المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ الْعَبَّاسُ · حديث 580
580 - حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ ثَعْلَبٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: شَكَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «يَا خَالِدُ , لَا تُؤْذِ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ , فَلَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا لَمْ تُدْرِكْ عَمَلَهُ» , فَقَالَ: يَقَعُونَ فِيَّ فَأَرُدُّ عَلَيْهِمْ , فَقَالَ: «لَا تُؤْذُوا خَالِدًا؛ فَإِنَّهُ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ صَبَّهُ اللَّهُ عَلَى الْكُفَّارِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ إِلَّا أَبُو إِسْمَاعِيلَ تَفَرَّدَ بِهِ الرَّبِيعُ
حضرت عبداللہ ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں خالد بن ولید کی شکایت لگائی ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اے خالد کسی بھی بدری صحابی کو تکلیف مت دو کیونکہ اگر تم احد پہاڑ کے برابر بھی سونا صدقہ کرو تو ان کے عمل تک نہیں پہنچ سکتے ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یہ لوگ مجھے تنگ کرتے ہیں ، تو میں ان کو جواب دیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : خالد کو تکلیف مت دیا کرو کیونکہ یہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کافروں پر ڈال رکھا ہے ۔ اس حدیث کو اسماعیل ابن ابی خالد سے صرف ابواسماعیل نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ربیع بن ثعلب منفرد ہیں ۔
عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أبو إسماعيل المؤدب إبراهيم بن سليمان ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ ثَعْلَبٍ
Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 580
