مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 241
241 - حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَبَّاسٍ الْهَمَدَانِيُّ عَنْ عَمَّارٍ الذُّهْنِيِّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ قَالَ: كَانَ أَبِي قَدْ تَرَكَ الصَّلاةَ مَعَنَا فَقُلْنَا لَهُ: مَالَكَ يَا أَبَهُ؟! قَدْ تَرَكْتَ الصَّلاةَ مَعَنَا، قَالَ: إِنَّكُمْ تُخَفِّفُونَ الصَّلاةَ، قُلْتُ: فَأَيْنَ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فِيكُمُ الضَّعِيفُ وَالْكَبِيرُ وَذَا الْحَاجَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ ذَلِك، ثمَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثلثة أَضْعَافٍ مِثْلَ مَا تُصَلُّونَ.
ابراہیم تیمی کہتے ہیں کہ میرے والد نے ہمارے ساتھ نماز پڑھنا ترک کر دی تھی‘ پس ہم نے اس سے کہا کہ اے میرے باپ تمہیں کیا ہوا ہے؟ تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھنی چھوڑ دی ہے‘ اس نے جواب دیا ہے کہ تم نماز میں مختصر پڑھتے ہو۔ میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا کیا بنے گا کہ بے شک تم میں کمزور اور بوڑھے اور حاجت مند ہوتے ہیں۔ تو میرے والد نے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین گنا کر کے نماز پڑھائی‘ اس کی مثل جو تم پڑھتے ہو۔
إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← عَمَّارٍ الذُّهْنِيِّ ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَبَّاسٍ الْهَمْدَانِيُّ ← أَبُو يَحْيَى أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ
Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 241
