Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند السراج

Musnad Siraj

by Muhammad Bin Ishaq Bin Ibraheem Al Siraj Al Saqfi Nishpuri

1,577 Hadith109 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 193

193 - حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ثَنَا الأَحْوَصُ بْنُ جَوَابٍ ثَنَا عَمَّارُ بْنُ زُرَيْقٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دَثَّارٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَامَ مُعَاذٌ يُصَلِّي الْعِشَاءَ فَجَاءَ فَتًى مِنَ الأَنْصَارِ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَطَوَّلَ بِهِ مُعَاذٌ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَزَادَ فِيهِ: فَقَالَ الأَعْمَشُ: حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أَحُدٍ لَقِيَ ذَلِكَ الْفَتَى مُعَاذًا فَقَالَ: زَعَمْتَ أَنِّي مُنَافِقٌ، تَقَدَّمْ، فَقَالَ مُعَاذٌ: صَدَقَ اللَّهُ وَكَذَبْتُ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ.

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ عشاء کی نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ایک انصاری نوجوان مسجد میں داخل ہوا۔ پس حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز کو طویل کر دیا۔ آگے اسی طرح اس کے طول کی حدیث کو بیان کیا۔ اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ اعمش نے کہا کہ مجھے ابوصالح نے حدیث بیان کی کہ وہی نوجوان اُحد کے دن حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو ملا اور کہا کہ تم نے گمان کیا ہے کہ میں منافق ہوں‘ پھر وہ اُحد کی لڑائی میں آگے بڑھے اور وہ نوجوان شہید ہو گیا تو اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ سے فرمایا کہ میرے خصم اور تیرے خصم نے کیا کیا؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ نے سچ فرمایا اور میں نے غلط کہا ہے‘ وہ نوجوان لڑا ہے یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔

جَابِرٍ ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← الْاَعْمَشِ ← عمار بن زريق ← الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ،

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 193

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 194

194 - حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دَثَّارٍ عَنْ جَابِرِ ابْن عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: أَمَّنَا مُعَاذٌ فِي الْمَغْرِبِ فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَدَخَلَ أَعْرَابِيٌّ قَدْ شَدَّ نَاضِحَيْنِ لَهُ بِالْبَابِ فَصَلَّى ثُمَّ خَرَجَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَفَتَّانًا يَا مُعَاذُ أَفَلا بـ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا) ؟.

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے مغرب کی نماز میں ہماری امامت کی تو سورۃ البقرہ کو شروع کر دیا‘ تو ایک دیہاتی آیا جس نے اپنے دو پانی بھر کر لانے والے اونٹ دروازے پر باندھے تھے‘ اس نے اپنی نماز پڑھی اور چلا گیا۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو فرمایا: اے معاذ! کیا تم فتنہ پھیلانے والے ہو؟ کیا ”سبح اسم ربك الاعلٰى‘‘اور ’’والشمس وضحها‘‘ سورتیں نہیں تھیں؟

جَابِرِ ابن عَبْدِ اللَّهِ ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← أَبُو كُرَيْبٍ،

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 194

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 195

195 - حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ثَنَا أَبُو النَّضْرِ هِشَامُ بْنُ الْقَاسِمِ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: أَقْبَلَ رَجُلٌ بِنَاضِحَيْنِ لَهُ وَقَدْ جَنَحَ اللَّيْلُ فَوَافَقَ مُعَاذًا يُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَتَرَكَهُمَا وَأَقْبَلَ إِلَى مُعَاذٍ فَصَلَّى مَعَهُ، فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ أَوِ النِّسَاءَ فَصَلَّى الرَّجُلُ فَانْطَلَقَ فَبَلَغَهُ أَنَّ مُعَاذًا نَالَ مِنْهُ، فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَاهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَاتِنٌ أَنْتَ؟ ثَلاثًا. أَوْ قَالَ أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟ ثَلاثًا، فَلَوْلا صَلَّيْتَ بـ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى) ؟، فَإِنَّهُ يُصَلِّي وَرَاءَكَ ذُو الْحَاجَةِ وَالضَّعِيفِ، قَالَ: أَحْسَبُهُ.

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص آیا اُس کے پاس دو پانی بھر کر لانے والے اونٹ تھے اور اس وقت رات کافی ہو چکی تھی تو اُس نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو نمازِ مغرب پڑھاتے پایا تو اُس نے اپنے دونوں اونٹوں کو چھوڑا اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھنے لگ گیا‘ حضرت معاذ نے سورۃ البقرہ یا سورۃ النساء شروع کر دی تو اُس شخص نے اپنی نماز پڑھی اور چلا گیا‘ پھر اس کو خبر پہنچی کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو اس سے تکلیف ہوئی ہے تو وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کی شکایت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: (اے معاذ!) کیا تم فتنہ پھیلانے والے ہو؟ تم نے ”سبح اسم ربك الاعلٰى‘والشمس وضحٰها‘والليل اذا یغشی‘‘کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَارِبٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو النَّضْرِ هِشَامُ بْنُ الْقَاسِمِ ← الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ،

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 195

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 196

196 - حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى وَمُحَمَّدُ بن عَمْرو زنيج الرَّازِيُّ قَالا: ثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ: مَا تَقُولُ فِي الصَّلاةِ؟ قَالَ: أَتَشَهَّدُ وَأَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أسئلك الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ، أَمَا وَاللَّهِ مَا نُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: نماز میں کیا پڑھتے ہو؟ اُس نے کہا: میں تشہد پڑھتا ہوں اور یہ دعا مانگتا ہوں: اے اللہ ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں‘ اللہ کی قسم! آپ کا نماز میں آہستہ دعا مانگنا اور حضرت معاذ کا آہستہ دعا مانگنا‘ نماز میں ہم اس کو نہیں پہچانتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم جنت کے گرد بھی اللہ سے دخولِ جنت کی دعا مانگیں گے اور اس کی پناہ مانگیں گے آگ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى وَمُحَمَّدُ بن عَمْرو زنيج الرَّازِيُّ

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 196

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 197

197 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبَرْسَانِيُّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عبد الله يُقَال: بَيْننَا فَتًى مِنَ الأَنْصَارِ قَدْ قَرَّبَ عَلَفَ نَاضِحِهِ، أَقَامَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ صَلاةَ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ فَتَرَكَ الْفَتَى عَلَفَهُ، فَقَامَ، فَتَوَلَّى وَحَضَرَ الصَّلاةَ، وَافْتَتَحَ مُعَاذٌ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَصَلَّى الْفَتَى وَتَرَكَ مُعَاذًا، وَانْصَرَفَ إِلَى نَاضِحِهِ وَعَلَفِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ مُعَاذٌ أَخَذَ الْفَتَى فَفَسَّقَهُ وَنَفَّقَهُ، ثُمَّ قَالَ: لآتِيَنَّ رَسُول الله عَلَيْهِ وَسلم فَلأُخْبِرَنَّهُ خَبَرَكَ، فَقَالَ الْفَتَى: أَنَا وَاللَّهِ لأُبَيِّنَهُ، فَأُخْبِرُهُ خَبَرَكَ، فَأَصْبَحَا فَاجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ مُعَاذٌ شَأْنَهُ، فَقَالَ الْفَتَى: إِنَّا أَهْلُ عَمَلٍ وَشُغْلٍ فَيُطَوِّلُ عَلَيْنَا مُعَاذٌ، فَيَسْتَفْتِحُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مُعَاذٌ أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ فَتَّانًا، إِذَا أَمَمْتَ بِالنَّاسِ فَاقْرَأْ بـ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، واقرأ بِاسْمِ رَبِّكَ، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، وَالضُّحَى) وَهَذَا النَّحْوِ.

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک انصاری نوجوان اپنے پانی بھر کر لانے والے اونٹ کو چارہ کھلانے کے قریب ہوا کہ اتنے میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز کی جماعت کھڑی کر دی‘ اُس نوجوان نے چارے کو چھوڑ دیا اور کھڑا ہوا اور نماز میں شامل ہو گیا۔ اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے سورۃ البقرہ کی قرأت شروع کر دی‘ اس نوجوان نے اپنی نماز پڑھی اور حضرت معاذ کے پیچھے سے ہٹ گیا اور جا کر اپنے اونٹ کو چارہ کھلانے لگا۔ جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو اُس نوجوان کو پکڑا اور اس کو فاسق اور منافق کہا‘ پھر کہا: میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے واقعہ بیان کروں گا اور تیرے بارے بتاؤں گا۔وہ نو جوان اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ دونوں صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہوئے تو حضرت معاذ نے اس کا واقعہ خدمتِ اقدس میں عرض کیا‘ نوجوان نے کہا کہ میں کام کاج کرنے والا ہوں‘ حضرت معاذ نے ہمیں نماز لمبی پڑھائی ہے‘ سورۃ البقرہ کی قرأت شروع کر دی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے معاذ! کیا تم فتنہ پھیلانے کا ارادہ رکھتے ہو؟ جب تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ تو ”سبح اسم ربك الاعلٰى‘‘ اور ’’اقـرأ باسم ربك‘‘اور ’’والليل اذا یغشی‘‘ اور ’’والضحی‘‘ اور اس جیسی سورتیں پڑھا کرو۔

أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 197

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 198

198 - حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَتَأَخَّرُ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ مِنْ أَجْلِ فُلانٍ يُطِيلُ بِنَا فِيهَا، فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ أَشَدُّ غَضَبًا وَفِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ، ثمَّ قَالَ: يأيها النَّاسُ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ من صلى النَّاس فَلْيَتَجَوَّزْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ.

حضرت عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو عرض کیا: یا رسول اللہ ! میں نماز فجر میں لیٹ ہو جاتا ہوں‘ ایک وجہ سے اس لئے کہ وہ ہمیں نماز لمبی پڑھاتے ہیں‘ پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن سے زیادہ غضبناک اور نصیحت فرمانے میں نہیں دیکھا‘ پھر فرمایا: اے لوگو! بے شک تم میں نفرت پھیلانے والے ہیں‘ جو لوگوں کو نماز پڑھائے اُسے چاہیے کہ مختصر پڑھائے اس لئے کہ نمازیوں میں کمزور اور بوڑھے اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں۔

أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ فَقَالَ: ← عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← زَائِدَۃَ، ← حُسَيْنٌ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← محمد بن يزيد الواسطي ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ،

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 198

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 199

199 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالا: أَنَا جرير، وَحدثنَا قتية بْنُ سَعِيدٍ وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى قَالا: ثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَجَوَّزُوا فِي الصَّلاةِ، فَإِنَّ خلفكم الضَّعِيف والكير وَذَا الْحَاجَةِ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز میں اختصار کرو کہ بے شک تمہارے پیچھے کمزور اور بوڑھے اور حاجت مند ہوتے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← جرير، وَحدثنَا قتية بْنُ سَعِيدٍ وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 199

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 200

200 - حَدَّثَنَا (1) يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنِ ابْنِ صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَجَوَّزُوا فِي الصَّلاةِ فَإِنَّ خَلْفَكُمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نما ز میں اختصار کرو کہ بے شک تمہارے پیچھے کمزور اور بوڑھے اور حاجت مند ہوتے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابن صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 200

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 201

201 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْرَائِيلَ الْجَوْهَرِيُّ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَجَوَّزُوا فِي الصَّلاةِ فَإِنَّ خَلْفَكُمُ الْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز میں اختصار کیا کرو اس لئے کہ تمہارے پیچھے کمزور اور بوڑھے اور حاجت مند ہوتے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْرَائِيلَ الْجَوْهَرِيُّ

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 201

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 202

202 - حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ثَنَا أَبُو عُوَانَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَجَوَّزُوا فِي الصَّلاةِ فَإِنَّ خَلْفَكُمُ الْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ. _________ (1) هَذَا الحَدِيث على الْهَامِش. [199] إِسْنَاده صَحِيح، وَرَوَاهُ أَبُو نعيم فِي الحالية (ج7 ص364) من طَرِيق دااؤد الطَّائِي عَن الْأَعْمَش، وَقَالَ صَحِيح ثَابت. [200] إِسْنَاده صَحِيح، أخرجه أَحْمد (ج2 ص472) وَابْن أبي شيبَة (ج2 ص54) عَن وَكِيع بِهِ، وَمن طَرِيق وَكِيع بِهِ رَوَاهُ الْخَطِيب فِي تَارِيخ بَغْدَاد (ج7 ص416) وَرَوَاهُ عَليّ بن الْمُنْذر عَن وَكِيع عَن سُفْيَان عَن الْأَعْمَش كَمَا فِي الْبَغْدَادِيّ (ج7 ص415) وَقَالَ الْخَطِيب: رَوَاهُ يَعْقُوب الدَّوْرَقِي عَن وَكِيع عَن الْأَعْمَش نَفسه، لم يذكر بَينهمَا سُفْيَان، قلت: وَهُوَ الصَّوَاب لِأَن الثِّقَات رَوَاهُ بِغَيْر وَاسِطَة سُفْيَان، وَصرح وَكِيع بِالتَّحْدِيثِ عَن أَحْمد. [201] إِسْنَاده صَحِيح، وَهُوَ مُكَرر مَا قبله. [202] إِسْنَاده صَحِيح، وَهُوَ مُكَرر أَيْضا.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نماز میں اختصار کرو کیونکہ تمہارے پیچھے کمزور اور بوڑھے اور حاجت مند ہوتے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 202

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 203

203 - حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ثَنَا أَبُو عُوَانَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مثل حدیث روایت کی ہے۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَبِيبٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 203

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 204

204 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ثَنَا أَبُو عُوَانَةَ ثَنَا الأَعْمَشُ ثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَجَوَّزُوا فِي الصَّلاةِ، فَإِنَّ خَلْفَكُمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ. قَالَ الأَعْمَشُ: وَحَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ عَن سعيد بَين جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نماز میں اختصار کیا کرو کیونکہ تمہارے پیچھے کمزور اور بوڑھے اور حاجت مند ہوتے ہیں۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مثل روایت کی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو صَالِحٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 204

chevron_left Previous
1…161718…132
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter
2. The first book of prayer
    8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter
3. The fourth part of the Musnad of Abu al-Abbas al-Sarraj
    34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter
4. The second part of the second part with the pumice parts
    45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter
5. The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri
    52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter
6. The tenth part of the hadith of As-Sarraj from Juzu 'al-Qusayri
    62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter
7. Part of the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq Abraham, the educational siren, may God have mercy on him, is part of the Haddi
    74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
8. The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
9. Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter