Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند السراج

Musnad Siraj

by Muhammad Bin Ishaq Bin Ibraheem Al Siraj Al Saqfi Nishpuri

1,577 Hadith109 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ الْجُزْءُ الثَّالِثُ مِنْ مُسْنَدِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ · حديث 103

103 - أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الإِمَامُ الْعَالِمُ شِهَابُ الدِّينِ أَبُو بَكْرٍ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بن عمر الصفارة قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ فِي شَعْبَانَ سنة ثَمَان وسِتمِائَة بِنَيْسَابُورَ، قِيلَ لَهُ أَخْبَرَكُمْ أَبُو بَكْرٍ وَجِيهُ بْنُ طَاهِرٍ الشَّحَّامِيُّ بِقِرَاءَةِ الإِمَامِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ الأَنْصَارِيِّ الْمَغْرِبِيِّ سَنَةَ تِسْعٍ وَثَلاثِينَ وَخَمْسِمِائَةٍ أَنَا أَبُو الْقَاسِم عبد اللكريم بْنُ هَوَازِنَ الْقُشَيْرِيُّ وَأَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْرَفِيُّ وَالْحَاكِمُ وَأَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الإِسْمَاعِيلِيُّ قَالُوا: أَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْخَفَّافُ النَّيْسَابُورِيُّ ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ السَّرَّاجُ الثَّقَفِيُّ ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ القَعْقَاعِ ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا أَبُو عُوَانَةَ ثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجِنِّ وَلا رَآهُمْ، انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، أُرْسَلِتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبَ، فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا: مَالَكُمْ؟ فَقَالُوا: حِيلَ بَيْنَنَا وَبَين خبر الْمسَاء وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبَ، فَقَالُوا: مَا حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلا مِنْ شَيْءٍ حَدَثَ، فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ؟ فَانْصَرِفُوا فَانْطَلقُوا يضْربُونَ مشارك الأَرْضِ وَمَغَارِبِهَا مَا هَذَا الِّذِي حَالَ بَيْنَهُمْ وَبَين خبر الْمسَاء؟ فَانْصَرَفَ النَّفَرُ الَّذِينَ يَتَوَجَّهُوا نَحْوَ تِهَامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ بِنَخْلَةٍ عَامِدًا إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلاةَ الْفَجْرِ فَلَمَّا سمعُوا الْقُرْآن استعموا، وَقَالُوا: هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، فَهُنَاكَ حِينَ رَجِعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا: (يَا قَومنَا إِنَّا سعنا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ) (الْجِنّ: 1) إِلَى آخِرِ الآيَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ) إِنَّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ.

ضياء الدين المقدسی نے کہا: ہمیں خبر دی شیخ امام عالم شہاب الدین ابوبکر قاسم بن عبداللہ بن عمر بن الصفارہ نے‘ ان کے سامنے قرأت ہوئی اور میں سن رہا تھا‘ شعبان 608 ہجری کو نیشاپور میں‘ ان سے کہا گیا کہ تم کو خبر دی ابوبکر وجیہ بن طاہر الشحامی نے امام حسن بن علی بن حسن انصاری مغربی کے قرأت کرنے سے 539 ہجری کو‘ ہمیں خبر دی ابوالقاسم عبدالکریم بن ہوازن القشیری نے اور ابوبکر یعقوب بن احمد الصیرفی نے اور حاکم نے اور ابوالحسین احمد بن عبدالرحیم اسماعیل نے‘ ان سب نے کہا کہ ہمیں خبر دی ابوالحسین احمد بن محمد بن احمد بن عمر الخفاف نیشا پوری نے‘ ہمیں حدیث بیان کی ابوالعباس محمد بن اسحاق بن ابراہیم السراج الثقفی نے‘ ہمیں حدیث بیان کی جعفر بن محمد بن قعقاع نے‘ ہمیں حدیث بیان کی ابوعوانہ نے‘ ہمیں حدیث بیان کی ابوبشر نے‘ ہمیں حدیث بیان کی حضرت سعید بن جبیر نے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں پر قرأت نہیں کی اور نہ ہی انہیں دیکھا‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند ساتھیوں کو لے کر بازار ِعکاظ کی طرف جا رہے تھے جبکہ شیاطین کو آسمانی خبروں سے روک دیا گیا تھا اور ان پر شعلے ڈالے جاتے تھے‘ شیاطین اپنی قوم کی طرف آئےاور کہا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں آسانی خبروں سے روک دیا گیا ہے اور ہم پر شعلے برسائے جاتے ہیں‘ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان کوئی نئی چیز حائل ہوئی ہوگی‘ پس مشرق و مغرب کو چھان مارو اور دیکھو کہ ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان کیا چیز حائل ہوئی ہے ‘ تو وہ مشرق اور مغرب کو چھان مارنے کے لئے چلے کہ کون سی چیز ان کے اور آسمانی خبروں کے درمیابی حائل ہوئی ہے؟ تلاش کرنے والوں میں سے کچھ تہامہ کی طرف لوٹے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بازارِ عکاظ جاتے ہوئے نخلہ کے مقام پر اپنے بعض صحابہ کے ساتھ نماز فجر پڑھ رہے تھے‘ جب ان جنوں نے قرآن سنا تو ان پر کان دھرے اور کہا کہ خدا کی قسم! یہی ہے جو ہمارے اور آسانی خبروں کے درمیان حائل ہوا ہے۔ پس اس جگہ سے جب وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے تو اپنی قوم سے کہا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا جو ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے‘ پس ہم اس پر ایمان لے آئے‘ پس اللہ تعالٰی نے یہ آیتیں نازل فرما دیں:’’(ترجمہ:) تم فرماؤ مجھے وحی ہوئی کہ کچھ جنوں نے میرا پڑھنا کان لگا کر سنا............ آیت کے آخر تک (الجن:۱)۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنوں کی بات وحی کے ذریعے بتادی گئی ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبُو بِشْرِ: ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ القَعْقَاعِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ السَّرَّاجُ الثَّقَفِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْخَفَّافُ النَّيْسَابُورِيُّ ← الْحَاكِمُ وَأَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ أَحْمَدَ الصيرفي، ← أَبُو الْقَاسِم عبد اللكريم بْنُ هَوَازِنَ الْقُشَيْرِيُّ ← جِيهُ بْنُ طَاهِرٍ الشَّحَّامِيُّ بِقِرَاءَةِ الإِمَامِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ الأَنْصَارِيِّ الْمَغْرِبِيِّ ← أَسْمَعُ فِي شَعْبَانَ ← الشَّيْخُ الإِمَامُ الْعَالِمُ شِهَابُ الدِّينِ أَبُو بَكْرٍ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بن عمر الصفارة

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 103

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ الْجُزْءُ الثَّالِثُ مِنْ مُسْنَدِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ · حديث 104

104 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ثَنَا داؤد بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ قَيْسٍ قَالَ: هَلْ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنّ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ هَل شهد أحكم مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ فَقَالَ: لَا، وَكَنَّا مَعَهُ لَيْلَةً فَفَقَدْنَاهُ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا هُوَ جَاءَ مِنْ حِرَاءٍ وَقَالَ: إِنَّهُ أَتَانِي دَاعِيَ الْجِنِّ فَذَهَبَ مَعَهُ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ الْقُرْآنَ، فَانْطَلَقَ بِنَا حَتَّى أَرَانَا آثَارَهُمْ وَنِيرَانَهُمْ، فَسَأَلُوهُ عَنِ الزَّادِ، فَقَالَ: لَكُمْ كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي يَد أحدكُم أَو فر مَا يكون لَحْمًا، وَكَانَ بَعْرَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تستنجوا بهما فإنهها طَعَامُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ.

شعی کہتے ہیں کہ میں نے علقمہ بن قیس سے پوچھا: کیا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ لیلۃ الجن ( جنات سے ملاقات کی رات ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے؟ علقمہ نے کہا: میں نے یہ بات حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھی تھی کہ کیا آپ میں سے کوئی لیلۃ الجن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ؟ اُنہوں نے فرمایا نہیں ! لیکن ایک رات ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے‘ اچھانک آپ نگاہوں سے اوجھل ہوگئے‘ وہ رات ہم نے سخت بے چینی میں گزاری۔ جب صبح ہوئی تو ہم نے دیکھا کہ آپ غار حراء کی جانب سے آ رہے ہیں اور فرمایا: میرے پاس جنات کی طرف سے ایک نمائندہ آیا تھا‘ میں اس کے ساتھ گیا اور جنات کے سامنے قرآن پڑھا‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے ساتھ لے گئے اور ہمیں جنات کے آثار اور ان کی آگ کے آثار دکھائے۔ جنات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی خوراک کے بارے میں پوچھا تو ارشاد فرمایا: ہر وہ جانور جس کو اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا‘ اس کی ہڈی تمہاری خوراک ہے‘ تمہارے پاس آتے ہی وہ گوشت سے پُر ہو جائے گی اور ہر اونٹ کی مینگنی تمہارے جانوروں کا چارہ ہے‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان دونوں چیزوں سے استنجاء نہ کیا کرو کیونکہ یہ تمہارے بھائیوں جنوں کی خوراک ہے۔

الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ،

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 104

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ الْجُزْءُ الثَّالِثُ مِنْ مُسْنَدِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ · حديث 105

105 - حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَة ثَنَا داؤد بْنُ أَبِي هِنْدٍ، وَحَدَّثَنَا مُجَاهِدُ ابْن مُوسَى وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ قَالا: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ علية ثَنَا داؤد عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلْقَمَة، قَالَ: قَالَت لابْنِ مَسْعُودٍ: هَلْ صَحِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ مِنْكُمْ أَحَدٌ؟ قَالَ: مَا صَحِبَهُ مِنَّا أَحَدٌ، وَلَقَدْ فَقَدْنَاهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِمَكَّةَ، فَقُلْنَا: أُغْتِيلَ اسْتُطِيرَ مَا فَعَلَ؟ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ، فَلَمَّا كَانَ وَجْهُ السَّحَرِ أَوْ وَجْهُ الصُّبْحِ إِذَا أَنَا بِهِ يَجِيءُ مِنْ قِبَلِ حِرَاءَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ ‍‍! فَذَكَرُوا الَّذِي كَانُوا فِيهِ، فَقَالَ: إِنَّهُ أَتَانِي دَاعِيَ الْجِنِّ فَأَتَيْتُهُمْ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ، فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانَا آثَارَهُمْ وَآثَارُ نِيرَانِهِمْ، قَالَ الشَّعْبِيُّ: وَسَأَلُوهُ الزَّادَ، وَكَانُوا مِنْ جِنِّ الْجَزِيرَةِ، فَقَالَ: كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرُ مَا يَكُونُ لَحْمًا، وَكُلُّ بَعْرَةٍ أَوْ رَوَثٍ عَلَفًا لِدَوَابِّكُمْ، فَلا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا فَإِنَّهُمَا زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ.

حضرت علقمہ سے روایت ہے کہ اُنہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا تم میں سے کوئی لیلۃ الجن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ؟ تو حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم میں سے کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں تھا لیکن مکہ میں ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے اوجھل ہو گئے تو ہم نے سوچا کہ کسی نے آپ کو شہید کر دیا ہے‘ یا آپ کو جن لے گئے ہیں‘ کیا بنے گا ؟ وہ رات ہم نے سخت بے چینی سے گزاری جب صبح ہوئی تو میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حراء کی طرف سے تشریف لا رہے ہیں۔ ہم نے عرض کیا:یا رسول اللہ! پھر جو بیتی تھی وہ سنا دی‘ تو ارشاد فرمایا: میرے پاس جنات کی طرف سے ایک نمائندہ آیا تھا‘ میں جنوں کے پاس چلا گیا اور ان کے سامنے قرآن پڑھا‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے ساتھ لے گئے اور جنات کے آثار اور ان کی آگ کے آثار دکھائے۔ شعبی کہتے ہیں کہ جنات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی خوراک کےبارے میں پوچھااور وہ تمام جن جزیرہ کے تھے‘ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر وہ جانور جس کو اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا اُس کی ہڈی تمہاری خوراک ہے‘ تمہارے پاس آتے ہی وہ گوشت سے پُر ہو جائے گی اور ہر مینگنی یالید تمہارے جانوروں کا چارہ ہے‘ پھر ارشاد فرمایا: ان دونوں چیزوں سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہیں۔

عَلْقَمَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← مُجَاهِدُ ابْن مُوسَى وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ،

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 105

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ الْجُزْءُ الثَّالِثُ مِنْ مُسْنَدِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ · حديث 106

106 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قُلْتُ لأَبِي أُسَامَةَ: أَحَدَّثَكُمْ مِسْعَرٌ عَنْ مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: سَأَلْتُ مَسْرُوقًا مَنْ أَذِنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِنِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُوكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهُ أَذِنَتْهُ بهم سَمُرَة فأقربه أَبُو أُسَامَةَ، وَقَالَ: نَعَمْ.

معن کے والد نے مسروق سے پوچھا کہ جس رات جنات نے قرآن سنا‘ اُس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کس نے خبر دی تھی ۔مسروق نے کہا: مجھے تمہارے باپ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بتلایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوکیکر کے درخت نے خبر دی تھی ۔ابواسامہ نے اس کا اقرار کیا اور کہا: جی ہاں !

نَعَمْ ← أَبُوكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهُ أَذِنَتْهُ بهم سَمُرَة فأقربه أَبُو أُسَامَةَ، ← سَأَلْتُ مَسْرُوقًا مَنْ أَذِنَ النَّبِيُّ بِالْجِنِّ، ← أَبِي ← مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← قُلْتُ لأَبِي أُسَامَةَ: أَحَدَّثَكُمْ مِسْعَرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 106

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ الْجُزْءُ الثَّالِثُ مِنْ مُسْنَدِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ · حديث 107

107 - حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ سَهْلٍ ثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ثَنَا سَلامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: قَالَتْ لِي خَالَتِي عَائِشَةُ: يَا ابْنَ أُخْتِي! هَلْ تَدْرِي فِيمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ (وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا - الْإِسْرَاء: 110) ؟، قُلْتُ: لَا، قَالَتْ: فِي الدُّعَاءِ.

حضرت عروہ کے والد نے کہا کہ مجھے میری خالہ حضرت اُم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے میری بہن کے بیٹے ! کیا جانتے ہو کہ یہ آیت ’’ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بھا ‘‘کس بارے میں نازل ہوئی تھی ؟ میں نے کہا کہ جی نہیں ! ( مجھے معلوم نہیں کہ کس بارے نازل ہوئی ہے ) تو فرمایا: دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

أَبِي ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سَلاَّمُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، ← الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ← حَامِدُ بْنُ سَهْلٍ

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 107

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter
2. The first book of prayer
    8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter
3. The fourth part of the Musnad of Abu al-Abbas al-Sarraj
    34. Chapter35. Chapter36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
4. The second part of the second part with the pumice parts
    45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter
5. The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri
    52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter
6. The tenth part of the hadith of As-Sarraj from Juzu 'al-Qusayri
    62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter
7. Part of the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq Abraham, the educational siren, may God have mercy on him, is part of the Haddi
    74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
8. The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
9. Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter