مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي المؤذنين أَنه يكون أَطْوَلَ النَّاسِ أَعْنَاقًا · حديث 85
85 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ: أَنَا الْوَلِيد عَن الأزعي عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا نَادَى الْمُنَادِي أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضِرَاطٌ فَإِذَا قُضِيَ أقبل، فَإِذا ثو بِهَا أَدْبَرَ، فَإِذَا قُضِيَ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الرَّجُلِ وَقَلْبِهِ، يَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا وَكَذَا، لِمَا لَمْ يَكْنُ يَذْكُرُ حَتَّى لَا يَدْرِي أَثَلاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا، فَإِذا لم يرد أَثَلاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب مؤذن اذان دیتا ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے اور اس کی ہوا خارج ہوتی جاتی ہے تو جب اذان مکمل ہو جاتی ہے واپس آ جاتا ہے‘پھر جب نماز کے لئے اقامت کہی جاتی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے اور جب اقامت مکمل ہو جاتی تو واپس آ جاتا ہے اور آدمی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں فلاں بات یاد کرو جو کہ اسے یاد نہیں ہوتیں یہاں تک کہ آدمی کو یاد نہیں رہتا کہ اس نے تین رکعت پڑھی ہیں یا چار‘تو جب آدمی کو یاد نہ ہو کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار‘تو سے چاہیے کہ بیٹھ کر دو سجدےکرے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الأزعي ← الْوَلِیْدُ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ،
Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 85
