مسند السراج · الْجُزْء الثَّانِي من الثَّانِي بأجزاء الْخفاف ‹ بَابُ الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ فِي الصَّلاةِ · حديث 819
819 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ (1) قَالا: ثَنَا هُشَيْمٌ ثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ (وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا) قَالَ: نَزَلَتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخْتَفِي بِمَكَّةَ، فَكَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا سَمِعُوا سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ) أَيْ بِقِرَاءَتِكَ، فَيَسْمَعُ الْمُشْرِكُونَ فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ (وَلا تُخَافِتْ بِهَا) عَنْ أَصْحَابك فَلَا يستعمون (وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا) . (الْإِسْرَاء: 110) .
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کے اس فرمان:’’اور اپنی نماز نہ (بہت) بلند آواز سے پڑھو اور نہ بالکل آہستہ‘‘ کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں مختفی تھے تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کونماز پڑھاتے تو قرآن پڑھتے ہوئے آواز مبارک کو بلند فرماتے‘ تو جب مشرکین قرآن سنتے تو قرآن کو اور جس نے قرآن اُتار ہے (اللہ تعالٰی ) اور جو قرآن لے کر آیا ہے ان کو بُرا بھلا کہتے‘ اس پر اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ”اور اپنی نماز بہت بلند آواز سے نہ پڑھو ‘ یعنی اپنی قرأت کر کے اس طرح مشرکین سنیں گے اور قرآن کو بُرا بھلا کہیں گے ’’اور اپنی نماز بالکل آہستہ بھی نہ پڑھو‘‘ اپنے صحابہ سے کہ اس طرح وہ توجہ سے نہیں سن سکیں گے ’’اور ان دونوں (یعنی جہر و خفاء ) کے درمیان راستہ چاہو‘‘ (الاسراء:۱۱۰)۔
ابن عباس في قوله ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبُو بِشْرِ: ← هُشَيْمٌ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ
Musnad Siraj · The second part of the second part with the pumice parts › Chapter · Hadith 819
