مسند السراج · جُزْءٌ: فِيهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السَّرَّاجِ ‹ بَابٌ فِي صَلاةِ التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ · حديث 1518
1518 - أَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَهْرَانَ السَّرَّاجُ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ثَنَا شَدَّادُ ابْن عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَمَّارٍ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: يَا عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ! لِصَاحِبِ الْعَقْلِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِيمٍ بِأَيِّ شَيْءٍ تَدَّعِي أَنَّكَ رَبْعُ الإِسْلامِ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَرَى النَّاسَ عَلَى ضَلالَةٍ وَلا أَرَى الأَدْيَانَ شَيْئًا، ثُمَّ سَمِعْتُ عَنْ رَجُلٍ يُخْبِرُ أَخْبَارًا بِمَكَّةَ وَيُحَدِّثُ أَحَادِيثَ، فَرَكِبْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى أَقْدَمَ مَكَّةَ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْفِيًا، فَإِذَا قَوْمُهُ عَلَيْهِ جِرَاءٌ فَتَلَطَّفْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ: مَا أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا نَبِيٌّ، فَقُلْتُ: وَمَا نَبِيٌّ؟ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: أآللَّهُ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَبِأَيِّ شَيْءٍ؟ فَقَالَ: بِأَنْ تُوَحِّدَ اللَّهَ وَلا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا. وَكَسْرِ الأَوْثَانِ وَصِلَةِ الأَرْحَامِ، قُلْتُ: مَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمر؟ فَقل: حُرٌّ وَعَبْدٌ، وَإِذَا مَعَهُ بِلالٌ وَأَبُو بَكْرٍ، فَقُلْتُ: إِنِّي مُتَّبِعُكَ، قَالَ: أَنْتَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ يَوْمَكَ هَذَا، وَلَكِنِ ارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ فَإِذَا سَمِعْتَ بِي قَدْ ظَهَرْتُ فَالْحَقْ بِي، فَرَجَعْتُ أَتَخَبَّرُ الأَخْبَارَ حَتَّى جَاءَ رَكْبٌ مِنْ يَثْرِبَ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا فَعَلَ هَذَا الرَّجُلُ الْمَكِيُّ الَّذِي أَتَاكُمْ؟ قَالُوا: أَرَادَ قَوْمَهُ قَتْلَهُ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا ذَلِكَ وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنِهِ وَتَرَكَنَا النَّاسُ إِلَيْهِ سِرَاعًا، فَرَكِبْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى قَدِمْتُ عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! أَتَعْرِفُنِي؟ قَالَ: نَعَمْ أَلَسْتَ الَّذِي أَتَيْتَنِي بِمَكَّةَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عَلِّمْنِي مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ وَأَجْهَلُ، قَالَ: إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَأَقْصِرْ عَلَى الصلوة حَتَّى تلطع الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ فَلا تُصَلِّ حَتَّى تَرْتَفِعَ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ، فَإِذَا ارْتَفَعَتْ قَيْدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى يَسْتَقِلَّ الرُّمْحَ بَالظِّلِّ، ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلاةِ فَإِنَّهَا تَسْجُرُ جَهَنَّمَ، فَإِذَا فَاءَ الْفَيْءُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى تُصَلِّي الْعَصْرَ، فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلاةِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ حِينَ تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ قَالَ: مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَقْرَبُ وُضُوءَهُ ثُمَّ يَتَمَضْمَضُ فَيَمُجُّ ثُمَّ يَسْتَنْشِقُ وَيَسْتَنْثِرُ إِلا خَرَّتْ خَطَايَا فِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ إِلا خَرَّتَ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ إِلا خَرَّتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَطْرَافِ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ إِلا خَرَّتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ إِلا خَرَّتْ خَطَايَا قَدَمَيْهِ مِنْ أَطْرَافِ أَصَابِعِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَقُومُ وَيَحْمِدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ، ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ ثمَّ (1) انْصَرف انْصَرَفَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَهَيْئَةِ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ. قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: يَا عُمَرُ بْنُ عَبَسَةَ! انْظُرْ مَاذَا تَقُولُ، سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُعْطِي الرَّجُلُ هَذَا كُلَّهُ فِي مَقَامِهِ؟ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ: يَا أَبَا أُمَامَةَ! لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَدَقَّ عَظْمِي وَاقْتَرَبَ أَجْلِي وَمَا بِي من احاجة أَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ وَعَلَى رَسُولِهِ، لَوْ لَمْ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا لَقَدْ سَمِعْتُهُ سَبْعًا أَوْ ثَمَانِيًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ.
ہمیں خبر دی ابوالعباس محمد بن اسحاق بن ابراہیم بن مہران السراج الثقفی نے کہ مجھے حدیث بیان کی ابویحییٰ البزاز نے‘ ہمیں حدیث بیان کی ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے‘ ہمیں حدیث بیان کی عکرمہ بن عمار نے‘ ہمیں حدیث بیان کی شداد بن عبداللہ ابوعمار نے اور اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک پوری جماعت کو پایا‘ اُنہوں نے کہا کہ ابوامامہ نے فرمایا: اے عمرو بن عبسہ ! بنی سلیم کا عقلمند تھا کہ تم کس وجہ سے دعویٰ کرتے ہو کہ تم اسلام کے چوتھے ہو؟ اس پر عمرو بن عبسہ نے کہا: میں زمانۂ جہالت میں گمان کرتا تھا کہ لوگ گمراہی پر ہیں اور میں دینوں کو کچھ خیال نہیں کرتا تھا۔ پھر میں نے ایک شخص کے بارے میں سنا کہ وہ مکہ میں بہت سی خبریں بیان کرتا ہے تو میں اپنی سواری پر بیٹھا اور ان کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپے ہوئے ہیں اور آپ کی قوم آپ پر دلیر ہو رہی ہے۔ پھر میں ایک حیلہ کر کے آپ کے پاس پہنچا تو میں نے کہا: آپ کون ہیں؟ فرمایا: میں نبی ہوں! میں نے کہا: نبی کیا ہوتا ہے؟ فرمایا: اللہ کا رسول! میں نے کہا: کیا اللہ نے آپ کو بھیجا ہے؟ فرمایا: جی ہاں! میں نے کہا: کون سا پیغام دے کر؟ فرمایا: یہ کہ تُو اللہ کو ایک مانے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے اور بت شکنی اور صلہ رحمی کرنے کا پیغام دے کر بھیجا ہے۔ میں نے کہا: اس دین میں آپ کے ساتھ کون ہیں؟ فرمایا: آزاد اور غلام۔ (راوی کہتے ہیں:) ان دنوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت بلال اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما تھے۔ میں نے کہا: بے شک میں آپ کی پیروی کروں گا۔ فرمایا: تم اس وقت اس کی طاقت نہیں رکھتے لیکن تم اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ اور جب تم سن لو کہ مجھے غلبہ حاصل ہو گیا تو اس وقت میرے پاس آ جانا۔ پس میں لوٹ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے معلومات حاصل کرتا رہتا تھا حتٰی کہ یثرب (مدینہ شریف) سے میرے پاس کچھ سوار ہوئے۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ جو مکی شخص تمہارے پاس آئے ہیں‘ ان کا کیا حال ہے؟ اُنہوں نے کہا: ان کی قوم نے ان کو قتل کرنا چاہا تھا مگر وہ اس پر قادر نہ ہو سکے‘ ان کے درمیان اور قوم کے درمیان رکاوٹ آ گئی اور ہم نے لوگوں کو ان کی دعوت تیزی سے قبول کرتے دیکھا ہے۔ عمرو بن عبسہ کہتے ہیں : میں اپنی سواری پر سوار ہو کر مدینہ شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ فرمایا: جی ہاں ! تم وہی شخص ہو جو مجھ سے مکہ میں ملے تھے۔ میں نے کہا: کیوں نہیں! میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! مجھے ان چیزوں کے متعلق بتائیے جو اللہ نے آپ کو سکھائی ہیں اور جنہیں میں نہیں جانتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح کی نماز پڑھو پھر اس وقت تک نماز نہ پڑھو جب تک سورج طلوع نہ ہو جائے اور جب طلوع ہو جائے تو اس کے بلند ہونے تک نماز نہ پڑھو‘ بے شک یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں‘ جب ایک یا دو نیزوں کی مقدار بلند ہو جائے تو نماز پڑھو کیونکہ اس وقت فرشتے نماز کی گواہی دیں گے یہاں تک کہ سایہ نیزے کے برابر ہو جائے۔ اس کے بعد نماز سے رُک جاؤ کیونکہ اس وقت جہنم جھونکی جاتی ہے‘ پھر جب سورج ڈھل جائے تو نماز پڑھو کیونکہ اس وقت نماز کی فرشتے گواہی دیں گے یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو‘ پھر نماز سے رُک جاؤ یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے کیونکہ جب یہ غروب ہوتا ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے! فرمایا: کوئی بھی مسلمان شخص ثواب کی نیت سے وضو کرتا ہے‘ کُلّی کرتا ہے‘ پھر ناک میں پانی ڈالتا ہے اور ناک صاف کرتا ہے‘ اللہ تعالٰی اس کے چہرے اور منہ اور نتھنوں کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے‘ پھر وہ اللہ تعالٰی کے حکم کے مطابق چہرہ دھوتا ہے تو داڑھی کے اطراف سے اس کے چہرے کے گناہ پانی کے ساتھ جھڑ جاتے ہیں۔ پھر جب وہ کہنیوں تک ہاتھ دھوتا ہے تو ہاتھوں کے پوروں سے پانی کے ساتھ اس کے ہاتھوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں‘ پھر جب وہ اللہ کے حکم کے مطابق سر کا مسح کرتا ہے تو بالوں کے سروں سے اس کے سر کے گناہ پانی کے ساتھ جھڑ جاتے ہیں‘ پھر وہ اللہ کے حکم کے مطابق ٹخنوں سمیت پاؤں دھوتا ہے تو انگلیوں سے لے کر ٹانگوں تک اس کے گناہ پانی سے جھڑ جاتے ہیں‘ پھر وہ کھڑا ہوتا ہے اور اللہ کی ایسی حمد و ثناء کرتا ہے کہ جو اس کی شان کے لائق ہے پھر دو رکعتیں پڑھتا ہے تو اپنے گناہوں سے ایسا پاک ہو جائے گا جیسا کہ اس کی ماں نے ابھی اسے پیدا کیا ہو۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عمر بن عبسہ ! دیکھو کہ تم کیا کہہ رہے ہو! تم نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ایک ہی جگہ ایک شخص کو اتنا اجر عطا کیا جائے گا؟ حضرت عمرو بن عبسہ نے جواب دیا: اے ابوامامہ! میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری ہڈیاں گل گئیں اور موت قریب آ چکی ہے‘ اس حال میں مجھے اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی کیا ضرورت ہے‘ اگر میں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دو یا تین مرتبہ تو کیا سات یا آٹھ یا اس سے بھی زیادہ نہ سنا ہوتا تو کبھی اس کو بیان نہ کرتا۔
كَانَ قَدْ أَدْرَكَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← شَدَّادُ ابْن عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَمَّارٍ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَهْرَانَ السَّرَّاجُ الثَّقَفِيُّ
Musnad Siraj · Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj › Chapter · Hadith 1518
