مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ الْجُزْءُ الثَّالِثُ مِنْ مُسْنَدِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ · حديث 103
103 - أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الإِمَامُ الْعَالِمُ شِهَابُ الدِّينِ أَبُو بَكْرٍ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بن عمر الصفارة قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ فِي شَعْبَانَ سنة ثَمَان وسِتمِائَة بِنَيْسَابُورَ، قِيلَ لَهُ أَخْبَرَكُمْ أَبُو بَكْرٍ وَجِيهُ بْنُ طَاهِرٍ الشَّحَّامِيُّ بِقِرَاءَةِ الإِمَامِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ الأَنْصَارِيِّ الْمَغْرِبِيِّ سَنَةَ تِسْعٍ وَثَلاثِينَ وَخَمْسِمِائَةٍ أَنَا أَبُو الْقَاسِم عبد اللكريم بْنُ هَوَازِنَ الْقُشَيْرِيُّ وَأَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْرَفِيُّ وَالْحَاكِمُ وَأَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الإِسْمَاعِيلِيُّ قَالُوا: أَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْخَفَّافُ النَّيْسَابُورِيُّ ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ السَّرَّاجُ الثَّقَفِيُّ ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ القَعْقَاعِ ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا أَبُو عُوَانَةَ ثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجِنِّ وَلا رَآهُمْ، انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، أُرْسَلِتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبَ، فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا: مَالَكُمْ؟ فَقَالُوا: حِيلَ بَيْنَنَا وَبَين خبر الْمسَاء وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبَ، فَقَالُوا: مَا حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلا مِنْ شَيْءٍ حَدَثَ، فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ؟ فَانْصَرِفُوا فَانْطَلقُوا يضْربُونَ مشارك الأَرْضِ وَمَغَارِبِهَا مَا هَذَا الِّذِي حَالَ بَيْنَهُمْ وَبَين خبر الْمسَاء؟ فَانْصَرَفَ النَّفَرُ الَّذِينَ يَتَوَجَّهُوا نَحْوَ تِهَامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ بِنَخْلَةٍ عَامِدًا إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلاةَ الْفَجْرِ فَلَمَّا سمعُوا الْقُرْآن استعموا، وَقَالُوا: هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، فَهُنَاكَ حِينَ رَجِعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا: (يَا قَومنَا إِنَّا سعنا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ) (الْجِنّ: 1) إِلَى آخِرِ الآيَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ) إِنَّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ.
ضياء الدين المقدسی نے کہا: ہمیں خبر دی شیخ امام عالم شہاب الدین ابوبکر قاسم بن عبداللہ بن عمر بن الصفارہ نے‘ ان کے سامنے قرأت ہوئی اور میں سن رہا تھا‘ شعبان 608 ہجری کو نیشاپور میں‘ ان سے کہا گیا کہ تم کو خبر دی ابوبکر وجیہ بن طاہر الشحامی نے امام حسن بن علی بن حسن انصاری مغربی کے قرأت کرنے سے 539 ہجری کو‘ ہمیں خبر دی ابوالقاسم عبدالکریم بن ہوازن القشیری نے اور ابوبکر یعقوب بن احمد الصیرفی نے اور حاکم نے اور ابوالحسین احمد بن عبدالرحیم اسماعیل نے‘ ان سب نے کہا کہ ہمیں خبر دی ابوالحسین احمد بن محمد بن احمد بن عمر الخفاف نیشا پوری نے‘ ہمیں حدیث بیان کی ابوالعباس محمد بن اسحاق بن ابراہیم السراج الثقفی نے‘ ہمیں حدیث بیان کی جعفر بن محمد بن قعقاع نے‘ ہمیں حدیث بیان کی ابوعوانہ نے‘ ہمیں حدیث بیان کی ابوبشر نے‘ ہمیں حدیث بیان کی حضرت سعید بن جبیر نے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں پر قرأت نہیں کی اور نہ ہی انہیں دیکھا‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند ساتھیوں کو لے کر بازار ِعکاظ کی طرف جا رہے تھے جبکہ شیاطین کو آسمانی خبروں سے روک دیا گیا تھا اور ان پر شعلے ڈالے جاتے تھے‘ شیاطین اپنی قوم کی طرف آئےاور کہا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں آسانی خبروں سے روک دیا گیا ہے اور ہم پر شعلے برسائے جاتے ہیں‘ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان کوئی نئی چیز حائل ہوئی ہوگی‘ پس مشرق و مغرب کو چھان مارو اور دیکھو کہ ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان کیا چیز حائل ہوئی ہے ‘ تو وہ مشرق اور مغرب کو چھان مارنے کے لئے چلے کہ کون سی چیز ان کے اور آسمانی خبروں کے درمیابی حائل ہوئی ہے؟ تلاش کرنے والوں میں سے کچھ تہامہ کی طرف لوٹے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بازارِ عکاظ جاتے ہوئے نخلہ کے مقام پر اپنے بعض صحابہ کے ساتھ نماز فجر پڑھ رہے تھے‘ جب ان جنوں نے قرآن سنا تو ان پر کان دھرے اور کہا کہ خدا کی قسم! یہی ہے جو ہمارے اور آسانی خبروں کے درمیان حائل ہوا ہے۔ پس اس جگہ سے جب وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے تو اپنی قوم سے کہا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا جو ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے‘ پس ہم اس پر ایمان لے آئے‘ پس اللہ تعالٰی نے یہ آیتیں نازل فرما دیں:’’(ترجمہ:) تم فرماؤ مجھے وحی ہوئی کہ کچھ جنوں نے میرا پڑھنا کان لگا کر سنا............ آیت کے آخر تک (الجن:۱)۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنوں کی بات وحی کے ذریعے بتادی گئی ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبُو بِشْرِ: ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ القَعْقَاعِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ السَّرَّاجُ الثَّقَفِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْخَفَّافُ النَّيْسَابُورِيُّ ← الْحَاكِمُ وَأَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ أَحْمَدَ الصيرفي، ← أَبُو الْقَاسِم عبد اللكريم بْنُ هَوَازِنَ الْقُشَيْرِيُّ ← جِيهُ بْنُ طَاهِرٍ الشَّحَّامِيُّ بِقِرَاءَةِ الإِمَامِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ الأَنْصَارِيِّ الْمَغْرِبِيِّ ← أَسْمَعُ فِي شَعْبَانَ ← الشَّيْخُ الإِمَامُ الْعَالِمُ شِهَابُ الدِّينِ أَبُو بَكْرٍ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بن عمر الصفارة
Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 103
