Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْفَاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ الْفَضْلُ · حديث 748

748 - حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْحَلَبِيُّ بِحَلَبَ , حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَارِثِ الْحَافِي، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ يُصَلِّي فِي السَّفَرِ عَلَى رَاحِلَتِهِ , وَيُومِئُ إِيمَاءً , وَيَجْعَلُ سُجُودَهُ أَخْفَضَ مِنْ رُكُوعِهِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ تَفَرَّدَ بِهِ بِشْرٌ

فضل بن عباس الحلبی سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران اپنی سواری پر اشارے کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرتے تھے آپ سجدے کا اشارہ رکوع سے زیادہ جھکا کر کرتے تھے ۔ اس حدیث کو سفیان سے صرف یحییٰ بن یمان نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں بشر منفرد ہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ؛ ← بِشْرُ بْنُ الْحَارِثِ الْحَافِي ← الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْحَلَبِيُّ بِحَلَبَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 748

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْفَاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ الْفَضْلُ · حديث 749

749 - حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ أَبُو اللَّيْثِ (اللَّيْثُ أَبُو الْقَاسِمِ) النَّحْوِيُّ الْعَسْكَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، سَمِعْتُ الْوَضِينَ بْنَ عَطَاءٍ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خُذُوا الْعَطَاءَ مَا دَامَ عَطَاءً , فَإِذَا صَارَ رِشْوَةً عَلَى الدِّينِ فَلَا تَأْخُذُوهُ وَلَسْتُمْ بِتَارِكِيهِ , يَمْنَعُكُمُ الْفَقْرُ وَالْحَاجَةُ , أَلَا إِنَّ رَحَى بَنِي مَرَحٍ قَدْ دَارَتْ , وَقَدْ قُتِلَ بَنُو مَرَحٍ , أَلَا إِنَّ رَحَى الْإِسْلَامِ دَائِرَةٌ , فَدُورُوا مَعَ الْكِتَابِ حَيْثُ دَارَ , أَلَا إِنَّ الْكِتَابَ وَالسُّلْطَانَ سَيَفْتَرِقَانِ فَلَا تُفَارِقُوا الْكِتَابَ , أَلَا إِنَّهُ سَيَكُونُ أُمَرَاءُ يَقْضُونَ لَكُمْ، فَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ أَضَلُّوكُمْ وَإِنْ عَصَيْتُمُوهُمْ قَتَلُوكُمْ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَكَيْفَ نَصْنَعُ؟ قَالَ: «كَمَا صَنَعَ أَصْحَابُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ , نُشِرُوا بِالْمَنَاشِيرِ وَحُمِلُوا عَلَى الْخَشَبِ مَوْتٌ فِي طَاعَةٍ خَيْرٌ مِنْ حَيَاةٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»

فضل بن محمد بن لیث بن القاسم ابو اللیث سے مروی حدیث ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تحائف لو جب تک وہ تحائف ہوں لیکن جب وہ رشوت کی صورت اختیار کر جائیں پھر نہ لو لیکن تم اس کو چھوڑ و گے نہیں کیونکہ فکر اور ضرورت اس کے چھوڑنے میں تمہارے لیے رکاوٹ بنتی ہے خبردار نبی مرح کی چکی گھوم چکی ہے یعنی ان کی حکومت ہو چکی ہے یہ بھی کہا گیا کہ ان کا نام بنو مرح ہے خبردار اسلام کی چکی گھومنے والی ہے( یعنی حکومت قائم ہونے والی ہے ) تمہیں اپنی کتاب جو حکم دے اس کے مطابق تم فیصلہ کرتے رہو ، خبردار کتاب اللہ اور بادشاہی یہ عنقریب جد ا جائیں گے لیکن تم کتاب کو نہ چھوڑنا ، خبردار عنقریب تمہارے کچھ حکمران ہوں گے جو تمہارے باے میں فیصلے کریں گے اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہیں گمراہ کردیں گے اور اگر تم ان کی نافرمانی کرو گے تو وہ تمہیں قتل کر دیں گے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تب ہم کیا کریں ؟ آپ نے فرمایا جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم کے ساتھیوں نے کیا ان کو آرے کے ساتھ کاٹ دیا گیا ۔ ان کو سولی لٹکا دیا گیا ۔ لیکن انہوں نے پھر بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہ چھوڑی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مر جانا اس کی نافرمانی میں زندہ رہنے سے بہتر ہے ۔

النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← يَزِيدَ بْنِ مَرْثَدٍ، ← الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ أَبُو اللَّيْثِ (اللَّيْثُ أَبُو الْقَاسِمِ) النَّحْوِيُّ الْعَسْكَرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 749

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْفَاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ الْفُضَيْلُ · حديث 750

750 - حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي صَالِحِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ , اللَّهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ , وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ إِلَّا زُهَيْرٌ تَفَرَّدَ بِهِ مُوسَى بْنُ دَاوُدَ

فصیل بن محمد الملطی سے مروی حدیث ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے امام ذمہ دار ہوتا ہے اور مؤذن انتظام کرنے والا ہوتا ہے اے اللہ ! اماموں کو ہدایت عطا فرما اور موذنوں کی مغفرف فرما ۔ اس حدیث کو ابو اسحاق سے صرف زبیر نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں موسیٰ بن داؤد منفرد ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ ← فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلَطِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 750

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْقَافِ ‹ مَنِ اسْمُهُ الْقَاسِمُ · حديث 751

751 - حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ حَمَّادٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْجُهَنِيُّ الْحَذَّاءُ الْمَوْصِلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى السُّكَّرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَلَفٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ قُرَيْشًا دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْ يُعْطُوهُ مَالًا فَيَكُونُ أَغْنَى رَجُلٍ بِمَكَّةَ وَيُزَوِّجُونَهُ مَا أَرَادَ مِنَ النِّسَاءِ وَيَطَأُونَ عَقِبَهُ , فَقَالُوا: هَذَا لَكَ عِنْدَنَا يَا مُحَمَّدُ , وَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا , وَلَا تَذْكُرْهَا بِشَرٍّ؛ فَإِنْ بَغَضْتَ فَإِنَّا نَعْرِضُ عَلَيْكَ خَصْلَةً وَاحِدَةً , وَلَكَ فِيهَا صَلَاحٌ قَالَ: «وَمَا هِيَ؟» قَالَ: تَعْبُدُ إِلَهَنَا سَنَةً اللَّاتَ وَالْعُزَّى , وَنَعْبُدُ إِلَهِكَ سَنَةً قَالَ: «حَتَّى أَنْظُرَ مَا يَأْتِينِي مِنْ رَبِّي» , فَجَاءَ الْوَحْي مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ اللَّوْحِ الْمَحْفُوظِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ السُّورَةَ , وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونُ} [الزمر: 64] , {بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ} [الزمر: 66] لَمْ يَرْوِهِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ هِنْدَ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں قریش نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک پیشکش کی کہ وہ ان کو اتنا مال دیں گے کہ مکے میں سب سے زیادہ دولت مند کردیں گے اور آپ جس عورت سے چاہیں اس کے ساتھ آپ کا نکاح کر دیں گے اور ان کے لیے آسانیاں کر دیں گے قریش نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف سے آپ کے لیے یہ پیشکش ہے ۔ آپ ہمارے خداؤں کو برابھلا کہنا چھوڑ دیں اور ان کی مذمت کر نا چھوڑ دیں اور اگر آپ رضا مند ہوں ، تو ہم آپ کو اپنے جھگڑے کا حل پیش کرتے ہیں اس کے اندر آپ کے لیے بھی بھلائی ہے ۔ آپ نے فرمایا وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا ایک سال آپ لازت اور عزیٰ کی عبادت کریں اور ایک سال ہم آپ کے خدا کی عبادت کریں گے آپ نے فرمایا مجھ کچھ موقع دو میں یہ دیکھ لوں کہ میرے رب کی طر ف سے کیا حکم ملتا ہے چنانچہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں لوح محفوظ سے یہ وحی نازل کی گئی ۔ (ترجمہ) ۔" تم فرماؤ اے کافرو نہ میں پوجتا ہوں جو تم پوجتے ہو اور نہ تم پوجتے ہو جو میں پوجتا ہوں اور نہ میں پوجوں گا جو تم نے پوجا اور نہ تم پوجو گے جو میں پوجتا ہوں تمہیں تمہارا دین اور مجھے میرا دین ( ترجمہ کنز الایمان امام احمد رضا ) اور یہ آیات بھی نازل ہوئیں ۔" تم فرماؤ تو کیا اللہ کے سوا دوسرے کے پوجنے کو مجھ سے کہتے ہواے جاہلو اور بے شک وحی کی گئی تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف کہ اسے سننے والے اگر تو نے اللہ کا شریک کیا تو ضرور تیرا سب کیا دھرا اکارت جائے گا اور ضرور تو ہار میں رہے گا بلکہ اللہ ہی کی بندگی کر اور شکروالوں سے ہو ( ترجمہ کنزالا ایمان امام احمد رضا ) اس حدیث کو دادؤ ابی ابن ہند سے صرف عبداللہ بن عیسیٰ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں محمد بن موسیٰ منفرد ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← أَبُو خَلَفٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى السُّكَّرِيُّ، ← الْقَاسِمُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ حَمَّادٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْجُهَنِيُّ الْحَذَّاءُ الْمَوْصِلِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 751

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْقَافِ ‹ مَنِ اسْمُهُ الْقَاسِمُ · حديث 752

752 - حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَفَافِ بْنِ سُلَيْمٍ الْفَوْزِيُّ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي أَحْمَدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ , فَبَالَ قَائِمًا , فَدَعَانِي , فَقَالَ: " لِمَ تَنَحَّيْتَ عَنِّي , فَجِئْتُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ , ثُمَّ أُتِيَ بِمَاءٍ , فَتَوَضَّأَ , وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الشَّعْبِيِّ إِلَّا زَكَرِيَّا , وَلَا عَنْهُ إِلَّا عِيسَى تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمٍ

قاسم بن عناف بن سلیم الفوزی الحمصی سے مروی حدیث، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چل رہا تھا آپ ایک قوم کے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر کے قریب آئے آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کا پھر آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا تم دور ہٹ کر کیوں کھڑے ہوگئے تھے؟ میں حاضر ہوا اور آپ کے قدموں کے قریب آگیا پھر آپ کو پانی پیش کیا آپ نے وضو فرمایا اور موزوں پر مسح کیا ۔ اس حدیث کو شعبی سے صرف زکریا نے روایت کیا ہے اور ان سے صرف عیسیٰ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں احمد بن سلیم منفرد ہیں ۔

حُذَيْفَةَ ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَمِّي أَحْمَدُ بْنُ مُسْلِمٍ ← الْقَاسِمُ بْنُ عَفَافٍ بْنِ سُلَيْمٍ الْفَوْزِيُّ الْحِمْصِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 752

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْقَافِ ‹ مَنِ اسْمُهُ الْقَاسِمُ · حديث 753

753 - حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ اللَّيْثِ أَبُو صَالِحٍ الرَّاسِبِيُّ، بِمَدِينَةِ تِنِّيسَ , حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْخَمْرَ , وَسَاقِيَهَا , وَشَارِبَهَا، وَعَاصِرَهَا , وَمُعْتَصِرَهَا , وَحَامِلَهَا , وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ , وَبَائِعَهَا , وَمُبْتَاعَهَا , وَآكِلَ ثَمَنِهَا» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا سَعِيدٌ الْمَدَنِيُّ تَفَرَّدَ بِهِ فُلَيْحٌ

قاسم بن لیث ابو صالح الراسی سے مرویع حدیث ، حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن عمر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے شراب پر اس کے پینے والے پر اس کے پلانے والے پر تیار کرنے والے پر تیار کروانے والے پر اس کو اٹھا کر لے جانے والے پر اور اس پر جس کی طرف شراب اٹھا کر لے جائی گئی اور اس کے بیچنے والے اور اس کے خدیدنے والے پر اور اس کی کمائی کھانے والے پر ۔ اس حدیث کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے صرف سعید بن عبدالرحمن نے روایت کرنے میں فلیح منفرد ہیں ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَائِلٍ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← الْمُعَافَی بْنُ سُلَيْمَانَ ← الْقَاسِمُ بْنُ اللَّيْثِ أَبُو صَالِحٍ الرَّاسِبِيُّ، بِمَدِينَةِ تِنِّيسَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 753

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْقَافِ ‹ مَنِ اسْمُهُ الْقَاسِمُ · حديث 754

754 - حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّلَّالُ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَبَرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: «تَنَقَّهْ وَتَوَقَّهْ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مِسْعَرٍ إِلَّا ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو بِلَالٍ , وَمَعْنَى هَذا الْحَدِيثِ عِنْدَنَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنَّهُ قَالَ: تَنَقَّ الصِّدِّيقَ , وَاحْذَرْهُ , وَبَلَغَنِي عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ فَسَّرَهُ بِمَعْنَى آخَرَ قَالَ: مَعْنَاهُ: اتَّقِ الذُّنُوبَ , وَاحْذَرْ عُقُوبَتَهَا

قاسم بن محمد الدلال الکوفی سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا چن کر دوست بنا لیکن اس کے بھی شر سے بچ کر رہ " اس حدیث کو مسعر سے صر ف ان کے بیٹے عبداللہ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابو بلال منفرد ہیں راوی کہتے ہیں اس حدیث کا اصل مطلب تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے تاہم ہمارے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ چھان پھٹک کر دوست بناؤ اور اس سے بچ کر بھی رہو اور ہمیں بعض اہل علم کے حوالے سے یہ بات بھی پتہ چلی ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو ایک اور مطلب بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ گناہوں سے بچو اور اس کی سزاؤں سے ڈرو ۔

ابْنِ عُمَرَ ← وَبَرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، ← أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ← الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّلَّالُ الْكُوفِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 754

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْقَافِ ‹ مَنِ اسْمُهُ الْقَاسِمُ · حديث 755

755 - حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَهْدِيٍّ أَبُو الطَّاهِرِ الْإِخْمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْإِخْمِيمِيُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، أَنَّ حُمْرَانَ، مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا , ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا , ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي , ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ إِلَّا بِخَيْرٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ يُونُسَ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ

قاسم بن عبداللہ بن مہدی ابو طاہر الا خمیمی سے مروی حدیث ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حمران بیان کرتے ہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تین تین مرتبہ وضو کیا پھر فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح وضو کیا جیسے میں نے کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص میرے وضو جیسا وضو کرے پھر دو رکعتیں (تحیۃ الوضو) پڑھے اور ان کے دوران اپنے بارے میں بھلائی کے سوا کچھ نہ سوچے اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔ اس حدیث کو یزید بن یونس سے صر ف محمد بن مہدی نے روایت کیا ہے ۔

أَنَّ عُثْمَانَ «تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ ← عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ، ← عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْإِخْمِيمِيُّ ← الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَهْدِيٍّ أَبُو الطَّاهِرِ الْإِخْمِيمِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 755

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْقَافِ ‹ مَنِ اسْمُهُ الْقَاسِمُ · حديث 756

756 - حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمُطَرِّزُ الْمُقْرِئُ أَبُو مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سِقْلَابٍ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ ضَمِنَ لِي مَا بَيْنَ لِحْيَيْهِ وَرِجْلَيْهِ ضَمِنْتُ لَهُ الْجَنَّةَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَنِ عَمْرٍو إِلَّا مَعْقِلٌ تَفَرَّدَ بِهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ سِقْلَابٍ

قاسم بن زکریا المطر زالمقری ابو محمد البغدادی سے مروی حدیث ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص مجھے ان چیزوں کی ضمانت دے جو اس کے دو جبزوں کے درمیان ہے (یعنی زبان) اور جو اسکی دو ٹانگوں کے درمیان ہے یعنی شرم گاہ میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔ اس حدیث کو عمرو سے صرف معقل نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں مغیرہ بن سقلاب منفرد ہیں ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← المغيرة بن سقلاب ← الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ ← القاسم بن زكريا المطرز المقري أبو محمد البغدادي

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 756

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْقَافِ ‹ مَنِ اسْمُهُ الْقَاسِمُ · حديث 757

757 - حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ الْوَرَّاقُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ الْعِشَاءِ فِي جَمَاعَةٍ تَعْدِلُ بِقِيَامِ لَيْلَةٍ , وَصَلَاةُ الْفَجْرِ بِجَمَاعَةٍ تَعْدِلُ بِقِيَامِ لَيْلَةٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَحْيَى إِلَّا أَبُو حَفْصٍ تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو الرَّبِيعِ

قاسم بن عبدالوارث الوراق البغدادی سے مروی حدیث ، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا پوری رات کے قیام کے برابر ہے اور فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا پوری رات کے قیام کے برابر ہیں ۔ اس حدیث کو یحیٰٰ سے صرف ابو حفص نے روایت کیا ہے ۔ اور ان سے روایت کرنے میں ابو ربیع منفرد ہیں ۔

عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ الْوَرَّاقُ الْبَغْدَادِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 757

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْقَافِ ‹ مَنِ اسْمُهُ الْقَاسِمُ · حديث 758

758 - حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زِيَادٍ الشَّيْبَانِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ أَبُو الْمُنْذِرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَأْخُذَنِي فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ , وَأَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلُ مِنِّي , وَلَا أَنْظُرُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي , وَأَوْصَانِي بِحُبِّ الْمَسَاكِينِ وَالدُّنُوِّ مِنْهُمْ , وَأَوْصَانِي بِقَوْلِ الْحَقِّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا , وَأَوْصَانِي بِصِلَةِ الرَّحِمِ وَإِنْ أَدْبَرَتْ , وَأَوْصَانِي أَنْ لَا أَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا , وَأَوْصَانِي أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ؛ فَإِنَّهَا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سَلَّامٍ إِلَّا عَفَّانُ , وَابْنُ عَائِشَةَ , وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ

قاسم بن احمد بن زیاد الشیبانی البغدادی سے مروی حدیث ، حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :میرے دوست رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ نصیحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں مجھے کسی ملامت گر کے ملامت کی پرواہ نہ ہو اور یہ کہ میں اس شخص کی طرف دیکھوں جو مجھ سے نیچے ہے اور یہ کہ میں اس کو نہ دیکھوں جو مجھ سے اوپر ہے اور مجھے آپ نے نصیحت فرمائی کہ میں مسکینوں سے محبت کروں اور ان کو اپنےقریب رکھوں اور یہ بھی نصیحت فرمائی کہ ہمیشہ سچی بات کہوں اگرچہ وہ کڑوی ہی ہو اور یہ بھی نصیحت فرمائی کہ میں رشتہ داروں سے ملتا رہوں اگرچہ وہ مجھ سے منہ موڑیں اور یہ بھی نصیحت فرمائی کہ میں لوگوں سے کبھی کچھ نہ مانگوں اور یہ بھی نصیحت فرمائی کہ میں لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم کثرت سے پڑھوں کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔ اس حدیث کو سلام سے صرف عفان ابن عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابراہیم الحجاج شامی نے روایت کیا ہے ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ← سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ ← الْقَاسِمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زِيَادٍ الشَّيْبَانِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 758

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْقَافِ ‹ مَنِ اسْمُهُ الْقَاسِمُ · حديث 759

759 - حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَطَّابِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ السُّكَّرِيِّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ , وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ , وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ تَفَرَّقَتْ بِكُمُ السُّبُلُ فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنْ أَحْظَى مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ رَكْعَتَيْنِ مُتَقَبَّلَتَيْنِ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَنْصُورٍ إِلَّا أَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ

قاسم بن عباد الخطابی البصری سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کے دوران دو رکعتیں پڑھیں اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ دو رکعتیں پڑھیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ دو رکعتیں پڑھیں اس کے بعد تمہارے نظریات الگ الگ ہو گئے اللہ کی قسم میری خواہش یہ ہے کہ چار رکعتوں کی بجائے میں دو رکعتیں پڑھ لوں جو قبول کر لی جائیں ۔ اس حدیث کو منصور سے ابو حمزہ السکری نے روایت کیا ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← أَبِي حَمْزَةَ السَّكُرِيِّ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ← القاسم بن عباد الخطابي البصري

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 759

chevron_left Previous
1…222324…100
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter