Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند السراج

Musnad Siraj

by Muhammad Bin Ishaq Bin Ibraheem Al Siraj Al Saqfi Nishpuri

1,577 Hadith109 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1357

1357 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ثَنَا سُفْيَانُ ثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعِيدٍ، وَقَالَ مَرَّةً: عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَمْ يَقُلْ فِيهَا ثَنَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَعَرَّسَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ: أَلا رَجُلٌ يَكْلَؤُنَا اللَّيْلَةَ، لَا نَرْقُدُ عَنِ الصَّلاةِ، فَقَالَ بِلالٌ: أَنَا، فَاسْتَنَدَ إِلَى بَعِيرِهِ وَاسْتَقْبَلَ الْفَجْرَ، وَضَرَبَ اللَّهُ عَلَى آذَانِهِمْ فَلَمْ يَسْتَيْقِظُوا إِلا بِحَرِّ الشَّمْسِ فِي وُجُوهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا بِلالُ! مَا هَذَا؟ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ، قَالَ: فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي مَكَانِهِ بِأَصْحَابِهِ ثُمَّ قَالَ: اقْتَادُوا بِنَا مِنْ هَذَا الْمَكَانِ، وَصَلُّوا الصُّبْحَ فِي مَكَانٍ آخَرَ، وَقَالَ: مَنْ نسي صَلَاة فيصلها إِذَا ذكرهَا، قَالَ قالله: (أقِم الصَّلاةَ لِذِكْرِي) (طه: 14) .

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے تو ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں آرام کے لئے ٹھہر گئے‘ فرمایا: کیا کوئی شخص رات کو ہماری حفاظت کرے گا کہ ہم نماز سے سوئے نہ رہیں۔ تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں (حفاظت کروں گا) پس حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اپنے اونٹ کے ساتھ ٹیک لگائی اور طلوعِ فجر کی طرف متوجہ ہوئے‘ پس وہ نہ جاگے مگر ان کے چہروں پر دھوپ پڑنے کی وجہ سے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! کیا ہوا؟ عرض کی: یا رسول اللہ ! میری روح کو اسی ذات نے خوابیدہ کر دیا جس نے آپ کی روح مبارک کو سلا دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ساتھ اس جگہ دو رکعتیں پڑھیں‘ پھر فرمایا: اس جگہ سے کوچ کرو اور دوسری جگہ صبح کی نماز پڑھو اور فرمایا : جو نماز پڑھنا بھول جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے‘ اللہ تعالٰی نے فرمایا: ”اور میری یاد کے لئے نماز قائم کرو‘‘ (طٰہٰ:۱۴)۔

بِلَالٍ ← الصَّلَاةِ ← أَلا رَجُلٌ يَكْلَؤُنَا اللَّيْلَةَ، لَا نَرْقُدُ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ فِي سَفَرٍ فَعَرَّسَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَمْ يَقُلْ فِيهَا ← سَعِيدٌ، ← مُرَّۃُ ← سَعِيدٌ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1357

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1358

1358 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ قثنا سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى وَقَالَ: لَمْ أَحْفَظْهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ هَذِهِ الْكَلِمَةَ: مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا.

عبدالجبار کہتے ہیں کہ ہمیں سفیان نے دوسری مرتبہ حدیث بیان کی اور کہا: میں نے زہری سے یہ کلمہ یاد نہیں کیا: ’’من نسى صلاة فليصلها‘‘۔

لَمْ أَحْفَظْهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ هَذِهِ الْكَلِمَةَ: مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا. ← عَبْدُ الْجَبَّارِ قثنا سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1358

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1359

1359 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ فَسَارَ لَيْلَةً حَتَّى أدْركهُ لكرى عَرَّسَ، وَقَالَ لِبِلالٍ: اكْلأْ لَنَا اللَّيْلَ، فَصَلَّى بِلالٌ مَا قُدِّرَ لَهُ وَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ، فَلَمَّا تقَارب الْفجْر استسند بِلَال إِلَى رحالته فَلَمْ يَسْتَيْقِظِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا بِلالٌ، وَلا أَحَدَ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهُمُ اسْتِيقَاظًا فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، [فَقَالَ: يَا بِلالُ!] فَقَالَ لَهُ بِلالُ: أَخَذَ بَنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ بَأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاقْتَادُوا رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِلالا بإِقَامِ الصَّلاةِ فَصَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ قَالَ: مَنْ نَسِي صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، فَإِنَّ الله قَالَ: (قُم الصَّلاةَ لِذِكْرِي) (طه: 14) . فِي رِوَايَةِ الرِّيوَنْدِيِّ قَالَ يُونُس: وَكَانَ الزُّهْرِيّ يَقْرَأها: للذِّكْرَى

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ خیبر سے واپسی پر ساری رات سفر کرتے رہے یہاں تک کہ رات کے آخری وقت میں نیند کا غلبہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم آج رات ہماری حفاظت کرو۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ حسبِ استطاعت نفل پڑھتے رہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے صحابہ سو گئے‘ جب فجر قریب ہوئی تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی سواری سے ٹیک لگالی ( اور سو گئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ نہ کھلی نہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اور نہ کسی اور صحابی کی یہاں تک کہ ان پر دھوپ آ گئی‘ سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے (دھوپ دیکھ کر) گھبرا گئے اور فرمایا: اے بلال! حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں ! جس ذات نے آپ کو سلا دیا اُسی نے مجھے سلا دیا۔ وہاں سے تھوڑی دیر اپنی سواری کو چلانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ( اذان و اقامت کا )‘ اُنہوں نے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو فجر کی نماز (قضاء) پڑھائی‘ جب نماز مکمل کر چکے تو فرمایا: جب کوئی نماز بھول جائے تو نماز یاد آتے ہی پڑھ لے کیونکہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے : ”اور میری یاد کے لئے نماز قائم کرو‘‘۔ ریوندی کی روایت میں ہے: تم اپنی اپنی سواری کی لگام پکڑ لو‘ بے شک اس جگہ شیطان کا اثر ہے پھر تھوڑی دیر چلے پھر ٹھہر گئے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1359

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1360

1360 - حَدثنَا حَفْص بن عبد الله أَبُو عمر الْحلْوانِي ثَنَا مَرْوَان عَن يزِيد بن كيسَان عَن أبي حَازِم عَن أبي هُرَيْرَة رَضِي الله عَنهُ قَالَ: عرسنا مَعَ رَسُول الله (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) فَلم يَسْتَيْقِظ حَتَّى طلعت الشَّمْس، فَقَالَ رَسُول الله (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) : لياخذ كل رجل مِنْكُمْ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ، فَإِنَّ هَذَا مَكَانٌ حَضَرنَا فِيهِ شَيْطَان، فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ نَزَلَ.

NOT Found

عرسنا مَعَ رَسُول الله فَلم يَسْتَيْقِظ حَتَّى طلعت الشَّمْس، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ← مَرْوَانَ ← حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عُمَرَ الْحُلْوَانِيُّ،

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1360

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1361

1361 - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قثنا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى بَزَغَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ ذَا مَنْزِلٌ كَأَنَّ حَضَرَنَا فِيهِ شَيْطَانٌ، قَالَ: فَسِرْنَا سَاعَةً ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَصَلَّى الْغَدَاةَ.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اخیر رات میں قیام پذیر ہوئے‘ ہم میں سے کوئی شخص بیدار نہ ہوا یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا تو فرمایا: جس جگہ ہم ٹھہرے تھے گویا کہ یہاں شیطان کا اثر ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم تھوڑی دیر چلے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور وضو کیا پھر دو رکعتیں پڑھیں (فجر کی سنتیں) پھر اقامت کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز (قضاء) پڑھائی۔

ذَا مَنْزِلٌ كَأَنَّ حَضَرَنَا فِيهِ شَيْطَانٌ، ← عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى بَزَغَتِ الشَّمْسُ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← أَبُو قثنا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1361

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1362

1362 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَنَّادٍ قثنا أَبُو سَلَمَةَ قثنا حَمَّادٌ ثَنَا ثَابِتٌ عَنْ عبد الرَّحْمَن - وصابه عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ - أَنَّهُ حَدَّثَ الْقَوْمَ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ وَفِي الْقَوْمِ عمرَان بن حصن فَقَالَ عِمْرَانُ: مَنِ الْفَتَى؟ قَالَ: امْرِؤٌ مِنَ الأَنْصَارِ، وَقَالَ عِمْرَانُ: الْقَوْمُ أَعْلَمُ بِحَدِيثِهِمْ، فَانْظُرْ كَيْفَ يُحَدِّثُ فَإِنِّي سَابِعُ سَبْعَةٍ لَيْلَةَ إِذْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عِمْرَانُ: مَا كُنْتُ أَرَى أَحَدًا يَحْفَظُ هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرِي، فَحَدَّثَنَيِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ قثنا أَبُو قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ فَقَالَ: إِنَّكُمْ لَا تُدْرِكُونَ الْمَاءَ فِي غَدٍ تَعْطَشُوا، فَانْطَلَقَ سُرْعَانُ النَّاسِ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ، وَلَزِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَنَعَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَدَعَمْتُهُ فَادَّعَمْ، ثُمَّ نَعَسَ أَيْضًا، قَالَ: فَدَعَمْتُهُ فَادَّعَمْ، ثُمَّ مَالَ أُخْرَى حَتَّى كَادَ أَنْ يَنْجَفِلَ فَاسْتَيْقَظَ فَقَالَ: مَنِ الرَّجُلُ؟ فَقُلْتُ: أَبُو قَتَادَة، قَالَ مذكم كَانَ مَسِيرُكَ هَذَا؟ فَقُلْتُ: مُنْذُ اللَّيْلَةِ، فَقَالَ: حَفِظَكَ اللَّهُ بِمَا حَفِظْتَ بِهِ رَسُولَهُ، فَمَالَ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ولت مَعَهُ، فَقَالَ: انْظُرْ (1) فَقُلْتُ: هَذَا رَاكِبٌ، هَذَانِ (2) رَاكِبَانِ، هَؤُلاءِ ثَلاثَةٌ حَتَّى صِرْنَا سَبْعَةً، فَقَالَ: احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلاتَنَا يَعْنِي صَلاةَ الْفَجْرِ، فَضَرَبَ عَلَى آذَانِهِمْ فَمَا أَيْقَظَهُمْ إِلا حَرُّ الشَّمْسِ، فَقَامُوا فَسَارَ هُنَيْهَةً ثُمَّ نَزَلُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ مَعَكُمْ مَاءٌ؟ فَقُلْتُ: مَعِي مِيضَأَةٌ فِيهَا مَاءٌ قَلِيلٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ائْتِ بهَا يأبا قَتَادَةَ! فَإِنَّ لَهَا نَبَأٌ، وَأَذَّنَ بِلَال وَصلى رَكْعَتَيْنِ الْفَجْرِ ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ، ثُمَّ رَكِبُوا فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: قَدْ فَرَّطْنَا فِي صَلاتِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَقُولُونَ؟ إِنْ كَانَ شَيْءٌ من أَمر ديناكم فَشَأْنُكُمْ بِهِ فَأَنْتُمْ أعلم بِأَمْر ديناكم، وَإِنْ كَانَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قُلْنَا: قَدْ فَرَّطْنَا فِي أَمْرِ صَلاتِنَا، فَقَالَ ك إِنَّهُ لَا تَفْرِيطَ فِي النَّوْمِ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ، فَإِذَا سَهَى أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَذْكُرُهَا، وَمِنَ الْغَدِ لِلْوَقْتِ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قُلْتَ: بِالأَمْسِ إِنَّكُمْ لَا تُدْرِكُونَ الْمَاءَ مِنَ الْغَدِ تَعْطَشُوا (1) ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصْبَحَ النَّاسُ وَقَدْ فَقَدُوا نَبِيَّهُمْ، فَقَالُوا: (2) إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّكُمْ لَا تُدْرِكُونَ الْمَاءَ مِنَ غَدٍ فَعَطِشُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَاءِ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالا: (3) يَا أَيهَا الناء أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرُ يرشدوا، ثَلَاثًا، فملا اشْتَدَّتِ الظَّهِيرَةُ وَعَطَشَ النَّاسُ أَشْرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَشُّوا إِلَيْهِ وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلَكْنَا انْقَطَعَتِ الأَعْنَاقُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا هَلَكَ عَلَيْكُمْ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَزَلَ النَّاسُ، فَقَالَ: يَا أَبَا قَتَادَةَ! هَلُمَّ الْمِيضَأَةُ؟ فَأَتَيْتُهُ بِهَا ثُمَّ قَالَ: أَحْلُلُ غُمْرِي، قَدَحٌ مَعَهُ، فَجَعَلَ يَصُبُّ عَلَيَّ وَأَسْقِي النَّاسَ، فَرَكِبَ (1) النَّاسَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَأَكَبُّوا عَلَيْهِ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ أَحْسِنُوا مِلأكُمْ فَإِنَّ كُلُّكُمْ سَيُرْوَى، وَجَعَلَ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصِيب عَلِيَّ، وَأَسْقِي النَّاسَ حَتَّى صَدَرُوا، فَقَالَ: اشْرَبْ، قُلْتُ: بَلِ اشْرَبْ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: اشْرَبْ، فَقُلْتُ: بَلِ اشْرَبْ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: سَاقِي الْقَوْمَ آخِرُهُمْ، فَشَرِبْتُ وَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَقِيَ فِي الميضأة نَحْو مِمَّا كَانَ فِيهَا، وَالْقَوْم يَوْمئِذٍ زهاً سَبْعمِائة (2) .

حضرت ثابت‘ عبدالرحمٰن سے اور ان کے ساتھی عبداللہ بن رباح انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے جامع مسجد میں لوگوں کو حدیث بیان کی اور لوگوں میں عمران بن حصین بھی تھے۔ عمران نے کہا: یہ کون نوجوان ہے؟ کہا: انصاری شخص ہے۔ عمران نے کہا: لوگ ان کی حدیث سے زیادہ جانتے ہیں‘ دیکھو! یہ کیسے حدیث بیان کرتا ہے‘ میں اس رات ساتواں تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ عمران نے کہا: میں اپنے علاوہ کسی اور کو اس حدیث کا زیادہ یاد کرنے والا نہیں سمجھتا۔ پس مجھے عبداللہ بن رباح نے حدیث بیان کی اُنہوں نے کہا کہ ہمیں حضرت ابوقتادہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے تو فرمایا: بے شک تم کل پانی نہیں پاؤ گے‘ پیاسے رہو گے‘ پس سب سے آگے کے لوگ چلے۔ ابوقتادہ نے کہا: اور میں اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چمٹا رہا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آنے لگی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو گئے‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی اونگھ آئی‘ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری مرتبہ جھکے یہاں تک کہ قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گر پڑیں‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو فرمایا: کون ہے؟ میں نے عرض کیا ابوقتادہ فرمایا: تم کب سے میرے ساتھ اس طرح چل رہے ہو؟ میں نے عرض کیا: ساری رات سے۔ فرمایا: اللہ تعالٰی تیری اس طرح حفاظت کرے جس طرح تُو نے اس کے رسول کی حفاظت کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف ہو گئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی طرف ہو گیا۔ فرمایا: دیکھو! میں نے عرض کیا: یہ ایک سوار ہے‘ یہ دو سوار ہیں‘ یہ تین ہیں یہاں تک کہ ہم سات ہو گئے۔ فرمایا: تم ہماری نماز کا معنی نمازِ فجر کا ( جاگ کر ) خیال رکھنا‘ پس وہ سو گئے‘ ان کو سورج کی گرمی (یعنی دھوپ ) نے جگایا ‘پھر کھڑے ہوئے اور تھوڑا سا چلے‘ پھر ٹھہر گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا میرے پاس وضو والا برتن ہے‘ اس میں تھوڑا سا پانی ہے‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو لے آؤ! اے ابوقتادہ ! بے شک اس میں عجیب خبر ہے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں فجر کی (سنت فجر) پڑھیں پھر فجر کی نماز پڑھائی پھر وہ سوار ہوئے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے: ہم نے نماز قضاء کر دی‘ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا کہہ رہے ہو؟ اگر دنیا کی بات کر رہے ہو تو یہ تمہارا معاملہ ہے‘ تم اس کو جانتے ہو‘ اگر دینی معاملہ ہے تو میری طرف رجوع کرو۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )! ہم نے نماز کے معاملے میں تقصیر کی ہے۔ فرمایا: نیند میں کوئی تقصیر نہیں ہے‘ تقصیر اس وقت ہے جب کوئی جاگتے ہوئے نماز نہ پڑھے‘ جب تم میں سے کوئی نماز بھول جائے تو جب اس کو یاد آئے نماز پڑھ لے اور اگلے دن وقت پر پڑھے۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! گزشتہ کل آپ نے فرمایا تھا کہ آئندہ کل تم پانی نہیں پاؤ گئے‘ پیاسے رہو گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں نے صبح کے وقت اپنے نبی کو نہیں دیکھا۔ اُنہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کل پانی نہیں پاؤ گے۔ پس وہ پیاسے رہے اس حال میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی کے ساتھ تھے اور قوم میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ ان دونوں حضرات نے کہا: اے لوگوا ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) بہتر رہو گے۔ تین مرتبہ کہا‘ جب گرمی شدید ہوئی اور لوگ پیاسے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں شکایت کی اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم ہلاک ہو گئے‘ گردنیں کٹ گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر ہلاکت نہیں! پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُترے اور لوگ اُترے اور فرمایا: اے ابوقتادہ وضو کا برتن لے آؤ! پس میں برتن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا‘ پھر فرمایا: میرا پیالہ لے آؤ‘ پھر مجھ پر پانی انڈیلنا شروع کیا اور لوگوں کو پانی پلایا اور لوگ ایک دوسرے پر سوار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئے‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اطمینان کے ساتھ پانی پیو‘ تم سب سیر ہو جاؤ گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر پانی انڈیلنا شروع کیا اور لوگوں کو پانی پلایا یہاں تک کہ وہ سیراب ہو گئے‘ پھر ( مجھ سے ) فرمایا: پیو! میں نے عرض کیا: بلکہ آپ ( پہلے) پئیں یا رسول اللہ ! فرمایا: تم پیو! میں نے عرض کیا: بلکہ آپ پئیں! یا رسول اللہ! فرمایا : لوگوں کو پلانے والا سب سے آخر میں پئے۔ پس میں نے پیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا‘ اس وقت پانی وضو کے برتن میں باقی بچ گیا‘ جتنا پہلے تھا حالانکہ اس دن لوگ تقریباً سات سو تھے۔

عبد الرَّحْمَن وصابه عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ ← ثَابِتٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَنَّادٍ قثنا أَبُو سَلَمَةَ قثنا حَمَّادٌ

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1362

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1363

1363 - حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ أَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنُ جَنَّادٍ وَجَعْفَرِ بْنِ هِشَامٍ قَالا: ثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ثَنَا حَمَّادٌ أَنَا حُمَيْدٌ عَنْ بَكْرٍ عَنْ عَبْدِ الله عَن عبد اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَلَكِنَّهُ زَادَ فِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَرَّسَ بِلَيْلٍ تَوَسَّدَ لِينَةً (3) وَإِذَا عَرَّسَ عِنْدَ الصُّبْحِ نَصَبَ سَاعِدَهُ نَصْبًا وَعَمَدَهَا إِلَى الأَرْضِ وَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى كَفِّهِ. _________ (1) وَفِي حَدِيث السراج فَذكر. (2) فِي الْمسند: ثلثمِائة. (3) هَكَذَا فِي حَدِيث السراج (ص123) وَفِي المراجع يَمِينه، وَفِي هَامِش حَدِيث السراج: لَعَلَّه يَمِينه وَقد تصحف وَقد سَمِعت الْحَافِظ عبد الْغَنِيّ رَحمَه الله يَقُول لينَة يَعْنِي شَيْئا لينًا. قلت: وَفِي التَّاج (ج9 ص338) : واللينة بِالْفَتْح كالسورة يتوسد بهَا، قَالَ ابْن سيدة: أرى ذَلِك للينها وثارتها وَمِنْه الحَدِيث إِذا عرس بلَيْل توسد لينَة ألخ وَهَكَذَا فِي لِسَان الْعَرَب (ج17 ص280) وَالله أعلم. [1363] فِي إِسْنَاده ابْن جناد كَمَا مر آنِفا قبله، لكنه لم ينْفَرد بِهِ، أخرجه أَحْمد (ج5 ص298) وَابْن خُزَيْمَة (ج4 ص148) وَالْبَيْهَقِيّ (ج5 ص256) وَالتِّرْمِذِيّ فِي الشَّمَائِل فِي بَاب مَا جَاءَ فِي صفة نوم رَسُول اله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كلهم من طَرِيق حَمَّاد بِهِ، وَقَالَ الْبَيْهَقِيّ: رَوَاهُ مُسلم فِي الصَّحِيح عَن إِسْحَاق بن رَاهْوَيْةِ عَن سُلَيْمَان بن حَرْب عَن حَمَّاد بن سَلمَة وَهَكَذَا عزاهُ لمُسلم الْمزي فِي تحفة الْأَشْرَاف (ج9 ص245) والنابلسي فِي الذَّخَائِر (ج3 ص208) لَكِن لم أَجِدهُ فِي المطبوعة، وَالله أعلم.

حضرت ابوقتادہ کی یہ روایت دوسری سند سے بھی ہے مگر اتنا اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو آرام فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سرانور کے نیچے کھجور کا تکیہ رکھ کر آرام فرماتے اور جب صبح صادق کے وقت آرام فرماتے تو اپنی کلائی مبارک کو سیدھا زمین پر رکھتے اور سر انور کو اس کی ہتھیلی پر رکھتے۔

النَّبِيِّ مِثْلَهُ، وَلَكِنَّهُ زَادَ فِيهِ: ← أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← بَكْرٌ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنُ جَنَّادٍ وَجَعْفَرِ بْنِ هِشَامٍ ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1363

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1364

1364 - حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ثَنَا أَبُو عُوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَسِيَ صَلَوةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا.

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو نماز کو بھول جائے تو جب نماز یاد آئے‘ پڑھ لے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1364

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1365

1365 - حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ قثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ثَنَا حَجَّاجٌ الأَحْوَلُ قثنا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن الرِّجَال يَرْقُدُ عَنِ الصَّلاةِ أَوْ يَغْفَلُ عَنْهَا، فَقَالَ: كَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيهَا إِذَا ذَكَرَهَا.

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو نماز سے سو جائے یا نماز سے غافل ہو جائے‘ فرمایا: اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب نماز یاد آ جائے تو اس کو پڑھ لے۔

الصَّلاةِ أَوْ يَغْفَلُ عَنْهَا، فَقَالَ: كَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيهَا إِذَا ذَكَرَهَا. ← الرِّجَال يَرْقُدُ ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَنَسٍ، ← حَجَّاجٌ الأَحْوَلُ قثنا قَتَادَةُ ← أَبُو الأَشْعَثِ قثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1365

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1366

1366 - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَامَ عَنْ صَلاةٍ أَوْ نَسِيَهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص نماز سے سو جائے یا نماز کو بھول جائے تو جب نماز یاد آئے‘ پڑھ لے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1366

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1367

1367 - حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ثَنَا وَكِيعٌ ثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَسِيَ صَلاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلا ذَلِكَ.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی نماز کو بھول جائے یا سو جائے تو جب یاد آئے‘ پڑھ لے‘ اس کا یہی کفارہ ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو هَمَّامٍ،

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1367

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1368

1368 - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَرِيرٍ ثَنَا مُسْلِمٌ ثَنَا هَمَّامٌ قثنا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ نَسِيَ صَلاةً بِمِثْلِهِ سَوَاءٌ.

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو نماز کو بھول جائے‘ آگے اس کی مثل ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← هَمَّامٌ قثنا قَتَادَةُ ← مُّسْلِمٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَرِيرٍ

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1368

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter
2. The first book of prayer
    8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter
3. The fourth part of the Musnad of Abu al-Abbas al-Sarraj
    34. Chapter35. Chapter36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
4. The second part of the second part with the pumice parts
    45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter
5. The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri
    52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter
6. The tenth part of the hadith of As-Sarraj from Juzu 'al-Qusayri
    62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter
7. Part of the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq Abraham, the educational siren, may God have mercy on him, is part of the Haddi
    74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
8. The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
9. Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter