مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 193
193 - حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ثَنَا الأَحْوَصُ بْنُ جَوَابٍ ثَنَا عَمَّارُ بْنُ زُرَيْقٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دَثَّارٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَامَ مُعَاذٌ يُصَلِّي الْعِشَاءَ فَجَاءَ فَتًى مِنَ الأَنْصَارِ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَطَوَّلَ بِهِ مُعَاذٌ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَزَادَ فِيهِ: فَقَالَ الأَعْمَشُ: حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أَحُدٍ لَقِيَ ذَلِكَ الْفَتَى مُعَاذًا فَقَالَ: زَعَمْتَ أَنِّي مُنَافِقٌ، تَقَدَّمْ، فَقَالَ مُعَاذٌ: صَدَقَ اللَّهُ وَكَذَبْتُ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ عشاء کی نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ایک انصاری نوجوان مسجد میں داخل ہوا۔ پس حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز کو طویل کر دیا۔ آگے اسی طرح اس کے طول کی حدیث کو بیان کیا۔ اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ اعمش نے کہا کہ مجھے ابوصالح نے حدیث بیان کی کہ وہی نوجوان اُحد کے دن حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو ملا اور کہا کہ تم نے گمان کیا ہے کہ میں منافق ہوں‘ پھر وہ اُحد کی لڑائی میں آگے بڑھے اور وہ نوجوان شہید ہو گیا تو اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ سے فرمایا کہ میرے خصم اور تیرے خصم نے کیا کیا؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ نے سچ فرمایا اور میں نے غلط کہا ہے‘ وہ نوجوان لڑا ہے یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔
جَابِرٍ ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← الْاَعْمَشِ ← عمار بن زريق ← الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ،
Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 193
