مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْبِيحِ بَعْدَ (1) الصَّلاةِ · حديث 868
868 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثَنَا أَبُو عَاصِم الْعَقَدِيُّ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بن سعيد قثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالُوا: ثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونَ عَنْ وَاصِلٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ عقيل بن يَحْيَى بْنِ يَعْمُرٍ عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدَّيْلِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالأُجُورِ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ، قَالَ: أَفَلَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ مَا تَصَدَقُونَ؟ إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً، وَبِكُلِّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةً، وَبُكِلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةً، وَبُكِلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةً، أَمْرٌ بِالْمُعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌّ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَبِضْعُ أَحَدُكُمْ صَدَقَةٌ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! يَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ؟ قَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ وَضَعَهَا فِي الْحَرَامِ أَلَيْسَ كَانَ يَكُونُ عَلَيْهِ وِزْرًا، أَوْ قَالَ: الْوِزْرُ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلالِ كَانَ يَكُونُ لَهُ الأَجْرُ. _________ (1) فِي الأَصْل: فِي. [867] إِسْنَاده حسن، وَلم أَجِدهُ من طَرِيق شَيبَان بِهِ. [868] إِسْنَاده صَحِيح، أخرجه مُسلم فِي الزَّكَاة فِي بَاب بَيَان أَن اسْم الصَّدَقَة يَقع على كل نوع من الْمَعْرُوف (ج1 ص324) عَن عبد الله بن أَسمَاء عَن مهْدي بن مَيْمُون بِهِ.
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دولت مند لوگ ثواب کے ساتھ برتری لے گئے‘ وہ نمازیں پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں اور وہ روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں اور وہ اپنے مالوں کا کثرت کے ساتھ صدقہ کرتے ہیں تو ارشاد فرمایا: کیا اللہ نے تمہارے لئے وہ چیز نہیں بنائی جو تم صدقہ کرتے ہو؟ بے شک ہر مرتبہ سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے‘ تکبیر کہنا صدقہ ہے‘ لا الہٰ الا اللہ کہنا صدقہ ہے‘ الحمدللہ کہنا صدقہ ہے‘ نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے اور بُرائی سے منع کرنا صدقہ ہے اور تم میں سے کوئی بیوی سے جماع کرے تو یہ صدقہ ہے۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم میں سے کوئی شہوت کی وجہ سے جماع کرے پھر بھی اس کے لئے صدقہ ہے؟ فرمایا : اگر شہوت کو پورا کرنے کے لئے حرام طریقہ اختیار کرو تو کیا گناہ نہیں ہو گا؟ عرض کی : کیوں نہیں ! تو فرمایا: اسی طرح ( یعنی حرام طریقہ اختیار کرنے پر گناہ ہے تو ) جب حلال طریقے سے جماع کرے تو اس کے لئے اجر ہے۔
قِيلَ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، ← يَحْيَى بْنِ عقيل بن يَحْيَى بْنِ يَعْمُرٍ ← وَاصِلٍ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بن سعيد قثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ← أَبُو عَاصِم الْعَقَدِيُّ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،
Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 868
