مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ · حديث 121
121 - حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ثَنَا أَبُو النَّضْرِ ثَنَا شُعْبَةُ أَنْبَأَنِي أَبُو عون سمت جَابِرَ ابْن سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ: قَدْ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلاةِ يَعْنِي أَهْلَ الْكُوفَةِ، قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِي الأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ، وَمَا آلُوا فِيمَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ.
ابوعون کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو سنا‘ وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اہلِ کوفہ نے تیرے بارے کافی شکایتیں لگائی ہیں یہاں تک کہ تیری نماز کے بارے میں بھی۔ تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پہلی دو رکعتوں میں قیام کو زیادہ کرتا ہوں اور آخری دو رکعتوں میں کم اور میں نے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھی ہے‘ میں اس کی ادائیگی میں کمی نہیں کرتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے آپ کے بارے میں یہی حسنِ ظن تھا۔
أَبُو عون سمت جَابِرَ ابْن سَمُرَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو النَّضْرِ، ← مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى
Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 121
