Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الطَّاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ طَاهِرٌ · حديث 508

508 - حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ عِيسَى بْنِ قَيْرَسَ المُقْرِي الْمِصْرِيُّ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ الْمَدَنِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَمِّهِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ " أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَخْتَلِفُ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَاجَةٍ لَهُ , فَكَانَ عُثْمَانُ لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ , وَلَا يَنْظُرُ فِي حَاجَتِهِ , فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حَنِيفٍ , فَشَكَا ذَلِكَ إِلَيْهِ , فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ حَنِيفٍ: ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ , ثُمَّ ائْتِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ قُلِ: اللَّهُمَّ , إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّكَ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقْضِي لِي حَاجَتِي , وَتَذْكُرُ حَاجَتَكَ , وَرُحْ إِلَيَّ حَتَّى أَرُوحَ مَعَكَ , فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ , فَصَنَعَ مَا قَالَ لَهُ عُثْمَانُ , ثُمَّ أَتَى بَابَ عُثْمَانَ , فَجَاءَ الْبَوَّابُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ , فَأَدْخَلَهُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ , فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَى الطِّنْفِسَةِ , وَقَالَ: حَاجَتُكَ؟ فَذَكَرَ حَاجَتَهُ , فَقَضَاهَا لَهُ , ثُمَّ قَالَ لَهُ: مَا ذَكَرْتَ حَاجَتَكَ حَتَّى كَانَتْ هَذِهِ السَّاعَةُ , وَقَالَ: مَا كَانَتْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ , فَأْتِنَا , ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ , فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ , فَقَالَ: لَهُ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا , مَا كَانَ يَنْظُرُ فِي حَاجَتِي , وَلَا يَلْتَفِتُ إِلَيَّ حَتَّى كَلَّمْتَهُ فِي , فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ: وَاللَّهِ , مَا كَلَّمْتُهُ وَلَكِنْ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ ضَرِيرٌ , فَشَكَا عَلَيْهِ ذَهَابَ بَصَرِهِ , فَقَالَ: لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «أَفَتَصْبِرُ؟» , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ , وَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «ائْتِ الْمِيضَأَةَ , فَتَوَضَّأْ , ثُمَّ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ ادْعُ بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ» قَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ: فَوَاللَّهِ , مَا تَفَرَّقْنَا وَطَالَ بِنَا الْحَدِيثُ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْنَا الرَّجُلُ كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ ضَرَرٌ قَطُّ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ إِلَّا شَبِيبُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو سَعِيدٍ الْمَكِّيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ وَهُوَ الَّذِي يُحَدِّثُ عَنِ أَحْمَدَ بْنِ شَبِيبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأُبُلِّيِّ , وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ وَاسْمُهُ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ , وَهُوَ ثِقَةٌ تَفَرَّدَ بِهِ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسِ عْنِ شُعْبَةَ، وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ , عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهِمَ فِيهِ عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ وَالصَّوَابُ: حَدِيثُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ

اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں اپنے نبی رحمت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا واسطہ پیش کرتا ہوں ،اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی بارگاہ میں سوال کرتا ہوں کہ وہ میری مشکل آسان فرما دے " اس کے بعد اپنی حاجت کا ذکر کرو، پھر میرے پاس آ جاؤ ، میں تمہارے ساتھ چلوں گا ، وہ آدمی گیا اور اس نے اسی طرح کیا جیسے عثمان بن حنیف نے کہا تھا ، پھر وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے گھر گیا ، دروازے پر دربان موجود تھا ، اس نے ان کو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تک پہنچا دیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو اپنے ساتھ چٹائی پر بٹھایا ، اور ان کی حاجب پوچھی ، اس نے اپنی حاجت بتائی ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کا کام کر دیا اور فرمایا : تم نے آج تک اپنا یہ کام مجھے کیوں نہیں بتایا ؟ پھر فرمایا : تمہیں جب کبھی کوئی کام ہو تو میرے پاس چلے آنا ، پھر وہ شخص حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے اجازت لے کر چلا آیا اور آ کر حضرت عثمان بن حنیف سے ملا اور ان کا شکریہ ادا کیا اور کہنے لگا : پہلے تو حضرت عثمان میرے کام کی طرف کچھ بھی توجہ نہیں دیتے تھے ، آپ نے ان کو کہا ہے تو انہوں نے میرے کام کی جانب توجہ کی ہے۔ عثمان حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم میں نے تو ان سے آپ کے بارے میں کچھ نہیں کہا ، اصل بات یہ ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں موجود تھا ، آپ کے پاس ایک نابینا شخص آیا ، اس نے اپنی بینائی زائل ہونے کی شکایت کی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ؛ کیا تم اس مصیبت پر صبر نہیں کر سکتے ؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے ساتھ چلنے والا کوئی نہیں ہے اور ویسے بھی میں بہت مشکل میں ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوٹا لاؤ ، وضو کرو ، دو رکعت نوافل پڑھ کر یہ دعا مانگو ، حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :اللہ کی قسم وہیں بیٹھے تھے اور بات چیت طول پکڑ گئی ، اسی دوران وہ شخص دوبارہ آ گیا اور اس کی آنکھوں میں کوئی نقص ہی نہیں تھا۔ اس حدیث کو روح بن القاسم سے صرف شبیب بن سعید ابو سعید المکی نے روایت کیا ہے اور وہ ثقہ ہیں ، یہ وہی ہیں جو احمد بن شبیب کے واسطے سے ،ان کے والد کے واسطے سے یونس بن یزید الابلی سے روایت کرتے ہیں ۔ اس حدیث کو شعبہ نے ابو جعرفر الخطمی سے روایت کیا ہے ان کا نام " عمیر بن یزید " ہے اور وہ ثقہ ہیں ۔ اس حدیث کو شعبہ سے روایت کرنے میں عثمان بن عمر بن فارس منفرد ہیں ۔ یہ حدیث صحیح ہے ، اس حدیث کو عون بن عمارہ نے روح بن القاسم کے واسطے سے محمد بن المنکدر کے ذریعے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ، اس میں عون بن عمارہ سے غلطی ہوئی ہے جبکہ شبیب بن سعید کی حدیث درست ہے ۔

عمه عثمان بن حنيف ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ الْمَدَنِيِّ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← شَبِيبُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَكِّيُّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ← طَاهِرُ بْنُ عِيسَى بْنِ قَيْرَسَ المُقْرِي الْمِصْرِيُّ التَّمِيمِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 508

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الطَّاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ طَاهِرٌ · حديث 509

509 - حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ عَلِيٍّ الطَّبَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ سَلَمَةَ الطَّبَرَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلْقُلُوبِ صَدَأً كَصَدَأِ الْحَدِيدِ وَجَلَاؤُهَا الِاسْتِغْفَارُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ إِلَّا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکروم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوہے کی طرح دلوں کو زنگ لگ جاتا ہے اور استغفار کے ذریعے اس کی صفائی ممکن ہے ۔ اس حدیث کو محمد بن المنکدر سے صرف نضر بن محمد نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرے میں ابراہیم منفرد ہیں ۔

أَنَسٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ سَلَمَةَ الطَّبَرَانِيُّ، ← طَاهِرُ بْنُ عَلِيٍّ الطَّبَرَانِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 509

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الطَّاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ طَيُّ · حديث 510

510 - حَدَّثَنَا طَيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ قَحْطَبَةَ بْنِ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ الطَّائِيُّ، بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , فَسَأَلَهُمَا , فَقَالَا: إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَصْلُحُ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ: لِحَاجَةٍ مُجْحِفَةٍ , أَوْ لِحَمَالَةٍ مُثَقَّلَةٍ , أَوْ دَيْنٍ فَادِحٍ , فَأَعْطَيَاهُ , ثُمَّ أَتَى ابْنُ عُمَرَ , فَأَعْطَاهُ , وَلَمْ يَسْأَلْهُ , فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: أَتَيْتُ ابْنَيْ عَمِّكَ , فَسَأَلَانِي , وَأَنْتَ لَمْ تَسْأَلْنِي , فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: ابْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا كَانَا يَغَرَّانِ الْعِلْمَ غَرًّا " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُجَاهِدٍ إِلَّا يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ الْكُوفِيُّ

مجاہد بیان کرتے ہیں :ایک آدمی حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کچھ مانگا، انہوں نے فرمایا : صرف تین لوگوں کے لئے مانگنا جائز ہے ۔ کسی مصیبت کی وجہ سے ۔کسی بھائی کے تاوان کی ادائیگی کے لئے ، بھاری بھر کم قرضہ کی ادائیگی کے لئے ، پھر ان دونوں نے اس کو کچھ عطا فرما دیا ، اس کے بعد وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کچھ مانگا ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کچھ نہیں پوچھا ، اور عطا کر دیا، اس آدمی نے کہا : میں تیرے چچا کے بیٹوں کے پاس گیا تو انہوں نے مجھ سے تحقیق کی ، لیکن آپ نے مجھ سے کچھ بھی نہیں پوچھا ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہ دونوں لاڈلے مضبوط علم رکھنے والے ہیں ۔ اس حدیث کو مجاہد سے صرف یونس بن خباب الکوفی نے روایت کیا ہے ۔

مُجَاهِدٍ ← يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ← يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ← طَيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ قَحْطَبَةَ بْنِ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ الطَّائِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 510

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عُمَرُ · حديث 511

511 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ جَعْفَرُ بْنُ حَيَّانَ الْعُطَارِدِيُّ , عَنْ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِمَّا أَخَافُ عَلَيْكُمْ شَهَوَاتِ الْغَيِّ فِي بُطُونِكُمْ وَفُرُوجِكُمْ , وَمُضِلَّاتِ الْهَوَى» لَا يُرْوَى عَنْ أَبِي بَرْزَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُوالْأَشْهَبِ

ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے تہمارے بارے میں جو خدشہ ہے وہ یہ ہے کہ تم اپنے پیٹوں اور شرمگاہوں کی ناجائز خواہشات پوری کرو گے اور نفسانی خواہشات کی گمراہی میں پڑھ جاؤ۔ اس حدیث کو ابو برزہ سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ نقل کیا گیا ہے ۔ اور اس کو روایت کرنے میں منفرد ہیں ۔

أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ ← أَبِي الْحَکَمِ ← أَبُو الْأَشْهَبِ جَعْفَرُ بْنُ حَيَّانَ الْعُطَارِدِيُّ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 511

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عُمَرُ · حديث 512

512 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الْعُرْسَ بْنَ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيَّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْمَرْءَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ الْبُرْهَةَ مِنْ دَهْرِهِ , ثُمَّ تُعْرَضُ لَهُ الْجَادَّةُ مِنْ جَوَادِ أَهْلِ الْجَنَّةِ , فَيَعْمَلُ بِهَا حَتَّى يَمُوتَ عَلَيْهَا وَذَلِكَ مَا كُتِبَ لَهُ , وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْبُرْهَةَ مِنْ دَهْرِهِ , ثُمَّ تُعْرَضُ لَهُ الْجَادَّةُ مِنْ جَوَادِ أَهْلِ النَّارِ , فَيَعْمَلُ بِهَا حَتَّى يَمُوتَ عَلَيْهَا وَذَلِكَ مَا كُتِبَ لَهُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا يُونُسُ , وَلَا عَنْ يُونُسَ إِلَّا ابْنُ وَهْبٍ تَفَرَّدَ بِهِ سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ , وَلَا يُرْوَى عَنِ الْعُرْسِ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ

حضرت عرس بن عمیرہ الکندی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کوئی آدمی ایک طویل عرصے تک دوزخیوں والے کام کرتا رہتا ہے پھر اس کا جنتیوں کا کام پیش آتا ہے ، اور وہ کام شروع کر دیتا ہے اسی پر اس کو موت آ جاتی ہے اور یہ فقط اس لئے ہوتا ہے کہ جنت اس کے نصیب میں لکھ دی گئی ہوتی ہے اور وہی آدمی ایک طویل عرصے تک جنتیوں والے عمل کرتا ہے پھر اس کو دوزخیوں کا کوئی معاملہ پیش آتا ہے اور وہ عمل شروع کر دیتا ہے اور اسی میں موت آ جاتی ہے اور یہ بھی فقط اس لئے ہوتا ہے کہ دوزخ اس کے نصیب میں لکھ دی گئی ہوتی ہے ۔ اس حدیث کو ابن ابی عبلہ سے صرف یونس نے روایت کیا ہے اور ان سے صرف ابن وہب نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابن عفیر منفرد ہیں اور عرس بن امیرہ لکندری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث صرف اسی اسناد کے ہمراہ مروی ہے ۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 512

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عُمَرُ · حديث 513

513 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ أَبُو حَفْصٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ الشَّامِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ أَبُو الْمُنْذِرِ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ فِي غَنَمٍ لِآلِ أَبِي مُعَيْطٍ , فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَقَالَ: «يَا غُلَامُ , عِنْدَكَ لَبَنٌ؟» , فَقُلْتُ: نَعَمْ , وَلَكِنِّي مُؤْتَمَنٌ قَالَ: «فَهَلْ عِنْدَكَ شَاةٌ لَمْ يَنْزُ عَلَيْهَا الْفَحْلُ؟» , قُلْتُ: نَعَمْ , فَأَتَيْتُهُ بِشَاةٍ شَطُورٍ قَالَ سَلَّامٌ: وَالشَّطُورُ الَّتِي لَيْسَ لَهَا ضَرْعٌ , فَمَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَانَ الضَّرْعِ , وَمَا لَهَا ضَرْعٌ , فَإِذَا ضَّرْعُ حَافِلٌ مَمْلُوءٌ لَبَنًا , فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِصَخْرَةٍ مَنْقُورَةٍ , فَحَلَبَ , ثُمَّ سَقَى أَبَا بَكْرِ وَسَقَانِي , ثُمَّ قَالَ لِلْضَرْعِ اقْلُصْ فَرَجَعَ كَمَا كَانَ , فَأَنَا رَأَيْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عَلِّمْنِي فَمَسَحَ رَأْسِي , وَقَالَ: «بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ , فَإِنَّكَ غُلَامٌ مُعَلَّمٌ» فَأَسْلَمْتُ , وَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَبَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَهُ عَلَى حِرَاءَ إِذْ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا , فَأَخَذْتُهَا , وَإِنَّهَا رَطْبَةٌ مِنْ فِيهِ , فَأَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً وَأَخَذْتُ بَقِيَّةَ الْقُرْآنِ مِنْ أَصْحَابِهِ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سَلَّامٍ إِلَّا إِبْرَاهِيمُ

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، ← سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ الشَّامِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ أَبُو حَفْصٍ الْبَصْرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 513

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عُمَرُ · حديث 514

514 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ أَبُو بَكْرٍ الْكِلَابِيُّ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُرِّيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً قَالَ: «اغْزُوا بِاسْمِ اللَّهِ , وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ , قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ , لَا تَغُلُّوا , وَلَا تَغْدِرُوا , وَلَا تُمَثِّلُوا , وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا وَلَا شَيْخًا كَبِيرًا» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ إِلَّا إِسْرَائِيلُ، وَلَا عَنْهُ إِلَّا عُثْمَانُ تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کوئی جنگی مہم روانہ فرماتے تو ارشاد فرماتے " اللہ کے نام سے جہاد کرو، اللہ کی راہ میں جہاد کرو، ان لوگوں کو قتل کرو جو اللہ کا انکار کرتے ہیں ،خیانت نہ کرو، غداری مت کرو ، شکلیں نہ بگاڑنا ، کسی بچے کو اور بوڑھے کو قتل نہ کرنا"۔ اس حدیث کو ابو اسحاق سے اسرائیل کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور ان سے عثمان بن سعید کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور ان سے روایت کرنے میں احمد بن عثمان بن حکیم منفرد ہیں ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُرِّيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَکِيمٍ الْأَوْدِيُّ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ أَبُو بَكْرٍ الْكِلَابِيُّ الْوَاسِطِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 514

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عُمَرُ · حديث 515

515 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سِنَانٍ الْمَنْبِجِيُّ بِمَنْبِجَ , أَنْبَأَنَا أَبُو مُصْعَبٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيُّ , حَدَّثَنَا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ طَلْحَةَ، مَوْلَى آلِ سُرَاقَةَ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تَوَضَّأَ فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا , وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا , وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا , وَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا , وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَاحِدَةً , وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا , ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ إِلَّا ابْنُهُ، وَلَا عَنْ مُعَاوِيَةَ إِلَّا طَلْحَةُ تَفَرَّدَ بِهِ عَطَّافٌ

حضرت معاویہ بن عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، آپ نے تین مرتبہ وضو کیا، تین مرتبہ ناک جھاڑا ، اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، اپنے دونوں ہاتھوں کو تین تین مرتبہ دھویا، ایک دفعہ سر کا مسح کیا اور دونوں پاؤں کو تین مرتبہ دھویا ، پھر فرمایا : میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ اس حدیث کو عبداللہ بن جعفر سے صرف ان کے بیٹے معاویہ نے روایت کیا ہے اور معاویہ سے صرف آل سراقہ کے غلام طلحہ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں عطاف بن خالد منفرد ہیں ۔

أَبِيهِ ← معاوية بن عبد الله بن جعفر ← طَلْحَةَ، مَوْلَى آلِ سُرَاقَةَ ← عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ ← أبو مصعب أحمد بن أبي بكر الزهري ← عُمَرُ بْنُ سِنَانٍ الْمَنْبَجِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 515

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عُمَرُ · حديث 516

516 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرَوَيْهِ الْمُخَرِّمِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ إِلَّا يَحْيَى بْنُ عِيسَى

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے " عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا۔ اس حدیث کو اعمش سے صرف یحییٰ بن عیسیٰ نے روایت کیا ہے ۔

الْأَعْمَشِ إِلَّا يَحْيَى بْنُ عِيسَى ← «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» لَمْ يَرْوِهِ ← رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ الْقَاضِي، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرَوَيْهِ الْمُخَرِّمِيُّ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 516

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عُمَرُ · حديث 517

517 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو الْأَذَانِ الْبَغْدَادِيُّ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ خَلَفٍ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عَامِرٍ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالْبَاءَةِ , فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ؛ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُغِيرَةَ إِلَّا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ , وَلَا عَنْهُ إِلَّا سَهْلٌ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ خَلَفٍ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا شادی لازمی کرو، جو شخص شادی نہیں کر سکتا اس پر لازم ہے کہ وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ شہوت کو توڑنے والا ہے ۔ اس حدیث کو مغیرہ سے ابو بکر بن عیاش کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور ابو بکر بن عیاش سے صرف سہل بن عامر نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں محمد بن علی بن خلف منفرد ہیں ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← سَهْلُ بْنُ عَامِرٍ الْبَجَلِيُّ، ← محمد بن علي بن خلف العطار، ← عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو الْأَذَانِ الْبَغْدَادِيُّ الْحَافِظُ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 517

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عُمَرُ · حديث 518

518 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلَانَ الثَّقَفِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الثُّنْيَا إِلَّا أَنْ يَعْلَمَ مَا هِيَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يُونُسَ إِلَّا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ تَفَرَّدَ بِهِ عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ , وَهَذِهِ الثُّنْيَا الَّتِي فِي هَذَا الْحَدِيثِ: أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ ثَمَرَةَ بُسْتَانِهِ مِنَ النَّخِيلِ أوَغَيْرِهِ مِنْ شَجَرَةِ الثَّمَرِ فَيَسْتَثْنِي لِنَفْسِهِ وَلِعِيَالِهِ شَيْئًا مِنَ الثَّمَرَةِ , فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَجُوزُ الثُّنْيَا إِلَّا أَنْ يُبَيِّنَ شَجَرًا بِعَيْنِهِ»

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے استثناء سے منع کیا ہے جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ استثناء کی جانے والی چیز کون سی ہے ۔ اس حدیث کو یونس بن عبید سے صرف سفیان بن حصین نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں عباد بن عوام منفرد ہیں اور اس حدیث میں جس استثناء کا ذکر کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے کھجوروں یا اور کسی پھل دار درختوں کے پھلوں کو بیچے لیکن اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے ان میں سے کچھ بھلوں کا استثناء کرے لے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : استثناء جائز نہیں ہے مگر صرف اس صورت میں کہ کسی معین درخت کو بیان کر دیا جائے ۔

يُونُسَ إِلَّا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ تَفَرَّدَ بِهِ عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← الثُّنْيَا إِلَّا أَنْ يَعْلَمَ مَا هِيَ» لَمْ يَرْوِهِ ← نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ← عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلَانَ الثَّقَفِيُّ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 518

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عُمَرُ · حديث 519

519 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ عَادَ مَرِيضًا خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ حَتَّى يَبْلُغَهُ , فَإِذَا قَعَدَ عِنْدَهُ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ» , فَلَمَّا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذَا الْعَائِدُ الْمَرِيضَ , فَمَا لِلْمَرِيضِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمِّهِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عِكْرِمَةَ إِلَّا الْحَكَمُ تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : جو کسی مریض کی عیادت کے لئے گیا ، اس نے اللہ کی رحمت میں غوطہ لگا لیا ۔یہاں تک وہ مریض کے پاس پہنچ جائے پھر جب وہ مریض کے پاس جا کر بیٹھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے ۔ ( انس بن مالک فرماتے ہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو کچھ کہنا تھا جب کہہ لیا تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ فضیلت تو مریض کی عیادت کرنے والے کے لئے ہے ۔ مریض کے لئے کیا فضیلت ہے ؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جب کوئی بندہ تین دن تک بیمار رہتا ہے تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جس طرح وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں ے اس جو جنا تھا۔ اس حدیث کو عکرمہ سے صرف حکم نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابراہیم بن حکم منفرد ہیں ۔

رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، ← سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 519

chevron_left Previous
1234…100
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter