المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الطَّاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ طَاهِرٌ · حديث 508
508 - حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ عِيسَى بْنِ قَيْرَسَ المُقْرِي الْمِصْرِيُّ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ الْمَدَنِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَمِّهِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ " أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَخْتَلِفُ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَاجَةٍ لَهُ , فَكَانَ عُثْمَانُ لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ , وَلَا يَنْظُرُ فِي حَاجَتِهِ , فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حَنِيفٍ , فَشَكَا ذَلِكَ إِلَيْهِ , فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ حَنِيفٍ: ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ , ثُمَّ ائْتِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ قُلِ: اللَّهُمَّ , إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّكَ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقْضِي لِي حَاجَتِي , وَتَذْكُرُ حَاجَتَكَ , وَرُحْ إِلَيَّ حَتَّى أَرُوحَ مَعَكَ , فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ , فَصَنَعَ مَا قَالَ لَهُ عُثْمَانُ , ثُمَّ أَتَى بَابَ عُثْمَانَ , فَجَاءَ الْبَوَّابُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ , فَأَدْخَلَهُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ , فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَى الطِّنْفِسَةِ , وَقَالَ: حَاجَتُكَ؟ فَذَكَرَ حَاجَتَهُ , فَقَضَاهَا لَهُ , ثُمَّ قَالَ لَهُ: مَا ذَكَرْتَ حَاجَتَكَ حَتَّى كَانَتْ هَذِهِ السَّاعَةُ , وَقَالَ: مَا كَانَتْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ , فَأْتِنَا , ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ , فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ , فَقَالَ: لَهُ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا , مَا كَانَ يَنْظُرُ فِي حَاجَتِي , وَلَا يَلْتَفِتُ إِلَيَّ حَتَّى كَلَّمْتَهُ فِي , فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ: وَاللَّهِ , مَا كَلَّمْتُهُ وَلَكِنْ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ ضَرِيرٌ , فَشَكَا عَلَيْهِ ذَهَابَ بَصَرِهِ , فَقَالَ: لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «أَفَتَصْبِرُ؟» , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ , وَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «ائْتِ الْمِيضَأَةَ , فَتَوَضَّأْ , ثُمَّ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ ادْعُ بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ» قَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ: فَوَاللَّهِ , مَا تَفَرَّقْنَا وَطَالَ بِنَا الْحَدِيثُ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْنَا الرَّجُلُ كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ ضَرَرٌ قَطُّ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ إِلَّا شَبِيبُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو سَعِيدٍ الْمَكِّيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ وَهُوَ الَّذِي يُحَدِّثُ عَنِ أَحْمَدَ بْنِ شَبِيبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأُبُلِّيِّ , وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ وَاسْمُهُ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ , وَهُوَ ثِقَةٌ تَفَرَّدَ بِهِ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسِ عْنِ شُعْبَةَ، وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ , عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهِمَ فِيهِ عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ وَالصَّوَابُ: حَدِيثُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ
اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں اپنے نبی رحمت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا واسطہ پیش کرتا ہوں ،اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی بارگاہ میں سوال کرتا ہوں کہ وہ میری مشکل آسان فرما دے " اس کے بعد اپنی حاجت کا ذکر کرو، پھر میرے پاس آ جاؤ ، میں تمہارے ساتھ چلوں گا ، وہ آدمی گیا اور اس نے اسی طرح کیا جیسے عثمان بن حنیف نے کہا تھا ، پھر وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے گھر گیا ، دروازے پر دربان موجود تھا ، اس نے ان کو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تک پہنچا دیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو اپنے ساتھ چٹائی پر بٹھایا ، اور ان کی حاجب پوچھی ، اس نے اپنی حاجت بتائی ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کا کام کر دیا اور فرمایا : تم نے آج تک اپنا یہ کام مجھے کیوں نہیں بتایا ؟ پھر فرمایا : تمہیں جب کبھی کوئی کام ہو تو میرے پاس چلے آنا ، پھر وہ شخص حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے اجازت لے کر چلا آیا اور آ کر حضرت عثمان بن حنیف سے ملا اور ان کا شکریہ ادا کیا اور کہنے لگا : پہلے تو حضرت عثمان میرے کام کی طرف کچھ بھی توجہ نہیں دیتے تھے ، آپ نے ان کو کہا ہے تو انہوں نے میرے کام کی جانب توجہ کی ہے۔ عثمان حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم میں نے تو ان سے آپ کے بارے میں کچھ نہیں کہا ، اصل بات یہ ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں موجود تھا ، آپ کے پاس ایک نابینا شخص آیا ، اس نے اپنی بینائی زائل ہونے کی شکایت کی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ؛ کیا تم اس مصیبت پر صبر نہیں کر سکتے ؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے ساتھ چلنے والا کوئی نہیں ہے اور ویسے بھی میں بہت مشکل میں ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوٹا لاؤ ، وضو کرو ، دو رکعت نوافل پڑھ کر یہ دعا مانگو ، حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :اللہ کی قسم وہیں بیٹھے تھے اور بات چیت طول پکڑ گئی ، اسی دوران وہ شخص دوبارہ آ گیا اور اس کی آنکھوں میں کوئی نقص ہی نہیں تھا۔ اس حدیث کو روح بن القاسم سے صرف شبیب بن سعید ابو سعید المکی نے روایت کیا ہے اور وہ ثقہ ہیں ، یہ وہی ہیں جو احمد بن شبیب کے واسطے سے ،ان کے والد کے واسطے سے یونس بن یزید الابلی سے روایت کرتے ہیں ۔ اس حدیث کو شعبہ نے ابو جعرفر الخطمی سے روایت کیا ہے ان کا نام " عمیر بن یزید " ہے اور وہ ثقہ ہیں ۔ اس حدیث کو شعبہ سے روایت کرنے میں عثمان بن عمر بن فارس منفرد ہیں ۔ یہ حدیث صحیح ہے ، اس حدیث کو عون بن عمارہ نے روح بن القاسم کے واسطے سے محمد بن المنکدر کے ذریعے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ، اس میں عون بن عمارہ سے غلطی ہوئی ہے جبکہ شبیب بن سعید کی حدیث درست ہے ۔
عمه عثمان بن حنيف ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ الْمَدَنِيِّ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← شَبِيبُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَكِّيُّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ← طَاهِرُ بْنُ عِيسَى بْنِ قَيْرَسَ المُقْرِي الْمِصْرِيُّ التَّمِيمِيُّ،
Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 508
