Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 784

784 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ هَارُونَ الْحَلَبِيُّ الْمِصِّيصِيُّ، بِالْمَصِّيصَةِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِيُّ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَسْلَمَ الْعَدَوِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنِ أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ , فَاسْتَيْقَظْنَا وَلَيْسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْنَا: نَطْلُبُهُ , فَإِنَّا عَلَى ذَلِكَ إِذْ سَمِعْنَا صَوْتًا هَدِيرًا كَهَدِيرِ الرَّحَا , فَأَتَيْنَا الصَّوْتَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , تَقُومُ مِنْ فِرَاشِكِ وَنَحْنُ حَوْلَكَ وَلَا تُوقِظُ أَحَدًا مِنَّا وَنَحْنُ بِأَرْضِ الْعَدُوِّ فَقَالَ: «إِنَّهُ أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَخَيَّرْنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ أَوِ الشَّفَاعَةِ , فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ» , فَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْ أَهْلِ الشَّفَاعَةِ , فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْ أَهْلِهَا» , ثُمَّ قَالَ آخَرُ , فَقَالَ آخَرُ , ثُمَّ قَالَ آخَرُ , فَلَمَّا كَثُرُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «شَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يُونُسَ إِلَّا سَهْلٌ

محمد بن احمد بن ہارون الحلبی المصیصی سے مروی حدیث، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ میں تھے ہم بیدار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر موجود پایا ہم نے آپ کو ڈھونڈنے کا ارادہ کیا اسی دوران ہمیں چکی کے چلنے کی سی آواز سنائی دی ہم اس آواز کے قریب آئے تو وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے ۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اپنے بستر سے اٹھ کر تشریف لے آئے ہم آپ کے قریب موجود تھے آپ نے ہم میں سے کسی کو بھی بیدار نہیں کیا جب کہ ہم دشمن کے علاقے میں ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو موسیٰ سے فرمایا میرے رب کی جانب سے کوئی آنے والا میرے پاس آیا اس نے مجھے یہ اختیار دیا کہ میں اپنی امت کو جنت میں لے جاؤں یا حق شفاعت لے لوں ۔ میں نے حق شفاعت لے لیا ۔ ابو موسیٰ فرماتے ہیں میں نےعر ض کیا اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے شفاعت والوں میں سے کر دے آپ نے دعا مانگی اے اللہ اس کو اہل شفاعت میں سے کر دے پھر دوسرے صحابی نے بھی یہی گزارش کی پھر تیسرے نے کی پھر چھوتھے نے بھی یہی درخواست کی جب یہ گزارشات بہت زیادہ ہو گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا میری شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہے جو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنے والا ہے ۔ اس حدیث کو یونس بن عبید سے صرف سہل بن اسلم نے روایت کیا ہے ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبُو بُرْدَةَ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← سهل بن أسلم العدوي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ هَارُونَ الْحَلَبِيُّ الْمِصِّيصِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 784

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 785

785 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ وَكِيعٌ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَحْيَى عَنِ القَاسِمِ إِلَّا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ تَفَرَّدَ بِهِ الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ

محمد بن خلف وکیع القاضی سے مروی حدیث ،حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔ جب تین آدمی موجود ہوں تو دو آدمی الگ ہو کر راز داری سے گفتگو نہ کریں۔ اس حدیث کو یحییٰ بن سعید سے پھر قاسم سے انس بن عیاض نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں زبیر بکار منفرد ہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، ← الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ وَكِيعٌ الْقَاضِي،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 785

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 786

786 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْمَاطِيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ جُنَادٍ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَفَّافُ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكَرَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اغْدُ عَالِمًا , أَوْ مُتَعَلِّمًا , أَوْ مُسْتَمِعًا , أَوْ مُحِبًّا , وَلَا تَكُنِ الْخَامِسَ فَتَهْلَكَ» قَالَ عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ: فَقَالَ لِي مِسْعَرٌ: زِدْتَنَا خَامِسَةً لَمْ تَكُنْ عِنْدَنَا , وَقَالَ: وَالْخَامِسَةُ أَنْ تَبْغُضَ الْعِلْمَ وَأَهْلَهُ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ خَالِدٍ إِلَّا عَطَاءٌ , وَلَمْ يَرْوِهِ أَيْضًا عَنْ مِسْعَرٍ إِلَّا عَطَاءٌ تَفَرَّدَ بِهِ عُبَيْدُ بْنُ عَبَّادٍ

محمد بن حسین الا نماطبی ابو العباس البغدادی سے مروی حدیث ، حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے صبح کرو عالم ہونے کی حالت میں یا طالب علم ہونے کی حالت میں یا ان کی بات کو غور سے سننے والوں کی حالت میں یا ان سے محبت کرنے والے کی حالت میں اور پانچویں حالت میں نہ ہونا کہ تو ہلاک ہو جائے گا۔ عطاء بن مسلم کہتے ہیں مجھے مسعر نے کہا آپ نے پانچویں کا اضافہ کیا ہے جبکہ ہمارے پاس جو روایات محفوظ ہیں ان میں یہ پانچویں کا ذکر نہیں ہے ( اس کی وجہ کیا ہے ؟) انہوں نے فرمایا پانچواں یہ ہے کہ علم اور اہل علم سے بغض رکھے ۔ اس حدیث کو خالد سے صرف عطا الخداء نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کو مسعر سے صرف عطا بن مسلم نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں عبید بن عباد منفرد ہیں ۔

مِسْعَرٍ إِلَّا عَطَاءٌ تَفَرَّدَ بِهِ عُبَيْدُ بْنُ عَبَّادٍ ← خَالِدٍ إِلَّا عَطَاءٌ وَلَمْ يَرْوِهِ أَيْضًا ← وَالْخَامِسَةُ أَنْ تَبْغُضَ الْعِلْمَ وَأَهْلَهُ لَمْ يَرْوِهِ ← لِي مِسْعَرٌ: زِدْتَنَا خَامِسَةً لَمْ تَكُنْ عِنْدَنَا ← عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ ← «اغْدُ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا أَوْ مُسْتَمِعًا أَوْ مُحِبًّا وَلَا تَكُنِ الْخَامِسَ فَتَهْلِكَ» ← رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← مِسْعَرٍ، ← عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَفَّافُ، ← عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْمَاطِيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 786

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 787

787 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ أَبُو جَعْفَرٍ التِّرْمِذِيُّ الْفَقِيهُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّينِيُّ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا فَاتَهُ شَيْءٌ مِنْ رَمَضَانَ قَضَاهُ فِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَسْوَدِ إِلَّا قَيْسٌ , وَلَا يُرْوَى عَنْ عُمَرَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ

محمد بن احمد بن نصر ابو جعفر مذی الفقیہہ سے مروی حدیث ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماہ رمضان کے اگر کچھ روزے رہ جاتے تو آپ ذی الحجہ کے دس دنوں میں ان کی قضا کرتے ۔ اس حدیث کو اسود بن قیس سے صرف قیس نے روایت کیا ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث صرف اسی اسناد کے ہمراہ مروی ہے ۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 787

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 788

788 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُفْيَانَ التِّرْمِذِيُّ، بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ أَرَدْتُ أَنْ أَتَعَجَّلَ قَالَ: «أَمْهِلْ حَتَّى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِطُ الشَّعِثَةُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ إِلَّا هُشَيْمٌ تَفَرَّدَ بِهِ الْقَوَارِيرِيُّ

محمد بن احمد بن سفیان الترمذی سے مروی حدیث ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھا واپسی پر جب ہم مدینہ منورہ کے قریب آئے ، تو میں جلدی گھر جانا چاہا آپ نے فرمایا کچھ دیر کو تاکہ عورتیں زیر ناف بال صاف کر لیں اور پرا گندہ بالوں میں کنگھی کر لیں ۔ اس حدیث کو اسماعیل بن سالم سے صرف ہشیم نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں قواریری منفرد ہیں

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الشَّعْبِيِّ، ← إسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ← هُشَيْمٌ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُفْيَانَ التِّرْمِذِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 788

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 789

789 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ خَمْسًا , فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مِسْعَرٍ إِلَّا ابْنُ بِشْرٍ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ

محمد بن عبدوس بن کامل السراج سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز کی پانچ رکعتیں پڑھائیں اور آخر میں سجدہ سہو کیا ۔ اس حدیث کو معمر سے صرف محمد بن بشر نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابو بکر منفرد ہیں۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 789

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 790

790 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ الثَّقَفِيُّ بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْخَلِيلِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ نَفَّذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا , فَجَبُنَ , فَجَاءَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ , وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ , فَبَكَى مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ , وَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ؛ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا تُبْتَلُونَ بِهِ مِنْهُمْ , فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ , فَقُولُوا: اللَّهُمَّ , أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّهُمْ , وَنَوَاصِينَا بِيَدِكَ , وَإِنَّمَا تَقْتُلُهُمْ أَنْتَ , ثُمَّ الْزَمُوا الْأَرْضَ جُلُوسًا , فَإِذَا غَشُوكُمْ فَانْهَضُوا وَكَبِّرُوا " , ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَأَبْعَثَنَّ غَدًا رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبَّانِهِ , لَا يُوَلِّي الدُّبُرَ» , فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ بَعَثَ عَلِيًّا وَهُوَ أَرْمَدُ شَدِيدُ الرَّمَدِ , فَقَالَ: «سِرْ» , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا أُبْصِرُ مَوْضِعَ قَدَمَيَّ , «فَتَفَلَ فِي عَيْنِهِ , وَعَقَدَ لَهُ اللِّوَاءَ , وَدَفَعَ إِلَيْهِ الرَّايَةَ» , فَقَالَ عَلِيٌّ: عَلَى مَا أُقَاتِلهم يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «عَلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ , فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ حَقَنُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا , وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَمْرٍو إِلَّا الْخَلِيلُ , وَلَا عَنِ الْخَلِيلِ إِلَّا جَعْفَرٌ تَفَرَّدَ بِهِ فُضَيْلُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ

محمد بن فضل بن جعفر الثقفی البغدادی سے مرو ی حدیث ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو جنگ کے لیے بھیجا لیکن وہ بزدل ہو گیا پھر محمد بن مسلمہ آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آج کی جنگ کی مثل کبھی کوئی نہیں جنگ نہیں دیکھی یہ کہتے ہوئے محمد بن مسلمہ رو پڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دشمن کی تمنا مت کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ان کے ساتھ لڑائی میں تم کس چیز میں مبتلا کیے جاؤ گے لیکن تمہاری ان سے لڑائی ہو تو یو ں دعا مانگو۔ " اے اللہ ہمارا اور ان کا رب تو ہی ہے اور ہماری پیشانی اور ان کی پیشانیاں تیرے ہی ہاتھ میں سے ہیں اور بے شک ان کو توہی قتل کرے گا"پھر زمین پر بیٹھے رہو ، جب وہ تمہارے قریب آجائیں تو اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے اٹھ کھڑے ہو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کل ایسے شخص کو جنگ کے لیے بھیجوں گا جو اللہ کے رسول سے محبت کرتا ہے او ر اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگے گا جب اگلا دن آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلوایا اس وقت آپ کی آنکھوں میں شدید درد تھا ۔ آپ نے فرمایا جاؤ حضرت علی نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تو اپنے قدم بھی دکھائی نہیں دے رہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن مبارک لگایا اور جنگ کا علم آپ کے سپرد فرمایا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا میں ک بنیاد پر ان سے جہاد کروں ؟آپ نے فرمایا اس بات پر کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عباد ت کے لائق نہیں اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں اگر وہ اس بات پر آمادہ ہو جائیں تو انہوں نے اپنا خون اور اپنا مال محفوظ کر لیا سوائے اس کے کہ جس کاحق بنتا ہو گا اور ان کا حساب اللہ کے سپر دہے ۔ اس حدیث کو عمر سے صرف خلیل بن دینار نے روایت کیا ہے اور خلیل سے صرف جعفر بن سلیمان نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں فضیل بن عبدالوہاب منفرد ہیں ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← الخليل بن مرة ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← فُضَيْلُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ الثَّقَفِيُّ بِبَغْدَادَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 790

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 791

791 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ سَوْرَةَ التَّمِيمِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ إِذَا أُتِيَ بِالْبَاكُورَةِ مِنَ الثَّمَرَةِ قَبِلَهَا أَوْ جَعَلَهَا عَلَى عَيْنَيْهِ , ثُمَّ أَعْطَاهَا أَصْغَرَ مَنْ يَحْضُرُهُ مِنَ الْوِلْدَانِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ إِلَّا الدَّرَاوَرْدِيُّ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو الْوَلِيدُ

محمد بن یعقوب سورہ التمیمی البغدادی سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جب موسم کا پہلا پھل لایا جاتا آپ اس کو چومتے اور اپنی آنکھوں پر لگاتے اور آپ کے پاس جو سب سے چھوٹا بچہ ہوتا اس کو عطافرما دیتے ۔ اس حدیث کو زید بن اسلم سے صرف دراوری نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابو ولید منفرد ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← هشام بن عبد الملك الطيالسي ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ سَوْرَةَ التَّمِيمِيُّ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 791

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 792

792 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ شَاهِينَ الْبَصْرِيُّ بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُرْكِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: " إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ: الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قُرَّةَ إِلَّا بِشْرٌ

محمد بن ربیع بن شاہین البصری سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے اشج عبدالقیس کے بارے میں فرمایا تمہارے اندر دو عادتیں ایسی ہیں جن کو اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں ۔ 1۔ بردباری ۔2۔کسی بھی کام کے لیے اس کے وقت آنے کا انتظار کرنا ۔ اس حدیث کو قرہ سے صرف بشر نے روایت کیا ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي حَمْزَةَ، ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ شَاهِينَ الْبَصْرِيُّ بِبَغْدَادَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 792

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 793

793 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الضَّبِّيُّ التُّرْكِيُّ، بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَزِيزُ بْنُ عَمْرٍو الْقَيْسِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ مَدْحُوسٍ مِنَ النَّاسِ , فَقَامَ فِي الْبَابِ , فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمِينًا وَشِمَالًا , فَلَمْ يَرَ مَوْضِعًا , فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رِدَاءَهُ فَلَفَّهُ , ثُمَّ رَمَى بِهِ إِلَيْهِ , فَقَالَ: «يَا جَرِيرُ , اجْلِسْ عَلَيْهِ» , فَأَخَذَهُ جَرِيرٌ , فَضَمَّهُ , وَقَبَّلَهُ , ثُمَّ رَدَّهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " أَكْرَمَكَ اللَّهُ , يَا رَسُولَ اللَّهِ كَمَا أَكْرَمْتَنِي , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَحْيَى إِلَّا ابْنُ بُرَيْدَةَ , وَلَا عَنْهُ إِلَّا الْجُرَيْرِيُّ تَفَرَّدَ بِهِ عَزِيزُ بْنُ عَمْرٍو وَأَخُوهُ رِيَاحُ بْنُ عَمْرٍو

محمد بن یوسف الضبی الترکی سے مروی حدیث، حضرت جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے گھر میں موجودتھے جو لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہو گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی خالی جگہ نہ دکھائی دی ۔ آپ نے اپنی چادر پکڑی ، اس کو لپیٹا اور ان کی جانب پھینک کر فرمایا : اے جریر اس کے اوپر بیٹھ جاؤ حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے اس چادر مبارک کو اٹھایا اس کو چوم کر اپنے سینے سے لگا لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں واپس دیتے ہوئے عرض کی ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ آپ کو عزت عطا فرمائے جیسے آپ نے مجھے عزت عطا فرمائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تمہارے پاس کسی قوم کا باعزت شخص آئے تو تم اس کی عزت کرو" اس حدیث کو یحییٰ بن یعمر سے صرف ابن بریدہ نے روایت کیا ہے اور ان سے صرف جریری نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں عزیز بن عمر اور ان کا بھائی " ریاح بن عمر و" منفرد ہیں۔

جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، ← عَزِيزُ بْنُ عَمْرٍو الْقَيْسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الضَّبِّيُّ التُّرْكِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 793

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 794

794 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اللَّيْثِ الْجَوْهَرِيُّ، بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ، وَحَوَارِيَّ: الزُّبَيْرُ وَابْنُ عَمَّتِي " لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْعَبَّاسِ إِلَّا شَرِيكٌ

محمد بن لیث الجوہری سے مروی حدیث ، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر اور میری پھوپھی کا بیٹا ہے ۔ اس حدیث کو عباس زریح سے صرف شریک نے روایت کیا ہے ۔

الْعَبَّاسِ إِلَّا شَرِيكٌ ← لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ، وَحَوَارِيَّ: الزُّبَيْرُ وَابْنُ عَمَّتِي لَمْ يَرْوِهِ ← النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← عَلِيٍّ، ← مُسْلِمِ بْنِ يَزِيدَ، ← الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ، ← شَرِيکٍ ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اللَّيْثِ الْجَوْهَرِيُّ، بِبَغْدَادَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 794

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 795

795 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ هِشَامٍ السِّجْزِيُّ بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَلْ نَصِلُ إِلَى نِسَائِنَا فِي الْجَنَّةِ؟ فَقَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَصِلُ فِي الْيَوْمِ إِلَى مِائَةِ عَذْرَاءَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ هِشَامٍ إِلَّا زَائِدَةُ تَفَرَّدَ بِهِ الْجُعْفِيُّ

محمد بن احمد بن ہشام السجزی سے مروی حدیث ، حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم جنت میں اپنی بیویوں سے ہم بستری کریں گے ؟ آپ نے فرمایا ایک جنتی مردایک دن میں سو کنواری لڑکیوں سے ہم بستری کر سکے گا۔ اس حدیث کو ہشام سے صرف زائدہ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں جعفی منفرد ہیں ۔

قِيلَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← زَائِدَۃَ، ← حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ هِشَامٍ السِّجْزِيُّ بِبَغْدَادَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 795

chevron_left Previous
1…252627…100
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter