Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند السراج

Musnad Siraj

by Muhammad Bin Ishaq Bin Ibraheem Al Siraj Al Saqfi Nishpuri

1,577 Hadith109 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند السراج · كِتَابُ ‹ بَابٌ فِي التَّيَمُّمِ · حديث 1

1 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ثَنَا رَوْحُ بْنُ عبَادَة ثَنَا مالك بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَاسِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْش انْقَطع عقدلي، قَامَ (2) رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ (3) وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ عِنْدَهُمْ مَاءٌ، فَأَتَى النَّاسُ أَبَا بَكْرٍ فَقَالُوا: أَلا تَرَى إِلَى عَائِشَةَ حَبَسَتِ النَّاسَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ: مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ طَعَنَ بِيَدِهِ عَلَى خَاصِرَتِي فَمَا مَنَعَنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ وَاضِعًا رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي فَقَامَ " رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّيَمُّمِ" (1) فَبَعَثْتُ الْبَعِيرَ (2) الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ.

ہمیں حدیث بیان کی اسحاق بن ابراہیم الحنظلی نے‘ ہمیں حدیث بیان کی روح بن عبادہ نے‘ ہمیں حدیث بیان کی مالک بن انس نے از عبدالرحمٰن بن قاسم از والد خودکہ اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ سفر میں تھے یہاں تک کہ جب ہم مقامِ بیداء یا ذاتِ جیش پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ گیا۔ اور دوسرے لوگوں نے اس کو تلاش کرنا شروع کیا ۔ اس جگہ پانی نہیں تھا اور نہ ہی لوگوں کے پاس پانی تھا‘ پس لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ دیکھو! عائشہ نے لوگوں کو وہاں روک دیا ہے جہاں پانی نہیں ہے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے اور جو اللہ نے چاہا وہ کہا‘ پھر اپنے ہاتھ سے میرے پہلو میں مارنے لگے‘ پس مجھے حرکت کرنے سے کسی چیز نے نہیں روکا مگر یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میری گود میں سرانور رکھ کر آرام فرما رہے تھے (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے آرام کی وجہ سے میں نے حرکت نہیں کی ) پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ٹھہرے رہے یہاں تک کہ صبح اس حالت میں کی کہ پانی نہیں تھا‘ تو اللہ تعالٰی نے آیت تیمّم نازل فرما دی پھر جس اونٹ پر میں تھی‘ اس کو اٹھایا گیا تو ہمیں اس کے نیچے سے ہار مل گیا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عبد الرحمن بن قاسم ← مالک بن أنس ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ،

Musnad Siraj · Book › Chapter · Hadith 1

مسند السراج · كِتَابُ ‹ بَابٌ فِي التَّيَمُّمِ · حديث 2

2 - حَدَّثَنَا سَوَّارٌ، عَبْدُ الله الْعَنْبَري قثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ ابْن عُمَرَ يَذْكُرُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ هَذَا الْحَدِيثَ فَلَمْ يَذْكُرِ الْقَاسِمَ.

ہمیں سوار عبداللہ العنبر ی نے حدیث بیان کی‘ اُنہوں نے کہا: ہمیں المعتمر بن سلیمان نے حدیث بیان کی‘ اُنہوں نے کہا کہ میں نے یہی (گزشتہ) حدیث عبید اللہ بن عمر کو عبدالرحمٰن بن قاسم سے بیان کرتے سنا‘ اُنہوں نے قاسم کا ذکر نہیں کیا۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ هَذَا الْحَدِيثَ فَلَمْ يَذْكُرِ الْقَاسِمَ. ← عُبَيْدَ اللَّهِ ابْن عُمَرَ يَذْكُرُ ← سَوَّارٌ، عَبْدُ الله الْعَنْبَري قثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ

Musnad Siraj · Book › Chapter · Hadith 2

مسند السراج · كِتَابُ ‹ بَابٌ فِي التَّيَمُّمِ · حديث 3

3 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: ثَنَا النَّضْرُ ثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ عَن أبي ملكية عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: بَيْنَا نَحْنُ فِي سفر إِذا سَقَطَتْ قِلادَةٌ لِي فَأَقَمْتُ فِي طلبَهَا، فجآت أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: مَا حَبَسَكِ؟ فَقلت سَقَطت فلادتي فَقُمْت فِي طَلَبِهَا وَلَمْ أَقْدِرْ عَلَيْهَا، قَالَ: قَبَّحَهَا اللَّهُ مِنْ قِلادَةٍ، حَبَسَتِ النَّاسَ وَالْمَاءُ بَعِيدٌ، فَجَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ مَا يَقُولُ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَقُلْتُ: سَقَطَتْ قلادة لي، قَالَ: فَأُنِيخَ بَعِيرِي، وَحَضَرَتِ الصَّلاةُ فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ "فَصَلَّيْنَا" (3) الصُّبْحَ، وَبُعِثَتْ بَعِيرِي فَإِذَا أَنَا بِالْقِلادَةِ.

ہمیں حدیث بیان کی اسحاق بن ابراہیم نے‘ اُنہوں نے کہا: ہمیں حدیث بیان کی نضر نے‘ کہا: ہمیں حدیث بیان کی صلاح بن رستم نے از ابی ملیکتہ از اُم المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا‘ آپ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ ہم سفر پر تھے تو میرا ہار گر گیا تو میں اس کو تلاش کرنے لگی تو ( میرے والد) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور فرمایا کہ کس چیز نے تمہیں روکا ہے؟ میں نے کہا کہ میرا ہار گر گیا ہے‘ میں نے اس کو تلاش کیا ہے مگر مجھے نہیں ملا۔ تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرما : اللہ اس ہار کا بُرا کرے ! تُو نے لوگوں کو روک دیا ہے حالانکہ پانی دور ہے‘ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے پاس تشریف لائے اور جو کچھ میرے والد ابوبکر نے کہا وہ سن لیا اور فرمایا: کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کیا: میرا ہار گر گیا ہے اور نماز کا وقت ہو گیا تو آیتِ تیمّم نازل ہوئی‘پس ہم نے صبح کی نماز پڑھی اور میں نے جب اپنا اونٹ اُٹھایا تو مجھے ہار مل گیا۔

عَائِشَةَ ← أبي ملكية ← صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ ← النَّضْرُ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Siraj · Book › Chapter · Hadith 3

مسند السراج · كِتَابُ ‹ بَابٌ فِي التَّيَمُّمِ · حديث 4

4 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالا: ثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: "هَلَكَتْ قِلادَةٌ" (4) بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلّى الله عَلَيْهِ وَسلم فِي طَلَبِهَا رِجَالًا فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ وَلَمْ يَجِدُوا مَاءً وَلَمْ يَكُونُوا عَلَى وُضُوءٍ، فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ.

ہم نے حدیث بیان کی اسحاق بن ابراہیم اور ہارون بن اسحاق نے‘ ان دونوں نے کہا کہ ہم سے حدیث بیان کی عبدة بن سلیمان نے‘ (کہا: ) ہم سے حدیث بیان کی ہشام بھی عروہ نے از والد خود( عروه ) از اُم المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا‘ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرا ہار گم ہو گیا‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کو تلاش کرنے کے لیے چند آدمی بھیجے‘ اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا اور نہ تو انہیں پانی ملا اور ان کا وضو بھی نہیں تھا‘ پس اُنہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھی پھر اس چیز کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ذکر کیا تو اللہ تعالٰی نے تیمّم والی آیت نازل فرما دی۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ،

Musnad Siraj · Book › Chapter · Hadith 4

مسند السراج · كِتَابُ ‹ بَابٌ فِي التَّيَمُّمِ · حديث 5

5 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَ هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ: ثَنَا أَبُو معانية عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَقَالَ إِسْحَاقُ: أَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَيْدَ بن حضير وأناساًمعه يطْلبُونَ قلدة كَانَتْ لِعَائِشَةَ، كَانَتْ عَائِشَةُ نَسِيَتْهَا فِي مَنْزِلٍ نَزَلَتْهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ وَلَيْسُوا عَلَى وُضُوءٍ، وَلَمْ يَجِدُوا مَاءً، فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (1) فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ، فَقَالَ لَهَا أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ تَكْرَهِينَهُ إِلا جَعَلَ "اللَّهُ" (2) لَكِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ خَيْرًا.

ہم سے حدیث بیان کی اسحاق بن ابراہیم اور ھناد بن السری نے‘ ھناد بن السری نے کہا: ہم سے حدیث بیان کی ابومعاویہ نے از ہشام بن عروہ اور اسحاق نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے خبر دی از ہشام بن عروه از والد خود عروه از اُم المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا‘ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت اُسید بن حضیر کو چند افراد کے ساتھ آپ (یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کا ہار تلاش کرنے کے لئے بھیجا‘ جسے آپ رضی اللہ عنہ پچھلی منزل کہ جہاں قیام فرمایا تھا‘ وہاں بھول گئی تھیں ۔ پس نماز کا وقت آ گیا اور ان ( تلاش کرنے والوں) کا وضو بھی نہیں تھا اور ان کے پاس پانی بھی نہیں تھا تو اُنہوں نے بغیر وضو کے ہی نماز پڑھ لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس کا ذکر کیا تو آیت تیمّم نازل ہوئی ۔ اس پر حضرت اُسید بن حضیر نے اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ تمہیں بہتر جزا عطا فرمائے ! اللہ کی قسم ! آپ کو کبھی ایسا معاملہ در پیش نہیں آیا جس کو آپ ناپسند کرتی ہوں مگر اللہ تعالٰی اس معاملے میں آپ رضی اللہ عنہا کے لئے اور مسلمانوں کے لئے بھلائی رکھ دیتا ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← إِسْحَاقُ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو معانية ← هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ← إسحاق بن إبراهيم وهناد بن السري

Musnad Siraj · Book › Chapter · Hadith 5

مسند السراج · كِتَابُ ‹ بَابٌ فِي التَّيَمُّمِ · حديث 6

6 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنَا أَبُو مُعَاوِيَة فثنا الأَعْمَشُ، وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بن مُوسَى فثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ قَالا: ثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! الرَّجُلُ يُجْنِبُ فَلا يَجِدُ الْمَاءَ أَيُصَلِّي؟ فَقَالَ: لَا، فَقَالَ: أَمَا تَذْكُرُ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ: بَعَثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَنْتَ، فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا، وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ الأَرْضَ، فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ، فَقَالَ: لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ، قَالَ: فَمَا تَصْنَعُ بِهَذِهِ الآيَةِ (فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طيبا) (النِّسَاء: 43، الْمَائِدَة: 6) فَقَالَ: أَمَا أَنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي هَذَا لَكَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا وَجَدَ بَرْدَ الْمَاءِ تَيَمَّمَ بِالصَّعِيدِ، زَادَ يَعْلَى: قَالَ الْأَعْمَش: فقت لِشَقِيقٍ: فَلَمْ يَكُنْ هَذَا إِلا لِهَذَا.

ہمیں اسحاق بن ابراہیم نے حدیث بیان کی‘ اُنہوں نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے خبر دی‘ اُنہوں نے کہا: ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی اور ہمیں یوسف بن موسیٰ نے حدیث بیان کی‘ اہوں نے کہا: ہمیں ابومعاویہ شقیق نے کہا: میں حضرت عبداللہ اور حضرت ابوموسیٰ کے پاس بیٹھا تھا‘ پس حضرت ابوموسیٰ نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن ! ایک شخص جنبی ( ناپاک) ہو جائے اور اس کو پانی نہ ملے تو کیا وہ نماز پڑھے گا؟ حضرت عبداللہ نے جواب دیا: نہیں! حضرت ابوموسیٰ نے کہا: کیا آپ کو حضرت عمار کا وہ قول یاد نہیں جو اُنہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ مجھے اور آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھیجا‘ پس میں جنبی ہو گیا تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا‘ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا اور اس واقعہ کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشادفرمایا: تمہیں اس طرح کافی تھا اور ( یہ فرما کر ) آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے دونوں مبارک ہاتھوں کو زمین پر مارا اور چہرہ مبارک اور ہتھیلیوں کا مسح کیا‘ (حضرت ابوموسیٰ کی اس بات پر) حضرت عبداللہ نےکہا: میں نے حضرت عمر کو حضرت عمار کے اس قول پر مطمئن نہیں پایا۔حضرت ابوموسیٰ نے کہا: اس آیت ”پس تم پانی کو نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمّم کرو‘‘ (المائدہ:۶) کا کیا جواب دو گے۔ حضرت عبداللہ نے کہا: بے شک اگر ہم انہیں اس صورت میں تیمّم کی جازت دیں تو جس کو پانی ٹھنڈا لگے گا وہ (پاک) مٹی سے تیمّم کر لے گا۔ یعلیٰ نے یہ اضافہ کیا کہ اعمش نے کہا کہ میں نے شقیق سے کہا: پس یہ صرف اسی لئے ہے۔

شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Siraj · Book › Chapter · Hadith 6

مسند السراج · كِتَابُ ‹ بَابٌ فِي التَّيَمُّمِ · حديث 7

7 - حَدَّثَنَا إِسْحَاق بن غبراهيم قَالَ: أَنَا عِيسَى بن يُونُس قثنا الأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عبد الرَّحْمَن ماتقول فِي رَجُلٍ يُجْنِبُ لَا يَجِدُ الْمَاءَ؟ فَقَالَ: لَا يصل قَالَ: فَأَيْنَ قَوْلُ عَمَّارٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ؟ قَالَ: مَا رَأَيْتُ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ، قَالَ: فَأَيْنَ قَوْلُهُ (فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا) (النِّسَاء: 43) قَالَ: إِنَّا لَوْ نُرَخِّصُ لَهُمْ فِي ذَلِكَ جَعَلَ الرَّجُلُ إِذَا وَجَدَ بَرْدَ الْمَاءِ تَيَمَّمَ.

ہمیں اسحاق بن ابراہیم نے حدیث بیان کی‘ اُنہوں نے کہا: ہمیں عیسٰی بن یونس نے خبر دی‘ اُنہوں نے کہا: ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی از شقیق‘ اُنہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ اور حضرت ابوموسیٰ کے پاس بیٹھا ہوا تھا‘ ہمیں حضرت ابوموسیٰ نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! (حضرت عبداللہ کی کنیت ) اس جنبی شخص کے بارے میں کیا کہتے ہو جس کو پانی نہیں ملتا۔ حضرت عبداللہ نے کہا: وہ نماز نہیں پڑھے گا۔ حضرت ابوموسیٰ نے کہا کہ حضرت عمار کے اس قول کا کیا بنے گا جو اُنہوں نے حضرت عمر بن خطاب سے کہا تھا ؟ اس پر حضرت عبداللہ نے کہا: میں نے حضرت عمر کو اس پر مطمئن نہیں دیکھا۔ حضرت ابوموسیٰ نے کہا: اللہ تعالٰی کے اس فرمان ’’ تو پاک مٹی سے تیمّم کرو‘‘ (النساء:۴۳) کا کیا جواب ہوگا؟اس پر حضرت عبداللہ نے کہا: بے شک اگر ہم انہیں اس صورت میں اجازت دیں گے تو بندے کو جب پانی ٹھنڈے لگے گا وہ تیمّم کرے گا۔

فَأَيْنَ قَوْلُ عَمَّارٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ؟ ← لَا يصل ← أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عبد الرَّحْمَن ماتقول فِي رَجُلٍ يُجْنِبُ لَا يَجِدُ الْمَاءَ؟ ← كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ, وَأَبِي مُوسَى، ← شَقِيقٍ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ قثنا الأَعْمَشُ ← إِسْحَاق بن غبراهيم

Musnad Siraj · Book › Chapter · Hadith 7

مسند السراج · كِتَابُ ‹ بَابٌ فِي التَّيَمُّمِ · حديث 8

8 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنَا جَرِيرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ سَعِيدِ ابْن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عُمَرَ عَنِ الْجُنُبِ لَا يَجِدُ الْمَاءَ، فَقَالَ: لَا يُصَلِّي حَتَّى يَجِدَ الْمَاءَ فَقَالَ: عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: أَمَا تَذْكُرُ حِينَ بَعَثَنَا رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهِ وَأَنا وَأَنْتَ، فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: قَدْ كَانَ أَنْ تَفْعَلَ كَذَا وَكَذَا وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَى الأَرْضِ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، قَالَ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عَمَّارُ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ لَمْ أَذْكُرْهُ أَبَدًا.

ہمیں اسحاق بن ابراہیم نے حدیث بیان کی‘ اُنہوں نے کہا:ہمیں جریر نے خبر دی از اعمش از سلمہ بن کہیل از سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی از والد خود کہ ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس جنبی کے بارے میں مسئلہ پوچھا کہ جسے پانی نہیں ملتا‘ تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:جب تک اسے پانی نہیں ملتا وہ نماز نہیں پڑھے گا‘ پس حضرت عمار بن یاسر نے کہا: کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب مجھے اور آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے۔ بھیجا‘ پس میں جنبی ہو گیا تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آ کر میں نے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک آپ کے لئے کافی تھا کہ آپ یوں یوں کرتے (یہ فرما کر)آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے دونوں مقدس ہاتھوں کو زمین پر مارا اور چہرۂ مبارک اور ہاتھوں کا مسح کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عمار!اللہ سے ڈرو۔ حضرت عمار نے کہا: اگر آپ چاہتے ہیں تو میں اس کا ذکر نہیں کروں گا۔

أَبِيهِ ← سعيد ابْن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Siraj · Book › Chapter · Hadith 8

مسند السراج · كِتَابُ ‹ بَابٌ فِي التَّيَمُّمِ · حديث 9

9 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَا يَعْلَى بن عبيد قثنا الأَعْمَشُ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ.

ہمیں اسحاق بن ابراہیم نے حدیث بیان کی‘ ہمیں یعلیٰ‘ بن عبید نے خبر دی‘ اُنہوں نے کہا:ہمیں اعمش نے اسی اسناد کی مثل سے حدیث بیان کی اور اُنہوں نے کہا:’’ وجه وكفيه‘‘ (یعنی پچھلی حدیث میں یَدَیْہ ہے اور اس میں اس کی جگہ کفّیه ہے) ۔

يَعْلَى بن عبيد قثنا الأَعْمَشُ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ. ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Siraj · Book › Chapter · Hadith 9

مسند السراج · كِتَابُ ‹ بَابٌ فِي التَّيَمُّمِ · حديث 10

10 - حَدَّثَنَا زِيادُ أَيُّوب ابْن أبي نغيمة قثنا الأَعْمَشُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ سَعِيد بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: كَانَ عُمَرُ يَقُولُ: لَوْ أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ كَذَا وَكَذَا لَمْ أُصَلِّ، فَقَالَ لَهُ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: أَمَا تَذْكُرُ حِينَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَنْتَ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ، فَلَمَّا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّمَا يَكْفِيكَ وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الصَّعِيدِ ضَرْبَة وَاحِدَة، ومسع بِيَدَيْهِ وَجْهَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عَمَّارُ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ وَاللَّهِ لَمْ أَذْكُرْهُ مَا شِئْتَ (1) .

ہمیں زیاد ایوب بن ابی غنیمتہ نے حدیث بیان کی‘ اُنہوں نے کہا:ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی از سلمہ بن کھیل از سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی از والد خود عبد الرحمٰن‘ اُنہوں نے کہا:حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے:اگر میں جنبی ہو جاؤں اور پانی نہ پاؤں تو میں نماز نہیں پڑھوں گا۔ آپ رضی اللہ عنہ سے حضرت عمار بن یاسر نے کہا:آپ کو یاد نہیں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے اور آپ کو بھیجا‘ پس میں جنبی ہو گیا تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا‘پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:آپ کو کافی تھا اور ( یہ فرما کر) آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ہاتھ مبارک کو ایک مرتبہ پاک مٹی پر مارا اور اپنے ہاتھوں کا اور چہرۂ مبارک کا مسح کیا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار سے کہا:اے عمار!اللہ سے ڈرو۔ حضرت عمار نے کہا:اللہ کی قسم! اگر آپ چاہتے ہیں تو میں اس کا ذکر نہیں کروں گا۔

إِنْ شِئْتَ وَاللَّهِ لَمْ أَذْكُرْهُ مَا شِئْتَ ← لَهُ عُمَرُ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عَمَّارُ، ← إِنَّمَا يَكْفِيكَ وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الصَّعِيدِ ضَرْبَة وَاحِدَة، ومسع بِيَدَيْهِ وَجْهَهُ، ← وَأَنْتَ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ، فَلَمَّا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ ← لَهُ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: أَمَا تَذْكُرُ حِينَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ ← لَوْ أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ كَذَا وَكَذَا لَمْ أُصَلِّ، ← کَانَ عُمَرُ ← أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← زِيادُ أَيُّوب ابْن أبي نغيمة قثنا الأَعْمَشُ

Musnad Siraj · Book › Chapter · Hadith 10

مسند السراج · كِتَابُ ‹ بَابٌ فِي التَّيَمُّمِ · حديث 11

11 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ عَنْ سَعِيد بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَسَأَلَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: إِنَّا نَمْكُثُ الشَّهْرَ وَالشَّهْرَيْنِ لَا نَجِدُ الْمَاءَ، فَقَالَ: أَمَّا أَنَا فَلَوْ كُنْتُ لَمْ أُصَلِّ، فَقَالَ لَهُ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ "تَذْكُرُ" (2) يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِي الإِبِلِ فَقَالَ: بَلَى، قَالَ: فَإِنِّي أجنبت فتعمعكت فِي التُّرَابِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: فَضَحِكَ، وَقَالَ: كَانَ يُجْزِيكَ هَكَذَا، وَبَسَطَ عَمَّارٌ كَفَّيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَلى الأَرْضِ ثمَّ نفض إحدهما بِالأُخْرَى مِنَ التُّرَابِ، فَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ، وَجَازَ الْكَفَّيْنِ شَيْءٌ مِنَ الذِّرَاعَيْنِ يَسِيرٌ، فَقَالَ عُمَرُ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عَمَّارُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنْ شِئْتَ لَمْ أَتَفَوَّهْ بِهِ أَبَدًا، قَالَ: لَا بَلْ نُوَلِّيكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ.

ہمیں اسحاق بن ابراہیم نے حدیث بیان کی‘ہمیں یحییٰ بن آدم نے خبر دی‘ ہمیں عمار بن رزیق نے حدیث بیان کی‘ہمیں سلمہ بن کہیل نے حدیث بیان کی از سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ از والد خود‘ اُنہوں نے کہا: میں حضرت عمر بن خطاب کے پاس تھا تو اس اعرابی نے سوال کیا کہ ہم ٹھرتے ہیں ایک مہینہ اور دو مہینے‘ ہمیں پانی نہیں ملتا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں ہوتا تو نماز نہ پڑھتا۔ حضرت عمار بن یاسر نے آپ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ امیرالمؤمنین یاد کرو! میں اور آپ اونٹ کے لئے گئے تھے ۔ حضرت عمر نے کہا: جی ہاں ! حضرت عمار نے کہا: تو میں جنبی ہو گیا اور مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا‘ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آکر اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے تبسم فرمایا اور ارشادفرمایا :تمہیں اتنا کافی تھا‘یہ کہہ کر حضرت عمار نے اپنی ہتھیلیاں پھیلا دیں اور ان کو زمین پر رکھا‘ پھر ایک کو دوسری پر مار کر مٹی کو جھاڑا اور پھر ان سے اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح کیا۔ تو حضرت عمر نے کہا: اے عمار! اللہ سے ڈرو! تو اُنہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین ! اگر آپ چاہتے ہیں تو میں یہ بھی نہیں بولوں گا‘ تو حضرت عمر نے فرمایا: بلکہ ہم اس سے تمہاری روایت کا بوجھ تم پر ڈالتے ہیں۔

أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Siraj · Book › Chapter · Hadith 11

مسند السراج · كِتَابُ ‹ بَابٌ فِي التَّيَمُّمِ · حديث 12

12 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَا النَّصْرُ بْنُ شُمَيْلٍ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ ذَرٍّ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عُمَرَ عَنِ الْجُنُبِ لَا يَجِدُ المَاء، فَذكر بِمثل حَدِيثِ جَرِيرٍ، قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدَيْهِ الأَرْضَ ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ.

ہمیں اسحاق بن ابراہیم نے حدیث بیان کی‘ ہمیں نصر بن شمیل اور وہب بن جریر نے خبر دی‘ اُنہوں نے کہا ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از الحکم ازذرزابن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ از والد خود‘ کہ ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس جنبی کے بارے میں مسئلہ پوچھا کہ جسے پانی نہیں ملتا‘ پس حدیثِ جریر کی مثل اس کو ذکر کیا‘ اُنہوں نے کہا: اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارا پھر ان میں پھونک مارا اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح کیا۔

فَضَرَبَ بِيَدَيْهِ الأَرْضَ ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ. ← الْجُنُبِ لَا يَجِدُ المَاء، فَذكر بِمثل حَدِيثِ جَرِيرٍ، ← أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عُمَرَ ← ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← ذَرٍّ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← النَّصْرُ بْنُ شُمَيْلٍ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Siraj · Book › Chapter · Hadith 12

chevron_left Previous
1234…132
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter
2. The first book of prayer
    8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter
3. The fourth part of the Musnad of Abu al-Abbas al-Sarraj
    34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter
4. The second part of the second part with the pumice parts
    45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter
5. The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri
    52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter
6. The tenth part of the hadith of As-Sarraj from Juzu 'al-Qusayri
    62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter
7. Part of the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq Abraham, the educational siren, may God have mercy on him, is part of the Haddi
    74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
8. The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
9. Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter