۔اس حدیث کو نافع سے صرف خالد بن ابو عمران نے اور بکیر بن عبداللہ بن اشج نے روایت کیا ہے ۔

نَافِعٍ ← خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، ← عبد الله بن لهيعة ← کَامِلُ بْنُ طَلْحَۃَ الْجَحْدَرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ مَرْزُوقٍ أَبُو عَلِيٍّ الْمَاوَرْدِيُّ الْبَصْرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 866

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 867

867 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ حَنِيفَةَ أَبُو حَنِيفَةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْجُشَمِيُّ الْحَوْزِيُّ الْمُقْرِئُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ، عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ حَبِيبٍ الصَّيْرَفِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: «أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي وَقَدْ سَدَلَ ثَوْبَهُ , فَدَنَا مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَعَطَفَ عَلَيْهِ ثَوْبَهُ» ، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَرْقَمِ إِلَّا الْهَيْثَمُ تَفَرَّدَ بِهِ حَفْصُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

محمد ابن حنیفہ ابو حنیفہ الواسطی سے مروی حدیث ، حضرت ابو حجیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا وہ نماز پڑھ رہا تھا اور اسکے کپڑے لٹک رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب آئے اور اس کا کپڑا اوپر اٹھا دیا ۔ اس حدیث کو علی بن ارقم سے صرف ہیثم نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں حفص بن ابو داؤد منفرد ہیں ۔

أَبِي جُحَيْفَةَ ← عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ← الْهَيْثَمِ بْنِ حَبِيبٍ الصَّيْرَفِيِّ، ← حَفْصِ بْنِ أَبِي دَاوُد ← أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْجُشَمِيُّ الْحَوْزِيُّ الْمُقْرِئُّ، ← مُحَمَّدُ ابْنُ حَنِيفَةَ أَبُو حَنِيفَةَ الْوَاسِطِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 867

chevron_left Previous
1…313233…100
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter