مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ · حديث 145
145 - وَأَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ الْكِلاعِيِّ عَنْ قَزْعَةَ بْنِ يَحْيَى قَالَ: انْطَلَقْنَا إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي رِجَالٍ مِنَ الْعِرَاقِ فَسَأَلُوهُ، فَقُلْتُ: أَمَّا أَنَا فَلا أَسْأَلُكَ عَنْ فَرَائِضِ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّهُ لَا خَيْرَ لَكَ فِي أَنْ تَعْلَمَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا إِذْ أَبَيْتَ، لَقَدْ كَانَتِ الصَّلاةُ تُقَامُ فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى حَاجَتِهِ فِي الْبَقِيعِ فَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَرْجِعُ، وَإِنَّهُ لَفِي الرَّكْعَةِ الأُولَى.
قزعد بن یحییٰ کہتے ہیں :ہم حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے‘ اُس وقت عراق کے کچھ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور سوال کر رہے تھے۔ میں نے کہا کہ میں آپ سے اللہ کے فرائض کے بارے میں نہیں پوچھوں گا‘ تو فرمایا کہ میرے لئے اس میں خیر نہیں کہ تم یہ سیکھو‘ پھر جب میں نے رات گزاری تو حضرت ابوسعید نے فرمایا کہ نماز کی جماعت کھڑی ہو جاتی اور ہم میں سے کوئی بقیع جا کر اپنے کام سے فارغ ہو کر آ جاتا‘ پھر اپنے گھر سے وضو کر کے مسجد میں جاتا تو ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں ہوتے۔
إِنَّهُ لَا خَيْرَ لَكَ فِي أَنْ تَعْلَمَ ذَلِكَ، ثُمَّ ← فَرَائِضِ اللَّهِ، ← فَلا أَسْأَلُكَ ← انْطَلَقْنَا إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي رِجَالٍ مِنَ الْعِرَاقِ فَسَأَلُوهُ، فَقُلْتُ: أَمَّا ← قَزَعَۃَ بْنِ یَحْیٰی ← عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ الْكَلَاعِيُّ ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ
Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 145
