Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِسْحَاقُ · حديث 283

283 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ رَجَاءٍ الدَّوْسِيُّ الْأَنْبَارِيُّ بِمَدِينَةِ الْأَنْبَارِ , حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ , وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ مِنْ إِرْبِهِ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْلِكُ؟» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ إِلَّا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ تَفَرَّدَ بِهِ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الطَّحَّانُ

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول اللۃ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں بھی مباشرت (جسم کے ساتھ جسم لگا کر گرمی حاصل کرنا ) کر لیا کرتے تھے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اپنی ذات پر جیسا کنٹرول حاصل تھا تم میں سے کسی کو ایسا کنٹرول ہے ؟ اس حدیث کو " بکر بن عبداللہ المزنی " سے صرف حمید الطویل " نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں " خالد بن عبداللہ الطحان " منفرد ہیں ۔

عَائِشَةَ ← بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ رَجَاءٍ الدَّوْسِيُّ الْأَنْبَارِيُّ بِمَدِينَةِ الْأَنْبَارِ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 283

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِسْحَاقُ · حديث 284

284 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَنْجَنِيقِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، بِمِصْرَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رُومَانَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَالَا يَرِيبُكَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَالِكٍ إِلَّا ابْنُ وَهْبٍ تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رُومَانَ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس چیز کو چھوڑ دو جس میں شک ہو اور اس کو اپنا لو جس میں یقین ہو۔ اس حدیث کو مالک سے صرف " ابن وہب " نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں " عبداللہ بن رومان " منفرد ہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مالک بن أنس ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رُومَانَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَنْجَنِيقِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، بِمِصْرَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 284

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِسْحَاقُ · حديث 285

285 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْخَلِيلِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّهِ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ» ، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ شُعْبَةَ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وِجَادَةً فِي كِتَابِهِ

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ستائیسویں رات میں لیلتہ القدر ڈھونڈا کرو۔ اس حدیث کو شعبہ سے صرف " محمد بن ابی شبینہ " نے روایت کیا ۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّهِ: ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْخَلِيلِ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 285

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِسْحَاقُ · حديث 286

286 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ فَقَالَ: «مَثْنَى مَثْنَى , فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ فَلْيُوتِرْ بِوَاحِدَةٍ» ، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نُعَيْمٍ إِلَّا إِسْحَاقُ الْفَرْوِيُّ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : دو دو رکعتیں پڑھا کرو ، اگر صبح ہونے کا خدشہ ہو تو ( دو کے ساتھ ایک رکعت مزید شامل کر کے ان کو طاق کر دو۔ اس حدیث کو " نافع بن ابی نعیم " سے صرف " اسحاق الفروی " نے روایت کیا ہے ۔

نَافِعِ بْنِ أَبِي نُعَيْمٍ إِلَّا إِسْحَاقُ الْفَرْوِيُّ ← «مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ فَلْيُوتِرْ بِوَاحِدَةٍ» لَمْ يَرْوِهِ ← صَلَاةِ اللَّيْلِ ← ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ← نَافِعٍ ← نَافِعُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 286

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِدْرِيسُ · حديث 287

287 - حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الصَّوَّافُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ غُرِسَتْ لَهُ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ إِلَّا الْحَجَّاجُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے ایک مرتبہ سبحان اللہ و بحمدہ پڑھا اس کے لئے جنت میں ایک درخت لگا دیا جاتا ہے ۔ اس حدیث کو " ابو الزبیر " سے صرف حجاج نے روایت کیا ہے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الصَّوَّافُ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 287

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِدْرِيسُ · حديث 288

288 - حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْحَدَّادُ الْمُقْرِئُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ مَنْ يُدْعَى إِلَى الْجَنَّةِ الْحَمَّادُونَ الَّذِينَ يَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ حَبِيبٍ إِلَّا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَشُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ تَفَرَّدَ بِهِ عَنْ شُعْبَةَ: نَصْرُ بْنُ حَمَّادٍ الْوَرَّاقُ , حَدَّثَنَا بِحَدِيثِ شُعْبَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَاجِيَةَ الْبَغْدَادِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَطَرٍ الصَّاغَانِيُّ , حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ حَمَّادٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ قَيْسٍ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سب سے پہلے جن کو جنت کی جانب بلایا جائے گا وہ لوگ ہونگے جو آسانی اور تنگی ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرنے والے ہونگے ۔ اس حدیث کو حبیب سے صرف " قیس بن ربیع " اور شعبہ بن حجاج " نے روایت کیا ہے اور شعبہ سے روایت کرنے میں " نصر بن حماد الوراق " منفرد ہیں ۔ قیس کی طرح " عبداللہ بن ناجیہ بغدادی " نے شعبہ کی سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اسی طرح کا فرمان روایت کیا ہے ، اس کی سند کچھ یوں ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← إِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْحَدَّادُ الْمُقْرِئُ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 288

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ أَيُّوبُ · حديث 289

289 - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ أَبُو مَيْمُونٍ الصُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عَطِيَّةُ بْنُ بَقِيَّةَ بْنِ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَآلِهِ يَقُولُ: «أَنَا سَابِقُ الْعَرَبِ إِلَى الْجَنَّةِ , وَصُهَيْبٌ سَابِقُ الرُّومِ إِلَى الْجَنَّةِ , وَبِلَالٌ سَابِقُ الْحَبَشَةِ إِلَى الْجَنَّةِ , وَسَلْمَانُ سَابِقُ الْفُرْسِ إِلَى الْجَنَّةِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ إِلَّا بَقِيَّةُ , وَلَا يُرْوَى عَنْ أَبِي أُمَامَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں پورے عرب میں سب سے پہلے جنت میں جاؤں گا اور صہیب رومیوں میں سب سے پہلے جنت میں جائیں گے اور بلال حبشہ میں سب سے پہلے جنت میں جائیں گے اور سلمان ایرانیوں میں سب سے پہلے جنت میں جائیں گے ۔ اس حدیث کو محمد بن زیاد سے صرف " بقیہ " نے روایت کیا ہے اور ابوامامہ سے یہ حدیث صرف اسی اسناد کے ہمراہ مروی ہے ۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 289

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ أُسَامَةُ · حديث 290

290 - حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ أَحْمَدَ التُّجِيبِيُّ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سُلَيْمٍ الصَّوَّافُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَا غَرِيبًا , وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَا , فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ» قِيلَ: وَمَنِ الْغُرَبَاءُ , يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الَّذِينَ يُصْلِحُونَ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ إِلَّا بَكْرُ بْنُ سُلَيْمٍ الصَّوَّافُ

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک اسلام اجنبی شروع ہوا اور عنقریب یہ اسی حالت پر لوٹ جائے گا جس سے شروع ہو اتھا ، غرباء ( وہ لوگ جو زمانے میں اجنبی جانے جاتے ہیں ) ک ےلئے خوشخبری ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا : یا رسول اللۃ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غرباء کون ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : وہ لو جو اس زمانے میں اصلاح پسند ہو نگے جب لوگوں میں فساد عام ہو چکا ہو گا۔ اس حدیث کو ابوحازم کے واسطے سے " سہل بن سعد " سے صرف " بکر بن سلیم صواف " نے روایت کیا ہے ۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبِي حَازِمٍ ← بكر بن سليم الصواف ← أَبُو طَاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، ← أُسَامَةُ بْنُ أَحْمَدَ التُّجِيبِيُّ الْمِصْرِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 290

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ أُسَامَةُ · حديث 291

291 - حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ أُسَامَةُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ الرَّازِيُّ بِمِصْرَ , حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ , حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنْ كَانَ الْعَدُوُّ عِنْدَ بَابِ الْبَيْتِ فَلَا تَذْهَبْ إِلَيْهِ إِلَّا بِإِذْنِ أَبَوَيْكَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ نَافِعٍ إِلَّا بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ , وَلَا عَنْ بُكَيْرٍ إِلَّا ابْنُهُ مَخْرَمَةَ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ وَهْبٍ، مَخْرَمَةُ أَحَدُ الثِّقَاتِ , وَكُلُّ مَا رَوَاهُ مَالِكٌ عَنِ الثِّقَةِ عِنْدَهُ فَهُوَ مَخْرَمَةُ , قَالَهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ عَنْهُ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دشمن اگرچہ تمہارے گھر کے دروازے تک پہنچ چکا ہو تب بھی تم اپنے ماں باپ کی اجازت کے بغیر اس کی جانب مت بڑھو۔ اس حدیث کو نافع سے صرف " بکر بن عبداللہ بن الاشج " نے روایت کیا ہے اور بکیر سے ان کے صاحبزادے مخرمہ کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور ان سے روایت کرنے میں " ابن وہب " منفرد ہیں ۔ مخرمہ ثقہ محدثین میں سے ہیں ، اور ہر وہ حدیث جس کو مالک یہ کہہ کر روایت کریں کہ " میں نے یہ حدیث ثقہ سے روایت کی ہے " وہ مخرمہ سے ہی مروی ہوتی ہے ۔ یہ بات احمد بن صالح المصری نے بیان کی ہے اور ہمیں اسماعیل الخفاف المصری نے ان کے حوالے سے بتائی ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَبِيهِ ← مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ← أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ← أَبُو رَافِعٍ أُسَامَةُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ الرَّازِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 291

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ أَنَسٌ · حديث 292

292 - حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سُلَيْمٍ أَبُو عَقِيلٍ الْخَوْلَانِيُّ، بِمَدِينَةِ الطَرَطُوس , حَدَّثَنَا مُعَلِّلُ بْنُ نُفَيْلٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ «إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ» ، لَا يُرْوَى عَنْ عَلِيٍّ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ مُعَلِّلُ بْنُ نُفَيْلٍ , وَهُوَ ثِقَةٌ , وَالْمَشْهُورُ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ أَبِيهِ

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عادت کریمہ تھی کہ جب بھی سفر سے واپس تشریف لاتے تو دو رکعت نوافل ادا فرماتے ۔ یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ نقل کی گئی ہے ۔ اس کو روایت کرنے میں " معلل بن نفیل " منفرد ہیں ۔ اور وہ ثقہ ہیں ۔ جب کہ مشہور اس سند کے ساتھ ہے " زھری عن ابن کعب بن مالک عن ابیہ "

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 292

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابِ مَنِ اسْمَهَ أَبَانُ · حديث 293

293 - حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ مَخْلَدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخُو أَبِي حُرَّةَ , وَقُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ وَهَارُونُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَهْوَازِيُّ كُلُّهُمْ حَدَّثَنِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ , فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ , فَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ , فَقَالُوا: أَقَصَرْتَ الصَّلَاةَ؟ , وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ , فَهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ , وَقَامَ سَرَعَانُ النَّاسِ , وَقَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي الْمَسْجِدِ كَانَ يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهَا , فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ يُقَالُ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّيهُ ذَا الْيَدَيْنِ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَقَصَرْتَ الصَّلَاةَ أَمْ نَسِيتَ؟ قَالَ: «لَمْ أَنَسَ , وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاةُ» , فَسَأَلَ الْقَوْمَ , فَقَالُوا: صَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ , فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ رُكُوعِهِ أَوْ أَطْوَلَ , ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قُرَّةَ وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهَارُونَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا أَبُو دَاوُدَ تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں دوپہر کی دو نمازوں ظہر یا عصر میں سے کوئی ایک پڑھائی ، دو رکعتیں پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا اور جلدی جلدی وہاں سے نکل پڑھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے : کیا نماز چھوٹی ہو گئی ہے ؟ جماعت میں حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ، انہوں نے لوگوں کو کسی قسم کی گفتگو کرنے سے منع فرما دیا، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جلدی جلدی کھڑے ہوئے اور مسجد میں رکھے ہوئے لکڑی کے اس تنے کے پاس آئے جس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دست مبارک رکھا کرتے تھے ،لوگوں میں سے ایک آدمی جس کو " ذوالیدین " کہا جاتھھا تھا کھڑا ہوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کو " ذوالیدین " کہا کرتے تھے ، اس نے کہا: یا رسول اللۃ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز چھوٹی ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز چھوٹی ہوئی ہے ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا ہو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ " ذوالیدین " سچ کہہ رہا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس تشریف اور مزید دو رکعتیں پڑھائیں ۔ ان کا رکوع پہلی رکعتوں کی مانند تھا یا اس سے زیادہ لمبا تھا، اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو سجدے ( سجدہ سہو ) اد ا کئے ۔ اس حدیث کو قرہ اور" سعید بن عبدالرحمن " اور " ہارون بن ابراہیم " سے ابو داؤد کے سوا کسی نے روایت نہیں کی اور ان سے روایت کرنے میں " عبداللہ بن عمران " منفرد ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هَارُونُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَهْوَازِيُّ كُلُّهُمْ ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخُو أَبِي حَرَّةَ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبَانُ بْنُ مَخْلَدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 293

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ أَسْلَمُ · حديث 294

294 - حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ بَعْدَ الْغُسْلِ فَلَيْسَ مِنَّا» ، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ إِلَّا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ , وَلَا عَنْ سَعِيدٍ إِلَّا الْوَلِيدُ تَفَرَّدَ بِهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرَشِيُّ الشَّامِيُّ , سَكَنَ وَاسِطَ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے غسل کے بعد وضو کیا وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ اس حدیث کو " ابان بن تغلب " سے صرف " سعید بن بشیر " نے روایت کیا ہے اور سعید سے ولید کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور ان سے روایت کرنے میں " سلیمان بن احمد الجرشی شامی " منفرد ہیں ۔ وہ واسط میں رہائش پذیر رہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← اَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ ← أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 294

chevron_left Previous
1…838485…100
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter