Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 43

43 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حِبَّانَ الرَّقِّيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ الْمِصْرِيُّ بِمِصْرَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ قَائِدُ الْأَعْمَشِ , عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ , أَيُصَلِّي رَبُّكَ جَلَّ ذَكَرُهُ وَتَعَالَى جَدُّهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: مَا صَلَاتُهُ؟ قَالَ: «سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ , سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي , سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ إِلَّا أَبُو مُسْلِمٍ تَفَرَّدَ بِهِ الْجُعْفِيُّ

ابو العباس احمد بن یحیٰی بن خالد بن حبان رقی مصری سے مروی حدیث : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے کہا : کہ جبرائیل ! کیا اللہ تبارک وتعالی بھی درود پڑھتے ہیں؟ جبرائیل نے کہا : جی ہاں ۔ میں نے پوچھا ان کا درو د کیا ہے ؟ جبرائیل نے کہا : سبوح قدوس، میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے ، میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے ۔ اس حدیث کو ’’اعمش‘‘ سے صرف ’’ابو مسلم ‘‘ نے روایت کیا ہے اور اس سے روایت کرنے میں ’’جعفی‘‘ منفرد ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُسْلِمٍ، قَائِدُ الْأَعْمَشِ، ← عَمِّي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حِبَّانَ الرَّقِّيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ الْمِصْرِيُّ بِمِصْرَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 43

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 44

44 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمْدُونَ الْمَوْصِلِيُّ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْأَسَدِيُّ الْمَوْصِلِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ , فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سِمَاكٍ إِلَّا إِسْرَائِيلُ , وَلَا عَنْ إِسْرَائِيلَ إِلَّا الْقَاسِمُ الْجَرْمِيُّ تَفَرَّدَ بِهِ صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ

احمد بن حمدون الموصلی سے مروی حدیث : حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو تم جب تک مجھے نہ دیکھ لو، تب تک نماز کے لیے کھڑے نہ ہوا کرو ۔ اس حدیث کو ’’سمائک ‘‘ سے صرف ’’اسرائیل ‘‘ نے روایت کیا ہے اور ’’اسرائیل ‘‘سے صرف ’’القاسم الجرمی ‘‘نے روایت کیا ہے اور اس سے روایت کرنے میں میں ’’صالح بن عبد الصمد ‘‘منفرد ہیں۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← الْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، ← صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْأَسَدِيُّ الْمَوْصِلِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ حَمْدُونٍ الْمَوْصِلِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 44

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 45

45 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْحَمْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ الرُّوَاسِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ , وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ , وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ إِلَّا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , وَلَا رَوَاهُ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا زُهَيْرٌ وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ

احمد بن زکریا الحمراوی سے مروی حدیث : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں زندگی کو مزیدار کیسے بنا لو ں؟جب کہ اسرافیل علیہ السلام صورمنہ میں لئے ہوئے ہیں (یعنی قیامت قائم کرنے کے لیے صور پھونکنے کے لیے تیار ہیں) آپ نے اپنا سر جھکا لیا اور انتظار کرنے لگے کہ انہیں اس بارے میں کیا حکم دیا جاتا ہے ۔صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟آپ ﷺ نے فرمایا یوں کہا کرو: ’’حسبناللہ ونعم الوکیل ‘‘ ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہی بہترین کارسا ز ہے (ہمیں کسی بت اور غیر اللہ کی عبادت کی ضرورت ہی نہیں ہے اور نہ ہمیں ان بتوں اور شیطانوں کی مدد درکار ہے) ۔یہ حدیث حدیث ’’عمار دہنی ‘‘ سے صرف ’’صفیان بن عینیہ ‘‘ نے روایت کی ہے اور ’’سفیان ‘‘سے صرف ’’زبیر ‘‘ اور ’’روح بن عبادہ ‘‘نے روایت کی ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← عَمَّارِ الدُّهْنِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ الرُّوَاسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْحَمْرَاوِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 45

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 46

46 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زِيَادٍ الْحَذَّاءُ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا فِي الدُّنْيَا , فَعُوقِبَ بِهِ , فَاللَّهُ جَلَّ ذِكْرُهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّي عُقُوبَتَهُ عَلَى عَبْدِهِ فِي الْآخِرَةِ , وَمَنْ أَصَابَ ذَنْبًا فِي الدُّنْيَا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ , فَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَجْوَدُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ وَسَتَرَهُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ إِلَّا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ

احمد بن زیاد الحذاء الرقی سے مروی حدیث : حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا اور اس کو دنیا ہی میں سزا دے دی گئی ، اللہ تعالی کی شان عدل سے یہ امید ہے کہ آپ نے جس بندے کو ایک گناہ کی سزا دنیا میں دے چکا ہے آخرت میں دوبارہ اس گناہ کی سزا نہیں دے گا اور جس سے گناہ سرزد ہوگیا ہو اور اللہ تعالی نے دنیا میں اس کی پردہ پوشی فرمائی ، اور معا ف کر دیا ، گناہوں کی سزا دنیا میں نہ دی، اللہ تعالی کی شان کریمی سے یہ امید ہے کہ جس گناہ کو دنیا میں معاف کر چکا ہے ، اس کا یہ کیس دوبارہ آخرت میں نہیں کھولے گا۔ اس حدیث کو ’’یونس بن ابی اسحاق ‘‘ سے صرف ’’حجاج بن محمد ‘‘ نے روایت کیا ہے۔

عَلِيٍّ، ← أَبِي جُحَيْفَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ، ← أَحْمَدُ بْنُ زِيَادٍ الْحَذَّاءُ الرَّقِّيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 46

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 47

47 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُمَحِيُّ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحُنَيْنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى» غَرِيبٌ لَمْ يَرْوِ هَذِهِ اللَّفْظَةَ «وَالنَّهَارَ» عَنِ الْعُمَرِيِّ إِلَّا الْحُنَيْنِيُّ

احمد بن محمد الجمحی المصیصی مروی حدیث : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رات اور دن کے نوافل دو دو کر کے پڑھے جائیں ۔ یہ حدیث غریب ہے ، ’’والنہار ‘‘کے الفاظ کے ہمراہ ’’عمری ‘‘ سے صرف ’’ حتینی ‘‘ نے روایت کیا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عبد الله بن عمر العمري ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحُنَيْنِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُمَحِيُّ الْمِصِّيصِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 47

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 48

48 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السَّكُونِيُّ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيُمْنَى , وَإِذَا خَلَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالْيُسْرَى» ، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ

احمد بن اسماعیل السکونی الحمصی سے مروی حدیث : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جوتا پہننے لگو تو پہلے دائیں پاؤں میں پہنواور اتارنے لگے تو پہلے بایاں پاؤں اتارو ۔ اس حدیث کو ’’ابن شوذب ‘‘سے صرف ’’محمد بن کثیر ‘‘ نے روایت کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، كُلُّهُمْ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السَّكُونِيُّ الْحِمْصِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 48

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 49

49 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ وَاضِحٍ الْعَسَّالُ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ سَالِمٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ أَبِي الْعَنْبَسِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «كُنْتُ أَحُتُّ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُصَلِّي فِيهِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مِسْعَرٍ إِلَّا حَفْصُ بْنُ سَالِمٍ تَفَرَّدَ بِهِ حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الْعَنْبَسِ الَّذِي رَوَى عَنْهُ مِسْعَرٌ هَذَا الْحَدِيثَ أَبُو الْعَنْبَسِ سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُبَيْدٍ , وَقَدْ رَوَى مِسْعَرٌ أَيْضًا عَنْ أَبِي الْعَنْبَسِ الْكَبِيرِ وَاسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَرْوَانَ

احمد بن اسحاق بن واضح اعسال المصری سے مروی حدیث: ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ میں رسول اکرم ﷺ کے کپڑوں سے منی کھرچ دیا کر تی تھی، آپ انہی کپڑوں میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ ( اگر منی اتنی گاڑھی ہو کہ کپڑے میں جذب نہ ہو بلکہ کپڑے کے اوپر ہی تہہ جم جائے تو اس کو کھرچ دینے سے کپڑا پاک ہو جاتا ہے، ہمارے زمانے میں خوراک میں ملاوٹ کے باعث صحت اتنی مضبوط نہیں ہوتی کہ منی اس قدر گاڑھی ہو کہ کپڑے میں جزب نہ ہو۔ اس لئے ہمارے لئے یہی حکم ہے کہ کپڑے کو دھویا جائے) ۔ اس حدیث کو ’’مسعر‘‘ سے صرف ’’ حفص بن سالم‘‘ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’حامد بن یحیٰی ‘‘ منفرد ہیں۔ اور اس حدیث کی سند میں جو ’’ابو العنبس‘‘ ہیں جنہوں نے یہ حدیث ’’ مسعر‘‘ سے روایت کی ہے، یہ ’’ ابو العنبس، سعید بن کثیر بن عبید‘‘ ہیں۔ مسعر نے بھی ’’ ابو العنبس کبیر‘‘ سے روایت کی ہے لیکن یہ دوسرے’’ ابو العنبس ‘‘ ہیں، ان کا نام ’’ عبداللہ بن مروان‘‘ ہے۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَبِي الَعَنَبَسِ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← حفص بن سالم ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ← أحمد بن إسحاق بن واضح العسال المصري

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 49

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 50

50 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِيلٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ مَاهَانَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا سَبَقَ إِلَّا فِي خُفٍّ , أَوْ حَافِرٍ , أَوْ نَصْلٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو إِلَّا مُصْعَبُ بْنُ مَاهَانَ وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ مَشْهُورٌ

احمد بن ابراہیم بن فیل الا نطا کی سے مروی حدیث : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مقابلہ بازی صرف اونٹ ، گھوڑے اور تیز اندازی میں ہے ۔اس حدیث کو ’’سفیان ‘‘کے واسطے سے ’’محمد بن عمرو ‘‘سے صرف ’’مسعب بن ماہان ‘‘نے روایت کیا ہے ۔اور ’’ابن ابی ذئب ‘‘مشہور محدث ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُصْعَبُ بْنُ مَاهَانَ ← أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِيلٍ الْأَنْطَاكِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 50

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 51

51 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رَاشِدٍ الدِّمَشْقِيُّ الْمُقْرِي، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: «أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ , وَلَا أَذُنٌ سَمِعَتْ , وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قَتَادَةَ إِلَّا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ تَفَرَّدَ بِهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

احمد المعلی الدمشقی القاضی سے مروی حدیث : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی فرماتا ہے : میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں۔جن کو کسی آنکھ نے نہ دیکھا ہے اور نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا کبھی خیال گزرا ہے ۔ اس حدیث کو ’’قتادہ ‘‘سے صرف ’’ابن ابی عروبہ ‘‘نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’صدقہ بن عبداللہ ‘‘منفرد ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رَاشِدٍ الدِّمَشْقِيُّ الْمُقْرِي، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ الْقَاضِي

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 51

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 52

52 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ الْعَابِدِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَاللَّهِ إِنَّكَ لَأَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي , وَإِنَّكَ لَأَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي , وَأَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ وَلَدِي , وَإِنِّي لَأَكُونُ فِي الْبَيْتِ فَأَذْكُرُكَ فَمَا أَصْبِرُ حَتَّى آتِيَكَ فَأَنْظُرَ إِلَيْكَ , وَإِذَا ذَكَرْتُ مَوْتِي وَمَوْتَكَ عَرَفْتُ أَنَّكَ إِذَا دَخَلْتَ الْجَنَّةَ رُفِعَتْ مَعَ النَّبِيِّينَ , وَإِنِّي إِذَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ خَشِيتُ أَنْ لَا أَرَاكَ , فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا حَتَّى نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِهَذِهِ الْآيَةِ: {وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ} [النساء: 69] " الْآيَةَ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ إِلَّا فُضَيْلٌ تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ

احمد بن عمرو الخلال المکی ابو عبداللہ سے مروی حدیث : ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں : ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ کی قسم !مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ آپ سے محبت ہے ، اور مجھے اپنے اہل اور مال سے بھی زیادہ آپ سے محبت ہے اور مجھے اپنی اولاد سے بھی بڑھ کر آپ سے محبت ہے ، میں گھر میں ہوتا ہوں جب آپ کی یاد آتی ہے تو بے قراری اتنی بڑھتی ہے کہ جب تک آپ کا میں آ کر دیدار نہ کر لو ں ، تب تک مجھے چین نہیں آتا ۔ کبھی کبھی مجھے یہ خیال آتا ہے کہ میں بھی مر جاؤں گا اور آپ بھی انتقال فرما جائیں گے ، آپ تو جنت میں انبیاء کرام علیہ السلام کے ہمراہ ہوں گے ، اگر جنت میں مجھے آپ کا دیدار نہ ہو تو میرا کیا بنے گا ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے ہوئے ۔(ترجمہ ) ’’ اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں‘‘ ( ترجمہ: کنز ال یمان، امام احمد رضا) اس حدیث کو ’’منصور ‘‘ کے واسطے سے پھر ’’اسود ‘‘ کے واسطے سے ’’ام المومنین ‘‘ سے صرف ’’فضیل ‘‘ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’عبداللہ بن عمر ان ‘‘منفرد ہیں۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ الْعَابِدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 52

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 53

53 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ هَارُونَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا أَجَلُكُمْ فِيمَا خَلَا قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغْرِبِ الشَّمْسِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَالِكٍ إِلَّا مَعْنٌ تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ

احمد بن یز ید بن ہارون المکی سے مروی حدیث : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سابقہ امتوں کے تناظر میں تمہارا وقت اتنا ہی ہے جتنا عصر اور مغرب کی نماز کے درمیان وقت ہوتا ہے۔ اس حدیث کو ’’مالک ‘‘ سے صرف ’’معن‘‘ نے روایت کیا ہے ۔ اور ان سے روایت کرنے میں ’’ابراہیم بن المنذر ‘‘منفرد ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← مالک بن أنس ← مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ هَارُونَ الْمَكِّيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 53

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 54

54 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو سُلَيْمَانَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي: «إِنْ أَبَى فَرُدَّهُ , فَإِنْ أَبَى فَقَاتِلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ صَفْوَانَ إِلَّا عَبْدُ الْعَزِيزِ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ حَمْزَةَ

احمد بن محمد ابو سلیمان المکی سے مروی حدیث : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازی کے آگے سے گزرنے والے کے بارے میں ارشاد فرمایا : اگر وہ نہ رکے تو اس کو زبردستی روکو ، پھر بھی نہ روکے تو اسے جھگڑپڑو، وہ شیطان ہے۔ اس حدیث کو ’’صفوان ‘‘ سے صرف ’’عبدالعزیز ‘‘نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’ابن حمزہ ‘‘ منفرد ہیں۔

فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو سُلَيْمَانَ الْمَكِّيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 54

chevron_left Previous
1…636465…100
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter