Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 904

904 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَخْرَمُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبَ؛ فَإِنَّ مَثَلَ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا بِبَطْنِ وَادٍ , فَجَاءَ ذَا بِعُودٍ وَذَا بِعُودٍ حَتَّى جَمَعُوا مَا أَنْضَجُوا بِهِ خُبْزَهُمْ , وَإِنَّ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ مَتَى يُؤْخَذْ بِهَا صَاحِبُهَا تُهْلِكْهُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ إِلَّا أَنَسٌ تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ

محمد بن لعباس الاخرم سے مروی حدیث ، حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خود کو حقیر قسم کے گناہوں سے بچا کر رکھو کیونکہ حقیر قسم کے گناہوں کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جوکسی وادی کے اندر ٹھہرے ، ایک شخص کچھ لکڑیاں لے کر آیا دوسرا شخص کچھ لکڑیاں لے کر آیا حتیٰ کہ انہوں نے اتنی لکڑیاں جمع کر لیں جس کے ساتھ وہ اپنا کھانا وغیرہ پکا سکیں اور جب کوئی چھوٹے چھوٹے گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے تو یہ ان کے لیے باعث ہلاکت ہے ۔ اس حدیث کو ابو حازم سے صرف انس نے روایت کیا ہے اور ابو حازم کا اصل نام " سلمہ بن دینار " ہے اور ان سے روایت کرنے میں عبدالوہاب منفرد ہیں ۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبِي حَازِمٍ ← أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَکَمِ الْوَرَّاقُ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَخْرَمُ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 904

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 905

905 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتُ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُهَيْلٍ إِلَّا زُهَيْرٌ , وَلَا عَنْهُ إِلَّا إِسْمَاعِيلُ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ

محمد بن ابان الاصبہانی سے مروی حدیث ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا جب کھانا لگ جائے اور نماز کے لیے اقامت ہو جائے تو پہلے کھانا کھا لو ۔ اس حدیث کو سہیل سے صرف زہیر نے روایت کیا ہے اور زہیر سے صرف اسماعیل نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابان منفرد ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 905

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 906

906 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَشَّاءُ الْأَصْبَهَانِيُّ، بِمَدِينَتِهَا , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ جَهْوَرٍ الْأَهْوَازِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ وَهُوَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَزْنِي الزَّانِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ , وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ , وَلَا يَنْتَهِبُ الرَّجُلُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهَا أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ , وَلَا يَشْرَبُ الرَّجُلُ الْخَمْرَ وَهُوَ مُؤْمِنٌ» , فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , مَنْ زَنَا فَقَدْ كَفَرَ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُبْهِمَ أَحَادِيثَ الرُّخَصِ: لَا يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ أَنَّ ذَلِكَ الزِّنَا لَهُ حَلَالٌ , فَإِنْ آمَنَ أَنَّهُ لَهُ حَلَالٌ فَقَدْ كَفَرَ , وَلَا هُوَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ بِتِلْكَ السَّرِقَةِ أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ , فَإِنْ آمَنَ بِهَا أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ فَقَدْ كَفَرَ , وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ , فَإِنْ شَرِبَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ فَقَدْ كَفَرَ , وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ فَإِنِ انْتَهَبَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ أَنَّهَا لَهُ حَلَالُ فَقَدْ كَفَرَ، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ شُعْبَةَ إِلَّا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ الْكُوفِيُّ تَفَرَّدَ بِهِ الْحَسَنُ بْنُ جَهْوَرٍ , وَلَمْ نَكْتُبْهُ إِلَّا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْوَشَّاءِ

محمد بن ابراہیم الوشاء الا صبہانی سے مروی حدیث ، حضرت علقمہ بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کو کوفہ کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا ہے ۔ آپ کہہ رہے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے ۔ ایسا نہیں ہوتا کہ زنا کرنے والا جب زنا کر رہا ہو تو وہ مومن ہو اور ایسا نہیں ہوتا کہ چوری کرنے والا جب چوری کر رہا ہو تو وہ مومن نہیں ہوا اور ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی شخص لوگوں سے کوئی چیز چھین کر لے جائے لو گ اپنی نگائیں اٹھا کر اس کو دیکھ رہے ہو اور وہ مومن ہو اور ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی شخص شراب پی رہا ہو اور وہ مومن ہو ۔ ایک شخص اس خطبے کے دوران اٹھ کر کھڑا ہوا اور اس نے عرض کی اے امیر المومنین جس شخص نے زنا کیا کیا وہ کافر ہو گیا ؟ حضر ت علی نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ رخصت والی احادیث کو مبہم انداز میں بیان کریں تم نے اس کی تفصیل پوچھ لی ہے تو سنو ، اگرکوئی زانی زنا کرتے ہوئےیہ سمجھ رہا ہوتا ہےکہ وہ زنا اس کے لیے حلال ہے تو وہ شخص واقعی مومن نہیں رہتا اور کافر ہو جاتا ہے اور جو شخص چوری کو اپنے لیے حلال سمجھتا ہے تو وہ کافر ہو جاتا ہے اور جس شخص نے شراب کواپنے لیے حلال سمجھ کر پیا اس نے بھی کفر کیا اور جس نے کسی شریف آدمی کا مل اچک لیا لوگ اسکی طرف اپنی نگائیں اٹھا کر دیکھ رہے ہیں لیکن وہ شخص اس مال کے اچکنے کو چھیننے کو حلال سمجھ رہا ہے تو اس نے کفر کیا ۔ اس حدیث کو شعبہ سے اسماعیل بن یحییٰ التیمی الکوفی نے اور اسماعیل سے صرف حسن بن جہور نے روایت کیا ہے ۔ اور ان سے روایت کرنے میں محمد بن ابراہیم لو شاء منفرد ہیں ۔

عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ جَهْوَرٍ الْأَهْوَازِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَشَّاءُ الْأَصْبَهَانِيُّ، بِمَدِينَتِهَا

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 906

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 907

907 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الزَّمْعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَا يَهْتَمُّ بِأَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَلَيْسَ مِنْهُمْ , وَمَنْ لَا يُصْبِحُ وَيُمْسِي نَاصِحًا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِإِمَامِهِ وَلِعَامَّةِ الْمُسْلِمِينَ فَلَيْسَ مِنْهُمْ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ إِلَّا ابْنُهُ , وَلَا يُرْوَى عَنْ حُذَيْفَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ

محمد بن شعیب الاصبہانی سے مروی حدیث ، حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا جو شخص مسلمان کے معاملے میں اہمیت نہیں دیتا وہ ان میں سے نہیں ہے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول اور اس کی کتاب اور اپنے امام اور مسلمین کے لیے خیر خواہی کرتے ہوئے صبح شام نہیں کرتا وہ ان میں سے نہیں ہے ۔ اس حدیث کو ابو جعفر رازی سے صرف ان کے بیٹے نے روایت کیا ہے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے صرف یہ ھدیث اسی اسناد کے ہمراہ مروی ہے ۔

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← الرَّبِيعِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الزَّمْعِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 907

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 908

908 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأَصْبَهَانِيُّ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ، حَدَّثَنَا أَبُو زُهَيْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْأَشْجَعِيِّ، عَنِ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ شَيْءٌ إِلَّا وَهُوَ أَطْوَعُ لِلَّهِ مِنِ ابْنِ آدَمَ» . لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا الْأَشْجَعِيُّ وَاسْمُهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَلَا عَنِ الْأَشْجَعِيِّ إِلَّا ابْنُهُ. [ص:132]

محمد بن عبدالعزیز الا صبہانی الرازی سے مروی حدیث ، حضرت سلمان بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا فرمایا ابن آدم سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا فرما نبردار کوئی نہیں ہے ۔ اس حدیث کو سفیان سے صرف اشجعی نے روایت کیا ہے ان کا نام عبید بن عبدالرحمان ہے اور اشجعی سے صرف ان کے بیٹے نے روایت کیا ہے ۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← علقمة بن يزيد ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← الْأَشْجَعِيُّ ← أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْأَشْجَعِيِّ، ← أَبُو زُهَيْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأَصْبَهَانِيُّ الرَّازِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 908

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 909

909 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُفْيَانَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ

عبداللہ بن احمد بن جنبل سے مروی حدیث ، مذکورہ اسناد کے ہمراہ حضرت سفیان رضی اللہ عنہ سے بھی اس جیسی حدیث منقول ہے ۔

سُفْيَانُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ ← أَبِيهِ ← ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 909

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 910

910 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رُسْتَةُ الْأَصْبَهَانِيُّ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَالِمِ بْنِ رُشَيْدٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَاضِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدْخَلَ عَلَى أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سُرُورًا لَمْ يَرْضَ اللَّهُ لَهُ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ هِشَامٍ إِلَّا عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَالِمٍ

محمد بن عبداللہ رستہ الا صبہانی سے مروی حدیث ، ام المومنین سید ہ عائشہ فرماتی ہیں ، رسول اکرم رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان گھرانے میں خوشی داخل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت سے کم کسی ثواب پر راضی نہیں ہے ۔ اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے صرف عمر بن حبیب نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابراہیم بن مسلم منفرد ہیں۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَاضِي، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَالِمِ بْنِ رُشَيْدٍ الْبَصْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رُسْتَةُ الْأَصْبَهَانِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 910

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 911

911 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَسَدِ بْنِ يَزِيدَ الْأَصْبَهَانِيُّ بِمَدِينَةِ أَصْبَهَانَ سَنَةَ 295 خَمْسٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 102] فَقَالَ: «لَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ فِي بِحَارِ الدُّنْيَا أَفْسَدَتْ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا مَعَايِشَهُمْ , فَكَيْفَ بِمَنْ يَكُونُ طَعَامَهُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ إِلَّا شُعْبَةُ

محمد بن اسد بن یزید الاصبہانی سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےیہ آیت تلاوت کی ( اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہر گز نہ مرنا مگر مسلمان ( ترجمہ کنزالایمان امام احمد رضا) ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے سمندروں کے اندر ڈال دیا جائے تو اسکی وجہ سے دنیا والوں کا کھانا پینا برباد ہو جائے تو اس شخص کا کیا عالم ہو گا جس کو کھانے کے لیے یہی ملے گا۔ اس حدیث کو اعمش سے صرف شعبہ نے روایت کیا ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَسَدِ بْنِ يَزِيدَ الْأَصْبَهَانِيُّ بِمَدِينَةِ أَصْبَهَانَ سَنَةَ خَمْسٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَتَيْنِ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 911

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 912

912 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَبِيبٍ الْعَسَّالُ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ الزِّبْرِقَانُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ , لَكَ صُمْتُ , وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ شُعْبَةَ إِلَّا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ تَفَرَّدَ بِهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو , وَلَا كَتَبْنَاهُ إِلَّا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ

محمد بن ابراہیم بن شبیب العسال سے مروی حدیث ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے ( اے اللہ میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے ہی دیے گئے رزق سے افطار کررہا ہوں ) اس حدیث کو شعبہ سے صرف داؤد بن زبر قان نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں اسماعیل بن عمر منفر دہیں اور ہم نے یہ ھدیث محمد بن ابراہیم بغدادی کے حوالے سے لکھی ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← شُعْبَةُ، ← داود الزبرقان ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ← محمد بن إبراهيم بن شبيب العسال الأصبهاني

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 912

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 913

913 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَصْرِ بْنِ شَبِيبٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي شَرِيكٍ (رُمَيْكٍ) الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللِّهِ الْبَجَلِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صِيَامُ الدَّهْرِ، أَيَّامُ الْبِيضِ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ ". لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ إِلَّا زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، وَلَا يُرْوَى عَنْ جَرِيرٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ

محمد بن ابراہیم بن نصر بن شبیب الا صبہانی سے مروی حدیث ، حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر مہینے میں تین دن کے روزے رکھ لینا زمانہ بھر کے روزے رکھنے کے مترادف ہے وہ تین دن ایام بیض ہر چاند کی 13،14اور 15 تاریخ ہے ۔ اس حدیث کو ابو اسحاق سے صرف زید بن ابی انیسہ نے روایت کیا ہے اور حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث صرف اسی اسناد کے ہمراہ مروی ہے ۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 913

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 914

914 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنَ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ شَبِيبٍ الْمُقْرِئُ الْأَصْبَهَانِيُّ وَأَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرُّوذِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قِرْمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِلْمُسْلِمِ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ إِلَّا سُلَيْمَانُ بْنَ قِرْمٍ، وَلَا عَنْ سُلَيْمَانَ إِلَّا حُسَيْنُ بْنَ مُحَمَّدٍ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ الْجَوْهَرِيُّ

محمد بن عبدالرحیم بن شبیب المقری الا صبہانی ابو بکر سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا دفرمایا کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی رکھے ۔ اس حدیث کو اعمش سے صرف سلمان بن قرم نے روایت کیا ہے اورسلمان سے صرف حسین بن محمد نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابراہیم الجوہری منفرد ہیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرُّوذِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنَ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ شَبِيبٍ الْمُقْرِئُ الْأَصْبَهَانِيُّ وَأَبُو بَكْرٍ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 914

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 915

915 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْمَوْصِلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ نَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ , فَقَامَ رَجُلٌ , فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ ذَنْبًا , فَأَعْرَضَ عَنْهُ , فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ الرَّجُلُ , فَأَعَادَ الْقَوْلَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «أَلَيْسَ قَدْ صَلَّيْتَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ , وَأَحْسَنْتَ لَهَا الطُّهُورَ؟» قَالَ: بَلَى قَالَ: «فَإِنَّهَا كَفَّارَةُ ذَنْبِكَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ إِلَّا إِسْرَائِيلُ , وَلَا عَنْهُ إِلَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ تَفَرَّدَ بِهِ عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ , وَلَا يُرْوَى عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ. [ص:136]

محمد بن عاصم الاصبہانی سے مروی حدیث ، حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مسجد میں نماز کے انتظار میں تھے ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا مجھ سے گناہ سرزد ہوا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو وہ آدمی پھر اٹھ کر کھڑا ہوا اس نے اپنی بات پھر دہرائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تو نے ہمارے ہمراہ یہ نماز نہیں پڑھی؟ اور تو نے اس کے لیے اچھی طرح طہارت نہیں کی تھی ؟ جی ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا تو یہ تیرے گناہوں کا کفارہ ہو گیا ۔ اس حدیث کو ابو اسحاق سے صرف اسرائیل نے روایت کیا ہے اور ان سے صرف عبدالرحمن نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں علی منفرد ہیں اور علی سے یہ حدیث اسی اسناد کے ہمراہ مروی ہے ۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 915

chevron_left Previous
1…353637…100
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter