Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 964

964 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْوَرْدِيُّ بِمِصْرَ , حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ الرُّوَاسِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَبْلُغُ عَبْدٌ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يَخْزُنَ مِنْ لِسَانِهِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ إِلَّا دَاوُدُ بْنُ هِلَالٍ تَفَرَّدَ بِهِ زُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ

محمد بن حارث بن عبدالحمید الوردی المصری سے مروی حدیث ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی بندہ ایمان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ اپنی زبان کو روک کر نہیں رکھے گا۔ اس حدیث کو ہشام بن حسان سے صرف دادؤ بن بلال نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں زھیر بن عباد منفرد ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِلَالِ بْنِ حَسَّانَ، ← دَاوُدُ بْنُ هِلَالٍ، ← زُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ الرُّوَاسِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْوَرْدِيُّ بِمِصْرَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 964

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 965

965 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَسَّانَ الْفَرَائِضِيُّ أَبُو غَسَّانَ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَلْبَسَهُ اللَّهُ نِعْمَةً فَلْيُكْثِرْ مِنَ الْحَمْدِ لِلَّهِ , وَمَنْ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ فَلْيَسْتَغْفِرِ اللَّهَ , وَمَنْ أَبْطَأَ رِزْقُهُ فَلْيُكْثِرْ مِنْ قَوْلِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ , وَمَنْ نَزَلَ مَعَ قَوْمٍ فَلَا يَصُومَنَّ إِلَّا بِإِذْنِهِمْ , وَمَنْ دَخَلَ دَارَ قَوْمٍ فَلْيَجْلِسْ حَيْثُ أَمَرُوهُ , فَإِنَّ الْقَوْمَ أَعْلَمُ بِعَوْرَةِ دَارِهِمْ " لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ إِلَّا يُونُسُ بْنُ تَمِيمٍ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ

محمد بن ابی غسان الفرئضی ابو غسان المصری سے مروی حدیث ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نعمت پہنائے اس کو چاہیے کہ اللہ کا کثر ت سے شکر ادا کرے۔ جس کے گناہ زیادہ ہو جائیں وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے ۔ جس کے رزق میں تنگی آجائے وہ کثرت سے لاحؤل والا قوۃ الا باللہ پڑھے ۔ جو شخص کسی کے پاس مہمان ٹھہرے تو ان کی اجازت کے بغیر روزہ نہ رکھے ۔ جو شخص کسی قوم کے پاس جائے وہ اس کو جہاں پر بٹھائے وہاں پر بیٹھ جائے کیونکہ لوگ اپنے گھرکی پردہ داری دے مقامات کو زیادہ جاننے والے ہوتے ہیں ۔ اس ھدیث کو اوزاعی سے یونس بن تمیم مصری نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں محمد بن عمر و بن سلمہ منفرد ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← يُونُسُ بْنُ تَمِيمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَسَّانَ الْفَرَائِضِيُّ أَبُو غَسَّانَ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 965

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 966

966 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ أَبِي الْجَرَّاحِ الْمُقْرِئُ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِقَامَةُ حَدٍّ بِأَرْضٍ خَيْرٌ لِأَهْلِهَا مِنْ مَطَرٍ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ إِلَّا ابْنُ عُلَيَّةَ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ

محمد بن عبدالصمد ابن ابی الجراح المقری المصیصی سے مروی حدیث ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی علاقے میں حد قائم کر دینا وہاں کے رہنے والوں کے لیے چالیس دن کی برسات سے بہتر ہیں ۔ اس حدیث کو یونس بن عبید سے صرف ابن علیہ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں محمد بن قدامہ منفرد ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← جَرِير بْنِ يَزِيد، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ الْجَوْهَرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ أَبِي الْجَرَّاحِ الْمُقْرِئُ الْمِصِّيصِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 966

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 967

967 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقَزْوِينِيُّ، بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمِهْرِقَانِيُّ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْقَرَنِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ هُنَيْهَةً , فَخَرَجَ عَلَيْنَا , فَقَالَ: «مَا تَنْتَظِرُونَ؟» قَالُوا: الصَّلَاةَ , قَالَ: «أَمَا إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِيهَا مَا انْتَظَرْتُمُوهَا» , ثُمَّ رَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ , فَقَالَ: «النُّجُومُ أَمَانٌ لِأَهْلِ السَّمَاءِ , فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى أَهْلَ السَّمَاءِ مَا يُوعَدُونَ , وَأَنَا أَمَانٌ لِأَصْحَابِي , فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ , وَأَصْحَابِي أَمَانٌ لِأُمَّتِي , فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ , أَقِمْ يَا بِلَالُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ سُوقَةَ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، تَفَرَّدَ بِهِ رَبِيعَةُ

محمد بن علی بن عبداللہ القزوینی سے مروی حدیث ، حضرت محمد بن منکدر رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ، ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز کے لیے آنے میں کچھ دیر فرما دی ، پھر آپ تشریف لائے آپ نے فرمایا تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو ؟ صحابہ کرا م رضی اللہ عنہم نے عرض کیا نماز کا آپ نے فرمایا تم جب سے نماز کا انتظار کر رہے ہو تب سے نماز میں ہو، پھر آپ نے فرمایا اپنی نگائیں آسمان کی جانب اٹھائیں اور فرمایا ستارے آسمان والوں کے لیے امن کی نشانی ہیں جب ستارے ختم ہو جائیں گے تو آسمان والوں پر وہ چیز آجائے گی جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور میں اپنے صحابہ میری امت کے لیے امان کی نشانی ہیں جب میرے صحابہ چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ چیز آجائے گی جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اے بلال نماز کے لیے اقامت کہو ۔ اس حدیث کو ابن سوقہ سے صرف عبداللہ بن عمرو بن مرہ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں قاسم بن حکم منفرد ہیں۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْقَرَنِيُّ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمِهْرِقَانِيُّ الرَّازِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقَزْوِينِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 967

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 968

968 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرْمُطِيُّ مِنْ وَلَدِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ نَضْلَةَ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ , حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَاتَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتَهَا , فَقَامَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ , فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِهِ: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ ثَلَاثًا , نُصِرْتَ نُصِرْتَ، ثَلَاثًا» , فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , سَمِعْتُكَ تَقُولُ فِي [ص:168] مُتَوَضَّئِكَ: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ ثَلَاثًا , نُصِرْتَ نُصِرْتَ، ثَلَاثًا» , كَأَنَّكَ تُكَلِّمُ إِنْسَانًا , فَهَلْ كَانَ مَعَكَ أَحَدٌ؟ فَقَالَ: «هَذَا رَاجِزُ بَنِي كَعْبٍ يَسْتَصْرِخُنِي , وَيَزْعُمُ أَنَّ قُرَيْشًا أَعَانَتْ عَلَيْهِمْ بَنِي بَكْرٍ» , ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَأَمَرَ عَائِشَةَ أَنْ تُجَهِّزَهُ , وَلَا تُعْلِمْ أَحَدًا، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ , فَقَالَ: يَا بُنَيَّةُ , مَا هَذَا الْجِهَازُ؟ فَقَالَتْ: وَاللَّهِ , مَا أَدْرِي , فَقَالَ: وَاللَّهِ , مَا هَذَا زَمَانُ غَزْوِ بَنِي الْأَصْفَرِ , فَأَيْنَ يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: وَاللَّهِ , لَا عِلْمَ لِي قَالَتْ: فَأَقَمْنَا ثَلَاثًا , ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ بِالنَّاسِ , فَسَمِعْتُ الرَّاجِزَ يُنْشِدُهُ: [البحر الرجز] يَا رَبِّ إِنِّي نَاشِدٌ مُحَمَّدَا ... حِلْفَ أَبِينَا وَأَبِيهِ الْأَتْلَدَا إِنَّا وَلَدْنَاكَ وَكُنْتَ وَلَدَا ... ثَمَّةَ أَسْلَمْنَا , وَلَمْ نَنْزَعْ يَدَا إِنَّ قُرَيْشًا أَخْلَفُوكَ الْمَوْعِدَا ... وَنَقَضُوا مِيثَاقَكَ الْمُؤَكَّدَا وَزَعَمُوا أَنْ لَسْتَ تَدْعُو أَحَدَا ... فَانْصُرْ هَدَاكَ اللَّهُ نَصْرًا أَيَّدَا وَادْعُ عِبَادَ اللَّهِ يَأْتُوا مَدَدَا ... فِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ قَدْ تَجَرَّدَا إِنْ سِيمَ خَسْفًا وَجْهُهُ تَرَبَّدَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ ثَلَاثًا , نُصِرْتَ نُصِرْتَ، ثَلَاثًا» , ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ نَظَرَ إِلَى سَحَابٍ مُنْتَصَبٍ , فَقَالَ: «إِنَّ السَّحَابَ هَذَا لَيَنْتَصِبُ بِنَصْرِ بَنِي كَعْبٍ» , فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ عَمْرٍو أَخُو بَنِي كَعْبِ بْنِ عَمْرٍو , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَنَصْرُ بَنِي عَدِيٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «تَرِبَ نَحْرُكَ , وَهَلْ عَدِيُّ إِلَّا كَعْبٌ , وَكَعْبٌ إِلَّا عَدِيُّ» , فَاسْتُشْهِدَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فِي ذَلِكَ السَّفَرِ , ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ , [ص:169] اعْمِ عَلَيْهِمْ خَبَرَنَا حَتَّى نَأْخُذَهُمْ بَغْتَةً» , ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى نَزَلَ بِمَرْوَ , وَكَانَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ , وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ , وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ خَرَجُوا تِلْكَ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَشْرَفُوا عَلَى مَرْوَ , فَنَظَرَ أَبُو سُفْيَانَ إِلَى النِّيرَانِ , فَقَالَ: يَا بُدَيْلُ , هَذِهِ نَارُ بَنِي كَعْبٍ أَهْلِكَ , فَقَالَ: جَاشَتْهَا إِلَيْكَ الْحَرْبُ , فَأَخَذَتْهُمْ مُزَيْنَةُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ , وَكَانَتْ عَلَيْهِمُ الْحِرَاسَةُ , فَسَأَلُوا أَنْ يَذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ , فَذَهَبُوا بِهِمْ , فَسَأَلَهُ أَبُو سُفْيَانَ أَنْ يَسْتَأْمِنَ لَهُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَخَرَجَ بِهِمْ حَتَّى دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَسَأَلَهُ أَنْ يُؤَمِّنَ لَهُ مَنْ آمَنَ , فَقَالَ: «قَدْ أَمَّنْتُ مَنْ أَمَّنْتَ مَا خَلَا أَبَا سُفْيَانَ» , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَا تَحْجُرْ عَلَيَّ , فَقَالَ: «مَنْ أَمَّنْتَ فَهُوَ آمِنٌ» , فَذَهَبَ بِهِمُ الْعَبَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ خَرَجَ بِهِمْ , فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَذْهَبَ , فَقَالَ: «أَسْفِرُوا» , وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ , وَابْتَدَرَ الْمُسْلِمُونَ وَضُوءَهُ يَنْتَضِحُونَهُ فِي وُجُوهِهِمْ , فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَا أَبَا الْفَضْلِ , لَقَدْ أَصْبَحَ مُلْكُ ابْنِ أَخِيكَ عَظِيمًا , فَقَالَ: لَيْسَ بِمُلْكٍ , وَلَكِنَّهَا النُّبُوَّةُ , وَفِي ذَلِكَ يَرْغَبُونَ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ جَعْفَرٍ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ نَضْلَةَ تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ , وَلَا يُرْوَى عَنْ مَيْمُونَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ

محمد بن عبداللہ القرمطی سے مروی حدیث ، ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی باری کی رات ان کے پاس گزاری آپ رات کے وقت اٹھے نماز کے لیے وضو فرمایا میں نے آپ کو سنا کہ آپ وضو کے دوران تین مرتبہ لبیک لبیک کہا اور تین مرتبہ نصرت نصرت کہا جب آپ وضو کر کے واپس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے آپ کو وضؤ کے درمیان تین مرتبہ لبیک کہتے ہوئے سنا اور تین مرتبہ "نصرت" کہتے ہوئے سنا یوں لگ رہا تھا جیسے آپ کسی کے ساتھ گفتگو فرما رہے ہیں کیا واقعی آپ کے پاس کوئی شخص موجود تھا ؟ آپ نے فرمایا یہ بنی کعب کا رجز پڑھنے والا تھا مجھے چیخ چیخ سنا رہا تھا اور وہ یہ گمان کر رہا تھا کہ قریش نے ان کے خلاف بی بکر کی مدد کر دی ہے ۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ ان کی تیاری کروا دیں لیکن کسی کو بتانا نہیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور پوچھا اے بیٹی کس چیز کی تیاری کر رہی ہو ؟ انہوں نے کہا مجھے معلوم نہیں ہے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم یہ بنی اصغر کے ساتھ جنگ کرنے کا وقت تو نہیں ہے تو اللہ کے رسول کہاں کا ارادہ فرما رہے ہیں ؟ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم مجھے کوئی علم نہیں ہے آپ فرماتی ہیں ہم تین دن وہاں ٹھہرے پھر ایک دن آپ نے فجر کی نماز پڑھائی پھر میں نے ایک شعر پڑھنے والے کو پڑھتے ہوئے سنا۔ اے رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اور اپنے باپ کے درمیان ہونے والے عہد کو یاددلاتا ہوں جو ہمیں وراثت میں ملا ہے ۔ ہم نے تجھے پیدا کیا اور تو پیدا ہوا پھر ہم اسلام لائے اور ہم نے اپنا ہاتھ پیچھے نہیں کھینچا ۔ قریش نے آپ کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور آپ کے ساتھ کیے ہوئے پکے وعدوں کو توڑا ہے ۔ اور وہ گمان کرتے ہیں کہ تو کسی کو نہیں بلائے گا تو مدد کر اللہ تعالیٰ تیری مضبوط مد د کرے ۔ اور تم اللہ کے بندوں کو بلاؤ سب اس علاقے میں مدد کو آئیں گے جس میں اللہ کا رسول تنہا موجود ہے ۔ اگر آپ کو پریشان کیا گیا تو عہد توڑ کر آپ کو پریشان کرنے والے کے چہرے کا رنگ بدل جائےگا۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ لبیک لبیک کہا پھر تین مرتبہ " نصرت ، نصرت " کہا پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوگئے ۔ جب آپ مقام روحاء میں پہنچے تو بادل چھایا ہوا تھا آپ نے فرمایا یہ بادل بنی کعب کی مدد کےلیے چھایا ہے بنی عدی بن عمرو میں سے ایک آدمی اٹھ کر کھڑا ہوا جو کہ بنی کعب بن عمرو کا بھائی تھا ۔ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی عدی کی مدد کا کیا بنے گا ؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تیر ا سینہ خاک آلود ہو اور عدی ، کعب ہے اور کعب عدی ہے وہ آدی اسی سفر میں شہید ہو گیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی اے اللہ ہماری خبر ان پر پوشیہ رکھنا حتیٰ کہ ہم ان پر اچانک حملہ کریں آپ پھر روانہ ہوئے اور مقام مرو میں قیام کیا اسی رات ابو سفیان بن حرب حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقہ بھی گھر سے نکلے اور وہ بھی مقام مرد میں پہنچ چکے تھے ابو سفیان نے جلتی ہوئی آگ کی جانب دیکھا اور کہنے لگا اے بدیل یہ آگ بنی کعب میں جل رہی ہے بدیل نے کہا ان کے ذمے چوکیداری تھی تیری جانب کوئی لشکر آرہا تھا لیکن مزینہ کے لوگوں نے ان کو راستے میں روک لیا ہے ۔ جن لوگوں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبدالمطلب تک پہنچا دیا جائے مزینہ کے لوگوں نے ان کو عباس بن عبدالملک تک پہنچا دیا ابو سفیان نے عباس بن عبدالمطلب سے گزارش کی کہ وہ ان کے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے امان مانگیں عباس بن عبدالمطلب کے ہمراہ روانہ ہوئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے اور گزارش کی کہ ان میں سے جو شخص امان چاہتا ہے آپ اس کو امان عطا فرما دیجئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کو آپ نے امان دی اس کو میں نے امان دے دی ۔ سوائے ابو سفیان کے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات میرے اوپر مت چھوڑیں آپ نے فرمایا جس کو آپ امان دے دیں وہ امن والا ہے چنانچہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ ان کو لے کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آگئے پھر حضرت عباس رضی اللہ عنہ ان کو ساتھ لے کر چل دیے ابو سفیان نے کہا ہم ابھی جانا چاہتے ہیں انہوں نے کہا صبح ہونے دو رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم ان کوساتھ لے کر چل دیے ابو سفیان نے کہا ہم ابھی جانا چاہتے ہیں انہوں نے کہا صبح ہونے دو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کے لیے اٹھے تو مسلمان بھاگ کر آئے آپ کے وضو کے استعمال شدہ پانی اپنے چہروں پر ملنے لگے ابو سفیان نے کہا اے ابو فضل تیرے بھتیجے کی مملکت تو بہت عظیم ہو چکی ہے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا یہ مملکت نہیں ہے بلکہ یہ نبوت ہے اور اسی سلسلے میں یہ لوگ دلچسپی رکھتے ہیں ۔ ا س حدیث کو جعفر بن محمد سے محمد بن نضلہ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں یحییٰ بن سلمان منفرد ہیں اور اس حدیث کو میمونہ سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ روایت کیا گیا ہے ۔

أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← عمِّي محمدُ بنُ نضلةَ، ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ الْخُزَاعِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرْمُطِيُّ مِنْ وَلَدِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ بِبَغْدَادَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 968

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 969

969 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَاسِرٍ الْحَذَّاءُ الدِّمَشْقِيُّ بِمَدِينَةِ حِسْلَ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ فِي الْجَنَّةِ، قَالَ: «لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا، لَحَدَّثْتُكُمْ بِمَوْعُودِ اللَّهِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ قَتَلَ هَؤُلَاءِ يَعْنِي الْخَوَارِجَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قَتَادَةَ إِلَّا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، وَهِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ

محمد بن یاسر الخداء الدمشقی سے مروی حدیث ، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم تکبر کرنے لگ جاؤ گے تو میں تمہیں بتا دیتا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبان پر ان خوارج کے قاتلوں کے لیے کون سے انعامات کا وعدہ کیا ہے ۔ اس حدیث کو قتادہ سے صرف سعید بن بشیر اور ہشام دستوائی نے روایت کیا ہے ۔

لَوْلَا ← عَلِيٍّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ فِي الْجَنَّةِ ← عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَاسِرٍ الْحَذَّاءُ الدِّمَشْقِيُّ بِمَدِينَةِ حِسْلَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 969

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 970

970 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَبِيبٍ الطَّرَائِفِيُّ الرَّقِّيُّ، بِالرَّقَّةِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْكَلْبِيُّ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ النَّصِيبِيُّ يَذْكُرُ أَنَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ صُهَيْبٍ، حَدَّثَهُ عَنْ حُبَابٌ، مَوْلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ عَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا إِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكِ أَخَذْنَا فِي أَحَادِيثِ الْجَاهِلِيَّةِ , فَقَالَ: " إِذَا جَلَسْتُمْ تِلْكَ الْمَجَالِسَ الَّتِي تَخَافُونَ فِيهَا عَلَى أَنْفُسِكِمْ فَقُولُوا عِنْدَ مَقَامِكُمْ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ , نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ , نَسْتَغْفِرُكَ وَنَتُوبُ إِلَيْكَ , وَيُكَفَّرُ عَنْكُمْ مَا أَصَبْتُمْ فِيهَا " لَا يُرْوَى عَنِ الزُّبَيْرِ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ. تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الطَّرَائِفِيُّ

محمد بن علی بن حبیب الطرائفی الرقی سے مروی حدیث ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہم آپ کے پاس سے نکلتے ہیں تو زمانہ جاہلیت کی باتوں میں مشغول ہو جاتے ہیں آپ نے فرمایا جب تم ایسی مجلسوں میں بیٹھوں کر تمہیں اپنی ذات کے بارے میں خوف ہونے لگے تو جب اس مجلس سے اٹھو تو یہ دعا پڑھ لیا کرو ۔ " اے اللہ تیری ذات پاک ہے اور ساری تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ہم تجھ سے مغفرت مانگتے ہیں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں ۔ " یہ دعا تمہارے اس مجلس کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گی ۔ اس حدیث کو زبیر سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ روایت کیا گیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں محمد بن علی طرائفی منفرد ہیں ۔

الزُّبَيْرِ ← حُبَابٌ، مَوْلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ← إِلَيَّ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ النَّصِيبِيُّ، يَذْكُرُ أَنَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ صُهَيْبٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْكَلْبِيُّ الْحَرَّانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَبِيبٍ الطَّرَائِفِيُّ الرَّقِّيُّ، بِالرَّقَّةِ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 970

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 971

971 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ سُفْيَانَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ جُنَادٍ الْحَلَبِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُلْثُومٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «الْمُسْتَحَاضَةُ تَغْتَسِلُ مِنْ قُرْءِ إِلَى قُرْءٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ إِلَّا سَلَمَةُ بْنُ كُلْثُومٍ تَفَرَّدَ بِهِ بَقِيَّةُ

محمد بن جعفر بن سفیان الرقی سے مروی حدیث ، حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس عورت کے استخاضہ کا خون آتا ہو وہ ایک حیض کے زمانے سے دوسرے حیض کے زمانے تک غسل کرتی رہے ۔ اس حدیث کو اوزاعی سے صرف سلمہ بن کلثوم نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں بقیہ منفرد ہیں ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← سَلَمَةَ بْنِ كُلْثُومٍ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ سُفْيَانَ الرَّقِّيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 971

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 972

972 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ الْيَمَانِ بِمَدِينَةِ جَبَلَةَ , حَدَّثَنَا مُزْدَادُ بْنُ جَمِيلٍ، حَدَّثَنَا رَفْغِينُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ لِثَلَاثَةٍ: السَّحُورِ وَالثَّرِيدِ وَالْكَيْلِ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ إِلَّا أَرْطَاةُ , وَلَا عَنْهُ إِلَّا رَفْغِينُ، تَفَرَّدَ بِهِ مُزْدَادٌ

محمد بن مسلم بن الیمان سے مروی حدیث، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کے لیے برکت کی دعا کی ۔ 1۔ سحری کا کھانا ۔2۔ ثرید۔3۔ ناپنے کا آلہ۔ اس حدیث کو داؤد ابی بن ہند سے صرف ارطاۃ نے اور ان سے صرف رفغین نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں مزد اد منفرد ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← أَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ ← رَفْغِينُ بْنُ عِيسَى، ← مَزْدَادُ بْنُ جَمِيلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ الْيَمَانِ بِمَدِينَةِ جَبَلَةَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 972

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 973

973 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى بْنِ أَبِي حَنْظَلَةَ الصَّيْدَاوِيُّ، بِمَدِينَةِ صَيْدَاءَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَدَقَةَ الْجُبْلَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ الْجَصَّاصِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَقَذْفٌ فِي مُتَّخِذِي الْقِيَانِ وَشَارِبِي الْخَمْرِ وَلَابِسِي الْحَرِيرِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ زِيَادٍ الْجَصَّاصِ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ

محمد بن المعافی ابن ابی حنظلہ الصیداوی سے مروی حدیث ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس امت میں زمین میں دھنسے کا عذاب دیا جاے گا اور شکلیں بدلنے کا عذاب بھی آئے گا پتھر برسنے کا عذاب بھی آئے گا۔ 1۔ عورتوں کا ناچ گانا دیکھنے والے پر ۔2۔ شراب پینے والے پر ۔3۔ریشم کالباس پہننے والے پر ۔ اس حدیث کو زیاد حصاص سے صرف محمد بن خالد سے روایت کیا ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← زِيَادٍ الْجَصَّاصِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَدَقَةَ الْجُبْلَانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى بْنِ أَبِي حَنْظَلَةَ الصَّيْدَاوِيُّ، بِمَدِينَةِ صَيْدَاءَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 973

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 974

974 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَكْثَرَ ذِكْرَ اللَّهِ فَقَدْ بَرِئَ مِنَ النِّفَاقِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُهَيْلٍ إِلَّا حَمَّادٌ تَفَرَّدَ بِهِ مُؤَمَّلٌ

محمد بن سہل بن مہاجرالرقی سے مروی حدیث ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرتے ہیں وہ نفاق سے بری ہوجاتے ہیں ۔ اس حدیث کو سہیل سے صرف حماد نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں مومل منفرد ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← أَخِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الرَّقِّيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 974

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 975

975 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ، بِطَرَسُوسَ سَنَةَ 278 ثَمَانٍ وَسَبْعِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا أَبُو عِيسَى بْنُ مُوسَى الْغِنْجَارُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ السُّكَّرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُسَمُّوا الْعِنَبَ الْكَرْمَ؛ فَإِنَّمَا الْكَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ إِلَّا أَبُو حَمْزَةَ، وَاسْمُهُ: مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ تَفَرَّدَ بِهِ الْغِنْجَارُ , وَلَمْ يُسْنِدِ الْأَعْمَشُ عَنْ أَيُّوبَ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا

محمد بن ابراہیم الرازی سے مروی حدیث ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انگور کو :کرم : مت کہا کرو کیونکہ کرم تو ایک مسلمان آدمی کا نام ہے ۔ اس حدیث کو اعمش سے صرف ابو حمزہ سکری نے روایت کیا ہے ان کا نام محمد بن میمون ہے اور ان سے روایت کرنے میں غنجار منفرد ہیں اور اعمش نے محمود کے واسطے سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی حدیث مسند بیان نہیں کی ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي حَمْزَةَ السَّكُرِيِّ ← أَبُو عِيسَى بْنُ مُوسَى الْغِنْجَارُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ، بِطَرَسُوسَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 975

chevron_left Previous
1…404142…100
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter