Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 175

175 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ الثَّقَفِيُّ الْمَدِينِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، سَنَةَ تِسْعِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ عَمِيرَةَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يُنَاشِدُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ يَقُولُ مَا قَالَ؟ فَلْيَشْهَدْ , فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنْهُمْ: أَبُو هُرَيْرَةَ , وَأَبُو سَعِيدٍ , وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ , فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ , اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ , وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مِسْعَرٍ إِلَّا إِسْمَاعِيلُ

احمد بن ابراہیم بن عبداللہ بن کیسان ثقفی المدینی الاصبہانی سے مروی حدیث : عمیر ہ بن سعد بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھا آپ ممبر شریف پر موجود تھے اور قسم دے کر صحابہ کرام کو فرما رہے تھے کہ کہ غدیر خم کے موقع پر جس جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو فرماتے ہوئے سنا ہے وہ اسکی گواہی دے اور بارہ آدمی کھڑے ہوئے ہوئے ان میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ابو سعید اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ تھے ان سب نے گواہی دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کا میں مولیٰ ہوں اس کا علی مولیٰ ہے ۔ اللہ جو علی کو مولی مانے اس کو دوست بنانا اور جو ان سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔ اس حدیث کو مسعر سے اسماعیل کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا۔

عَمِيرَةَ بْنِ سَعْدٍ ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← مِسْعَرٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ الثَّقَفِيُّ الْمَدِينِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 175

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 176

176 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُجَاهِدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنَا زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ: " مَنْ قَالَ: إِنِّي عَالِمٌ فَهُوَ جَاهِلٌ , وَمَنْ قَالَ: إِنِّي جَاهِلٌ فَهُوَ جَاهِلٌ , وَمَنْ قَالَ: إِنِّي فِي الْجَنَّةِ فَهُوَ فِي النَّارِ , وَمَنْ قَالَ إِنِّي فِي النَّارِ فَهُوَ فِي النَّارِ "

احمد بن مجاہد الاصبہانی سے مروی حدیث: یحیٰی بن ابی کثیر فرماتے ہیں : جس نے خود کو کہا کہ میں عالم ہو ں، وہ جاہل ہے اور جس نے کہا میں جاہل ہوں وہ بھی جاہل ہے اور جس نے کہا میں جنتی ہوں وہ جہنمی ہے اور جس نے کہا میں جہنمی ہوں وہ بھی جہنمی ہے۔

إِنِّي فِي النَّارِ فَهُوَ فِي النَّارِ ← إِنِّي فِي الْجَنَّةِ فَهُوَ فِي النَّارِ وَمَنْ ← إِنِّي جَاهِلٌ فَهُوَ جَاهِلٌ وَمَنْ ← إِنِّي عَالِمٌ فَهُوَ جَاهِلٌ وَمَنْ ← مَنْ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمِصِّيصِيُّ ← زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُجَاهِدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 176

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 177

177 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُجَاهِدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنَا زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ طُعْمَةَ بْنِ عَمْرٍو الْجَعْفَرِيِّ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَوْفٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ: أَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ أُعَزِّيهَا عَلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ عَلَى مَنَامَةٍ لَنَا , فَجَاءَتْهُ فَاطِمَةُ رِضْوَانُ اللَّهِ وَرَحْمَتُهُ عَلَيْهَا بِشَيْءٍ وَضَعْتُهُ , فَقَالَ: «ادْعِي لِي حَسَنًا وَحُسَيْنًا وَابْنَ عَمِّكِ عَلِيًّا» , فَلَمَّا اجْتَمَعُوا عِنْدَهُ قَالَ لَهُمْ: «هَؤُلَاءِ حَامَتِي وَأَهْلُ بَيْتِي , فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ طُعْمَةَ إِلَّا زَافِرٌ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مِشْكِدَانَةُ

احمد بن مجاہد الاصبہانی سے مروی حدیث : شہر بن حوشب فرماتے ہیں : میں ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالی عنہ کی تعزیت کرنے کے لیے گیا انہوں نے فرمایا میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور میری خواب گاہ پر بیٹھ گئے پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کوئی چیز لے کر آئیں اور اس کو رکھ دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا حسن ، حسین اور میرے چچا کے بیٹے علی کو بلاکر لاؤ جب یہ سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ میرے حمایتی ہے اور میرے اہل بیت ہیں ۔ اللہ ان سے نجاست کو دور فرما دے اور ان کو پاکیزہ فرما دے ۔ اس حدیث کو ’’طعمہ‘‘ سے صرف ’’زافر‘‘ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ مشک دانہ منفرد ہیں۔

شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← أَبِي الْجَحَّافِ دَاوُد بْنِ أَبِي عَوْفٍ ← طُعْمَةَ بْنِ عَمْرٍو الْجَعْفَرِيِّ ← زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُجَاهِدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 177

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 178

178 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صُبَيْحٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ , وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ , وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ , وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ , وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ , وَالزَّبِيبُ بِالزَّبِيبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ , وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ يَدًا بِيَدٍ , فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الزُّبَيْرِ إِلَّا بِشْرُ بْنُ الْحُسَيْنِ

احمد بن محمد بن صبیح الاصبہانی سے مروی حدیث : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سونا، سونے کے بدلے میں ، چاندی ، چاندی کے بدلے میں ، گندم ، گندم کے بدلے میں ، جؤ ، جؤ کے بدلے میں ، کھجور ، کھجور کے بدلے میں اور منقع، منقع کے بدلے میں اور نمک ،نمک کے بدلے میں برابر بیچا جائے اور ہاتھوں ہاتھ بیچا جائے ،جس نے زیادہ دیا لیا وہ سودہے ۔اس حدیث کو ’’زبیر ‘‘سے صرف ’’بشر بن حسین ‘‘نے روایت کیا ہے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← الزبير بن عدي ← بِشْرُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← حَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ الْهَمْدَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صُبَيْحٍ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 178

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 179

179 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَاتِمٍ السَّرْمَرِيُّ، بُسَّرَ مَنْ رَأَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ وَاهي رَاقِعٌ فَسَعِيدٌ مَنْ هَلَكَ عَلَى رُقْعَةٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ إِلَّا سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ مَدَنِيُّ , وَمَعْنَى وَاهي يَعْنِي: مُذْنِبٌ رَاقِعٌ يَعْنِي: تَائِبٌ مُسْتَغْفِرٌ

احمد بن حاتم السر مری سے مروی حدیث: حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مومن گناہ کرتا ہے اور ان سے توبہ بھی کرتا ہے اور وہ سعادت مند ہوتا ہے جو توبہ کی حالت میں انتقال کر جائے ۔اس حدیث کو ’’ابن المنکدر ‘‘سے صرف ’’سعید بن خالد مدنی ‘‘ نے روایت کیا ہے اور واہی کا معنی ہے مذنب یعنی گناہگار اور را قع کا معنی ہے تائب مستغفر یعنی توبہ کرنے والا۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ ← يعقوب بن إسحاق الحضرمي ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَاتِمٍ السَّرْمَرِيُّ، بُسَّرَ مَنْ رَأَى

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 179

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 180

180 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَيْدٍ أَبُو أُسَيْدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوَابٍ الْهُبَارِيُّ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ مُخَارِقٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ} [البقرة: 197] قَالَ: «شَوَّالٌ , وَذُو الْقَعْدَةِ , وَذُو الْحَجَّةِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يُونُسَ إِلَّا حُصَيْنُ بْنُ مُخَارِقٍ كُوفِيُّ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ ثَوَابٍ

احمد بن محمد بن اسید ابو اسید الاصبہانی سے مروی حدیث : حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا : ’’ الحج اشھر معلومات‘‘ میں مہینوں سے مراد’’ شوال ،ذیقعد اور ذوالحجہ ‘‘ ہیں۔ اس حدیث کو یونس سے صرف حصین بن مخارق کوفی نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں محمد بن ثواب منفرد ہے

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← حَصِينُ بْنُ مُخَارِقٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَوَابٍ الْهَبَّارِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَيْدٍ أَبُو أُسَيْدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 180

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 181

181 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَصْقَلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْفِهْرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْلَمَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَسْلَمَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «جَعَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُسَارَى قُرَيْظَةَ , فَكُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى فَرْجِ الْغُلَامِ , فَإِنْ رَأَيْتُهُ قَدْ أَنْبَتَ ضَرَبْتُ عُنُقَهُ , وَإِذَا لَمْ أَرَهُ قَدْ أَنْبَتَ جَعَلْتُهُ فِي مَغَانِمِ الْمُسْلِمِينَ» لَا يُرْوَى عَنْ أَسْلَمَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ وَهُوَ أَسْلَمُ بْنُ بَجْرَةَ

احمد بن محمد بن صقلہ الاصبہانی سے مروی حدیث : محمد بن ابراہیم بن محمد اسلم انصاری اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے قریظہ کے قیدیوں پر نگران مقرر کیا میں لڑکوں کی شرمگاہ کو دیکھ سکتا تھا اگر اس کے زیر ناف بال اگ ہوتے تو اس کو قتل کر دیتا اور اگر بال نہ ہو گئے ہوتے اے تو میں اس کو مسلمانوں کے مال غنیمت میں جمع کر دیتا اس حدیث کو ا سلم سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ نقل کیا گیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں زبیر بن بکار منفرد ہے اور اسلم نامہ راوی ’’ اسلم بن بجرہ ‘‘ ہیں۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 181

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 182

182 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَسَارٍ النَّسَائِيُّ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصَمَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَانَ غُسْلُ الْبَوْلِ مِنَ الثَّوْبِ سَبْعَ مِرَارٍ , فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَاجِعُ حَتَّى جَعَلَ غُسْلَ الْبَوْلِ مِنَ الثَّوْبِ مَرَّةً» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصَمَ أَبُو عُلْوَانَ الْكُوفِيُّ تَفَرَّدَ بِهِ أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ , وَقَدْ قِيلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ , وَالصَّوَابُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصَمَ

احمد بن عبدالرحمن بن یسار النسائی سے مروی حدیث : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں پہلے طریقہ یہ تھا کہ کپڑے پر پیشاب لگ جائے تو اس کو سات مرتبہ دھویا جاتا تھا ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں مسلسل تخفیف کرتے رہتے حتی کہ کپڑے پر پیشاب کی نجاست دھونے لے لئے صرف ایک مرتبہ دھونا قرار دیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمٍ ← أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أحمد بن عبد الرحمن بن يسار النسائي

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 182

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 183

183 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ , حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّمِيمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: «كَانَتْ مُتْعَةُ الْحَجِّ لَنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ هَدِيَّةَ إِلَّا أَبُو هَمَّامٍ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ , وَالْمَشْهُورُ مِنْ حَدِيثِ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ , عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ [ص:124]

احمد بن عبدالرحمن بن یسار النسائی سے مروی حدیث : حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ متعہ حج (حج کے مہینے میں عمرہ کرکے احرام ختم کر دینا پھر حج کے لئے دوبارہ احرام باندھنا) صرف خاص طور پر ہم صحابہ کے لئے تھا ۔اس حدیث کو ہدیہ سے صرف ’’ابو ہمام ‘‘نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’محمد بن الفرج ‘‘منفرد ہیں اور یہ حدیث ’’قیس بن ربیع ‘‘کے واسطے سے ابو حصین کی سند سے مشہور ہے ۔جیسا کہ درج ذیل ہے ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← إبراهيم التميمي ← أَبِي الْحُصَيْنِ ← هُدْبَةُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، ← محمد بن الفرج ← أحمد بن علي بن المثنى أبو يعلى الموصلي

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 183

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 184

184 - حَدَّثَنَا أَبُو مَعْنٍ ثَابِتُ بْنُ نُعَيْمٍ الْهَوْجِيُّ , حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ

ابو معن ثابت بن نیم الہو جی سے مروی حدیث : قیس بن ربیع کی سند کے ہمراہ بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے ۔

أَبِي حُصَيْنٍ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ← أَبُو مَعْنٍ ثَابِتُ بْنُ نُعَيْمٍ الْهُوجِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 184

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 185

185 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْهَرَوِيُّ بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ بِالْهَاجِرَةِ , فَسَمِعَ بِذَلِكَ عُمَرُ فَخَرَجَ , فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ , فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ , مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ فَقَالَ: أَخْرَجَنِي وَاللَّهِ مَا أَجِدُ فِي بَطْنِي مِنْ حَاقِ الْجُوعِ , فَقَالَ: وَأَنَا وَاللَّهِ مَا أَخْرَجَنِي غَيْرُهُ , فَبَيْنَمَا هُمَا كَذَلِكَ , إِذْ خَرَجَ عَلَيْهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا أَخْرَجَكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ؟» فَقَالَا: أَخْرَجَنَا وَاللَّهِ مَا نَجِدُ فِي بُطُونِنَا مِنْ حَاقِ الْجُوعِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «وأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَخْرَجَنِي غَيْرُهُ» , فَقَامُوا , فَانْطَلَقُوا حَتَّى أَتَوْا بَابَ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ , وَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا أَوْ لَبَنًا , فَأَبْطَأَ يَوْمَئِذٍ , فَلَمْ يَأْتِ لِحِينِهِ , فَأَطْعَمَهُ أَهْلَهُ , وَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلِهِ يَعْمَلُ فِيهِ , فَلَمَّا أَتَوْا بَابَ أَبِي أَيُّوبَ خَرَجَتِ امْرَأَتُهُ , فَقَالَتْ: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِمَنْ مَعَهُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:125]: «فَأَيْنَ أَبُو أَيُّوبَ؟» فَقَالَتْ: يَأْتِيكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ السَّاعَةَ , فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَبَصُرَ بِهِ أَبُو أَيُّوبَ وَهُوَ يَعْمَلُ فِي نَخْلٍ لَهُ فَجَاءَ يَشْتَدُّ حَتَّى أَدْرَكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَرْحَبًا بِنَبِيِّ اللَّهِ وَبِمَنْ مَعَهُ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَيْسَ بِالْحِينِ الَّذِي كُنْتَ تَجِيئَنِي فِيهِ , فَرَدَّهُ , فَجَاءَ إِلَى عِذْقِ النَّخْلِ , فَقَطَعَهُ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَرَدْتَ إِلَى هَذَا؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَحْبَبْتُ أَنْ تَأْكُلَ مِنْ رُطَبِهِ , وَبُسْرِهِ , وَتمْرِهِ , وَتُذْنُوبِهِ , وَلَأَذْبَحَنَّ لَكَ مَعَ هَذَا , فَقَالَ: «إِنْ ذَبَحْتَ , فَلَا تَذْبَحَنَّ ذَاتَ دَرٍّ» , فَأَخَذَ عَنَاقًا لَهُ أَوْ جَدْيًا فَذَبَحَهُ , وَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: اخْتَبِزِي , وَأَطْبُخُ أَنَا , فَأَنْتِ أَعْلَمُ بِالْخَبْزِ , فَعَمَدَ إِلَى نِصْفِ الْجَدْيِ فَطَبَخَهُ وَشَوَى نِصْفَهُ , فَلَمَّا أُدْرِكَ بِالطَّعَامِ وَضَعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ , فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَدْيِ , فَوَضَعَهُ عَلَى رَغِيفٍ , ثُمَّ قَالَ: «يَا أَبَا أَيُّوبَ , أَبْلِغْ بِهَذَا فَاطِمَةَ؛ فَإِنَّهَا لَمْ تُصِبْ مِثْلَ هَذَا مُنْذُ أَيَّامٍ» , فَلَمَّا أَكَلُوا وَشَبِعُوا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «خُبْزٌ , وَلَحْمٌ , وَبُسْرٌ , وَتَمْرٌ , وَرُطَبٌ , وَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ» , ثُمَّ قَالَ: «هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» , فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَصَبْتُمْ مِثْلَ هَذَا , وَضَرَبْتُمْ بِأَيْدِيكُمْ , فَقُولُوا: بِسْمِ اللَّهِ , وَبَرَكَةِ اللَّهِ , فَإِذَا شَبِعْتُمْ , فَقُولُوا: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَشْبَعَنَا وَأَرْوَانَا وَأَنْعَمَ وَأَفْضَلَ؛ فَإِنَّ هَذَا كَفَافٌ بِهَذَا " , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْتِي إِلَيْهِ أَحَدٌ مَعْرُوفًا إِلَّا أَحَبَّ أَنْ يُجَازِيَهُ , فَقَالَ لِأَبِي أَيُّوبَ: «ائْتِنَا غَدًا» , فَلَمْ يَسْمَعْ , فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَهَ , فَلَمَّا أَتَاهُ «أَعْطَاهُ وَلِيدَةً» فَقَالَ: «يَا أَبَا أَيُّوبَ , اسْتَوْصِي بِهَذِهِ خَيْرًا؛ فَإِنَّا لَمْ نَرَ إِلَّا خَيْرًا مَا دَامَتْ عِنْدَنَا» , فَلَمَّا جَاءَ بِهَا أَبُو أَيُّوبَ , فَقَالَ مَا أَجِدُ لِوَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ أَنْ أَعْتِقَهَا , فَأَعْتَقَهَا لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ إِلَّا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى

احمد بن محمد بن مہدی الہروی سے مروی حدیث: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ دوپہر کے وقت گھر سے باہر نکلے ان کے قدموں کی آہٹ سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگئے بھی باہر آگئے باہر نکلتے بھی ان کی ملاقات حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے ہوگئی، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا اے ابوبکر آپ اس وقت باہر کیوں نکلے ہیں ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم مجھ سے بھوک برداشت نہیں ہو رہی ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا اللہ کی قسم مجھے بھی کسی دوسری چیز نے باہر نہیں نکالا ۔ابھی یہ دونوں بات چیت کر ہی رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سے اس وقت باہر نکلنے کی وجہ پوچھی دونوں نے بتایا کہ ہمیں شدید بھوک لگی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم مجھے بھی کسی اور چیز نے باہر نہیں نکالا یہ تینوں لوگ حضرت ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر کی جانب چل دیئے حضرت ایوب رضی اللہ تعالی عنہ کی عادت تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا یا دودھ دیا کرتے تھے لیکن اس دن ان کو دیر ہو گئی اور ابھی تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ نہیں لائے تھے وہ اپنے گھر والوں کو کھانا وغیرہ کھلانا کر اپنے باغ میں کام کے لیے جا چکے تھے ، جب یہ تینوں لوگ حضرت ایوب انصاری کے دروازے پر پہنچے تو ان کی ذوجہ محترمہ باہر نکلیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے ساتھیوں کو مرحبا کہا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا ابو ایوب کہاں ہیں ؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کچھ ہی دیر میں وہ آپ کے پاس آ رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹے تو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اس وقت وہ اپنے کھجوروں کے باغ میں کام کر رہے تھے ۔ کام چھوڑ کر دوڑتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور آپ کے ساتھیوں کو خوش آمدید کہا اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ عموما اس وقت تشریف نہیں لایا کرتے ،یہ کہتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو باغ کی جانب لے گئے اور ایک کھجور کے درخت کو کاٹ دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا کیا حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری خواہش ہے کہ آپ اس میں رطب ، بسر، تمر اور تذ نوب کھجوریں کھائیں اور اس کے ساتھ ساتھ میں آپ کے لیے ایک بکری بھی ذبح کرنے لگا ہوں آپ نے فرمایا اگر بکری ذبح کرنا چاہتے ہو تو دودھ والی بکری ذبح نہ کرنا پھر حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے بکری کا ایک بچہ جو ایک سال سے چھوٹا تھا پکڑ کر ذبح کیا اور اپنی بیوی سے کہا تم روٹی پکاؤ اور سالن میں خود بتاتا ہوں کیونکہ تم روٹیاں زیادہ اچھی پکا لیتی ہو حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالی عنہ نے آدھے بکرے کا سالن پکایا اور آدھے کو بھون لیا ، جب کھانا تیار ہوگیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے سامنے پیش کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ایک بوٹی لے کر روٹی پر رکھی اور فرمایا اے ابو ایوب کے فاطمہ تک پہنچا آؤ کیونکہ کئی دنوں سے اس نے ایسا کھانا نہیں کھایا یا جب سب لوگوں نے سیر ہو کر کھانا کھا لیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہاں روٹی گوشت بسر تمر اور رطب کھجوریں یہ کہتے ہوئے آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے آئے پھر فرمایا یا یہ وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن تم سے پوچھا جائے گا یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ پر بہت گراں گزری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں ایسا کھانا میسر آئے اور تم کھانے لگو تو کہو بسم اللہ ہی وبرکاتہ اللہ جب سیر ہو جاؤں تو کہاں ہو ۔ یہ تمھارے لیے کافی ہوگا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کوئی نیکی کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کو اس کا بدلہ دیا جائے آپ نے فرمایا اے ابو ایوب آپ کل ہمارے پاس آؤ یہ بات ابو ایوب کو نہ سنی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ تم کل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آؤ جب اگلے دن حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لونڈی عطا کی اور فرمایا اے ابو ایوب اس کا بہت خیال رکھنا یہ جب سے ہمارے پاس ہے ہم نے اس میں بھلائی ہی بھلائی دیکھی ہے جب حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالی عنہ اس کو لے کر گھر آئے تو کہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق مجھے اس سے بہتر کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا کہ میں اس کو آزاد کر دو چنانچہ انہوں نے اس کو آزاد کر دیا اس حدیث کو عبداللہ بن کیسان نے فضل بن موسی کے سوا کسی سے روایت نہیں کیا ۔

يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ ← بِذَلِكَ عُمَرُ، فَخَرَجَ فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ، ← خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْهَرَوِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 185

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 186

186 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ مِهْرَانَ الْبَصْرِيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ فَهْدٍ، حَدَّثَنَا مُورَقُ بْنُ سُخَيْتٍ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «النَّدَمُ تَوْبَةٌ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي هِلَالٍ إِلَّا مُورَقُ بْنُ سُخَيْتٍ , وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ إِلَّا أَبُو هِلَالٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمٍ وَصَالِحٌ الْمُرِّيُّ

احمد بن محمد بن العباس بن مہران البصری ابو عبداللہ سے مروی حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ندامت توبہ ہے اس حدیث کو ابو ہلال سے مرکب نسخۃ من سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور اس کو محمد بن سیرین سے ابو ہلال بن محمد سلیم اور صالح المری کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَبُو هِلَالٍ؛ ← مُورَقُ بْنُ سُخَيْتٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ فَهْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ مِهْرَانَ الْبَصْرِيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 186

chevron_left Previous
1…747576…100
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter