Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند السراج

Musnad Siraj

by Muhammad Bin Ishaq Bin Ibraheem Al Siraj Al Saqfi Nishpuri

1,577 Hadith109 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند السراج · جُزْءٌ: فِيهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السَّرَّاجِ ‹ بَابٌ فِي صَلاةِ التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ · حديث 1518

1518 - أَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَهْرَانَ السَّرَّاجُ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ثَنَا شَدَّادُ ابْن عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَمَّارٍ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: يَا عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ! لِصَاحِبِ الْعَقْلِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِيمٍ بِأَيِّ شَيْءٍ تَدَّعِي أَنَّكَ رَبْعُ الإِسْلامِ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَرَى النَّاسَ عَلَى ضَلالَةٍ وَلا أَرَى الأَدْيَانَ شَيْئًا، ثُمَّ سَمِعْتُ عَنْ رَجُلٍ يُخْبِرُ أَخْبَارًا بِمَكَّةَ وَيُحَدِّثُ أَحَادِيثَ، فَرَكِبْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى أَقْدَمَ مَكَّةَ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْفِيًا، فَإِذَا قَوْمُهُ عَلَيْهِ جِرَاءٌ فَتَلَطَّفْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ: مَا أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا نَبِيٌّ، فَقُلْتُ: وَمَا نَبِيٌّ؟ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: أآللَّهُ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَبِأَيِّ شَيْءٍ؟ فَقَالَ: بِأَنْ تُوَحِّدَ اللَّهَ وَلا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا. وَكَسْرِ الأَوْثَانِ وَصِلَةِ الأَرْحَامِ، قُلْتُ: مَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمر؟ فَقل: حُرٌّ وَعَبْدٌ، وَإِذَا مَعَهُ بِلالٌ وَأَبُو بَكْرٍ، فَقُلْتُ: إِنِّي مُتَّبِعُكَ، قَالَ: أَنْتَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ يَوْمَكَ هَذَا، وَلَكِنِ ارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ فَإِذَا سَمِعْتَ بِي قَدْ ظَهَرْتُ فَالْحَقْ بِي، فَرَجَعْتُ أَتَخَبَّرُ الأَخْبَارَ حَتَّى جَاءَ رَكْبٌ مِنْ يَثْرِبَ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا فَعَلَ هَذَا الرَّجُلُ الْمَكِيُّ الَّذِي أَتَاكُمْ؟ قَالُوا: أَرَادَ قَوْمَهُ قَتْلَهُ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا ذَلِكَ وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنِهِ وَتَرَكَنَا النَّاسُ إِلَيْهِ سِرَاعًا، فَرَكِبْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى قَدِمْتُ عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! أَتَعْرِفُنِي؟ قَالَ: نَعَمْ أَلَسْتَ الَّذِي أَتَيْتَنِي بِمَكَّةَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عَلِّمْنِي مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ وَأَجْهَلُ، قَالَ: إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَأَقْصِرْ عَلَى الصلوة حَتَّى تلطع الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ فَلا تُصَلِّ حَتَّى تَرْتَفِعَ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ، فَإِذَا ارْتَفَعَتْ قَيْدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى يَسْتَقِلَّ الرُّمْحَ بَالظِّلِّ، ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلاةِ فَإِنَّهَا تَسْجُرُ جَهَنَّمَ، فَإِذَا فَاءَ الْفَيْءُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى تُصَلِّي الْعَصْرَ، فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلاةِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ حِينَ تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ قَالَ: مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَقْرَبُ وُضُوءَهُ ثُمَّ يَتَمَضْمَضُ فَيَمُجُّ ثُمَّ يَسْتَنْشِقُ وَيَسْتَنْثِرُ إِلا خَرَّتْ خَطَايَا فِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ إِلا خَرَّتَ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ إِلا خَرَّتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَطْرَافِ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ إِلا خَرَّتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ إِلا خَرَّتْ خَطَايَا قَدَمَيْهِ مِنْ أَطْرَافِ أَصَابِعِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَقُومُ وَيَحْمِدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ، ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ ثمَّ (1) انْصَرف انْصَرَفَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَهَيْئَةِ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ. قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: يَا عُمَرُ بْنُ عَبَسَةَ! انْظُرْ مَاذَا تَقُولُ، سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُعْطِي الرَّجُلُ هَذَا كُلَّهُ فِي مَقَامِهِ؟ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ: يَا أَبَا أُمَامَةَ! لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَدَقَّ عَظْمِي وَاقْتَرَبَ أَجْلِي وَمَا بِي من احاجة أَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ وَعَلَى رَسُولِهِ، لَوْ لَمْ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا لَقَدْ سَمِعْتُهُ سَبْعًا أَوْ ثَمَانِيًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ.

ہمیں خبر دی ابوالعباس محمد بن اسحاق بن ابراہیم بن مہران السراج الثقفی نے کہ مجھے حدیث بیان کی ابویحییٰ البزاز نے‘ ہمیں حدیث بیان کی ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے‘ ہمیں حدیث بیان کی عکرمہ بن عمار نے‘ ہمیں حدیث بیان کی شداد بن عبداللہ ابوعمار نے اور اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک پوری جماعت کو پایا‘ اُنہوں نے کہا کہ ابوامامہ نے فرمایا: اے عمرو بن عبسہ ! بنی سلیم کا عقلمند تھا کہ تم کس وجہ سے دعویٰ کرتے ہو کہ تم اسلام کے چوتھے ہو؟ اس پر عمرو بن عبسہ نے کہا: میں زمانۂ جہالت میں گمان کرتا تھا کہ لوگ گمراہی پر ہیں اور میں دینوں کو کچھ خیال نہیں کرتا تھا۔ پھر میں نے ایک شخص کے بارے میں سنا کہ وہ مکہ میں بہت سی خبریں بیان کرتا ہے تو میں اپنی سواری پر بیٹھا اور ان کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپے ہوئے ہیں اور آپ کی قوم آپ پر دلیر ہو رہی ہے۔ پھر میں ایک حیلہ کر کے آپ کے پاس پہنچا تو میں نے کہا: آپ کون ہیں؟ فرمایا: میں نبی ہوں! میں نے کہا: نبی کیا ہوتا ہے؟ فرمایا: اللہ کا رسول! میں نے کہا: کیا اللہ نے آپ کو بھیجا ہے؟ فرمایا: جی ہاں! میں نے کہا: کون سا پیغام دے کر؟ فرمایا: یہ کہ تُو اللہ کو ایک مانے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے اور بت شکنی اور صلہ رحمی کرنے کا پیغام دے کر بھیجا ہے۔ میں نے کہا: اس دین میں آپ کے ساتھ کون ہیں؟ فرمایا: آزاد اور غلام۔ (راوی کہتے ہیں:) ان دنوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت بلال اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما تھے۔ میں نے کہا: بے شک میں آپ کی پیروی کروں گا۔ فرمایا: تم اس وقت اس کی طاقت نہیں رکھتے لیکن تم اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ اور جب تم سن لو کہ مجھے غلبہ حاصل ہو گیا تو اس وقت میرے پاس آ جانا۔ پس میں لوٹ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے معلومات حاصل کرتا رہتا تھا حتٰی کہ یثرب (مدینہ شریف) سے میرے پاس کچھ سوار ہوئے۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ جو مکی شخص تمہارے پاس آئے ہیں‘ ان کا کیا حال ہے؟ اُنہوں نے کہا: ان کی قوم نے ان کو قتل کرنا چاہا تھا مگر وہ اس پر قادر نہ ہو سکے‘ ان کے درمیان اور قوم کے درمیان رکاوٹ آ گئی اور ہم نے لوگوں کو ان کی دعوت تیزی سے قبول کرتے دیکھا ہے۔ عمرو بن عبسہ کہتے ہیں : میں اپنی سواری پر سوار ہو کر مدینہ شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ فرمایا: جی ہاں ! تم وہی شخص ہو جو مجھ سے مکہ میں ملے تھے۔ میں نے کہا: کیوں نہیں! میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! مجھے ان چیزوں کے متعلق بتائیے جو اللہ نے آپ کو سکھائی ہیں اور جنہیں میں نہیں جانتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح کی نماز پڑھو پھر اس وقت تک نماز نہ پڑھو جب تک سورج طلوع نہ ہو جائے اور جب طلوع ہو جائے تو اس کے بلند ہونے تک نماز نہ پڑھو‘ بے شک یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں‘ جب ایک یا دو نیزوں کی مقدار بلند ہو جائے تو نماز پڑھو کیونکہ اس وقت فرشتے نماز کی گواہی دیں گے یہاں تک کہ سایہ نیزے کے برابر ہو جائے۔ اس کے بعد نماز سے رُک جاؤ کیونکہ اس وقت جہنم جھونکی جاتی ہے‘ پھر جب سورج ڈھل جائے تو نماز پڑھو کیونکہ اس وقت نماز کی فرشتے گواہی دیں گے یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو‘ پھر نماز سے رُک جاؤ یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے کیونکہ جب یہ غروب ہوتا ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے! فرمایا: کوئی بھی مسلمان شخص ثواب کی نیت سے وضو کرتا ہے‘ کُلّی کرتا ہے‘ پھر ناک میں پانی ڈالتا ہے اور ناک صاف کرتا ہے‘ اللہ تعالٰی اس کے چہرے اور منہ اور نتھنوں کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے‘ پھر وہ اللہ تعالٰی کے حکم کے مطابق چہرہ دھوتا ہے تو داڑھی کے اطراف سے اس کے چہرے کے گناہ پانی کے ساتھ جھڑ جاتے ہیں۔ پھر جب وہ کہنیوں تک ہاتھ دھوتا ہے تو ہاتھوں کے پوروں سے پانی کے ساتھ اس کے ہاتھوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں‘ پھر جب وہ اللہ کے حکم کے مطابق سر کا مسح کرتا ہے تو بالوں کے سروں سے اس کے سر کے گناہ پانی کے ساتھ جھڑ جاتے ہیں‘ پھر وہ اللہ کے حکم کے مطابق ٹخنوں سمیت پاؤں دھوتا ہے تو انگلیوں سے لے کر ٹانگوں تک اس کے گناہ پانی سے جھڑ جاتے ہیں‘ پھر وہ کھڑا ہوتا ہے اور اللہ کی ایسی حمد و ثناء کرتا ہے کہ جو اس کی شان کے لائق ہے پھر دو رکعتیں پڑھتا ہے تو اپنے گناہوں سے ایسا پاک ہو جائے گا جیسا کہ اس کی ماں نے ابھی اسے پیدا کیا ہو۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عمر بن عبسہ ! دیکھو کہ تم کیا کہہ رہے ہو! تم نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ایک ہی جگہ ایک شخص کو اتنا اجر عطا کیا جائے گا؟ حضرت عمرو بن عبسہ نے جواب دیا: اے ابوامامہ! میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری ہڈیاں گل گئیں اور موت قریب آ چکی ہے‘ اس حال میں مجھے اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی کیا ضرورت ہے‘ اگر میں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دو یا تین مرتبہ تو کیا سات یا آٹھ یا اس سے بھی زیادہ نہ سنا ہوتا تو کبھی اس کو بیان نہ کرتا۔

كَانَ قَدْ أَدْرَكَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← شَدَّادُ ابْن عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَمَّارٍ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَهْرَانَ السَّرَّاجُ الثَّقَفِيُّ

Musnad Siraj · Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj › Chapter · Hadith 1518

مسند السراج · جُزْءٌ: فِيهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السَّرَّاجِ ‹ بَابٌ فِي صَلاةِ التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ · حديث 1519

1519 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْبَاهِلِيُّ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عَيَّاضٌ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ سَاعَاتِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَاعَةٌ تَأْمُرُنِي أَنْ لَا أُصَلِّي فِيهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلاةِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، ثُمَّ الصَّلاةُ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ متقبلة حَتَّى تنتصف النَّهَارُ، لَعَلَّهُ قَالَ: فَإِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاة حَتَّى يمِيل الشَّمْسُ، ثُمَّ الصَّلاةُ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ، شَكَّ ابْنُ وَهْبٍ. حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ! رات اور دن کی وہ کون سی گھڑیاں ہیں جن میں آپ مجھے نماز نہ پڑھنے کا حکم دیتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تُو صبح کی نماز پڑھ لے تو نماز پڑھنے سے رُک جا! یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے پھر نماز پڑھو کہ یہ مقبول ہے‘ اس کی فرشتے گواہی دیں گے یہاں تک کہ نصف النہار آ جائے۔ راوی کہتے ہیں: شاید آپ نے یہ فرمایا کہ جب نصف النہار ہو جائے تو سورج کے ڈھلنے تک نماز سے رُک جاؤ‘ پھر نماز پڑھو کہ اس کی فرشتے گواہی دیں گے۔ ابن وہب نے شک کیا کہ: یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِيَّ فَقَالَ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عِيَاضٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْبَاهِلِيُّ

Musnad Siraj · Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj › Chapter · Hadith 1519

مسند السراج · جُزْءٌ: فِيهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السَّرَّاجِ ‹ بَابٌ فِي صَلاةِ التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ · حديث 1520

1520 - حَدَّثَنَا الْحسن بن داؤد، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ عَنِ الضَّحَّاكِ ابْن عُثْمَانَ الْخِيرَامِيِّ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَأَلَ صَفْوَانُ بْنُ مُعَطِّلٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَمْرٍ أَنْتَ بِهِ عَالِمٌ وَأَنَا بِهِ جَاهِلٌ، قَالَ: مَا هُوَ؟ قَالَ: هَلْ مِنْ سَاعَاتِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنْ سَاعَةٍ تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلاةُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَدَعِ الصَّلاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِنَّهَا تَطْلَعُ بِقَرْنَيْ شَيْطَانٍ، ثُمَّ سَلْ، فَالصَّلاةُ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تَسْتَوِي الشَّمْسُ عَلَى رَأْسِكَ كَالرُّمْحِ، فَإِذَا اسْتَوَتْ عَلَى رَأْسِكَ فَدَعِ الصَّلاةَ، فَإِنَّ تِلْكَ السَّاعَةَ تُسْجَرُ فِيهَا جَهَنَّمُ وَتُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُهَا، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ حَاجِبِكَ الأَيْمَنِ فَصَلِّ، فَالصَّلاةُ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تُصَلِّي الْعَصْرَ، فَإِذَا صَلَّيْتَ الْعَصْرَ فَدَعِ الصَّلاةَ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا: یا رسول اللہ ! میں آپ سے اس چیز کے بارے میں پوچھتا ہوں جسے آپ جانتے ہیں اور میں نہیں جانتا۔ فرمایا: وہ کیا ہے؟ عرض کی : کیا رات اور دن کے اوقات میں سے کوئی ایسا بھی وقت ہے جس میں نماز پڑھنا مکروہ ہو؟ فرمایا: جی ہاں ! جب تُو صبح کی نماز پڑھ لے تو نماز سے رُک جا یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے اس لئے کہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے‘ پھر نماز پڑھو کہ اس نماز کی فرشتے گواہی دیں گے یہاں تک کہ سورج تیرے سر پر نیزے کی طرح سیدھا ہو جائے‘ جب عین تیرے سر پر ہوتو نماز کو چھوڑ دو‘ اس لئے کہ اس وقت جہنم جھونکائی جاتی ہے اور اس کے دروازے کھولے جاتے ہیں‘ جب سورج ڈھل جائے تو نماز پڑھو کہ یہ مقبول ہے‘ فرشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ تُو عصر کی نماز پڑھ لے‘ جب تُو عصر کی نماز پڑھ لے تو نماز کو چھوڑ دے یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔

سَأَلَ صَفْوَانُ بْنُ مُعَطِّلٍ رَسُولَ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← الضَّحَّاكِ ابْن عُثْمَانَ الْخِيرَامِيِّ ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← الْحسن بن داؤد، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ

Musnad Siraj · Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj › Chapter · Hadith 1520

مسند السراج · جُزْءٌ: فِيهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السَّرَّاجِ ‹ بَابٌ فِي صَلاةِ التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ · حديث 1521

1521 - حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى ثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّالَحِينِيُّ ثَنَا وُهَيْبٌ عَنِ ابْنِ طَاؤُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ الصَّلَاة بعد التصر.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ عصر کے بعد نماز کو مکروہ سمجھتے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ الصَّلَاة بعد التصر. ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← وُهَيْبٌ، ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّالَحِينِيُّ، ← أبو يحيى

Musnad Siraj · Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj › Chapter · Hadith 1521

مسند السراج · جُزْءٌ: فِيهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السَّرَّاجِ ‹ بَابٌ فِي صَلاةِ التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ · حديث 1522

1522 - حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى ثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ثَنَا وُهَيْبٌ عَنِ ابْنِ طَاؤُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّمَا كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ أَنْ يَتَحَرَّى طُلُوعَ الشَّمْسِ وَغُرُوبَهَا.

اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کے طلوع اور غروب کے وقت نماز کے ارادے کو ناپسند فرمایا۔

إِنَّمَا كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ الصَّلاةَ أَنْ يَتَحَرَّى طُلُوعَ الشَّمْسِ وَغُرُوبَهَا. ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← وُهَيْبٌ، ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ← أبو يحيى

Musnad Siraj · Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj › Chapter · Hadith 1522

مسند السراج · جُزْءٌ: فِيهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السَّرَّاجِ ‹ بَابٌ فِي صَلاةِ التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ · حديث 1523

1523 - حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى ثَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْمُهَلَّبَ بْنَ أَبِي صَفْرَةَ يَخْطُبُ قَالَ: سَمِعْتُ أَوْ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَلاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلا حِينَ تَسْقُطُ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَتَسْقُطُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ. _________ [1521] إِسْنَاده صَحِيح، وَقد روى من طَرِيق هِشَام بن حُجَيْر عَن طاس بن مَرْفُوعا انْظُر الْبَيْهَقِيّ (ج2 ص453) [1522] إِسْنَاده صَحِيح، أخرجه مُسلم (ج1 ص2779 من طري بهز عَن وهيب بِهِ. [1523] إِسْنَاده صَحِيح، أخرجه الطَّيَالِسِيّ رقم: 896 وَعنهُ ابْن أبي شيبَة (ج2 ص249) وَكَذَا من طَرِيق الطَّبَرَانِيّ (ج7 ص283) عَن شُعْبَة بِهِ، وَرَوَاهُ أَحْمد (ج5 ص15، 20) وَابْن خُزَيْمَة (ج2 ص256) وَالطَّبَرَانِيّ والطَّحَاوِي (ج1 ص105) من طرق عَن شُعْبَة بِهِ.

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز نہیں یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے اور نہ ہی اس کے غروب کے وقت کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے۔

سَمُرَةَ ← أو ← الْمُهَلَّبَ بْنَ أَبِي صَفْرَةَ يَخْطُبُ ← سِمَاكٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ← أبو يحيى

Musnad Siraj · Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj › Chapter · Hadith 1523

مسند السراج · جُزْءٌ: فِيهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السَّرَّاجِ ‹ بَابٌ فِي صَلاةِ التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ · حديث 1524

1524 - حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَا الْمَخْزُومِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرَ ثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمَخْرَمِيّ ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ عَنْبَسَةَ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو يحيى ثَنَا عفانبن مُسْلِمٍ قَالُوا: أَنَا وُهَيْبٌ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاؤُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلاةِ أَنْ يَتَحَرَّى طُلُوعَ الشَّمْسِ أَوْ غُرُوبَهَا، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَفَّانَ.

اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ نماز کو طلوعِ آفتاب یا غروبِ آفتاب کے وقت پڑھا جائے۔

الصَّلاةِ أَنْ يَتَحَرَّى طُلُوعَ الشَّمْسِ أَوْ غُرُوبَهَا، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَفَّانَ. ← إنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، ← وُهَيْبٌ، ← عفانبن مُسْلِمٍ ← وَحَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى ← الْفَضْلُ بْنُ عَنْبَسَةَ ← يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمَخْرَمِيّ ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرَ ← المخزومي ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Siraj · Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj › Chapter · Hadith 1524

مسند السراج · جُزْءٌ: فِيهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السَّرَّاجِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ (1) · حديث 1525

1525 - حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنا المَخْزُومِي نَا وُهَيْبٌ عَنِ ابْنِ طَاؤُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: وَهِمَ عُمَرُ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَحَرَّى طُلُوعُ الشَّمْسِ وَغُرُوبُهَا.

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ حضرت عمر کو وہم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت نماز کے قصد سے منع فرمایا ہے۔

وَهِمَ عُمَرُ إِنَّمَا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ أَنْ يُتَحَرَّی طُلُوعُ الشَّمْسِ وَغُرُوبُهَا ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← وُهَيْبٌ، ← المخزومي ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Siraj · Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj › Chapter · Hadith 1525

مسند السراج · جُزْءٌ: فِيهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السَّرَّاجِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ (1) · حديث 1526

1526 - حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى أَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ وَأَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقُ الْحَضْرَمِيُّ قَالا: ثَنَا وُهَيْبٌ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاؤُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَحَرَّى طُلُوعَ الشَّمْسِ أَوْ غُرُوبَهَا.

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت نماز کے قصد سے منع فرمایا۔

إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ أَنْ يَتَحَرَّى طُلُوعَ الشَّمْسِ أَوْ غُرُوبَهَا. ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ وَأَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقُ الْحَضْرَمِيُّ ← أبو يحيى

Musnad Siraj · Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj › Chapter · Hadith 1526

مسند السراج · جُزْءٌ: فِيهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السَّرَّاجِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ (1) · حديث 1527

1527 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاؤُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَعُ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ. _________ (1) كتبه على هَامِش الأَصْل. [1524] إِسْنَاده صَحِيح، مُكَرر رقم: 1552، وَأخرجه إِسْحَاق بن رَاهَوَيْه فِي مُسْنده (ج3 ص444) [1525] إِسْنَاده صَحِيح، أخرجه ابْن رَاهَوَيْه (ج2 ص645) [1526] إِسْنَاده صَحِيح مُكَرر مَا قبله. [1527] إِسْنَاده صَحِيح، أخرجه مُسلم (ج1 ص277) عَن الْحسن الْحلْوانِي عَن عبد الرَّزَّاق بِهِ، وَزَاد: قَالَ: فَقَالَت عَائِشَة: قَالَ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تتحروا بصلاتكم طُلُوع الشَّمْس وَلَا غُرُوبهَا فتصلوا عِنْد ذَلِك.

اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعتیں ترک نہیں فرماتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَھْلِ بْنِ عَسْکَرٍ،

Musnad Siraj · Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj › Chapter · Hadith 1527

مسند السراج · جُزْءٌ: فِيهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السَّرَّاجِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ (1) · حديث 1528

1528 - حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى أَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّاهِرَانِيُّ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعت الْأسود وَمَسْرُوقًا قَالا: نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا يَوْمًا قَطُّ إِلا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ.

اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس کسی دن نہیں ٹھہرے مگر عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔

مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ عِنْدَهَا يَوْمًا قَطُّ إِلا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ. ← نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا ← الْأسود وَمَسْرُوقًا ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّاهِرَانِيُّ ← وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ← شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أبو يحيى

Musnad Siraj · Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj › Chapter · Hadith 1528

مسند السراج · جُزْءٌ: فِيهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السَّرَّاجِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ (1) · حديث 1529

1529 - حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مكرم ثَنَا مُسلم بْنُ قُتَيْبَةَ عَنْ يُونُسُ بن أبي إِسْحَق عَنْ أَبِيهِ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ قَطُّ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتِي إِلا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ.

اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حجرے میں آ کر کبھی عصر نہیں پڑھی مگر اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔

مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ الْعَصْرَ قَطُّ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتِي إِلا بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ. ← عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← أَبِيهِ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَقَ ← مسلم بن قتيبة ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ

Musnad Siraj · Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj › Chapter · Hadith 1529

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter
2. The first book of prayer
    8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter
3. The fourth part of the Musnad of Abu al-Abbas al-Sarraj
    34. Chapter35. Chapter36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
4. The second part of the second part with the pumice parts
    45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter
5. The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri
    52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter
6. The tenth part of the hadith of As-Sarraj from Juzu 'al-Qusayri
    62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter
7. Part of the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq Abraham, the educational siren, may God have mercy on him, is part of the Haddi
    74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
8. The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
9. Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter